Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

جہاد! مغربی پروپیگنڈے اور اسلامی تصور (قسط: اول)|حافظ افتخار احمد قادری

جہاد! مغربی پروپیگنڈے اور اسلامی تصور (قسط: اول)
عنوان: جہاد! مغربی پروپیگنڈے اور اسلامی تصور (قسط: اول)
تحریر: حافظ افتخار احمد قادری
پیش کش: عرشیہ بانو
منجانب: گلوبل اکیڈمی

موجودہ دور کے فکری زوال، تہذیبی انتشار اور عالمی پروپیگنڈے کی کوکھ سے جس قدر غلط تصورات نے جنم لیا ہے ان میں سب سے زیادہ جس مقدس اور ربانی اصطلاح کو مسخ کیا گیا، جس کے گرد شکوک و شبہات کے بادل گہرے کیے گئے اور جسے مخصوص عالمی ایجنڈوں کے تحت خوف و دہشت کا نشان بنا دیا گیا وہ ہے جہاد!

یہ وہ لفظ ہے جسے قرآن مجید نے انسانیت کی بھلائی، حق کی سربلندی، عدل کی پاسداری اور مظلوموں کے تحفظ کا عنوان بنایا مگر عالمی طاقتوں نے اسے ایسے مفہوم میں تبدیل کر دیا کہ آج دنیا کی ایک بڑی اکثریت کے ذہن میں جہاد کا مطلب محض جنگ، خون ریزی اور بے لگام شدت پسندی رہ گیا ہے۔

گزشتہ چند دہائیوں میں مغربی تھنک ٹینکس، بین الاقوامی میڈیا کارپوریشنز، سیاسی پالیسی ساز اداروں اور مخصوص فکری لابیوں نے مستقل اور منظم پروپیگنڈے کے ذریعے اس غلط بیانیے کو اس شدت کے ساتھ پھیلایا کہ ہمارے اپنے معاشروں میں بھی ایسے افراد پیدا ہو گئے جو نا سمجھی میں انہی کے بیانیے کو دہراتے ہیں، ان کے نزدیک جہاد کا مطلب تلوار، جنگ یا طاقت کا استعمال ہے اور بس! اس فکری غلامی کی شدت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب مسلمان نوجوان اپنے ہی دین کی بنیادی اصطلاح سے شرمندگی محسوس کرنے لگتے ہیں اور مغرب کے طعنے ان کے ذہنوں میں ایسی جڑ پکڑ لیتے ہیں کہ وہ جہاد کے حقیقی مفہوم تک رسائی ہی نہیں کر پاتے۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ کچھ خود ساختہ گروہوں نے اسلام کے نام پر ایسے افعال انجام دیے جن کا دین سے کوئی تعلق نہیں تھا، ان کی حرکات نے جہاں انسانی جانوں کو نقصان پہنچایا وہیں اسلام کی ساکھ کو بھی مجروح کیا۔ انہی واقعات کو مغرب نے بھرپور طریقے سے استعمال کیا اور جہاد کو دہشت گردی کا ہم معنی بنا کر پیش کر دیا۔ یوں ایک طرف بین الاقوامی طاقتیں اپنے سیاسی و معاشی مفادات کے لیے اس اصطلاح کو ہتھیار بناتی رہیں، دوسری جانب ہمارے گھروں میں بحث و جدل، خطبات میں اختلاف اور سوشل میڈیا پر شدید فکری تصادم نے اس موضوع کو مزید الجھا دیا، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جہاد کا حقیقی مفہوم نہ کبھی جنگ تک محدود رہا اور نہ کبھی طاقت کے استعمال تک۔

عربی زبان میں جہاد “جُہد” سے مشتق ہے یعنی کوشش، محنت، مسلسل جدوجہد، اپنی تمام صلاحیتوں کو جھونک دینا۔ یہ معنی نہ کسی خاص وقت سے وابستہ ہے نہ کسی خاص میدان سے، نہ یہ صرف عسکری تناظر میں ہے نہ محض دفاعی ضرورتوں میں، بلکہ یہ مفہوم پوری انسانی زندگی کے ہر مرحلے، ہر ذمہ داری اور ہر اخلاقی جدوجہد پر حاوی ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری سیرتِ طیبہ اس مفہوم کو روشن کرتی ہے۔ مکہ مکرمہ کے تیرہ سالہ دور میں کوئی جنگ نہ تھی، کوئی لشکر نہ تھا، کوئی ہتھیار نہیں تھا لیکن جہاد جاری تھا۔ ظلم کے مقابلے میں صبر کا جہاد، توہین کے مقابلے میں اخلاق کا جہاد، تکلیفوں کے باوجود استقامت کا جہاد اور سب سے بڑھ کر سچائی کی گواہی دینے کا جہاد! یہی وہ جدوجہد تھی جس نے اسلامی تہذیب کی بنیادیں رکھیں، یہی وہ جہاد تھا جس نے اخلاقی طاقت کو مادی طاقت پر غالب کر دیا۔

