Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

محرم میں کیا جائز اور کیا ناجائز؟(قسط:اول)|محمد شہید حسین عطاری

محرم میں کیا جائز اور کیا ناجائز؟(قسط:اول)
عنوان: محرم میں کیا جائز اور کیا ناجائز؟(قسط:اول)
تحریر: محمد شہید حسین عطاری
پیش کش: مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج نیپال

تمام تعریفیں اس ذاتِ باری کے لیے جس نے ہمارے پیارے آخری نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو سید الانبیاء و سید البشر بنایا۔ ماہِ محرم الحرام چار حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے۔ ماہِ محرم الحرام سے بہت سی نسبتیں وابستہ ہیں، ایک خاص نسبت یہ بھی ہے کہ اس ماہ میں امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کربلا جیسا عظیم واقعہ پیش آیا۔ بالخصوص ماہِ محرم الحرام کے دسویں دن یعنی عاشورہ کی بہت اہمیت ہے۔ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی، اسی دن حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو فرعونیوں سے نجات ملی، اسی دن حضرت سلیمان علیہ السلام کو بادشاہت عطا ہوئی، اسی دن طوفانِ نوح سے حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کوہِ جودی پر ٹھہری، اور اسی دن حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ سے باہر تشریف لائے۔ قسطِ اول میں ہم ماہِ محرم الحرام کے حوالے سے ان چیزوں کا ذکر کریں گے کہ اس ماہ میں کیا جائز ہے اور کیا ناجائز، اور تحریر طویل نہ ہو جائے اس لیے ہم نے دو قسطوں میں اسے مکمل کیا ہے۔ بلا تاخیر ہم اپنے اصل موضوع کی طرف چلتے ہیں۔

محرم کا معنی کیا ہے؟

محرم کا معنی ہے: عزت والا، قابلِ احترام۔ محرم اس لیے کہتے ہیں کہ اس مہینے میں عرب والے زمانۂ جاہلیت میں بھی اس کی تعظیم کرتے تھے، خصوصاً ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب میں یہ لوگ جنگ و جدال اپنے اوپر حرام کر لیتے تھے یعنی اس میں لڑائی جھگڑا نہیں کرتے تھے۔

محرم الحرام میں کیا کیا چیزیں جائز ہیں؟

ہر وہ کام جو شریعتِ مطہرہ کے اصولوں کے خلاف نہ ہو اور شرعی حدود کے اندر ہو، وہ جائز ہے۔ جیسے: روزہ رکھنا، نفل نماز پڑھنا، منگنی کرنا، شادی بیاہ کرنا، سفر کرنا، عورت کے لیے چوڑیاں پہننا، عبادت کرنا، نیا کپڑا پہننا اور اپنے بال بچوں، بیوی و گھر والوں پر رزق میں فراخی کرنا۔ الغرض ہم نے ایک اہم اصولی بات بیان کی ہے، اگر اسے مدِ نظر رکھیں تو بہت سی چیزیں واضح ہو جائیں گی کہ کیا ہمارے لیے جائز ہے۔ یہ صرف ماہِ محرم الحرام کے لیے خاص نہیں بلکہ ہر مہینے کے لیے ہے (جیسے شادی بیاہ وغیرہ)۔

بالخصوص ماہِ محرم الحرام کے عاشورہ کے دن کی حدیثِ پاک میں فضیلت آئی ہے کہ جو اپنے بال بچوں پر رزق میں فراخی کرے گا، اللہ پاک سارا سال اس کے رزق میں فراخی کر دے گا۔ نویں اور دسویں عاشورہ کا روزہ رکھنے کی بھی فضیلت آئی ہے۔ علماء کرام نے ماہِ محرم الحرام کے عاشورہ کے دن 12 کام کرنے کو مستحب لکھا ہے، جو درج ذیل ہیں:

  1. روزہ رکھنا

  2. صدقہ کرنا

  3. نفل نماز پڑھنا

  4. ایک ہزار مرتبہ قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ کی تلاوت کرنا

