| عنوان: | ماہ نامہ تحفہ حنفیہ اور تذکرہ امام احمد رضا ایک نظم کے حوالے سے |
|---|---|
| تحریر: | ڈاکٹر محمد امجد رضا امجد |
| پیش کش: | ساریہ فاطمہ رضویہ |
| منجانب: | دو ماہی الرضا انٹرنیشنل پٹنہ نومبر، دسمبر ۲۰۱۷ء |
یادش بخیر! عہد رضا میں فکر رضا کا ایک بے باک ترجمان ماہ نامہ “تحفہ حنفیہ” بھی ہوا کرتا تھا جو بہار کی راجدھانی پٹنہ سے نکلتا تھا۔ 1315 ہجری میں اسے خانقاہ معظم بہار شریف کے صاحب سجادہ جناب حضور شاہ امین احمد فردوسی علیہ الرحمہ کی سرپرستی میں ان کے مرید اور اعلیٰ حضرت کے خلیفہ و مجاز حضرت مولانا قاضی عبدالوحید فردوسی علیہ الرحمہ نے جاری کیا تھا۔ یہ رسالہ تقریباً 12 سال یعنی 1315 ہجری سے قاضی صاحب کے انتقال پر ملال 1326 ہجری کے کچھ بعد تک بڑے طمطراق اور مجاہدانہ کروفر کے ساتھ جاری و ساری رہا۔ اس درمیان اس رسالے نے جو دین و سنت کی آبیاری کی اور احقاق مذہب حق اور ابطال باطل میں جو کارہائے نمایاں انجام دیے اس کی مثال نہیں مل سکتی۔
ماہ نامہ حنفیہ فکر رضا کا پہلا اور بے باک ترجمان تھا جس نے اپنے متنوع موضوعات جیسے رد ندوہ، رد غیر مقلدین، رد قادیانیت، رد نیچریت، رد فرنگیت، رد شیعت، اشاعت فتاویٰ، اشاعت کتب (قسط وار)، نعت و مناقب، معاصر اخبارات پر ضروری تنقید، تبصرے، خطوط، اشتہارات، کتب، سوانح، ملی خبریں، مختلف اجلاس، اور مجلس اہل سنت کی روداد وغیرہ کے ذریعہ جماعت اہل سنت کو استحکام بخشا اور عقائد باطلہ کی تردید اور اصلاح مفاسد میں تاریخی کارنامے انجام دیے۔
تحفہ کے بانی جناب قاضی صاحب قبلہ، ایک جواں سال عالم دین، قادر الکلام شاعر، تبلیغ سنت کے جذبے سے سرشار مبلغ اور عقائد باطلہ کی تردید میں بے باک و کامیاب مجاہد تھے۔ وہ عظیم آباد کے رؤسا میں شمار ہوتے تھے مگر دل سالکوں والا پایا تھا۔ اور اس اللہ کے بندے نے دین متین کی خدمت کے لیے اپنے خزانوں کے منہ کھول دیے اور تنہا اپنے جذبے اور حوصلے پر نہ صرف ماہ نامہ حنفیہ بلکہ مدرسہ اہل سنت اور مطبع پٹنہ قائم فرما کر جماعت اہل سنت کے فروغ و استحکام کو سہ طرفی تقویت پہنچائی۔ ان کے ایثار پسندانہ عمل ہی کا نتیجہ ہے کہ بہار میں جماعت اہل سنت نے ندویت و صلح کلیت کے طوفان بلا خیز کا کامیاب مقابلہ کیا اور بہار کے علماء و مشائخ ندوہ کی زد میں آنے کی بجائے ان کے خلاف صف آرا ہوئے۔ قاضی صاحب نے صرف تقریباً 36 سال کی عمر پائی مگر کام وہ کر گئے کہ اہل سنت و جماعت ان کے احسانات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔
سرکار اعلیٰ حضرت نے ان کی اس دینی اہمیت اور جوش ایمانی اور جذبہ استیصال بدعات پر خوب نوازا۔ ان کے لیے “ندوہ شکن” اور “ندوہ فگن” جیسے القابات استعمال فرمائے، مدرسے کے سالانہ اجلاس میں تشریف لے گئے اور ان کے مرض وصال میں دو روز پہلے پٹنہ پہنچ کر تیمارداری کی، انتقال کے بعد ان کی تجہیز و تکفین میں حصہ لیا اور اپنے ہاتھوں سے انہیں لحد میں اتارا، جنازے کے ہمراہ چلتے ہوئے ان کی شان میں عربی اشعار کہے۔
قاضی صاحب واقعی بہت خوش قسمت تھے کہ ان کی دولت ان کے لیے صدقہ جاریہ بن گئی۔ انہوں نے علماء و مشائخ اہل سنت کے دلوں میں اپنی جگہ پائی اور زمانے کا مجدد، فقیہ، عارف اور قطب الاقطاب ان کے جنازے میں شریک ہی نہ ہوا بلکہ خود لحد میں اتر کر انہیں اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتارا اور چہرہ کھول کر لوگوں کو دکھاتے ہوئے فرمایا: دیکھیے! ایسے ہوتے ہیں اہل ایمان اور اللہ والوں کے چہرے!
