| عنوان: | اسلام اور فلسفۂ میراث |
|---|---|
| تحریر: | محمد ارقم رضا ازہری (جامعہ ازہر شریف، مصر) |
| پیش کش: | عرشیہ بانو عطاریہ |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مذہبِ اسلام کا ہر نظام لاجواب و بے مثال ہے، ہر نظام طبیعت و فطرت اور بے شمار حکمتوں پر مبنی ہے۔ اور کسی بھی مسئلے میں اسلام جیسا نظام، نہ تو کسی آسمانی محرف دین میں ہے، نہ انسان کے بنائے ہوئے کسی دین یا قانون میں۔ انہیں بے مثال احکام اور نظاموں میں سے ایک نظام 'نظامِ میراث' ہے۔
اسلام کا نظامِ میراث سب سے انوکھا اور لاجواب ہے، جو خاندان کے تمام افراد کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے، چاہے وہ مرد ہوں یا عورت، بچے ہوں یا بوڑھے۔ یہ نظام ہر شخص کی ضروریات، ذمہ داریوں اور معاشرتی حیثیت کو مدنظر رکھ کر مال کو تقسیم کرتا ہے، جس کا مقصد صرف ورثاء کو ان کے حقوق دینا نہیں بلکہ پورے خاندان اور معاشرے کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے۔
اس پیارے اور عظیم نظام کے باوجود، بہت سے پیشاب پینے والے اور گوبر کھانے والے کافر، مستشرق اور ملحد، اپنی کم عقلی اور تعصبانہ اسلام دشمنی کے سبب، اسلام کے نظامِ میراث کے صرف ایک قاعدہ کو دیکھ کر اعتراض کرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ اسلام نے مرد و عورت کو برابر حصہ نہیں دیا، بلکہ بیٹے کو بیٹی سے ڈبل حصہ دیا ہے، جو کہ مساوات کے بالکل خلاف ہے۔ جب ہم اس اعتراض پر نظر ڈالتے ہیں، تو یہ بالکل غلط اور احمقانہ ثابت ہوتا ہے، اور پتا چلتا ہے کہ یہ محض دشمنانِ اسلام کی خباثت، عناد اور اسلام دشمنی کے سبب ہے۔
تقسیمِ میراث کے تین بنیادی معیار
اس اعتراض، یا پھر اسلام کے نظامِ میراث پر دیگر اعتراضات کا رد کرنے کے لیے سب سے پہلے، اسلام کا فلسفۂ میراث سمجھنا ضروری ہے۔ فلسفۂ میراث کی سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ اسلام میں تقسیمِ میراث کا دار و مدار، مذکر و مؤنث ہونے پر نہیں ہے۔ بلکہ قرابت اور زندگی کے منافع و مصالح پر ہے۔ اس کی قدرے تفصیل ملاحظہ ہو:
اسلامی فلسفۂ میراث میں ورثا کے حصوں میں فرق کو تین معیاروں کے تحت منظم کیا گیا ہے:
پہلا معیار: وارث، خواہ مرد ہو یا عورت، اور میت کے درمیان قرابت یعنی رشتہ داری کا درجۂ قربت۔ جتنا زیادہ رشتہ قریب ہوگا، وراثت میں حصہ اتنا ہی زیادہ ہوگا، اور جتنا رشتہ دور ہوگا، حصہ اتنا ہی کم ہوگا۔ اس میں وارث کی جنس (مرد یا عورت) کا کوئی اعتبار نہیں۔
دوسرا معیار: وراثت پانے والی نسل کا زمانی ترتیب میں مقام۔ وہ نسلیں جو زندگی کی شروعات کر رہی ہیں اور آئندہ زندگی کے بوجھ اٹھانے کے لیے تیار ہو رہی ہیں، عموماً ان کا حصہ زیادہ ہوتا ہے۔ جبکہ وہ نسلیں جو زندگی کے اختتام کی طرف جا رہی ہیں اور اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو رہی ہیں، ان کا حصہ کم ہوتا ہے۔ یہ بھی اس بات سے قطعِ نظر ہوتا ہے کہ وارث مرد ہے یا عورت۔ مثال کے طور پر، میت کی بیٹی کا حصہ اس کی ماں سے زیادہ ہوتا ہے، حالانکہ دونوں عورتیں ہیں۔ اسی طرح بیٹی کا حصہ باپ سے زیادہ ہوتا ہے، چاہے وہ بیٹی ایک شیر خوار ہو جس نے اپنے والد کو دیکھا بھی نہ ہو، اور چاہے والد وہ ہو جس نے تمام مال و دولت کمایا ہو، جس میں بیٹی کو نصف حصہ ملتا ہے۔ اسی طرح بیٹا اپنے والد سے زیادہ حصہ پاتا ہے، حالانکہ دونوں مرد ہیں۔ اس معیار میں اسلامی میراث کے فلسفے کی گہری حکمتیں اور بلند مقاصد چھپے ہوئے ہیں جو بہت سے لوگوں پر ظاہر نہیں ہوتے۔