  5. علماء کی زیارت کرنا

  6. یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنا

  7. اپنے اہل و عیال کے رزق میں کشادگی کرنا

  8. غسل کرنا

  9. سرمہ لگانا

  10. ناخن کاٹنا

  11. مریضوں کی عیادت کرنا

  12. دشمنوں سے ملاپ (صلح صفائی) کرنا

[جنتی زیور، ص: 158 ملخصاً]

نواسۂ رسول، جگر پارۂ بتول، امامِ عالی مقام، حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے نانا جان کے دین کو بچانے اور دین کی سربلندی کے لیے اپنا تن من دھن اور اپنی جان قربان کر دی اور سید الشہداء کے مرتبہ پر فائز ہوئے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ان کے لیے اچھی نیت سے، اخلاص کے ساتھ ایصالِ ثواب کریں۔ بالخصوص عاشورہ کے دن ان کے نام سے نیاز وغیرہ کروائیں، ان کے نام سے شربت کی سبیل لگائیں، محفل میں ان کا ذکرِ خیر کریں، مناقبتیں پڑھیں، غریبوں کو صدقہ و خیرات کریں اور قرآن خوانی کریں۔ نیز ساداتِ کرام کے ساتھ مالی تعاون اور ان کی عزت و تعظیم بھی کریں۔ اس طرح کرنے سے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روح کو راحت ملے گی اور وہ خوش ہوں گے۔

محرم الحرام میں کیا ناجائز ہے؟

محرم الحرام میں بہت سی غیر شرعی رسومات رائج ہیں۔ ہر وہ چیز جو شریعتِ مطہرہ کے اصولوں کے خلاف ہو اور شرعی حدود کے اندر نہ ہو، وہ ناجائز ہے۔ جیسے ناچ، گانا، ڈھول باجے، نوحہ وغیرہ۔ تعزیہ بنا کر ماتم کرتے ہوئے گلی گلی گھمانا، اس کے سامنے سجدہ کرنا، اس پر لائی چڑھانا، تعزیہ کے ارد گرد شرینی رکھنا اور عورتوں کا وہاں ہجوم لگانا، من گھڑت گیت گانا، مسجد کے امام صاحب کا تعزیہ کے سامنے فاتحہ خوانی کرنا اور تعزیہ کا طواف کرنا، یہ تمام باتیں دینِ اسلام میں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں اور یہ ناجائز و گناہ ہیں۔ فاتحہ کرنا امام حسین کے نام سے فی نفسہ جائز ہے مگر تعزیہ کے سامنے رکھ کر کرنا ممنوع ہے۔ تعزیہ بنانے میں مال ضائع ہوتا ہے اور مال کا ضائع کرنا ناجائز و گناہ ہے۔

اعلیٰ حضرت امامِ اہل سنت، الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ تعزیہ کا بنانا، دیکھنا اور اس پر دل سے یقین رکھنا اہل سنت و جماعت کو چاہیے یا نہیں؟ اور جو ایسا کرے اس پر شرعی کیا حکم لگے گا؟ تو آپ نے فرمایا:

تعزیہ رائج مجمع، نئی رسمِ قبیحہ سیئہ ہے، اس کا بنانا، دیکھنا جائز نہیں اور تعظیم و عقیدت سخت حرام و اشد بدعت ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ مسلمان بھائیوں کو راہِ حق کی ہدایت فرمائے۔ آمین! [فتاویٰ رضویہ، ج: 24، ص: 490]

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے ہی سوال ہوا کہ بعض لوگ 10 محرم الحرام کو نہ دن بھر روٹی پکاتے ہیں نہ جھاڑو دیتے ہیں، کپڑے نہیں اتارتے، بیاہ شادی نہیں کرتے اور صرف امام حسن و امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے سوا کسی کی نیاز نہیں دلاتے، آیا یہ جائز ہے یا نہیں؟ آپ نے جواب دیا:

پہلی تینوں باتیں سوگ ہیں اور سوگ حرام ہے، اور چوتھی بات جہالت ہے۔ ہر مہینہ، ہر تاریخ میں، ہر ولی کی نیاز اور ہر مسلمان کی فاتحہ ہو سکتی ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 24، ص: 489]

بعض لوگ ماہِ محرم میں سوگ مناتے ہیں اور ماتم وغیرہ کرتے ہیں یہ ناجائز ہے۔ سوگ کے حوالے سے حدیثِ شریف میں ہے:

عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تُحِدُّ امْرَأَةٌ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ، أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا، إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ. [صحیح مسلم، رقم الحدیث: 938]

ترجمہ: حضرت امِ عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عورت کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ کرے، سوائے اپنے شوہر کے کہ اس پر چار ماہ دس دن سوگ کرے اور (دورانِ عدت) رنگے ہوئے کپڑے نہ پہنے، سوائے عصب (نامی رنگ) کے کپڑے کے۔ بہارِ شریعت میں ہے: تین دن سے زیادہ سوگ جائز نہیں، مگر عورت شوہر کے مرنے پر چار مہینے دس دن سوگ کرے۔ [بہارِ شریعت، ج: 1، حصہ 4، ص: 855]

اس ماہ میں لوگ نوحہ بھی کرتے ہیں، جو ناجائز و حرام ہے۔ پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نوحہ کرنے والیوں کی قیامت کے دن جہنم میں دو صفیں بنائی جائیں گی، ایک جہنمیوں کے دائیں طرف اور دوسری بائیں طرف، وہ جہنمیوں پر بھونکتی رہیں گی جیسے کتے بھونکتے ہیں۔ [ظاہری گناہ کی معلومات، ص: 46]

یہ نوحہ خاص اس ماہ میں نہیں بلکہ کسی بھی ماہ میں کرنا جائز نہیں۔ ماہِ محرم الحرام میں شادی بیاہ کو معیوب و منحوس سمجھتے ہیں، اس کے حوالے سے حدیثِ شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَطَيَّرَ. [المعجم الکبیر، ج: 18، ص: 162]

ترجمہ: جس نے بدشگونی لی، وہ ہم میں سے نہیں (یعنی ہمارے راستے پر نہیں)۔ تو اسلام میں کوئی بھی مہینہ معیوب و منحوس نہیں ہوتا اور اس طرح سمجھنا ناجائز ہے۔ اسی طرح ناچنا، کودنا، رقص کرنا، امام حسین اور دیگر بزرگوں کی تصویر بنا کر اس کا احترام کرنا، جھوٹی قسمیں کھانا، امامِ قاسم کا مہندی لگانا، وغیرہ اور ان کاموں میں مصروف ہو کر نماز قضا کر دینا، یہ سب ناجائز و گناہ ہے۔

خلاصۂ کلام

ہمیں معلوم ہوا کہ ماہِ محرم الحرام میں ہمارے لیے کیا کیا چیزیں جائز ہیں اور کیا ناجائز۔ اس ماہ میں ہر وہ کام کر سکتے ہیں جس سے شریعت منع نہ کرے۔ عاشورہ کے دن نیک کام کرنے کی فضیلت ہے۔ تعزیہ بنانا، دیکھنا اور اس سے عقیدت رکھنا سخت حرام و اشد بدعت ہے۔ نوحہ کرنا ناجائز و حرام ہے اور ماتم کرتے ہوئے ناچنا، کھیلنا، کودنا وغیرہ کرنا ناجائز و گناہ ہے۔ ماہِ محرم الحرام میں شادی بیاہ کو منحوس سمجھنا جائز نہیں، سوگ تین دن سے زیادہ نہیں کر سکتے (سوائے شوہر کے)، اور ڈھول، تاشے وغیرہ بجانا جائز نہیں ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!