| عنوان: | پیغمبر خدا قانون داں بھی قانون ساز بھی (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی |
| پیش کش: | اختری |
-
صحاح ستہ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ایک صاحب حاضر ہوئے، عرض کی: میں ہلاک ہو گیا۔ فرمایا کیا بات ہے؟ عرض کی، میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے ہم بستری کرلی ہے۔ فرمایا: ایک غلام آزاد کر سکتا ہے؟ عرض کی نہیں۔ فرمایا: کیا اتنی طاقت ہے کہ مسلسل ساٹھ روزے رکھے، عرض کی نہیں۔ فرمایا: کیا اتنی استطاعت ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ عرض کی نہیں۔ اتنے میں سوا دو من خرمے کسی نے پیش کیے۔ فرمایا: انہیں خیرات کر دے۔ عرض کی: اپنے سے زیادہ محتاج پر نہ؟ مدینہ بھر میں کوئی گھر ہمارے برابر محتاج نہیں۔ یہ سن کر حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم اتنا ہنسے کہ دندان مبارک ظاہر ہو گئے، فرمایا: جا، اپنے گھر والوں کو کھلا دے۔
-
اسی کے مثل کفارہ ظہار میں بھی وارد ہے: ظہار اور روزے کا کفارہ یہ مقرر ہے کہ وہ غلام آزاد کرے، اس کی استطاعت نہ ہو تو دو مہینے میں لگاتار روزے رکھے۔ اس کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھر کھانا کھلائے۔ مگر یہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان قانون سازی ہے کہ ان دونوں صاحبوں کو اس کفارہ سے مستثنیٰ فرما دیا، نہ صرف یہ کہ مستثنیٰ فرما دیا، بلکہ انہیں اتنے کثیر خرمے عطا فرمائے۔
-
امام احمد مسند میں ثقات رجال صحیح مسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ ایک شخص آئے اور اس شرط پر اسلام لائے کہ صرف دو ہی نماز پڑھوں گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمالیا۔ کیا صرف قانون داں کی حیثیت ہے کہ وہ اللہ کی فرض کی ہوئی تین نمازوں کو معاف کر دے۔ یہ صرف قانون ساز کا عہدہ ہے۔
-
حارث بن اسامہ بن نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے اور خود حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ سے، مصنف ابن ابی شیبہ و تاریخ بخاری و مسند ابو یعلیٰ و ابن خزیمہ اور معجم کبیر طبرانی میں مروی ہے کہ فرمایا:
مَنْ شَهِدَ لَهُ خُزَيْمَةُ فَهُوَ حَسْبُهُ
ترجمہ: خزیمہ کسی کے موافق یا مخالف گواہی دیں ان کی تنہا گواہی کافی ہے حالانکہ قرآن کریم میں ہے:
وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ [سورۃ الطلاق: 2]
ترجمہ: تم میں سے دو عادل گواہی دیں۔
مگر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خزیمہ کی تنہا شہادت کو دو کے برابر فرمادیا، یہ دلیل ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم قانون ساز ہیں:
-
سونا اور ریشمی کپڑا مردوں کے لیے حرام ہے۔ مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت براء کے لیے سونے کی انگوٹھی اور حضرت سراقہ کے لیے کسریٰ کے زریں کنگن اور حضرت عبد الرحمن بن عوف و زبیر رضی اللہ عنہما کے لیے خارش کے وقت ریشمی لباس حلال فرمایا۔
-
حکام کے لیے تحفے قبول کرنا جائز نہیں، مگر حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے لیے حلال فرمایا۔ [سیف فی کتاب الفتوح]
-
فرماتے ہیں:
قَدْ عَفَوْتُ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ وَهَاتُوا صَدَقَةَ الْوَرِقِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ
ترجمہ: میں نے گھوڑوں اور غلاموں کی زکوٰۃ معاف کر دی، روپیوں کی زکوٰۃ دو ہر چالیس درہم میں ایک درہم ہے۔
صحیحین اور مسند امام احمد اور شرح معانی الآثار میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا:
اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا
ترجمہ: اے اللہ! ابراہیم نے مکہ کو حرم کر دیا اور میں (مدینہ کی) دونوں پہاڑیوں کے درمیان کو حرم بناتا ہوں۔ “یعنی مدینہ طیبہ کو”۔
-
