Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

صحتِ حدیث کا اصل معیار کا تحقیقی جائزہ | عمر سفیر رضوی

صحتِ حدیث کا اصل معیار کا تحقیقی جائزہ
عنوان: صحتِ حدیث کا اصل معیار کا تحقیقی جائزہ
تحریر: عمر سفیر رضوی پونچھ جموں کشمیر

صحتِ حدیث کا اصل معیار کا تحقیقی جائزہ
علمِ حدیث اسلامی شریعت کا ایک نہایت اہم اور بنیادی ماخذ ہے۔ اس حوالے سے غیر مقلدین، انجنئیر مرزا جہلمی اور ان کے شاگردوں کی طرف سے عوام الناس میں کچھ غلط فہمیاں پیدا کی جاتی ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ جو حدیث بخاری و مسلم میں نہ ہو یا 'شیخین' یعنی امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ کی شرائط پر پورا نہ اترتی ہو، اسے ناقابلِ قبول یا مردود سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ موقف سراسر بے بنیاد اور علمِ حدیث کے بنیادی اصولوں سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔

صحتِ حدیث کا مدار اور ائمہ کا اجماع

علمِ حدیث کے ائمہ اور محققین کا اس بات پر مکمل اِجماع ہے کہ کسی حدیث کی صحت کا مدار صرف ”صحیح بخاری“ اور ”صحیح مسلم“ یا ان کی شرائط پر منحصر نہیں ہے۔ نہ تو امام بخاری اور نہ ہی امام مسلم نے کبھی یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے دنیا کی تمام صحیح احادیث کو اپنی کتب میں جمع کر دیا ہے، یا یہ کہ ان کی کتب سے باہر کوئی حدیث صحیح نہیں ہو سکتی۔ امام بخاری اور امام مسلم کے اپنے اقوال اس بات کی سب سے واضح اور ٹھوس دلیل ہیں۔

خود امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا اپنا قول ہے، آپ فرماتے ہیں:

حَفِظْتُ مِنَ الصِّحَاحِ مِائَةَ أَلْفِ حَدِيثٍ وَمِنْ غَيْرِ الصِّحَاحِ مِائَتَيْ أَلْفٍ

یعنی: "میں نے صحیح احادیث میں سے ایک لاکھ اور غیر صحیح میں سے دو لاکھ احادیث یاد کیں "۔ [مقدمہ ابنِ صلاح، ص: 27، طبع مکتبہ رحمانیہ، لاہور]

مزید وضاحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:

مَا أَوْرَدْتُ فِي كِتَابِي هٰذَا إِلَّا مَا صَحَّ وَلَقَدْ تَرَكْتُ كَثِيرًا مِّنَ الصِّحَاحِ

یعنی: "میں نے اپنی اس کتاب یعنی صحیح بخاری میں صرف صحیح احادیث ذکر کی ہیں اور بے شمار صحیح احادیث میں نے چھوڑ دی ہیں"۔ [کوئز اصولِ حدیث، ص: 20، طبع ضیاء العلوم، راولپنڈی]

اسی طرح امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ میں نے صحیح مسلم کا انتخاب 3 لاکھ احادیث سے کیا۔ [شرح صحیح مسلم از علامہ غلام رسول سعیدی، ص: 56، فرید بک اسٹال، لاہور]

اور امام مسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا:

لَيْسَ كُلُّ شَيْءٍ عِنْدِي صَحِيحٌ وَضَعْتُهُ هٰهُنَا، إِنَّمَا وَضَعْتُ مَا أَجْمَعُوا عَلَيْهِ

یعنی: "میرے نزدیک جو بھی حدیث صحیح تھی، وہ سب میں نے یہاں درج نہیں کر دی، بلکہ میں نے اس کتاب میں وہ احادیث رکھی ہیں جن کی صحت پر اجماع یا اتفاق تھا"۔ [تیسیر مصطلح الحدیث، ص: 34، طبع مکتبۃ البشریٰ، کراچی]

یہ ایک سادہ سی منطق ہے کہ اگر امام بخاری کو ایک لاکھ صحیح احادیث یاد تھیں، اور 'صحیح بخاری' میں مکررات (تکرار) کے ساتھ تقریباً سات ہزار احادیث درج ہیں، اور امام مسلم کو 3 لاکھ احادیث یاد تھیں اور 'مسلم شریف' میں تقریباً 7000 احادیث ہیں تو باقی ماندہ ہزاروں صحیح احادیث یقیناً دوسری کتبِ احادیث (جیسے سنن، مسانید اور معاجم وغیرہ) میں موجود ہیں۔ لہٰذا یہ سمجھنا کہ بخاری و مسلم کے علاوہ احادیث صحیح نہیں ہیں، ایک صریح غلطی ہے۔

محدثینِ عظام کی تصریحات

ابو عمرو عثمان بن عبد الرحمن بن عثمان الکردی الشہرزوری (متوفی 643ھ) اپنی شہرۂ آفاق کتاب "مقدمہ ابن الصلاح" میں شیخین کے متعلق فرماتے ہیں:

لَمْ يَسْتَوْعِبَا الصَّحِيحَ فِي صَحِيحَيْهِمَا، وَلَا الْتَزَمَا ذٰلِكَ

یعنی: "ان دونوں (امام بخاری اور امام مسلم) نے اپنی دونوں صحیح (کتابوں) میں ہر صحیح حدیث کا احاطہ نہیں کیا، اور نہ ہی انہوں نے ایسا کرنے کا التزام (ذمہ داری) لیا تھا"۔ [مقدمہ ابن الصلاح، ص: 26، طبع مکتبہ رحمانیہ، لاہور]