آسمان ان کی لحد پر شبنم افشانی کرے
حضرت قاضی صاحب کے مدرسہ اور ان کے مطبع سے سرکار اعلیٰ حضرت کا جو رشتہ ہے وہ آفاقی اور تاریخی نوعیت کا ہے جس کو چند صفحات میں سمیٹا نہیں جا سکتا۔ ان کے مطبع سے تقریباً اعلیٰ حضرت کی 33 کتابیں شائع ہوئیں، تحفہ حنفیہ میں ان کے فتاویٰ قسط وار اور ان کی کتابوں کے اعلانات و اشتہارات شائع ہوئے، ان کی تحریکات کو یہیں سے تقویت فراہم ہوئی بلکہ بہار میں ان کی شخصیت اور ان کے کارنامے اور ان کے عزائم و منصوبے کو یہیں سے شہرت ملی۔ مدرسہ حنفیہ کا سالانہ اجلاس منعقدہ 1318 ہجری جس میں خانقاہ معظم بہار شریف کے صاحب سجادہ جناب حضور شاہ امین احمد فردوسی علیہ الرحمہ، تاج الفحول مولانا شاہ عبد القادر بدایونی، حضرت محدث سورتی اور دیگر سینکڑوں نامور علما موجود تھے، اعلیٰ حضرت قبلہ کو مجدد مأۃ حاضرہ کہا گیا اور پھر ہر شمارے میں کسی نہ کسی مضمون، اعلان یا اشتہار وغیرہ میں ان کی مجددیت کا اعلان کیا جاتا رہا۔ قاضی صاحب کے اس عمل سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کو اعلیٰ حضرت قبلہ سے کتنی محبت تھی، وہ اعلیٰ حضرت کو کس نگاہ سے دیکھتے تھے اور تصانیف رضا کی اشاعت کے معاملے میں وہ کتنے حساس اور کوشاں تھے۔
تحفہ حنفیہ علمی اعتبار سے بہت ہی معیاری رسالہ تھا، اس کے موضوعات میں تنوع اور زبان سہل و شستہ تھی۔ اسے ملک کے اکابر علما و مشائخ کی سرپرستی اور تعاون حاصل تھا، مجدد عصر امام احمد رضا کی کتابیں، فتاویٰ اور نعتوں کی اشاعت کے علاوہ تاج الفحول حضرت مولانا عبد القادر بدایونی، صدر مجلس اہل سنت شاہ عبد الصمد شہسوانی، مولانا وصی احمد محدث سورتی، حجۃ الاسلام مولانا شاہ حامد رضا خان، مفتی عمر الدین ہزاروی، ملک العلما مولانا ظفر الدین رضوی، مولانا شاہ سلامت اللہ، مولانا نذیر احمد، مولانا عبد الواحد رامپوری، مولانا یونس علوی وغیرہ کی کتابیں یا مضامین اکثر شامل ہوتے تھے۔ جب کہ بہار کے قلم کاروں حضرت بدر الدین پھلواری، شاہ اکبر دانا پوری، شاہ محسن دانا پوری، مولانا عبد الرحمن محبی، مولانا قاضی عبد الوحید فردوسی وغیرہ کی کتابیں اور مضامین بھی تسلسل سے شائع ہوتے تھے۔
تحفہ حنفیہ میں امام احمد رضا کا ذکر کئی جہتوں سے ہے اور بار بار بلکہ ہر شمارے میں ہے، کبھی فتاویٰ، رسائل اور نعتوں کی اشاعت کے سلسلے میں، کبھی مجلس اہل سنت پٹنہ، بریلی، امرتسر کے سلسلے میں، کبھی مسئلہ اذان ثانی اور صلح کلیت کی تردید و اصلاح کے تناظر میں:
ہر چند ہو مشاہدہ حق کی گفتگو
بنتی نہیں ہے ساغر و مینا کہے بغیر
کی طرح ہر شمارے میں کسی نہ کسی حوالے سے ان کا ذکر ضرور ملتا ہے۔ اس سے صاف واضح ہے کہ اعلیٰ حضرت کی شخصیت اسی دور میں سنیت کی حجیت اور دین حق کی علامت کے طور پر تسلیم کی جا چکی تھی۔