آج کے دور میں جب فکری محاذ سب سے زیادہ کمزور ہے، جب عالمی میڈیا اسلاموفوبیا کو ہوا دیتا ہے، جب نوجوانوں کو ذہنی، اخلاقی اور فکری انتشار نے جکڑ رکھا ہے، جب سوشل میڈیا کے الگورتھم ایک طرف ذہنوں کو منتشر کرتے ہیں اور دوسری طرف جھوٹے بیانیوں کو طاقت دیتے ہیں، ایسے میں جہاد کا سب سے بڑا میدان علم و حکمت اور اخلاق ہے۔

وہ جہاد جو آج کے مسلمانوں کو سب سے پہلے کرنا ہے وہ نفس کے خلاف، کمزوریوں کے خلاف، غفلت کے خلاف، جہالت کے خلاف اور ذہنی غلامی کے خلاف ہے۔ وہ جہاد جس کی آج سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ قلم سے ہے، دلیل سے ہے، سچائی کی مضبوطی سے ہے، امت کی فکری تربیت سے ہے اور مغرب کے نظریاتی پروپیگنڈے کا عالمی جواب دینے سے ہے۔

آج کا زمانہ تلواروں کا نہیں الفاظ کا زمانہ ہے، تصاویر کا زمانہ ہے، میڈیا کا زمانہ ہے، بیانیوں کا زمانہ ہے، طاقت اب محاذوں پر نہیں بیانیوں پر جیتی جاتی ہے۔ قومیں سرحدوں سے نہیں نظریات سے فتح ہوتی ہیں اور بدقسمتی سے یہی وہ میدان ہے جہاں امت مسلمہ سب سے پیچھے کھڑی ہے۔

آج دشمن کے پاس ٹیکنالوجی ہے، میڈیا نیٹ ورک ہے، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر ہے، فکری مشینری ہے اور عالمی سطح پر اپنا بیانیہ نافذ کرنے کے وسائل ہیں۔ جبکہ امت کے اکثر نوجوان صرف سطحی بحثوں، مشہور شخصیات کی ویڈیوز، سوشل میڈیا کے تنازعات اور محدود علمی افق تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔

اگر آج جہاد کے مفہوم کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے تو اس کا مطلب ہتھیار اٹھانا نہیں بلکہ سوچ کو اٹھانا ہے، علم کو اٹھانا ہے، اخلاق کو اٹھانا ہے اور امت کی فکری خودمختاری کو بحال کرنا ہے، مذہب اسلام نے کبھی کسی کو زبردستی مسلمان بنانے کا حکم نہیں دیا۔

قرآن کی روشن آیت آج بھی پوری قوت سے یہ اعلان کرتی ہے:

لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ [سورۃ البقرة: 256]

دین میں کوئی جبر نہیں۔ اس کے باوجود یہ کہنا کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا ایک کھلا جھوٹ ہے جسے تاریخ کے شواہد جھٹلا دیتے ہیں۔ صدیوں تک مسلمان حکومتوں میں مختلف مذاہب کے لوگ امن سے رہے، اپنے عبادت خانوں، اپنے قانون اور اپنی سماجی آزادی کے ساتھ۔

اگر اسلام تلوار سے پھیلا ہوتا تو ہندوستان، اندلس، افریقہ اور عرب سے لے کر مشرقی ایشیا تک کروڑوں غیر مسلم آج بھی اپنے ادیان پر قائم نہ ہوتے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی نسلوں کو جہاد کا حقیقی، جامع اور معتدل تصور دیں۔ نہ اس انتہا کی طرف جائیں جو ہر مسئلے کا حل طاقت کو سمجھتی ہے، نہ اس مغربی فکر کے پیچھے چلیں جو اسلام کے ہر حکم کو معذرت خواہانہ نظروں سے دیکھتی ہے۔

