| عنوان: | رویت باری تعالیٰ دلائل کی روشنی میں (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | سید محمد اکرام الحق قادری مصباحی |
| پیش کش: | سیدہ آمنہ جیلانی اور نقشبندی |
| منجانب: | فاطمۃ الزہرا یونیورسٹی گجرات |
رویت باری تعالیٰ دلائل کی روشنی میں
فحول صحابہ مثلاً حضرت عبداللہ ابن عباس، حضرت کعب احبار، حضرت انس بن مالک اور حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہم اجمعین اور کبار تابعین میں سے حضرت عروہ بن زبیر، حضرت حسن بصری اور حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہم اجمعین اور اکثر علماء کے نزدیک مختار تیسرا قول ہے، یعنی یہ کہ شب معراج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کی آنکھوں سے اللہ تبارک و تعالیٰ کا دیدار کیا۔ دیدار باری تعالیٰ کا انکار کرنے والے علی العموم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے قول سے استدلال کرتے ہیں، اس لیے پہلے اس حدیث کو مع جوابات کے پیش کیا جاتا ہے پھر ان شاء اللہ العزیز اثبات رؤیت کا قول کرنے والوں کے دلائل پیش کیے جائیں گے۔
1۔ حضرت امام مسلم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:
مسروق سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں عائشہ کے پاس ٹیک لگائے بیٹھا تھا کہ انہوں نے کہا: اے ابو عائشہ تین چیزیں ہیں، جس نے ان میں سے کسی ایک کی بات کی اس نے خدا پر بہت بڑا جھوٹ باندھا۔ میں نے کہا: وہ کیا ہیں؟ اس نے کہا: “جو یہ دعوی کرتا ہے کہ محمد نے اپنے رب کو دیکھا ہے اس نے خدا پر بہت بڑا جھوٹ باندھا ہے۔” اس نے کہا: میں ٹیک لگائے بیٹھا تھا، پھر میں نے بیٹھ کر کہا: اے مومنوں کی ماں، میرا انتظار کرو، مجھے جلدی نہ کرو، کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا تھا کہ “اور بے شک اس نے اسے صاف افق میں دیکھا” اور “یقیناً اس نے اسے دوسری بار دیکھا”؟ اس نے کہا: میں اس امت میں پہلی تھی جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: یہ جبرائیل علیہ السلام تھے، میں نے ان کو ان کی حقیقی صورت میں ان دو مواقع کے علاوہ نہیں دیکھا، میں نے انہیں آسمان سے اترتے دیکھا، ان کی بے پناہ تخلیق آسمان اور زمین کے درمیان خلا کو بھرتی ہوئی دیکھی، اس نے کہا: کیا آپ نے یہ نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا تم نے نہیں سنا؟ اسے نہیں دیکھتا، لیکن وہ سب نظاروں کو دیکھتا ہے۔ اور وہ باریک بین، واقف ہے؟ کیا تم نے نہیں سنا کہ خدا کہتا ہے:
وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا [مسلم، ج: 1، ص: 98، رضا اکیڈمی]
ترجمہ: حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بارگاہ میں حاضر تھا، تو آپ نے فرمایا: اے ابو عائشہ (یہ حضرت امام مسروق کی کنیت ہے) تین چیزیں ایسی ہیں کہ جس نے انہیں بیان کیا تو اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا۔ میں نے پوچھا وہ کیا ہیں؟ آپ نے کہا کہ جو شخص یہ کہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کا دیدار کیا ہے تو اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا۔ حضرت مسروق کہتے ہیں کہ میں ٹیک لگائے بیٹھا تھا، ام المؤمنین کی بات سن کر سیدھا بیٹھ گیا اور عرض کیا: آپ میری جانب دیکھیں اور جلدی نہ کریں، کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا:
وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ
اور کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا:
وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى
آپ نے فرمایا اس امت میں پہلی ہوں جس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تو حضور نے فرمایا: وہ جبریل علیہ السلام ہیں، میں نے ان کو ان کی اصلی صورت پر صرف دو مرتبہ دیکھا، میں نے ان کو آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا اور دیکھا کہ ان کی عظیم خلقت نے آسمان سے لے کر زمین تک کی فضا کو بھر دیا ہے۔ اور فرمایا: اے مسروق! کیا تم نے اللہ رب العزت کا یہ فرمان نہیں سنا:
لَّا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ ۖ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ [سورۃ الانعام: 103]
ترجمہ: نگاہیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور وہ آنکھوں کا ادراک کرتا ہے اور وہ لطیف و خبیر ہے۔
اور کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں سنا:
وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا [سورۃ الشوری: 51]
ترجمہ: اور کسی انسان کی یہ طاقت نہیں کہ اللہ اس سے ہم کلام ہو مگر وحی سے یا پردے کے پیچھے سے یا اللہ کوئی فرشتہ بھیج دے۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لیے جن آیتوں سے استدلال کیا ہے ان کے جواب میں شارح مسلم حضرت امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کا حوالہ دے کر خدا کے دیدار کا انکار نہیں کیا ہوگا۔ اگر اس کے پاس ایسی کوئی حدیث ہوتی تو اس کا ذکر کرتی۔ بلکہ اس نے آیات سے اخذ کرنے پر انحصار کیا، اور ہم اس کے جواب کو واضح کریں گے۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کے اس بیان پر مبنی عائشہ کی دلیل کا تعلق ہے، “بصارت اسے نہیں دیکھتی،” جواب واضح ہے۔ ادراک سے مراد محیط ہے، اور خدا تعالیٰ کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کوئی متن محیط کی نفی کرتا ہے، تو یہ ضروری نہیں کہ محیط کیے بغیر وژن کی نفی کرے۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کے اس قول پر مبنی اس کی دلیل کا تعلق ہے، “یہ کسی انسان کے لیے نہیں کہ خدا اس سے بات کرے،” اس کا جواب کثیر الجہتی ہے۔ سب سے پہلے، بصارت کے دوران بصارت کے لیے تقریر کی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ بصارت کا بغیر تقریر کے ہونا ممکن ہے۔ دوسرا، یہ ایک عمومی بیان ہے جو پچھلے شواہد سے مستند ہے۔ تیسرا، بعض علماء نے بیان کیا ہے کہ وحی سے مراد وہ بات ہے جس کا کوئی واسطہ نہ ہو۔
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کسی حدیث کی بنیاد پر رؤیت کا انکار نہیں کیا (بلکہ قیاس واجتہاد سے کام لیا ہے) اگر ان کے پاس اس سلسلے میں کوئی حدیث ہوتی تو وہ اس کا ذکر کرتیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس مسئلہ کو قرآن کی آیتوں سے مستنبط کیا ہے، ہم ان کے جوابات واضح کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: “لَّا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ” اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں ادراک سے مراد احاطہ ہے اور اللہ تعالیٰ کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا اور جب قرآن مجید میں احاطہ کی نفی کی گئی ہے تو اس سے بغیر احاطہ کے رویت کی نفی لازم نہیں آئی۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا دوسرا استدلال اس آیت سے ہے: “وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا”۔ اس آیت سے استدلال کے حسب ذیل جوابات ہیں:
-
اس آیت میں رؤیت کے وقت کلام کی نفی کی گئی ہے تو یہ جائز ہے کہ جس وقت آپ نے اللہ کا دیدار کیا ہو اس وقت اس سے کلام نہ کیا۔
-
یہ آیت عام مخصوص عنہ البعض ہے اور اس کا مخصص وہ دلائل ہیں جن سے رؤیت ثابت ہے (یعنی عام قاعدہ یہی ہے لیکن سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس قاعدہ سے مستثنیٰ ہیں)۔
-
بعض علماء نے فرمایا کہ وحی سے مراد بغیر واسطہ کے کلام کرنا ہے (اور ہو سکتا ہے کہ دیدار کے وقت آپ کو کسی واسطے سے وحی کی گئی ہو)۔ [شرح مسلم للنووی، ج: 1، ص: 97]
اس حدیث میں ہے کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے “وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ” کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: وہ جبریل امین ہیں۔ ضیاء النبی میں ہے:
حضرت صدیقہ نے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا تو حضور نے فرمایا کہ وہ حضرت جبریل ہیں، یہ بالکل درست ہے کیونکہ یہ آیت کریمہ سورہ تکویر کی ہے اور وہاں حضرت جبریل ہی کا ذکر ہے۔ ارشاد ہے:
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍ وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ
یہ سارا ذکر جبریل امین کا ہے ہم پہلے بتا آئے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کی اصلی صورت میں دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تو آپ آسمان کے افق پر نمودار ہوئے، اسے افق مبین کہا جاتا ہے۔ [ضیاء النبی، ج: 2، ص: 536]
اور آیت کریمہ “وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى” کا جواب یہ ہے کہ حضرت علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ نے “ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ” کی ضمیروں کو اسی طرح “وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى” کی ضمیر منصوب کو اللہ کی طرف لوٹایا ہے اور قسم کھا کر کہتے تھے کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کا دیدار کیا ہے۔ [روح المعانی، ج: 27، ص: 80]
لہٰذا یہ حدیث پاک ہمارے موقف کے یکسر خلاف نہیں، بعض علماء نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے انکار کی توجیہ یہ کی ہے کہ وہ رؤیت علی وجہ الاحاطہ کی نفی کرتی ہیں۔ [شرح مسلم للسعیدی، ج: 1، ص: 707]
بقیہ صفحہ 24 سے
سعودی نجدی حرمین شریفین پر قابض ہوئے، سب سے پہلے انہوں نے توحید کے نام پر ان مقدس مقامات و مزارات کو بلڈوزر کے ذریعے مسمار کر دیا۔ ان کے ادب واحترام کو توحید کے منافی قرار دیا۔ اس طرح ملت اسلامیہ کے دلوں کو مجروح کرنے کے علاوہ اسلامی اقدار کو پامال کیا، یہاں تک کہ ان مقدس مزارات کی حاضری پر شرک و کفر کا فتویٰ صادر کر دیا العیاذ باللہ۔ جبکہ احادیث مبارکہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بنفس نفیس جنت البقیع و شہدائے بدر واحد کے مزارات پر حاضری ثابت ہے، گویا کہ مزارات اہل اللہ کی بارگاہ کی حاضری سنت رسول ہے۔ اللہ پاک اس نجدی قوم کے تسلط سے حرمین شریفین کو پاک فرمائے اور ہم سب کو مقدس مقامات و آثار قدیمہ کی حفاظت کی توفیق عطا فرمائے (آمین)۔ [ماہنامہ پیغام شریعت دہلی، اپریل 2016ء]
