| عنوان: | میدانِ جنگ اور اخلاقِ حسنہ (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | علامہ قمرالزماں مصباحی اعظمی |
| پیش کش: | رافعہ ریاض |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
لَا تَعْتَدُوْا اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ [سورۃ البقرۃ: 190]
حد سے نہ گزرو بے شک اللہ تعالیٰ حد سے گزرنے والوں کو ناپسند فرماتا ہے۔
لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓى اَلَّا تَعْدِلُوْا اِعْدِلُوْا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى [سورۃ المائدۃ: 8]
کسی قوم سے انتقامی جذبات تم کو عدل سے باز نہ رکھیں، انصاف کرو اس لیے کہ انصاف تقویٰ سے قریب تر ہے۔
جنگ کے سلسلے میں اسلام نے جو اخلاقی پابندیاں بہ صورتِ قانون عائد فرمائی ہیں وہ حسبِ ذیل ہیں:
اعلانِ جنگ کے بغیر دشمن پر حملہ نہ کیا جائے۔
شکست خوردہ دشمن کا تعاقب نہ کیا جائے۔
ہتھیار ڈالنے والوں پر تلوار نہ اٹھائی جائے۔
بچوں، بوڑھوں، عورتوں، عبادت گزاروں، خانقاہ نشینوں، راہبوں اور تارک الدنیا افراد سے تعرض نہ کیا جائے۔
قیدیوں کے ساتھ نرمی اور محبت کا برتاؤ کیا جائے۔
زخمیوں کو ہر طرح کی طبی امداد بہم پہنچائی جائے۔
زخمی اور بیمار قیدیوں سے کام نہ لیا جائے۔
سرسبز درختوں کو نہ کاٹا جائے، عمارتوں کو نہ ڈھایا جائے۔
افادۂ عوام کے وسائل کو غارت نہ کیا جائے۔
اسلام مجاہدین کو حکم دیتا ہے کہ جیسے ہی فساد فی الارض پر قابو پا لیا جائے اور مخالف قوتیں سلامتی کے لیے جھک جائیں تو پھر قتال اور جہاد کو باقی رکھنا جائز نہیں ہے۔ چنانچہ قرآنِ عظیم کا ارشادِ عالی ہے:
وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ [سورۃ الانفال: 61]
اسلام مجاہدین کے اندر یہ داعیہ پیدا کرتا ہے کہ وہ میدانِ جنگ میں ہر کام خالصتاً لوجہ اللہ کریں۔ جملہ عبادات کی طرح جہاد کو بھی ہر طرح کے غیر اسلامی جذبات کی آمیزش سے پاک رکھیں، حالتِ جنگ میں بھی ان کا دل خشیتِ الٰہی سے ایک لمحہ کے لیے خالی نہ ہو، اور جنگ افرادِ انسانی کے خلاف نہ کریں بلکہ اس باطل ماحول کے خلاف کریں اور اس باطل نظام کو مٹائیں جس کو لوگوں نے قبول کر لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میدانِ جنگ میں بھی مجاہدین کے صبر و تحمل کی ایسی کثیر مثالیں ملتی ہیں کہ اسلام کے سپاہی کی تلوار بلند ہے اور قریب ہے کہ مدِ مقابل کا لاشہ زمین پر تڑپنے لگے کہ اچانک اس نے تلوار جھکا لی، اسی لمحہ مجاہد فی سبیل اللہ نے بھی تلوار نیام میں کر لی؛ جذبات پر کنٹرول کی یہ اعلیٰ ترین مثال ہے۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک کافر سے برسرِ پیکار ہیں؛ متعدد خطرناک واروں کو اپنی ڈھال پر روکنے کے بعد اسے کمر سے اٹھا کر زمین پر ڈال دیتے ہیں اور سینے پر بیٹھ کر سوچتے ہیں کہ اس کا سر تن سے جدا کر دیں کہ وہ شدتِ غیظ و غضب میں شیرِ خدا کے چہرۂ منور پر تھوک دیتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوراً اس سے الگ ہو جاتے ہیں، وہ اٹھ کر کھڑا ہو جاتا ہے، لیکن تلوار اٹھا کر حملہ کرنے کے بجائے وہ پوچھتا ہے کہ: آپ نے مجھے مغلوب کر کے چھوڑ کیوں دیا؟ حضرت علی نے جواب دیا کہ میں نے تلوار اللہ کے لیے اٹھائی تھی اور میں نے تمہیں اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے مغلوب کیا تھا، لیکن جب تم نے میرے ساتھ ایک گستاخی کی تو مجھے غصہ آ گیا، میں فوراً تمہیں چھوڑ کر الگ ہو گیا اس لیے کہ اس حالت میں اگر تمہیں قتل کرتا تو رضاۓ الٰہی کی تعمیل میں اپنے جذبۂ غضب کی تسکین کی خواہش شامل ہو جاتی، ایسی حالت میں میرا یہ کام خالصتاً لوجہ اللہ نہ ہوتا۔
فوجی معاہدے ہر دور میں ہوتے رہے ہیں، لیکن ہمیشہ یہ دیکھا گیا ہے کہ دو حلیف طاقتیں اس میں حق و باطل کا امتیاز کیے بغیر ایک دوسرے کا ساتھ دیتی ہیں۔ ایک ملک خواہ کتنا ہی جارح کیوں نہ ہو؛ کوئی دوسرا ملک اگر اس کا حلیف ہے تو اس کے ظلم و جارحیت میں بھی اس کا ساتھ دے گا۔ اس کے برعکس اسلام صرف مظلوم کا ساتھ دینے کی اجازت دیتا ہے، ظلم کا نہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اُنْصُرْ اَخَاكَ ظَالِمًا اَوْ مَظْلُوْمًا [رقم الحديث: 6952]
“اپنے بھائی کی مدد کرو، وہ ظالم ہو یا مظلوم۔”
صحابۂ کرام نے عرض کی یا رسول اللہ! ظالم کی مدد کس طرح کی جائے۔ ارشاد فرمایا کہ ظالم کی مدد یہ ہے کہ اسے ظلم سے باز رکھو۔
مندرجہ بالا تصریحات سے یہ بات بخوبی واضح ہو گئی کہ اسلام دفاع، اصلاح، اور استیصالِ ظلم کے لیے جنگ کی اجازت دیتا ہے، مگر حالتِ جنگ میں بھی کسی کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ اپنے اندر پوشیدہ بہیمانہ طاقتوں کو جنگ کی غضب ناکیوں میں استعمال کرے، بلکہ جنگ کے لیے بھی اخلاقی ضابطے متعین فرما دیے ہیں، تاکہ جوش و غضب میں انسان انسانی قدروں کو پامال نہ کرے۔ اے کاش! آج کی مہذب دنیا اسلام کے ان بلند ترین اصولوں کو پیشِ نظر رکھتی۔