تیسرا معیار: مالی ذمہ داری جو اسلامی شریعت کے مطابق وارث پر دوسرے لوگوں کے حق میں عائد ہوتی ہے۔ یہ وہ واحد معیار ہے جو مرد اور عورت کے حصے میں تفاوت پیدا کرتا ہے۔ لیکن یہ تفاوت نہ تو عورت کے ساتھ کسی ظلم کا باعث بنتا ہے اور نہ ہی اس کے انصاف میں کوئی کمی کرتا ہے۔ بلکہ بعض اوقات یہ تفاوت عورت کے حق میں بہتر ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر وارثین قرابت کے درجے میں برابر ہوں، اور وہ نسل کے زمانی ترتیب میں بھی برابر ہوں، جیسے میت کی اولاد (بیٹے اور بیٹیاں)، تو اس صورت میں مالی ذمہ داری کا فرق میراث کے حصوں میں تفاوت کی بنیاد بنتا ہے۔ اسی لیے قرآنِ کریم نے یہ تفاوت تمام وارثین پر عام نہیں کیا، بلکہ اسے صرف اسی مخصوص حالت میں محدود کیا، جیسا کہ آیتِ قرآنی میں فرمایا گیا:
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ
یہ نہیں کہا گیا: "اللہ تمہیں تمام وارثین کے بارے میں حکم دیتا ہے"۔
اس حالت میں خاص طور پر اس تفاوت کی حکمت یہ ہے کہ مرد (بھائی) پر اپنی بیوی اور بچوں کی کفالت کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، جبکہ عورت (بہن) کی کفالت کی ذمہ داری، اس مرد (شوہر) پر ہوتی ہے جس سے وہ شادی کرتی ہے۔ لہٰذا، عورت کو اپنے بھائی سے نصف حصہ ملنے کے باوجود، وہ میراث کے معاملے میں زیادہ محفوظ اور مستفید ہوتی ہے۔ اس کا حصہ، جو کفالت کی ذمہ داری سے آزاد ہے، اس کے لیے ایک محفوظ اور خالص مالی ذخیرہ ہوتا ہے، جو اس کی کمزوری کو پورا کرنے اور زندگی کے خطرات، نشیب و فراز سے حفاظت کے لیے ہے۔ یہ ایک الٰہی حکمت ہے جو بہت سے لوگوں کی سمجھ سے باہر ہے۔ اور مزید یہ کہ یہ حقیقی یا علاتی بھائی بہنوں میں ہوتا ہے، جبکہ اخیافی یعنی ماں جائے بھائی بہنوں میں برابر حصہ ملتا ہے۔
عورت کے حصے کی تفصیلی صورتیں
اسلام کے فلسفۂ میراث میں، اس جزوی تفاوت کو، دشمنانِ اسلام سمجھ نہیں پاتے اور اس تفاوت کو عورت کی اہلیت پر اعتراض سمجھتے ہیں۔ لیکن علمِ فرائض یعنی علمِ میراث کا، جو بھی گہرائی سے مطالعہ کرے گا، اس پر روزِ روشن کی طرح واضح ہو جائے گا کہ عورت کے ساتھ اسلامی میراث میں کوئی ظلم نہیں کیا گیا ہے۔ کیونکہ:
• ایسی صرف چار صورتیں ہیں جن میں عورت کا حصہ مرد کے نصف کے برابر ہوتا ہے۔
• ان چار صورتوں کے مقابلے میں، متعدد ایسی صورتیں ہیں جن میں عورت اور مرد کا حصہ برابر ہوتا ہے۔
• دس یا اس سے زیادہ ایسی صورتیں ہیں جن میں عورت کو مرد سے زیادہ حصہ ملتا ہے۔
• ایسی کئی صورتیں ہیں جن میں عورت کو حصہ ملتا ہے، جبکہ مرد کو حصہ نہیں ملتا۔
گویا، علمِ فرائض میں 30 سے زیادہ ایسی صورتیں موجود ہیں جن میں عورت کا حصہ مرد کے برابر، زیادہ یا مخصوص ہوتا ہے، اور صرف چار صورتیں ہیں جن میں عورت کو مرد کے نصف کے برابر حصہ ملتا ہے۔
مساوات اور عدل کا فرق
یہ اسلامی میراث کے وہ اصول اور معیارات ہیں جو جنسی فرق (مرد یا عورت) پر مبنی نہیں بلکہ مکمل عدل و حکمت پر مبنی ہیں۔ ان اصولوں سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام نے مرد و عورت سب کے ساتھ مکمل عدل کیا ہے، ذرہ بھر بھی ظلم نہیں کیا؛ کیونکہ مطلوب و مقصود عدل ہے، نہ کہ ہر چیز میں مساوات۔ کیونکہ مساوات محض برابری کو کہتے ہیں، اور عدل ہے: "وضع الشيء في محله" یعنی کسی کو اس کا حق دینا۔ اور جن اشخاص کی حالتیں مختلف ہوں، ان کو ان کے احوال کی رعایت کرتے ہوئے ان کو کچھ دینا عدل ہے، جبکہ سب میں برابری کرنا بعض پر ظلم کرنا ہے۔
