| عنوان: | امام احمد رضا قادری اور فن صرف (قسط: چہارم) |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | نازیہ ظفر بنت محمد شہاب الدین |
| منجانب: | لباب اکیڈمی |
درمیانی واسطے کی طرح ہے، اور ایک کنارے سے دوسرے کنارے کی طرف پھر جانا ایک کنارے سے درمیانی واسطے کی طرف مائل ہونے سے زیادہ دور ہے تو میرے ظن میں یہی ان کو اس (درمیانی مفہوم کو اختیار کرنے) پر آمادہ کیا، اور اللہ تعالیٰ ان سے زیادہ جاننے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے: آمین۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 28، ص: 512، 513، جامعہ نظامیہ لاہور]
توضیح: اسم تفضیل سے مبالغہ کا مفہوم مراد لینا اور اصل حقیقی معنی کو ترک کرنا ہے اور بلا حاجت و بلا قرینہ حقیقی معنی متروک نہیں ہوتا اور یہاں حقیقی مفہوم مراد لینا درست ہے، اس لیے امام احمد رضا قادری نے طول بحث کے بعد اس امر کی وضاحت فرمائی کہ یہاں اسم تفضیل کا حقیقی مفہوم مراد لینا درست ہے۔ تفصیل کے لیے فتاویٰ رضویہ کی طرف رجوع کریں۔ فتاویٰ رضویہ میں اس امر کی مکمل تفصیل مرقوم ہے۔ یہ مباحثہ رسالہ: “ازالۃ الالتباس عن جہۃ مثلث الاقتباس” کے ہیں۔ مذکورہ رسالہ ص 491 سے 183 تک محیط ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 28، ص: 290 تا 202]
صیغۂ نفی، صیغۂ نہی سے زیادہ مؤکد ہے
فقہا کے یہاں ممانعت کے باب میں نفی کا صیغہ نہی کے صیغے سے زیادہ مؤکد ہوتا ہے۔ امام احمد رضا قادری نے تحریر فرمایا:
“فقہائے کرام نے مسجد میں اذان دینے سے صیغۂ نفی فرمایا کہ صیغۂ نہی سے زیادہ مؤکد ہے۔ عبارات کثیرہ اصل فتویٰ میں گزریں اور فقہا کا یہ صیغہ غالباً اس کے ناجائز ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ امام ابن امیر الحاج حلیہ میں فرماتے ہیں:”
ظَاهِرُ قَوْلِ الْمُصَنِّفِ وَلَا يَزِيدُ عَلَيْهَا شَيْئًا يُشِيرُ إِلَى عَدَمِ إِبَاحَةِ الزِّيَادَةِ عَلَيْهَا.
(قول مصنف “لَا يَزِيدُ عَلَيْهَا شَيْئًا” کا ظاہر اشارہ کر رہا ہے کہ اس پر اضافہ جائز نہیں)
ہدایہ میں قول امام محمد (وقف اور جہر کرے) پر فرمایا:
يَدُلُّ عَلَى الْوُجُوبِ.
(وہ پڑھے اور جہر کرے):
يَدُلُّ عَلَى الْوُجُوبِ.
(وہ وجوب پر دلالت کرتا ہے)
عنایہ میں فرمایا:
لَا لِأَنَّهُ بِمَثَابَةِ الْأَمْرِ بَلْ آكَدُ.
(یہ امر نہیں بلکہ اس میں اس سے بھی زیادہ تاکید ہے)
فتح القدیر میں فرمایا:
يَدُلُّ عَلَى الْوُجُوبِ وَهُوَ لَفْظُ الْخَبَرِ.