اسلام کا راستہ توازن کا راستہ ہے، علم اور عمل کا، اخلاق اور جرات کا، حکمت اور استقامت کا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم جہاد کو اس کی اصل روح کے ساتھ پیش کریں، جہاد جو انسانیت کے تحفظ کا نام ہے۔ جہاد جو ظلم کے مقابلے میں آواز بلند کرنے کا نام ہے۔ جہاد جو نفس کی برائیوں سے لڑنے کا نام ہے۔ جہاد جو علم کے میدان میں برتری قائم کرنے کا نام ہے۔ جہاد جو امت کی عزت اور عدل کی بحالی کا نام ہے۔

جب تک ہم اس عظیم تصور کو واپس اس کے مقام پر نہیں لائیں گے مغرب کا پروپیگنڈا جاری رہے گا، نوجوانوں کے ذہنوں میں تذبذب باقی رہے گا اور اسلام کا عالمگیر پیغام اپنی اصل عظمت کے ساتھ دنیا کے سامنے نہیں آسکے گا۔

لہٰذا! آنے والی نسلوں کی فکری بقا، امت کی تہذیبی سلامتی اور مسلمان معاشروں کی علمی خودمختاری اسی میں ہے کہ جہاد کے مفہوم کو صحیح، جامع، وسیع اور قرآنی تناظر میں سمجھا اور سمجھایا جائے، یہی جہاد کی اصل روح ہے اور یہی وہ پیغام ہے جس کی آج دنیا کے ہر کونے میں نئی قوت، نئی وضاحت اور نئی ذمہ داری کے ساتھ ضرورت ہے۔ جہاد کے صحیح مفہوم کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے تاریخی پس منظر کو بھی سامنے رکھا جائے۔

اسلام کی آمد سے پہلے دنیا کی بڑی تہذیبیں طاقت کے نشے میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ رومی سلطنت میں بادشاہوں کی مرضی ہی قانون تھی۔ ایرانی و ساسانی تہذیب میں طبقاتی تقسیم انسانیت کو گھٹا کر رکھ دیتی تھی۔ یونانی فلسفے میں اخلاقیات کے باوجود سماج میں عملی ظلم راج تھا، عرب میں قبائلی عصبیت اور خون ریزی عام تھی۔ ایسے وقت میں اسلام نے جہاد کا جو تصور پیش کیا وہ دنیا کے کسی بھی مذہب یا تہذیب کے پیش کردہ تصورِ جنگ یا جدوجہد سے بالکل مختلف تھا۔

اسلام کے نزدیک طاقت کا استعمال آخری آپشن تھا، وہ بھی صرف دفاع، مظلوموں کی حفاظت، معاہدات کی پاسداری اور امن کے قیام کے لیے۔ جنگ کسی قوم پر زبردستی عقیدہ مسلط کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس ظلم کو روکنے کے لیے ہوتی تھی جو انسانیت کو کچل رہا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں پہلی ریاست قائم کرنے کے بعد بھی کسی قوم پر حملہ نہیں کیا بلکہ صرف ان قوتوں کے مقابلے میں کھڑے ہوئے جو مسلم معاشرے کی سلامتی کے درپے تھیں۔

اسلامی تاریخ کے روشن ابواب اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ جہاں بھی مسلمان حکومتیں قائم ہوئیں وہاں عدل کی بنیاد پر مختلف مذاہب کے لوگ ساتھ رہے بلکہ انصاف کے چرچے خود غیر مسلم مؤرخین نے بھی کیے۔

اس کے مقابلے میں رومن چرچ کی جبری تبدیلیِ مذہب کی تحریکیں، یورپ کی صلیبی جنگیں، اندرون ایشیا منگولوں کی تباہ کاریاں یا امریکی و نوآبادیاتی نظام کی خونریز تاریخ سب آج بھی تاریخ کی کتابوں میں کھلی حقیقت بن کر موجود ہیں، اسی پس منظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسلام کا جہاد کبھی بھی توسیع پسندی یا قومیت پرستی کا نام نہیں تھا۔ یہ ایک اخلاقی قوت تھی، عدل کے قیام کے لیے اور ظلم کے خاتمے کے لیے۔