مثلاً مرد کا کام ہے بوجھ برداشت کرنا، اور عورت کا یہ کام نہیں۔ تو مساوات کا درس دیتے ہوئے عورت سے کہا جائے کہ اپنی کمر پر پچاس کلو کی بوری اٹھاؤ اور دس منزل پر چڑھا دو، تو کیا عورت پر یہ ظلم نہیں ہوگا؟ ایسے ہی بچوں کی ولادت عورت کا کام ہے، مرد کا نہیں۔ تو اگر مرد سے کہا جائے کہ تم بچے جنو، تو یہ عدل ہوگا یا ظلم؟ اس کو مزید آسان مثال سے سمجھیے: کسی شخص کے دو بچے ہیں، بڑی بیٹی دسویں کلاس کی طالب علم ہے، اور چھوٹا بیٹا پہلی کلاس کا۔ بڑی بیٹی کی فیس اور دیگر اخراجات ایک ماہ میں مثلاً پانچ ہزار روپے ہیں، اور چھوٹے بیٹے کے دو ہزار۔ تو باپ کا، بڑی بیٹی کو اس کی ضروریات کے پیشِ نظر پانچ ہزار روپے دینا، اور چھوٹے بیٹے کو دو ہزار روپے دینا، عدل و انصاف ہے۔ اب اگر ملحد کی بات مانتے ہوئے، دونوں میں برابری کی جائے اور چھوٹے بیٹے کی طرح بڑی بیٹی کو بھی دو ہزار روپے دیے جائیں تو اس کے ساتھ ظلم ہوگا۔ ایسے ہی اگر بڑی بیٹی کی طرح، چھوٹے بیٹے کو پانچ ہزار دے دیے جائیں تو یہ فضول خرچی اور مال کو ضائع کرنا ہوگا، لہٰذا معلوم ہوا کہ برابری ہر جگہ مفید نہیں ہوتی، بلکہ حالات کے اعتبار سے عدل کے ساتھ تفاوت مفید ہوتا ہے۔ بالکل ایسے ہی اسلام کے میراثی قوانین ہیں، جو عدل اور ضروریات پر مبنی ہیں۔
ہندو دھرم میں عورت کی وراثت اور ملحدین کا رد
اس پوری وضاحت سے ہندو مشرکین و ملحدین کا اعتراض جڑ سے ختم ہو گیا۔ اور تعجب کی بات تو یہ ہے کہ گائے کا گوبر و پیشاب، کھانے پینے والے مشرکینِ ہند کا دماغ اتنا خراب ہو گیا ہے کہ اسلام پر یہ اعتراض کرتے ہیں، جبکہ ان کا اپنا مذہب، یعنی ہندو دھرم ایسا ہے کہ اس میں عورت کے لیے میراث میں کوئی حصہ نہیں، عورت چاہے ماں ہو، بیٹی ہو، بیوی ہو، بہن ہو، دادی ہو، پوتی ہو، کچھ بھی ہو اس کو کسی صورت وراثت میں کوئی حق نہیں، بلکہ ان کا دھرم یہ کہتا ہے کہ باپ کا سب مال بیٹے کو ملے گا، بیٹی کے لیے کوئی وراثت نہیں، اور اگر بھائی چاہے بھی کہ میں اپنے حصے میں سے بہن کو بھی دے دوں، تب بھی ہندو دھرم اس کی اجازت نہیں دیتا۔ ایسے ہی دیگر مذاہب بھی یا تو عورت کو بالکل وراثت نہیں دیتے، اور اگر دیتے بھی ہیں تو بعض صورتوں میں، جو کہ عورت پر کھلا ظلم ہے۔ اور ملحدین کے افکار یا دنیوی قوانین جو ہر جگہ برابری کا گیت گاتے ہیں وہ مرد و عورت دونوں پر ظلم ہے، جیسا کہ گزرا۔
یہ سب وضاحت تو دشمنانِ اسلام کا جواب دینے کے لیے ہے، اور ان کے پیدا کیے گئے شبہات کو مؤمنوں کے دل سے ختم کرنے کے لیے ہے۔ ورنہ ایک مؤمن کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ تقسیمِ میراث کو اللہ تبارک و تعالیٰ، اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بیان فرمایا ہے، اور اللہ (عزوجل) اور رسولِ اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) سے بڑھ کر عدل و انصاف کرنے والا کوئی نہیں۔ لہٰذا رب تعالیٰ نے جسے جتنا حصہ دینے کا حکم دیا ہے وہی عدل و انصاف ہے، اس سے ایک انچ بھی ادھر ادھر کرنا ظلم ہے۔
[بتاریخ: ۲۹ جمادی الاولیٰ ۱۴۴۴ھ / یکم دسمبر ۲۰۲۲ء]