(جو وجوب پر دال ہے وہ لفظ خبر یعنی قراءت ہے)۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 5، ص: 511، جامعہ نظامیہ لاہور]
توضیح: جس طرح ممانعت کے باب میں فعل نفی کا صیغہ فعل نہی کے صیغے سے زیادہ مؤکد ہے، اسی طرح باب وجوب میں فعل اثبات کا صیغہ امر کے صیغے سے زیادہ مؤکد ہے، جیسا کہ ہدایہ، عنایہ و فتح القدیر کی عبارات سے ظاہر ہے۔
عربی اور غیر عربی صیغوں میں فرق
عربی زبان میں افعال کے صیغے اور فارسی و اردو زبان میں افعال کے صیغوں میں کچھ فرق ہے، اسی لیے عربی صیغوں کے احکام اور فارسی و اردو افعال کے صیغوں کے احکام میں کچھ فرق ہوگا۔ امام موصوف متعدد صیغوں کے شرعی احکام کو بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
“ذخیرۂ ہندیہ میں ہے:”
قِيلَ لِامْرَأَةٍ: "خويشتن را بفلان دادى؟" فَقَالَتْ: "دادم"، وَقِيلَ لِزَوْجٍ: "پذرفتى؟" فَقَالَ: "پذرفتم"، يَنْعَقِدُ النِّكَاحُ وَإِنْ لَمْ تَقُلِ الْمَرْأَةُ: "دادم"، وَالزَّوْجُ: "پذرفتم". [فتاویٰ رضویہ، ج: 8، ص: 161، جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور]
ترجمہ: اگر عورت کو کہا جائے کہ “تو نے اپنے کو فلان کی زوجیت میں دیا؟” تو عورت نے جواب دیا: “دیا” تو خاوند کو کہا گیا: “تو نے قبول کی؟” اس نے کہا: “قبول کیا” تو نکاح ہو جائے گا۔ اگر عورت نے “میں نے دیا” اور مرد نے “میں نے قبول کیا” نہ کہا ہو، ایجاب و قبول سمجھا جاتا ہے۔ امام موصوف نے مزید تحریر فرمایا:
“اصول و ایضاح میں ہے:”
قَوْلُهُمَا "داد" وَ"پذرفت" بَعْدَ "دادی" وَ"پذرفتی" إِيجَابٌ وَقَبُولٌ لِمَكَانِ الْعُرْفِ فَإِنَّ جَوَابَ مِثْلِ هَذَا الْكَلَامِ قَدْ يُذْكَرُ بِالْمِيمِ وَبِدُونِهِ كَفُرُوخْت وَخَرِيد فِي الْبَيْعِ. [فتاویٰ رضویہ، ج: 8، ص: 121، جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور]
ترجمہ: “تو نے دی” اور “تو نے قبول کی” کے الفاظ کے بعد “دی” اور “قبول کی” عرفاً ایجاب و قبول ہے، کیوں کہ ایسے کلام کے جواب میں بھی میم کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے اور کبھی بلا میم کے، جیسے بیع میں “فروخت” اور “خرید” کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔
توضیح: میم کے ساتھ اور بلا میم ذکر کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ کبھی متکلم کا صیغہ استعمال ہوتا ہے، یعنی دادم و پذیرفتم اور کبھی بلا میم غائب کا صیغہ استعمال ہوتا ہے، یعنی داد و پذیرفت۔ امام موصوف نے اردو افعال کے چند صیغوں پر کلام کرتے ہوئے تحریر فرمایا:
“قول: جب فارسی میں داد و دادم و پذیرفت و پذیرفتم کا ایک حکم ہے تو اردو میں برعکس والی:”