برصغیر کے مایہ ناز محدث شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

الْأَحَادِيثُ الصَّحِيحَةُ لَمْ تَنْحَصِرْ فِي صَحِيحَيِ الْبُخَارِيِّ وَمُسْلِمٍ، وَلَمْ يَسْتَوْعِبَا الصِّحَاحَ كُلَّهَا، بَلْ هُمَا مُنْحَصِرَانِ فِي الصِّحَاحِ، وَالصِّحَاحُ الَّتِي عِنْدَهُمَا وَعَلَى شَرْطِهِمَا أَيْضًا لَمْ يُورِدَاهُمَا فِي كِتَابَيْهِمَا، فَضْلًا عَمَّا عَنْ غَيْرِهِمَا. قَالَ الْبُخَارِيُّ: مَا أَوْرَدْتُ فِي كِتَابِي هٰذَا إِلَّا مَا صَحَّ، وَلَقَدْ تَرَكْتُ كَثِيرًا مِنَ الصِّحَاحِ. وَقَالَ مُسْلِمٌ: الَّذِي أَوْرَدْتُ فِي هٰذَا الْكِتَابِ مِنَ الْأَحَادِيثِ صَحِيحٌ، وَلَا أَقُولُ إِنَّ مَا تَرَكْتُ ضَعِيفٌ. وَلَا بُدَّ أَنْ يَكُونَ فِي هٰذَا التَّرْكِ وَالْإِتْيَانِ وَجْهُ تَخْصِيصِ الْإِيرَادِ وَالتَّرْكِ، إِمَّا مِنْ جِهَةِ الصِّحَّةِ أَوْ مِنْ جِهَةِ مَقَاصِدَ أُخَرَ

یعنی: "احادیثِ صحیحہ صرف صحیح بخاری اور صحیح مسلم ہی میں منحصر نہیں ہیں، اور نہ ہی ان دونوں ائمہ نے تمام احادیثِ صحاح کا احاطہ کیا ہے، بلکہ معاملہ یہ ہے کہ یہ دونوں کتابیں تو محض صحاح پر مشتمل ہیں (یعنی ان میں صرف صحیح احادیث ہیں)، لیکن وہ احادیثِ صحاح جو خود ان ائمہ کے پاس موجود تھیں اور ان کی مقرر کردہ شرطوں پر بھی پوری اترتی تھیں، انہیں بھی انہوں نے اپنی ان کتابوں میں روایت نہیں کیا، چہ جائیکہ ان احادیث کا ذکر ہو جو دیگر ائمہ کے پاس ہیں۔ چنانچہ امام بخاری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: میں نے اپنی اس کتاب میں صرف وہی حدیث درج کی ہے جو صحیح ہے، اور میں نے بہت سی احادیثِ صحاح کو ترک کر دیا ہے۔ اور امام مسلم علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: میں نے اس کتاب میں جو احادیث پیش کی ہیں وہ صحیح ہیں، اور میں یہ نہیں کہتا کہ جن احادیث کو میں نے ترک کیا ہے وہ ضعیف ہیں۔ اور یقیناً اس ترک کرنے اور درج کرنے میں کوئی نہ کوئی خاص وجہ الہام یا علمی مقصد رہا ہوگا، خواہ وہ صحت کے اعتبار سے ہو یا دیگر مقاصد کے تحت"۔ [مقدمہ فی اصول الحدیث المعروف مقدمۃ الشیخ، ص: 38، طبع مکتبۃ الامین]

صحتِ حدیث کا اصل معیار

درحقیقت، کسی بھی حدیث کے مقبول یا مردود ہونے کا فیصلہ اس بات سے نہیں ہوتا کہ وہ کس کتاب میں درج ہے۔ اس کا فیصلہ ائمہ جرح و تعدیل کے وضع کردہ مستند قوانین و ضوابط کی روشنی میں سند اور متن کو پرکھ کر کیا جاتا ہے۔ اگر کسی حدیث کی سند متصل ہو، اس کے راوی عادل اور ضابط ہوں، اور حدیث شذوذ اور علتِ قادحہ سے پاک ہو، تو وہ صحیح اور قابلِ قبول کہلائے گی، خواہ وہ شیخین کی شرائط پر ہو یا کسی اور محدث کی شرائط پر۔

علمِ حدیث اور اسماء الرجال کی اہم کتب

محدثینِ عظام نے اس فن میں بہت سی بنیادی اور گرانقدر کتب تحریر فرمائی ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

اصولِ حدیث کی اہم کتب:
• نخبۃ الفکر
• مقدمہ ابن الصلاح
• تدریب الراوی
• اصولِ حدیث کا انسائیکلوپیڈیا
• الموقظہ
• منہج النقد فی علوم الحدیث

جرح و تعدیل کی اہم کتب:
• اصولِ جرح و تعدیل
• الرفع والتکمیل فی الجرح والتعدیل
• الجرح والتعدیل لابن أبی حاتم

فنِ اسماء الرجال کی اہم کتب:
• تقریب التہذیب
• تہذیب التہذیب
• تہذیب الکمال فی اسماء الرجال
• الکمال فی اسماء الرجال

معروف کتبِ صحاح:
• صحیح البخاری
• صحیح مسلم
• صحیح ابن خزیمہ
• صحیح ابن حبان
• صحیح ابی عوانہ
• المستدرک علی الصحیحین
• الجمع بین الصحیحین للحمیدی وغیرہما

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!