حجۃ الوداع کا موقع ہے، حرم مکہ کے احکام بیان فرما رہے ہیں، ارشاد ہوا۔ اس کا میدان نہ صاف کیا جائے یعنی گھاس نہ چھیلی جائے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کی:
إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّهُ لِقَيْنِهِمْ وَبُيُوتِهِمْ
ترجمہ: سوائے اذخر کے یا رسول اللہ! اس لیے کہ یہ ان کی بھٹی کے لیے ہے اور ان کے گھروں کے لیے ہے۔
فورا بلا تاخیر اس کا استثنا فرما دیا۔
حجۃ الوداع کا موقع ہے۔ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم حج کی فرضیت بیان فرما رہے ہیں کہ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے عرض کیا:
أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ
کیا اسی سال کے لیے یا ہمیشہ کے لیے۔
فرمایا: اسی سال کے لیے۔ اگر میں ہاں کہہ دوں تو ہر سال کے لیے واجب ہو جائے۔
ان شواہد کو دیکھیے کیا یہ سب پکار پکار کر نہیں بتا رہے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم قانون ساز ہیں۔ صرف قانون داں نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ احناف کے نزدیک حدیث سے قرآن مجید کا نسخ جائز ہے۔ مرقات میں ہے:
قَدْ أُثْبِتَ عِنْدَ الْحَنَفِيَّةِ أَنَّ الْحَدِيثَ يَكُونُ نَاسِخًا لِلْكِتَابِ
ترجمہ: حنفیہ کے نزدیک ثابت ہے کہ حدیث کتاب اللہ کی ناسخ ہو سکتی ہے۔
اور یہ حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ ارشاد فرمایا:
كَلَامِي يَنْسَخُ بَعْضُهُ بَعْضًا كَنَسْخِ الْقُرْآنِ
میرا کلام بعض بعض کو منسوخ فرما دیتا ہے جیسے قرآن کو منسوخ کرتا ہے۔
امت کا عقیدہ
حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم قانون ساز ہیں۔ اس بارے میں امت کا عقیدہ عہد صحابہ سے لے کر یہی رہا ہے کہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم قانون ساز ہیں، صرف قانون داں نہیں۔
-
سنن ابی داؤد، ابن ماجہ، مسند امام طحاوی، معجم طبرانی اور بیہقی وغیرہ میں حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثًا وَلَوْ مَضَى السَّائِلُ عَلَى مَسْأَلَتِهِ لَجَعَلَهَا خَمْسًا
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لیے موزوں پر مسح کی مدت تین دن مقرر فرمائی۔ اگر مانگنے والا مانگے جاتا تو ضرور پانچ دن کر دیتے۔
-
بخاری میں زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
وَجَدْتُهَا مَعَ خُزَيْمَةَ الَّذِي جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَتَهُ بِشَهَادَتَيْنِ
ترجمہ: میں نے یہ آیت خزیمہ کے پاس پائی، جن کی شہادت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دو گواہوں کے برابر فرمائی۔
-
حرم مدینہ کے سلسلے میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعْضَدَ شَجَرُهَا أَوْ يُخْبَطَ أَوْ يُؤْخَذَ طَيْرُهَا
ترجمہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ مدینے کے درخت کاٹے جائیں یا پتے جھاڑے جائیں یا چڑیا پکڑی جائے۔
ان کے علاوہ خود یہی حضرت ابو ہریرہ، انس بن مالک، سعد بن ابی وقاص، زید بن ثابت، ابو سعید خدری، عبد الرحمن بن عوف، صعب بن جثامہ، رافع بن خدیج، خبیب بن ہذلی، اور جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہم نے فرمایا:
حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ... حَرَّمَ شَجَرَهَا أَنْ يُعْضَدَ أَوْ يُخْبَطَ، حَرَّمَ صَيْدَهَا، حَرَّمَ الْبَقِيعَ بِاخْتِلَافِ الْأَلْفَاظِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا
ترجمہ: مدینہ کی دونوں پہاڑیوں کے مابین حرم بنایا۔ اس کے درخت کاٹنا یا پتے جھاڑنا حرام فرمایا، اس کا شکار حرام فرمایا بقیع کو حرم بنایا۔