آج دنیا کے حالات اس تاریخی پس منظر سے ملتے جلتے ہیں، طاقتور قومیں سیاسی، معاشی اور میڈیا کی قوتوں کے ذریعے کمزور قوموں کو غلام بناتی ہیں۔ عالمی اداروں کی پالیسیاں بھی طاقتور ممالک کے زیر اثر ہیں، مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کے نام پر ایران، افغانستان، فلسطین، کشمیر اور کئی دیگر خطے مسلسل تنازعات کا شکار ہیں لیکن ان سب کے باوجود ایک مسلمان کے سامنے جو سب سے اہم محاذ کھلا ہے وہ عسکری نہیں بلکہ فکری ہے۔

آج کی جنگ تلواروں سے نہیں لڑی جاتی خبر سے لڑی جاتی ہے، الفاظ سے لڑی جاتی ہے، بیانیے سے لڑی جاتی ہے، ڈیجیٹل اسکرینوں سے لڑی جاتی ہے، ایک وقت تھا کہ قوموں کی شناخت ان کے سپاہی، گھوڑے، نیزے اور قلعے ہوتے تھے۔ آج ایک قوم کی پہچان اس کی فکری پختگی، تعلیمی معیار، علمی برتری، میڈیا کی قوت، ٹیکنالوجی میں مقام اور تحقیق و ایجاد کے میدان میں موجودگی سے ہوتی ہے۔

اسی لیے اگر آج جہاد کا کوئی سب سے بنیادی میدان ہے تو وہ یہی ہے فکری جہاد! دنیا آپ کے مذہب کو ظالم بنا کر پیش کر رہی ہے۔ آپ کو علمی دلیل کے ساتھ اس کا جواب دینا ہے۔ دنیا اسلاموفوبیا کے بیانیے کو عام کر رہی ہے، آپ کو حکمت کے ساتھ اسے توڑنا ہے۔ دنیا تہذیبی جنگ مسلط کر رہی ہے، آپ کو اپنی تہذیب کی حفاظت کرنی ہے۔ دنیا اپنے نظریات کو تعلیم کے ذریعے مسلط کر رہی ہے، آپ کو اپنی نسلوں کی فکری تربیت کرنی ہے۔ دنیا میڈیا کے ذریعے ذہنوں کو کنٹرول کر رہی ہے، آپ کو سچ کا بیانیہ وسیع کرنا ہے۔

اس دور کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ دنیا نئے ہتھیار نہیں بنا رہی، نئے تصورات بنا رہی ہے۔ نئے الفاظ وضع ہو رہے ہیں، نئی اصطلاحات تراشی جا رہی ہیں، نئی اخلاقیات تخلیق کی جا رہی ہیں، یہاں تک کہ آزادی، حقوق، انسانیت، ترقی، سیکولرازم جیسے لفظ بھی ایک مخصوص سیاسی سمت میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔

آج جہادِ فکر کا تقاضا ہے کہ مسلمان ان تمام لفظی، فکری، میڈیا اور سیاسی جنگوں کا ادراک کرے اور ان کے مقابلے میں اپنا علمی، اخلاقی اور تہذیبی بیانیہ مضبوط کرے۔ اس جنگ میں وہی قوم کامیاب ہوگی جس کے پاس علم ہو، دلیل ہو، کردار ہو اور حکمت ہو۔ اگر آج امت اپنے نوجوانوں کو فکری تربیت نہ دے سکی، اگر سچ اور جھوٹ کی پہچان مٹ گئی، اگر اخلاقی معیار کمزور ہو گئے، اگر اسلام کا بیانیہ پس منظر میں چلا گیا، اگر امت نے میڈیا، ٹیکنالوجی اور تعلیم کے میدانوں کو نظر انداز کر دیا تو یقین جانیے کہ عسکری طاقت سے دنیا میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

کیونکہ آج دنیا کی جنگیں میدان میں نہیں ذہنوں میں لڑی جا رہی ہیں۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس دور کے جہاد کو قلم کا جہاد، دلیل کا جہاد، سچائی کا جہاد، علم کا جہاد، تربیت کا جہاد، تہذیب کی حفاظت کا جہاد اپنی فکر، اپنے کردار، اپنے معاشرے اور اپنی نسلوں میں زندہ کریں۔ عصر حاضر کی یہ فکری جنگ ہمیں یہ باور کراتی ہے کہ اگر ہم نے جہاد کی حقیقی روح کو اپنی زندگیوں میں شامل نہ کیا تو نہ صرف دنیا ہمارے بیانیے کو مسخ کرتی رہے گی بلکہ ہم اپنی شناخت کھو بیٹھیں گے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنی علمی کمزوریوں اور فکری انتشار کو دور کریں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!