فَإِنَّ صِيغَةَ الْمَاضِي بِالْفَارِسِيَّةِ لِلْغَائِبِ غَيْرُهَا لِلْمُتَكَلِّمِ بِخِلَافِ لِسَانِنَا فَإِنَّمَا هِيَ صِيغَةٌ وَاحِدَةٌ لِلْغَائِبِ وَالْحَاضِرِ وَالْمُتَكَلِّمِ جَمِيعًا وَإِنَّمَا يُفَرَّقُ بِالضَّمَائِرِ أَوْ ذِكْرِ الظَّاهِرِ، أَلَا تَرَى أَنَّ الْفُرْسَ تَقُولُ: أو كرد، وَ تو كردى، وَ من كردم. وَنَحْنُ نَقُولُ فِي الْكُلِّ: اس نے کیا، تو نے کیا، میں نے کیا. كَذَلِكَ فِي الْفِعْلِ اللَّازِمِ: وہ آیا، تو آیا، میں آیا. وَإِنَّمَا يُفَرَّقُ فِيهِ بَيْنَ الْوَاحِدِ وَالْجَمْعِ وَالْمُذَكَّرِ وَالْمُؤَنَّثِ، فَصِيَغُهُ فِي اللَّازِمِ أَرْبَعٌ: آیا، آئی، لِلْوَاحِدِ الْمُذَكَّرِ وَالْمُؤَنَّثِ وَ آئے، آئیں لِلْجَمْعَيْنِ كَذَلِكَ. وَفِي الْمُتَعَدِّي صِيغَةٌ وَاحِدَةٌ لِلْكُلِّ وَهُوَ: "کیا" مِثَالًا سَوَاءٌ أَسْنَدْتَهُ إِلَى: اس، او انہوں، او تو، او تم، لِلذَّكَرِ أَوِ الذُّكُورِ أَوِ الْأُنْثَى أَوِ الْإِنَاثِ، أَوْ لَهُمْ ذَكَرًا أَمْ أُنْثَى. وَلَا فَرْقَ بَيْنَ الْغَائِبِ وَالْحَاضِرِ وَالْمُتَكَلِّمِ فِي شَيْءٍ مِنْهُمْ أَصْلًا. وَبِهِ تَبَيَّنَ بُطْلَانُ زَعْمِ مَنْ يَزْعُمُ أَنَّ قَوْلَ الْخَاطِبِ: "قبول کی" بِدُونِ "میں نے" لَا يَنْعَقِدُ بِهِ النِّكَاحُ لِعَدَمِ تَعَيُّنِ الْقَابِلِ. [فتاویٰ رضویہ، ج: 8، ص: 120، 121، لاہور]
ترجمہ: کیوں کہ فارسی میں ماضی غائب اور متکلم کا صیغہ علیحدہ ہے، جب کہ ہماری زبان (اردو) میں ماضی غائب، حاضر اور متکلم کا ایک ہی صیغہ ہے، اور صرف ضمیر یا اسم ظاہر کے ذکر میں فرق کیا جاتا ہے۔ آپ دیکھیں کہ فارسی والے، او کرد، تو کردی، و من کردم ہر ایک کے لیے صیغہ علیحدہ استعمال کرتے ہیں، جب کہ ہم سب کے لیے کہتے ہیں: اس نے کیا، تو نے کیا، میں نے کیا۔ اور اسی طرح فعل لازم میں (ایک ہی صیغہ) ہے: وہ آیا، تو آیا، میں آیا، اور اس میں واحد اور جمع اور مذکر و مؤنث میں فرق کیا جاتا ہے، پس فعل لازم میں چار صیغے ہیں: آیا، آئی، آئے، آئیں، واحد مذکر و مؤنث کے لیے، اور جمع مذکر و مؤنث کے لیے، اور فعل متعدی میں ایک ہی صیغہ سب کے لیے ہے، اور وہ “کیا” ہے، مثال کے طور پر۔ خواہ تم اس کو: اس، انہوں یا تو یا تم کی جانب منسوب کرو، واحد مذکر یا جمع مذکر یا واحد مؤنث یا جمع مؤنث کے لیے، یا ان تمام مذکر و مؤنث کے لیے (استعمال کرو) اور ان دونوں (لازم و متعدی) میں غائب و حاضر و متکلم میں بالکل کوئی فرق نہیں، اور اسی سے اس کے خیال کا غلط ہونا ظاہر ہو گیا کہ جس نے کہا کہ خطاب (نکاح کا پیغام دینے والے) کا قول “قبول کی”، بغیر “میں نے” کے، اس سے نکاح منعقد نہیں ہوگا، قبول کرنے والے کے متعین نہ ہونے کی وجہ سے۔ کیوں کہ اردو زبان میں غائب و حاضر و متکلم سب کا صیغہ ایک ہی ہے، پس “قبول کی” کا مطلب ہوگا “میں نے قبول کی”۔
فعل مضارع تجدد پر دلالت کرتا ہے
وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ [سورۃ النحل: 20، 21]
ترجمہ: اور اللہ کے سوا جن کو پوجتے ہیں، وہ کچھ بھی نہیں بناتے اور خود بنائے ہوئے ہیں، مردے ہیں، زندہ نہیں اور انہیں خبر نہیں، لوگ کب اٹھائے جائیں گے۔ (کنز الایمان)