تحفہ حنفیہ اور ذکر امام احمد رضا بڑا وسیع اور پھیلا ہوا عنوان ہے، اسے چند صفحات میں سمیٹا نہیں جا سکتا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ اس حوالے سے ایک مستقل کتاب پیش کی جائے گی۔ یہاں تمہید کے طور پر صرف ایک نظم کا تذکرہ ملاحظہ کریں اس سے اندازہ ہوگا کہ عہد امام احمد رضا میں ان کی عظمت کا کس کس انداز میں اظہار ہوتا رہا ہے۔ مولانا ضیاء الدین ہمدم پیلی بھیتی تحفہ حنفیہ کے مدیر تھے۔ صاحب علم اور قادر الکلام شاعر تھے، تحفہ میں ان کی بھی کئی منظوم کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ ان میں ایک نظم “ہدیہ تحسین” بھی ہے جو 1322 ہجری میں شائع ہوئی۔ اس نظم سے جہاں اعلیٰ حضرت کی عظمت کا اظہار ہو رہا ہے، وہیں شاعر کی علمی عظمت اور شاعرانہ قدرت کا بھی احساس ہوتا ہے۔ تمہید کے اشعار میں انہوں نے کس طرح اعلیٰ حضرت کی عظمت بیان کی ہے، ملاحظہ کریں:
میرا احمد رضا ہے سب میں یکتا
مفرد ہے وہ احمد کی رضا کا
مجدد ہے وہ جہات ارتقا کا
مجدد ہے گروہ اشقیا کا
مسدد ہے وہ طریق ابتدا کا
مشدد ہے سبیل اقتدا کا
مجدد ہے وہ اس چودہ صدی کا
موید ہے وہ شرع احمدی کا
مفرج اہل سنت ہے بلا کا
مخرج ہے فنون اصطفا کا
مروج سنت خیر الوریٰ کا
معوج پشتہائے اغویا کا
مقلد ہے وہ نعمان صفی کا
وہ شیدائی ہے فرزند نبی کا
ذیل کے اشعار میں اعلیٰ حضرت کو کن کن القابات سے یاد کیا گیا ہے، ملاحظہ کریں:
وہ ہے سلطان رد اہل بدعت
وہ ہے تاج سران اہل سنت
وہ ہے احباب اقلیم معانی
تصدق جس پہ ہے جادو بیانی
وہ ہے مہر سپہر حسن تحقیق
وہ ہے بدر منیر برج تدقیق
ہے علم نقلی و عقلی پہ حاوی
نہیں ہے ہند میں اس کا مساوی
قلم میں زور ہے اس کے بلا کا
نمونہ قوت شیر خدا کا
شفا پاتے مریض ان جہاں ہیں
عیاں اس سے اشارات نہاں ہیں
اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز نے فتاویٰ رضویہ میں فقہی کتابوں کے نام اس طرح استعمال کیے کہ وہ اسمائے خطبہ کا معنوی حصہ بن کر حمد، نعت، منقبت اور سلام سبھی بن گئے۔ مولانا ضیاء الدین ہمدم نے بھی اس نظم میں اعلیٰ حضرت کی زبان، بیان، قلم اور تصنیف و تالیف کا ذکر ان کتابوں کے حوالے سے اس طرح کیا ہے کہ وہ اعلیٰ حضرت کی علمی عظمت کا حصہ بن گئے ہیں:
مسائل کا بیاں ہے در مختار
ضلالت کا ہے بطلاں رد مختار
ہر اک تصنیف ہے اس کی ہدایہ
ہر اک تالیف ہے اس کی کفایہ
وہ ہے بحر محیط علم و ہر فن
زباں غیرت دہ صد برگ سوسن
بیاں ہے اس کا یا کنز الدقائق
مطالب ہیں کہ رشک بحر رائق
ہر اک تقریر ہے مطلب کو کافی
جو مضموں لکھ دیا بس وہ ہے کافی
وہ مفتاح علوم شرع و دیں ہے
وہ مصباح الظلام اہل کیں ہے
بیاں اس کا ہے ایضاح معانی
تصدق جس پہ ہے گوہر فشانی
عرب اس کی بلاغت کا ثنا خواں
عجم اس کی فصاحت پر ہے قرباں
بیاں مختصر الفاظ مجمل
محمول معانی و مطلب مفصل
عجب تنقیح میں ہے اس کی توضیح
عجب تصریح میں ہے اس کی تلویح
ہر اک توضیح میں ہے وہ زیادات
کہ جس سے فیض کے ظاہر کرامات
اگر تفسیر میں اس کا بیاں ہے
کمال اتقان کا اس سے عیاں ہے
غوامض میں ہے اس کا ذہن کشاف
رموز و اسرار اس کے حل کے وصاف
سوال اہل بدعت میں جلالین
جواب اہل باطل میں کمالین
ہیں جتنے اہل باطل کے مواقف
ان کے سب مقاصد سے ہے واقف
معالم اس کے افزوں ہیں بیاں سے
مدارک اس کے بیروں ہیں نشاں سے
غرض ہر علم میں ہے بحر مواج
تمام اطراف میں ہے جس کے امواج