یہ دس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ارشادات ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کو حرم بنایا اس کے درخت کاٹنا پتے جھاڑنا، اس کی چڑیا پکڑنا حرام فرمایا۔ حرام کرنے کی اسناد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنی اس کی دلیل ہے کہ ان سب کا عقیدہ یہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا اختیار تھا کہ جس چیز کو چاہیں حلال فرمادیں، جسے چاہیں حرام فرمادیں۔ اسناد میں اصل حقیقت ہے جب تک کوئی قرینہ صارفہ نہ ہو، جو یہاں منتفی ہے تو ثابت ہو گیا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کا عقیدہ یہی تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم قانون ساز ہیں۔
-
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا۔
-
حضرت جیش بن اویس نخعی رضی اللہ عنہ نے خدمت اقدس میں حاضر ہو کر ایک قصیدہ مدحیہ عرض کیا، جس میں ہے:
شَرَعْتَ لَنَا دِينَ الْحَنِيفَةِ بَعْدَ مَا
عَبَدْنَا كَأَمْثَالِ الْحَمِيرِ طَوَاغِيَاہمارے لیے دین حنفیہ کی آپ نے تشریع فرمائی اس کے بعد کہ ہم گدھوں کی طرح بتوں کو پوجتے تھے۔
-
امام قدوری فرماتے ہیں:
سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغُسْلَ لِلْجُمُعَةِ وَالْعِيدَيْنِ وَالْإِحْرَامِ وَعَرَفَةَ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسنون فرمایا غسل جمعہ اور عیدین اور احرام اور عرفہ کے دن۔
سَنَّ کی اسناد حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنی اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم قانون ساز ہیں۔
-
امام عبد الوہاب شعرانی قدس سرہ میزان الشریعۃ الکبریٰ میں فرماتے ہیں:
كَانَ الْحَقُّ تَعَالَى جَعَلَ لَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُشَرِّعَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ مَا شَاءَ
اللہ عز وجل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اختیار دے رکھا تھا کہ اپنی طرف سے جو چاہیں مشروع فرمادیں۔
-
امام احمد خطیب قسطلانی مواہب میں فرماتے ہیں:
مِنْ خَصَائِصِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَخُصُّ مَنْ شَاءَ مِنَ الْأَحْكَامِ
سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے خصائص میں سے یہ ہے کہ شریعت کے احکام میں جسے چاہیں جس حکم سے چاہیں مستثنیٰ فرمادیں۔
-
علامہ زرقانی نے اس کی شرح میں اضافہ فرمایا:
مِنَ الْأَحْكَامِ وَغَيْرِهَا
احکام کی تخصیص نہیں جس چیز سے چاہیں جسے چاہیں خاص فرمادیں۔
-
علامہ اجل سیوطی قدس سرہ نے خصائص کبریٰ میں اس مضمون کا ایک باب منعقد فرمایا:
بَابُ اخْتِصَاصِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنَّهُ يَخُصُّ مَنْ شَاءَ بِمَا شَاءَ مِنَ الْأَحْكَامِ
اس کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس منصب کے ساتھ خاص ہیں کہ جسے چاہیں جس حکم سے چاہیں خاص فرمادیں۔
-
علامہ محمد بن عبد الباقی زرقانی شرح مواہب میں فرماتے ہیں:
قَدِ اشْتَهَرَ إِطْلَاقُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهُ شَرَعَ الدِّينَ وَالْأَحْكَامَ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو شارع کہنا مشہور ہے اس لیے کہ حضور نے دین اور احکام کی تشریع فرمائی۔
-
قصیدہ بردہ شریف میں ہے:
نَبِيُّنَا الْآمِرُ النَّاهِي فَلَا أَحَدٌ
أَبَرَّ فِي قَوْلِ لَا مِنْهُ وَلَا نَعَمِہمارے نبی آمر اور ناہی ہیں۔ “ہاں” اور “نہیں” کہنے میں ان سے زیادہ کوئی سچا نہیں۔
-
علامہ شہاب خفاجی اس شعر کی شرح میں فرماتے ہیں:
مَعْنَى نَبِيُّنَا الْآمِرُ إِلَخْ أَنَّهُ لَا حَاكِمَ سِوَاهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ حَاكِمٌ غَيْرُ مَحْكُومٍ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آمر و ناہی ہونے کے معنی یہ ہیں حضور حاکم ہیں، حضور کے سوا عالم میں کوئی حاکم نہیں، وہ کسی کے محکوم نہیں۔
اور آج اس بارے میں امت کا کیا عقیدہ ہے یہ معلوم کرنا ہو تو ترجمان ملت مجدد وقت اعلیٰ حضرت قدس سرہ کا رسالہ مبارکہ منبہ اللبیب اور الامن والعلیٰ کا مطالعہ کریں۔