سائل نے مذکورہ بالا آیات پیش کر کے دریافت کیا:
“یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ ماسوا اللہ تعالیٰ کے جس کو خدا کہا جاتا ہے، وہ خالق نہیں ہونے اور مخلوق ہونے کے علاوہ مردہ ہے، زندہ نہیں۔ جناب عیسیٰ علیہ السلام کو بھی جب کہ نصاریٰ خدا کہتے ہیں تو کیوں نہ ان کو وہ تسلیم کیا جائے اور کیوں نہ ان کو آسمان پر زندہ نہ مانا جائے؟”
امام موصوف نے اس پر کلام کرتے ہوئے رقم فرمایا کہ یہاں “يُخْلَقُونَ” فعل مضارع ہے اور فعل مضارع تجدد کو بتاتا ہے، یعنی کام کے بار بار ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ اس اعتبار سے آیت کریمہ کا مفہوم یہ ہوگا کہ وہ بت بنائے جاتے رہیں گے۔ امام موصوف نے رقم فرمایا:
“مذکورہ آیت کریمہ میں «وَهُمْ قَدْ خُلِقُوا» اب صیغہ ماضی نہیں، بلکہ «وَهُمْ يُخْلَقُونَ» اب صیغہ مضارع ہے کہ دلیل تجدد و استمرار ہو، یعنی بنائے جاتے ہیں اور بنے بنائے گھڑے جائیں گے، یہ یقینی بات ہے۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 15، ص: 222، لاہور]
اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے متعلق تحریر فرمایا کہ وہ اس آیت میں شامل نہیں کیے جا سکتے، کیوں کہ قرآن مجید نے ان کے لیے بعض اشیاء کی تخلیق ثابت فرمائی ہے، اور بتوں کے بارے میں قرآن کریم نے فرمایا کہ یہ کچھ نہیں بناتے۔ آپ نے رقم فرمایا:
“مذکورہ آیت کریمہ میں ان سے کسی چیز کی خلق کا سلب کلی فرمایا کہ «لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا» (وہ کوئی چیز نہیں بناتے) اور قرآن عظیم نے عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لیے بعض اشیاء کی خلق ثابت فرمائی: «وَأَخْلُقُ لَكُمْ مِنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ» (اور جب آپ مٹی سے پرندے کی صورت بناتے) اور اس جزئی تفصیل سلب کلی ہے تو عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام پر صادق نہیں۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 15، ص: 222]
صیغوں اور اسماء منصوب کے استعمال میں تسامحات
امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے رسالہ: “الزَّمْزَمَةُ الْقَمَرِيَّةُ فِي الذَّبِّ عَنِ الْخَمْرِيَّةِ” میں چند عربی صیغوں، عربی الفاظ اور اسماء منصوب کو ترک فرمایا ہے، جو قانون صرف کے برخلاف استعمال ہوتے آئے ہیں۔ علماء متقدمین بھی ان پر کلام فرماتے ہیں۔ بعض کی نشان دہی امام موصوف نے فرمائی ہے۔ چونکہ یہ مباحث علم صرف سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے وہ رقم کیے جاتے ہیں۔
خلاف قیاس عربی صیغوں اور الفاظ کا استعمال
-
صحیح بخاری و سنن ابی داؤد و جامع ترمذی و سنن نسائی و سنن ابن ماجہ و سنن دارمی سب کتابوں میں بطرق:
مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ الصِّدِّيقَةِ رضي اللہ عنھا: "كَانَ يَأْمُرُنِي فَأَتَّزِرُ".
با ادغام ہمزہ و تشدید تا، علماء وارد، علمائے عربیت اسے جائز نہیں رکھتے۔ زمخشری نے مفصل میں کہا:
قَوْلُ مَنْ قَالَ: فَاتَّزَرَ، خَطَأٌ، خَطَأٌ.
ابن ہشام نے کہا:
عَوَامُّ الْمُحَدِّثِينَ يُحَرِّفُونَهُ فَيَقْرَءُونَهُ بِأَلِفٍ وَتَاءٍ مُشَدَّدَةٍ، وَلَا وَجْهَ لَهُ، لِأَنَّهُ افْتَعَلَ مِنَ الْإِزَارِ فَفَاءُهُ هَمْزَةٌ سَاكِنَةٌ بَعْدَ هَمْزَةِ الْمُضَارِعِ الْمَفْتُوحَةِ.
علامہ طیبی کی شرح مشکوٰۃ میں ہے:
صَوَابُهُ بِهَمْزَتَيْنِ وَلَعَلَّ الْإِدْغَامَ مِنَ الرُّوَاةِ.
مجمع بحار الانوار میں ہے:
هُوَ خَطَأٌ، لِأَنَّ الْهَمْزَةَ لَا تُدْغَمُ فِي التَّاءِ.
قاموس میں ہے:
لَا تَقُلِ اتَّزَرَ وَقَدْ جَاءَ فِي بَعْضِ الْأَحَادِيثِ وَلَعَلَّهُ مِنْ تَحْرِيفِ الرُّوَاةِ.
اسی طرح جب مدینۃ اصلى میں واقع ہوا:
إِنَّ الْجُنُبَ إِذَا ائْتَزَرَ فِي الْحَمَّامِ... الخ.
علامہ ابن امیر الحاج نے فرمایا:
الَّذِي تَقْتَضِيهِ الْقَوَاعِدُ أَنْ يُقَالَ: ائْتَزَرَ بِهَمْزَةٍ سَاكِنَةٍ بَعْدَ هَمْزَةِ الْوَصْلِ، قَالُوا: وَلَا يَجُوزُ إِبْدَالُ الْيَاءِ تَاءً... الخ. [الزمزمۃ القمریۃ فی الذب عن الخمریۃ، فتاویٰ رضویہ، ج: 22، ص: 535، امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی شریف]
توضیح: “اتزر” صیغہ واحد متکلم کی غلط شکل ہے، یعنی شروع کے ہمزہ کو “تا” سے ملا کر پڑھنا کہ “تا” مشدد ہو جائے، یہ صحیح نہیں، گرچہ حدیث شریف میں بھی یہ لفظ دیکھنے کو ملتا ہے۔ شاید راویوں کی تحریف کے سبب ایسا مروی ہو گیا۔ اس صیغے میں ہمزہ مضارع کے بعد بھی ایک ہمزہ ہے، جو حرف “فاء” کی جگہ ہے، یعنی حرف اصلی ہے۔ یہ صیغہ باب افتعال کے مصدر “ائتزار” سے ہے۔ “ائتزار” میں ہمزہ وصل کے بعد جو ہمزہ ہے، وہ “فاء” کی جگہ حرف اصلی ہے۔ اس طرح مضارع کا صیغہ واحد متکلم “ائتزر” ہو گا۔ اس میں “تا” مشدد نہیں ہو گی، کیوں کہ ہمزہ کا تاء میں ادغام نہیں ہوتا ہے۔
-
النَّظَارَةُ بِالتَّخْفِيفِ بِمَعْنَى التَّنَزُّهِ لَحْنٌ يَسْتَعْمِلُهُ بَعْضُ الْفُقَهَاءِ. [الزمزمۃ القمریۃ فی الذب عن الخمریۃ، فتاویٰ رضویہ، ج: 22، ص: 538، امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی شریف]
توضیح: “نظارہ” میں “ظ” کو بلا تشدید پڑھنا غلط ہے۔ فقہائے کرام اس لفظ کو ظاء کی تشدید کے بغیر “تنزه” (پاکیزگی و صفائی) کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ بلا تشدید استعمال غلط ہے۔ ابوالفیض حضرت علامہ سید مرتضیٰ حسینی زبیدی بلگرامی نے تاج العروس من جواہر القاموس میں رقم فرمایا:
النَّظَارَةُ بِالتَّخْفِيفِ بِمَعْنَى التَّنَزُّهِ لَحْنٌ يَسْتَعْمِلُهُ بَعْضُ الْفُقَهَاءِ فِي كُتُبِهِمْ، وَالصَّوَابُ فِيهِ التَّشْدِيدُ. [تاج العروس، ج: 13، ص: 252، دار الہدایہ]
-
امام ابو سلیمان خطابی نے حدیث:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ.
میں جمہور محدثین کی تغلیط کی، حیث قال:
عَامَّةُ الْمُحَدِّثِينَ يَقُولُونَ الْخُبْثَ بِإِسْكَانِ الْبَاءِ، وَهُوَ غَلَطٌ وَالصَّوَابُ الضَّمُّ. [الزمزمۃ القمریۃ فی الذب عن الخمریۃ، فتاویٰ رضویہ، ج: 22، ص: 545، امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی شریف]
توضیح: عام محدثین مذکورہ بالا دعا میں لفظ “خبث” کو “باء” کے سکون کے ساتھ استعمال کرتے ہیں، حالاں کہ یہ غلط ہے۔ صحیح یہ ہے کہ “باء” کو ضمہ دیا جائے۔ یہ “فُعْلٌ” کے وزن پر خبیث کی جمع “خُبُث” ہے۔ اس میں فا اور عین دونوں مضموم ہیں اور اسی طرح فا کے ضمہ اور عین کے کسرہ کے ساتھ بھی لفظ خبیث کی جمع آتی ہے۔ عین کلمہ کے سکون کے ساتھ جمع نہیں آتی ہے، لیکن محدثین کلمہ “باء” کے سکون کے ساتھ اس لفظ کو پڑھتے ہیں۔ یہ قانون صرف کے خلاف ہے۔
-
امام ابو زکریا یحییٰ نووی نے امثال “عمرو بن العاص” و “شداد بن اوس” و “ابن ابی الموال” کو اکثر کتب حدیث و فقہ میں باسقاط “یاء” کے غلط و غیر صحیح ٹھہرایا۔ اکثر کتب حدیث میں وارد ہونے سے دھوکہ نہ کھانا، حیث قال:
أَمَّا الْعَاصُ فَأَكْثَرُ مَا يَأْتِي فِي كُتُبِ الْحَدِيثِ وَالْفِقْهِ وَنَحْوِهَا بِحَذْفِ الْيَاءِ وَهِيَ لُغَةٌ، وَالْفَصِيحُ الصَّحِيحُ الْعَاصِي بِإِثْبَاتِ الْيَاءِ وَكَذَلِكَ شَدَّادُ بْنُ الْهَادِ وَابْنُ أَبِي الْمَوَالِ، فَالْفَصِيحُ الصَّحِيحُ فِي كُلِّ ذَلِكَ وَمَا أَشْبَهَهُ إِثْبَاتُ الْيَاءِ، وَلَا اعْتِرَاضَ بِوُجُودِهِ فِي كُتُبِ الْحَدِيثِ أَوْ أَكْثَرِهَا بِحَذْفِهَا.
علامہ زرقانی شرح مواہب میں فرماتے ہیں:
الْعَاصِي بِالْيَاءِ وَحَذْفِهَا، وَالصَّحِيحُ الْأَوَّلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعَرَبِيَّةِ وَهُوَ قَوْلُ الْجُمْهُورِ كَمَا قَالَ النَّوَوِيُّ وَغَيْرُهُ.
(جاری ہے)