احادیث اس کے وہ حصن حصین ہیں
مشارق نور کے جس میں مکیں ہیں
ہے سینہ اس کا مشکوۃ مصابیح
دل روشن کے ہاتھوں میں مفاتیح
مدام اس کی رکھے حق خیر جاری
کہ ہے اسلام کا ابر بہاری
ذیل کے اشعار سے معلوم ہوتا ہے کہ “گونج گونج اٹھے ہیں نغمات رضا سے بوستاں” کی دھوم صرف آج نہیں ان کے زمانے سے ہے، اور یہ اعتراف کسی عامی کا نہیں بلکہ ایک جید عالم کا ہے۔ اشعار ملاحظہ کریں:
جدھر دیکھوں ادھر ہے جلوہ فرما
یہی نور افگن اقلیم برہما
ہوا اس رنگ سے رنگون رنگیں
خجالت بخش نقش کشور چیں
ہمیں گوید دریں جا اہل ادراک
چہ نسبت خاک را با عالم پاک
برائے پرتگیزی امن و امان است
بہ جسم مخلص دیں ہمچو جان است
تمامی اہل افریقہ ہیں منصور
ہر اک آسام والا اس کا مشکور
خصوصاً وہ گرامی خطہ پاک
جہاں پیدا ہوئے ہیں شاہ لولاک
وہاں کے علم والے اے برادر
بناتے ہیں اسے آنکھوں کا اختر
غرض ہر ملک اس سے بہرہ ور ہے
ہر اک اقلیم میں یہ نامور ہے
اس طویل نظم کا یہ حصہ بھی ملاحظہ کریں جس میں یہ اظہار ہے کہ احمد رضا کے علم کی خوشبو سارے عالم میں پھیلی اور اس سے ایک جہان علم فیضیاب ہوا مگر یہ حقیقت بھی ہے کہ جہاں نعمت ہوتی ہے وہاں حسد بھی بال و پر پسار ہی لیتا ہے۔ اعلیٰ حضرت کی اس علمی برتری کے باوجود ان کے حاسدین کی بھی کمی نہ تھی۔ بہر حال مولانا ضیاء الدین ہمدم کے اس حوالے سے اشعار ملاحظہ کریں، فرماتے ہیں:
بریلی کے گلستاں کی ہے خوشبو
مہکتی ہے تمام عالم میں ہر چار سو
اسی گلشن سے نکلا وہ گل تر
کیا جس نے جہاں سارا معطر
اسی گلشن سے ہے وہ گل خراماں
بھرے ہیں جس نے دوستوں کے داماں
خدا کا فضل ہے اس باغباں پر
عنایت جس کی ہے سارے جہاں پر
وحید عصر ہمعصروں کا محسود
محمد کے دل و زباں کا محمود
ہمعصروں کا محسود محض شاعری نہیں بلکہ حقیقت کا اظہار ہے۔ امام احمد رضا نے بھی ایک منقبت میں اپنے حاسدین کا ذکر کیا ہے مگر یہ ذکر بھی شکر حق کے ساتھ ہے جس میں حاسدین کے لیے دعا بھی ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
عدو، بد دین، مذہب والے، حاسد
تو ہی تنہا کا زور دل ہے یا غوث
حسد سے ان کے سینے پاک کر دے
کہ بدتر دق سے بھی یہ سل ہے یا غوث
غذائے دق یہی خوں، استخواں، گوشت
یہ آتش دین کی آکل ہے یا غوث
دیا مجھ کو، انہیں محروم چھوڑا
مرا کیا جرم، حق ہے فاصل یا غوث
خدا سے لیں لڑائی وہ ہے معطی
نبی قاسم ہے، تو موصل ہے یا غوث
آج بھی ان کے ناقدین و حاسدین سر ابھارے ہوئے ہیں بلکہ مختلف طرح کی عصبیت کے شکار ہیں۔ بعض نام نہاد صوفی، نشہ دولت کے شکار اور ہمارے بعض نو علما بھی اس آزار میں مبتلا ہیں۔
یہ آزار دراصل ان کے اندر “زیغ و غضب” کا آئینہ اور اپنی بے علمی و بے بضاعتی کا اظہار ہے، ورنہ عالم، عارف، فقیہ، شیخ حرم اور فضلائے عجم جس ذات کی محبت کو اہل ایمان و اہل سنت ہونے کی علامت قرار دیں ان سے قلبی عناد کے کیا معانی؟ اللہ کریم محبین کو ان کی محبت کا صلہ اور حاسدین کو رجوع الی الحق کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ حبیبہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔
