Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

امام احمد رضا اور فقہ المعاملات (فقہ و فتویٰ) (قسط:سوم ) | ابو محمد علی اصغر عطاری مدنی

امام احمد رضا اور فقہ المعاملات (فقہ و فتویٰ) (قسط: سوم)
عنوان: امام احمد رضا اور فقہ المعاملات (فقہ و فتویٰ) (قسط: سوم)
تحریر: ابو محمد علی اصغر عطاری مدنی
پیش کش: محمد سلمان العطاری
منجانب: مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج

جیسا کہ ہم نے بیان کیا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے بہت پہلے ہی اس مسئلے کو حل فرما دیا اور درحقیقت ان کے پیشِ نظر اس مسئلے کی اہمیت اور مستقبل کے حوالے سے درپیش فقہی مسائل تھے جنہوں نے آکر ہر خطے کے مسلمانوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا تھا اس بنا پر اس محققِ اعظم نے اپنی دور اندیشی سے ادراک کرتے ہوئے پہلے ہی امت کو تشفی بخش حل عطا فرما دیا۔

ذیل میں ہم ان علمی سرگرمیوں کا ایک تاریخی جائزہ پیش کر رہے ہیں جو زمانہ قریب میں نوٹ کی تحقیق پر منعقد ہوئیں اور لوگوں نے ساٹھ، ستر سال بعد وہی نتیجہ نکالا جو “کِفْلُ الْفَقِيهِ” میں 1906ء میں ثابت کیا جا چکا تھا۔ یہ بات کسی پر مخفی نہیں کہ دنیائے علم و فن میں تحقیق کا سہرا اسی کے سر باندھا جاتا ہے جو اَسْبَق ہو یعنی سب سے پہلے کسی بات کو ثابت کرے یا سب سے پہلے کوئی نظریہ قائم کرے یا کسی لاینحل مسئلے کا قابلِ عمل حل بیان کرے۔ نوٹ کی فقہی حیثیت اور تحقیق کا سہرا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ہی کے سر پر سجا ہے۔

آئیے دیکھتے ہیں زمانہ قریب میں نوٹ کی تحقیق پر کیا علمی سرگرمیاں رہیں:

نوٹ کی تحقیق سے متعلق زمانہ قریب کی علمی سرگرمیاں

  1. پہلی سرگرمی:
    سعودی علماء کے زیر اہتمام 1393ھ یعنی تقریباً 1973ء میں لجنۃ دائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء کے تیسرے اجلاس میں جو مسائل زیر بحث آئے ان میں سے ایک مسئلہ نوٹ کی حیثیت کے بارے میں بھی تھا جس پر تفصیلی بحث “أَبْحَاثُ هَيْئَةِ كِبَارِ الْعُلَمَاءِ” کی جلد اول میں موجود قرار داد نمبر 10 میں محفوظ ہے۔ اس اجلاس کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا گیا: “وَبَعْدَ اسْتِعْرَاضِ الْأَقْوَالِ الْفِقْهِيَّةِ الَّتِي قِيلَتْ فِي حَقِيقَةِ الْأَوْرَاقِ النَّقْدِيَّةِ مِنْ اِعْتِبَارِهَا أَسْنَادًا، أَوْ عُرُوضًا، أَوْ فُلُوسًا، أَوْ بَدَلًا عَنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ، أَوْ نَقْدًا مُسْتَقِلًّا بِذَاتِهِ، وَمَا يَتَرَتَّبُ عَلَى تِلْكَ الْأَقْوَالِ مِنْ أَحْكَامٍ شَرْعِيَّةٍ” یعنی اس مشورے میں یہ طے کرنا ہے کہ نوٹ کیا ہے؛ سند ہے یا عروض (سامانِ تجارت) میں سے ہے یا فلوس کی طرح ہے یا پھر سونا یا چاندی کا بدل ہے یا پھر مستقل طور پر ایک جداگانہ حیثیت رکھنے والی چیز ہے۔ [أبحاث هيئة كبار العلماء، ج: 1، ص: 88]

  2. دوسری سرگرمی:
    1988ء میں دنیا بھر سے منتخب علماء کے فورم “بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی کونسل” کا پانچواں اجلاس کویت میں منعقد ہوا۔ پاکستانی اسکالر مفتی تقی عثمانی نے اپنا مقالہ “أَحْكَامُ الْأَوْرَاقِ النَّقْدِيَّةِ” اسی سیمینار میں پیش کیا۔ اس سیمینار میں جو طے کیا گیا، اس بات کو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تقریباً 82 سال قبل ہی بیان کر چکے تھے۔ فقہ اکیڈمی جدہ کے سیمینار کے فیصلوں کے خلاصے کا ترجمہ کراچی کے ایک ادارے نے شائع کیا ہے، اس مسئلے پر ہونے والے فیصلے کا متن درج ذیل ہے:
    “قرار داد نمبر 42 (5/4) بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی کی کونسل کا پانچواں اجلاس کویت میں مورخہ 1 تا 6 جمادی الاولیٰ 1409ھ مطابق 10 دسمبر تا 15 دسمبر 1988ء منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں کونسل نے ‘کرنسی کی قیمت میں تبدیلی’ کے موضوع پر اراکین اور ماہرین کی طرف سے پیش کیے گئے مقالات سے آگاہی حاصل کی اور اس پر ہونے والے مباحثوں کو سنا۔ کونسل نے اکیڈمی کے تیسرے اجلاس کی قرار داد نمبر 21 (3/9) سے بھی واقفیت حاصل کی جس میں کہا گیا تھا کہ کاغذی نوٹ (فقہی اعتبار سے) ‘نقود اعتباریہ’ کی حیثیت رکھتے ہیں، کہ ان میں ثمنیت مکمل طور پر موجود ہے اور شریعت میں ربا، زکوٰۃ اور سلم وغیرہ معاملے میں سونے چاندی کے جو احکام طے شدہ ہیں وہی احکام ان نوٹوں پر بھی جاری ہوں گے۔” [جدید فقہی مسائل اور ان کا مجوزہ حل، ص: 119، ماڈرن اسلامک فقہ اکیڈمی کراچی]

  3. تیسری سرگرمی:
    ہندوستان میں علمائے دیوبند پر مشتمل فورم “اسلامک فقہ اکیڈمی” نے 1989ء میں اپنے دوسرے سالانہ سیمینار میں اس نکتہ پر گفتگو کی کہ نوٹ ہے کیا؛ ان کے اکابرین نے اسے رسید کہہ رکھا ہے، اسے باقی رکھا جائے گا یا اس پر ثمن کا حکم لگایا جائے؟ اس سیمینار کے لیے جو سوال نامہ مرتب ہوا، جس پر مقالہ نگاروں نے جوابات لکھے، ‘جدید فقہی مباحث’ جلد 2، صفحہ 42 پر سوالنامے کے ابتدائی سوال کچھ یوں درج ہیں:
    “براہِ کرم مندرجہ بالا تمہید کو پیشِ نظر رکھ کر مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات تحریر فرمائیں۔
    1۔ کرنسی نوٹ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
    2۔ زرِ حقیقی یعنی سونے چاندی کے دینار و درہم اور زرِ اصطلاحی یعنی کاغذی نوٹ کے شرعی احکام یکساں ہوں گے یا ان میں کوئی فرق ہوگا؟”
    اس سیمینار میں کرنسی نوٹ پر جو فیصلہ ہوا، اس کا پہلا پیراگراف ‘جدید فقہی مباحث’ نامی کتاب کے صفحہ 568، جلد 2 پر درج ذیل الفاظ میں لکھا گیا: “موجودہ دور میں سونا چاندی ذریعہ تبادلہ نہیں رہا اور کاغذی نوٹوں نے ذریعہ تبادلہ ہونے میں سونے چاندی کی جگہ لے لی ہے، حکومت کے قوانین بھی کاغذی نوٹوں کو مکمل طور پر ثمن کی حیثیت دیتے ہیں اور بحیثیت ثمن نوٹوں کو قبول کرنا لازم قرار دیتے ہیں۔ غرضیکہ کاغذی نوٹوں کی حیثیت عرف اور رواج میں زرِ قانونی کی ہوگئی ہے۔ کرنسی کے اس ہمہ گیر رواج نے جو شرعی اور فقہی مسائل پیدا کیے ہیں ان کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے اور غور و خوض کرنے کے بعد شرکائے سیمینار درج ذیل نکات پر متفق ہوئے۔
    (1) کرنسی نوٹ سند و حوالہ نہیں ہے بلکہ ثمن ہے اور اسلامی شریعت کی نظر میں کرنسی نوٹ کی حیثیت زرِ اصطلاحی و قانونی کی ہے۔
    (2) عصرِ حاضر میں نوٹوں نے ذریعہ تبادلہ ہونے میں مکمل طور پر زرِ خلقی (سونا، چاندی) کی جگہ لے لی ہے اور باہمی لین دین نوٹوں کے ذریعہ انجام پاتا ہے اس لئے کرنسی نوٹ بھی احکام میں ثمنِ حقیقی کے مشابہ ہے لہذا ایک ملک کی کرنسی کا تبادلہ اسی ملک کی کرنسی سے کمی و بیشی کے ساتھ نہ تو نقد جائز ہے نہ ادھار۔” [جدید فقہی مباحث، ج: 2، ص: 568]

  4. چوتھی سرگرمی:
    بعض حضرات نے نوٹ کو ثمن تو مان لیا لیکن خود سے جداگانہ حیثیت دینے کے بجائے اسے سونے کا بدل قرار دیا اور اس مسئلے پر اب بھی یہ موقف رکھتے ہیں کہ نوٹ کی خود اپنی کوئی حیثیت نہیں بلکہ یہ سونے اور چاندی کا بدل ہے، ان حضرات کے نزدیک سونے کو نوٹ کے بدلے ادھار خریدنا بھی جائز نہ ہوگا۔ چنانچہ جامعہ بنوری ٹاؤن سے جاری ہونے والے ماہنامہ بینات میں ادارے کے اس وقت کے مفتی سعید احمد جلال پوری نے لکھا: “جہاں تک کاغذی نوٹ کی حیثیت کا تعلق ہے اس سلسلہ میں عرض ہے کہ کاغذی نوٹ چونکہ عام طور پر اس سونے چاندی کا بدل یا زرِ ضمانت ہوتے ہیں جس کی بنیاد پر کاغذی نوٹ جاری کیے جاتے ہیں اس لئے احتیاط اسی میں ہے کہ انہیں سونے کا بدل تصور کیا جائے اور ان کے عوض سونے چاندی کی ادھار خرید و فروخت نہ کی جائے جبکہ بعض دوسرے حضرات ان کو ثمن عرفی قرار دیتے ہیں اس لئے اُن کے ہاں ان کا حکم زرِ ضمانت کا نہیں لہذا اُن کے ہاں کاغذی نوٹوں کے عوض سونے چاندی کی ادھار خرید و فروخت جائز ہے۔” [ماہنامہ بینات، ربیع الثانی 1427ھ مطابق 2006ء]

  5. پانچویں سرگرمی:
    بیسویں صدی کے آخر میں نوٹ کی حیثیت اور اس پر متفرع ہونے والے مسائل کس قدر اہمیت اختیار کر گئے، اس کا اندازہ گزشتہ تیس سالوں میں لکھی گئی کتب سے ہو سکتا ہے۔ ان کتب میں جہاں کرنسی کی تاریخ زیر بحث رہی، وہاں ان پر وارد ہونے والے فقہی احکام بھی ان تصانیف کا خاص موضوع رہے۔

کرنسی سے متعلق عصرِ حاضر میں لکھی گئی کتب

  1. الشیخ محمد علی عبد اللہ: “أَحْكَامُ النُّقُودِ الْوَرَقِيَّةِ وَتَغَيُّرُ قِيمَةِ الْعُمْلَةِ”

  2. محمد عبد اللطیف الفرفور: “رِسَالَةُ فَوَاتِحِ الْإِشْرَاقِ فِي أَحْكَامِ نُقُودِ الْأَوْرَاقِ وَتَغَيُّرِ قِيمَةِ الْعُمْلَةِ بِإِطْلَاقٍ”

  3. ابوبکر کوری: “أَحْكَامُ النُّقُودِ الْوَرَقِيَّةِ”

  4. الشیخ محمد عبدہ عمر: “أَحْكَامُ النُّقُودِ الْوَرَقِيَّةِ وَتَغَيُّرُ قِيمَةِ الْعُمْلَةِ فِي نَظَرِ الشَّرِيعَةِ الْإِسْلَامِيَّةِ”

  5. الشیخ عبداللہ بن الشیخ المحفوظ: “أَحْكَامُ النُّقُودِ الْوَرَقِيَّةِ وَتَغَيُّرُ قِيمَةِ الْعُمْلَةِ”

  6. رفیق المصری: “الْإِسْلَامُ وَالنُّقُودُ”

  7. محمد عمر چھاپڑا: “نَحْوَ نِظَامٍ نَقْدِيٍّ عَادِلٍ: دِرَاسَةٌ لِلنُّقُودِ وَالْمَصَارِفِ وَالسِّيَاسَةِ النَّقْدِيَّةِ فِي ضَوْءِ الْإِسْلَامِ” (یہ کتاب دراصل انگریزی میں تھی جس کا عربی و اردو ترجمہ کیا گیا ہے)۔

  8. عدنان التركمانی: “السِّيَاسَةُ النَّقْدِيَّةُ وَالْمَصْرِفِيَّةُ فِي الْإِسْلَامِ”

کرنسی سے متعلق دنیا کی مختلف جامعات میں ہونے والے پی ایچ ڈی اور ایم فل کے مقالہ جات:

  1. عباس احمد الباز: “أَحْكَامُ صَرْفِ النُّقُودِ وَالْعُمْلَاتِ فِي الْفِقْهِ الْإِسْلَامِيِّ” (رسالة ماجستير/ایم فل مقالہ)

  2. احمد حسن: “الْأَوْرَاقُ النَّقْدِيَّةُ فِي الْاِقْتِصَادِ الْإِسْلَامِيِّ: قِيمَتُهَا وَأَحْكَامُهَا” (رسالة دكتوراة/پی ایچ ڈی مقالہ)

  3. علاء الدين الزعتری: “النُّقُودُ: وَظَائِفُهَا الْأَسَاسِيَّةُ وَأَحْكَامُهَا الشَّرْعِيَّةُ” (رسالة ماجستير/ایم فل مقالہ)

  4. ستر بن ثواب الجعيد: “أَحْكَامُ الْأَوْرَاقِ النَّقْدِيَّةِ وَالتِّجَارِيَّةِ فِي الْفِقْهِ الْإِسْلَامِيِّ” (رسالة ماجستير/ایم فل مقالہ)

  5. احمد حسین احمد الحسینی: “تَطَوُّرُ النُّقُودِ فِي الشَّرِيعَةِ الْإِسْلَامِيَّةِ” (رسالة دكتوراة/پی ایچ ڈی مقالہ)

  6. جبر محمد سلامہ: “أَحْكَامُ النُّقُودِ فِي الشَّرِيعَةِ الْإِسْلَامِيَّةِ”

کفل الفقیہ رسالہ کی افادیت پر اہم نکات

ماقبل کی جانے والی گفتگو سے درج ذیل باتیں سامنے آتی ہیں:

  1. امام اہل سنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نوٹ یعنی کاغذی کرنسی ایجاد ہونے پر سب سے پہلے تفصیلی تحقیق قلم بند کر کے اس کی درست انداز پر حیثیت متعین فرمائی اور اس کو محض رسید کا وثیقہ کہنے والوں کا ردِ بلیغ فرمایا۔

  2. امام اہل سنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نہ صرف نفسِ نوٹ کے مسئلے پر شافی جواب دیا بلکہ نوٹ کی ایجاد پر جو فقہی تفریعات حل طلب تھیں ان پر بھی تفصیلی کلام فرمایا۔

  3. نوٹ کا مسئلہ کوئی عام مسئلہ نہیں تھا، فقیہ اعظم نے یہ نہ دیکھا کہ مسئلہ اس نوعیت کا ہے کہ اس کی نظیر پہلے کوئی نہیں ملتی، نہ کوئی جمود ان کے سامنے حائل ہوا۔ بلکہ یہ رسالہ لکھ کر آپ نے ثابت کر دیا کہ فقہ اسلامی میں ہر چیز کا حل موجود ہے۔ بروقت اور درست حل ہی وہ عمل ہے جس کی بنا پر اس مسئلے میں کی جانے والی تحقیق پر انقلابی تحقیق کا نام صادق آتا ہے۔ ایک ایسی تحقیق جس کے نتیجے میں نوٹ سے پیدا ہونے والی عالمگیر تشویش دور ہوئی اور کروڑوں مسلمان دینی پیچیدگی سے بچ گئے۔

یہاں یہ بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ “كِفْلُ الْفَقِيهِ” کے ساتھ ساتھ امام اہل سنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک اور رسالہ بھی اس کے بعد تصنیف فرمایا جس میں ہندوستان میں نوٹ کی حیثیت پر درست استدلال نہ کرنے والوں پر گرفت کی گئی۔ اس رسالے کا نام درج ذیل ہے:

كَاسِرُ السَّفِيهِ الْوَاهِمِ فِي إِبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاهِمِ

(کاغذی نوٹ کے بدلے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا)

ملقب بلقبِ تاریخی: “أَلذَّيْلُ الْمَنُوطُ لِرِسَالَةِ النُّوطِ” (1329ھ)

یہ رسالہ فتاویٰ رضویہ کی جلد 17 میں صفحہ 505 تا 560 پر موجود ہے۔ “کفل الفقیہ” کی تالیف تو ان بارہ سوالات کے جوابات تک محدود تھی لیکن اس رسالے میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے نوٹ کی فقہی حیثیت پر جداگانہ طور پر ہر دو فریق مولوی رشید احمد گنگوہی اور مولانا عبدالحی لکھنوی کے فتووں کا تفصیلی رد کیا۔

محترم قارئین کرام! اس سے آگے مطالعہ کرنے کے لیے قسط چہارم اوپن (سرچ) کریں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!