| عنوان: | یزید اور حدیث قسطنطنیہ |
|---|---|
| تحریر: | فقہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی |
| پیش کش: | محمد سلمان العطاری |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
یزید پلید جس نے مسجد نبوی اور بیت اللہ شریف کی سخت بے حرمتی کی، جس نے ہزاروں صحابۂ کرام و تابعینِ عظام رضی اللہ عنہم کا بے گناہ قتلِ عام کیا، جس نے مدینہ طیبہ کی پاک دامن خواتین کو اپنے لشکر پر حلال کیا اور جس نے جگر گوشۂ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو تین دن بے آب و دانہ رکھ کر پیاسا ذبح کیا۔
ایسے بدبخت اور مردود یزید کو پیدائشی جنتی اور بخشا بخشایا ہوا ثابت کرنے کے لیے آج کل کچھ لوگ ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ ایسے لوگ چاہے اپنے آپ کو سنی کہیں یا دیوبندی لیکن حقیقت میں وہ اہلِ بیتِ رسالت کے دشمن، خارجی اور یزیدی ہیں۔ اس بدبخت کی حمایت میں وہ لوگ بخاری شریف کی ایک حدیث پیش کرتے ہیں جو حدیثِ قسطنطنیہ کے نام سے یاد کی جاتی ہے۔ ان باطل پرست یزیدیوں کا مقصد یہ ہے کہ جب یزید کی بخشش اور اس کا جنتی ہونا حدیث شریف سے ثابت ہے تو امام حسین کا ایسے شخص کی بیعت نہ کرنا اور اس کے خلاف علمِ جہاد بلند کرنا بغاوت ہے اور سارے فتنے و فساد کی ذمہ داری انہی پر ہے۔ «نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ»
یزیدی گروہ جو حدیث پیش کرتا ہے وہ یہ ہے:
«قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ مَدِينَةَ قَيْصَرَ مَغْفُورٌ لَهُمْ»
یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کا پہلا لشکر جو قیصر کے شہر (قسطنطنیہ) پر حملہ کرے گا وہ بخشا ہوا ہے۔ [بخاری شریف، ج: 1، ص: 410]
اور قیصر کے شہر قسطنطنیہ پر پہلا حملہ کرنے والا یزید ہے لہٰذا وہ بخشا بخشایا ہوا پیدائشی جنتی ہے۔
یزیدی گروہ کی اس تقریر کا جواب یہ ہے کہ اللہ کے محبوب، دانائے خفایا و غیوب جنابِ احمدِ مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان حق ہے لیکن قیصر کے شہر قسطنطنیہ پر پہلا حملہ کرنے والا یزید ہے یہ دعویٰ صحیح نہیں۔ اس لیے کہ یزید نے قسطنطنیہ پر کب حملہ کیا اس کے بارے میں چار اقوال ہیں 49ھ، 50ھ، 52ھ اور 55ھ۔ [کامل ابن اثیر، ج: 3، ص: 131 / بدایہ والنہایہ، ج: 8، ص: 32 / عینی شرح بخاری، ج: 12، ص: 198 / اصابہ، ج: 1، ص: 205]
معلوم ہوا کہ یزید 49ھ سے 55ھ تک قسطنطنیہ کی کسی جنگ میں شریک ہوا چاہے سپہ سالار وہ رہا ہو یا حضرت سفیان بن عوف اور وہ معمولی سپاہی رہا ہو مگر قسطنطنیہ پر اس سے پہلے حملہ ہو چکا تھا جس کے سپہ سالار حضرت عبدالرحمن بن خالد بن ولید تھے اور ان کے ساتھ حضرت ابو ایوب انصاری بھی تھے رضی اللہ عنہم۔ [سنن ابی داؤد، ص: 340]
اور حضرت عبدالرحمن بن خالد رضی اللہ عنہ کا انتقال 46ھ یا 47ھ میں ہوا جیسا کہ کتبِ تاریخ میں درج ہے۔ [بدایہ والنہایہ، ج: 8، ص: 31 / کامل ابن اثیر، ج: 3، ص: 229 / اسد الغابہ، ج: 3، ص: 440]
معلوم ہوا کہ آپ کا حملہ قسطنطنیہ پر 46ھ یا 47ھ سے پہلے ہوا۔ اور تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ یزید قسطنطنیہ کی ایک جنگ کے علاوہ کسی میں شریک نہیں ہوا۔ تو ثابت ہو گیا کہ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے قسطنطنیہ پر جو پہلا حملہ کیا تھا یزید اس میں شریک نہیں تھا تو پھر حدیث «أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي» الخ میں یزید داخل نہیں اور جب وہ داخل نہیں تو اس حدیث شریف کی بشارت کا بھی وہ مستحق نہیں۔ اور یاد رکھیے کہ ابو داؤد شریف صحاح ستہ میں سے ہے عام کتب تاریخ کے مقابلہ میں اسی کی روایت کو ترجیح دی جائے گی۔ رہی یہ بات کہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال اس جنگ میں ہوا کہ جس کا سپہ سالار یزید تھا تو اس میں کوئی خلجان نہیں اس لیے کہ قسطنطنیہ کا پہلا حملہ جو حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں ہوا آپ اس میں شریک رہے اور پھر بعد میں جب اس لشکر میں شریک ہوئے کہ جس کا سپہ سالار یزید تھا تو قسطنطنیہ میں آپ کا انتقال ہو گیا اس لیے کہ قسطنطنیہ پر متعدد بار اسلامی لشکر حملہ آور ہوا ہے۔
برادرانِ اسلام! اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ قسطنطنیہ پر پہلا حملہ کرنے والا جو لشکر تھا اس میں یزید موجود تھا پھر بھی یہ ہرگز نہیں ثابت ہوگا کہ اس کے سارے کرتوت معاف ہو گئے اور وہ جنتی ہے۔ اس لیے کہ حدیث شریف میں یہ بھی ہے:
«مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ فَيَتَصَافَحَانِ إِلَّا غُفِرَ لَهُمَا قَبْلَ أَنْ يَتَفَرَّقَا»
یعنی جب دو مسلمان آپس میں مصافحہ کرتے ہیں تو جدا ہونے سے پہلے ان دونوں کو بخش دیا جاتا ہے۔ [سنن الترمذی، ص: 97]
اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے:
«مَنْ فَطَّرَ فِيهِ صَائِمًا كَانَ لَهُ مَغْفِرَةً لِذُنُوبِهِ»
جو ماہِ رمضان میں روزہ دار کو افطار کرائے اس کے گناہوں کے لیے مغفرت ہے۔ [شعب الایمان للبیہقی / مشکوٰۃ، ص: 174]
اور سرکارِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث یہ بھی ہے:
«يُغْفَرُ لِأُمَّتِهِ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ فِي رَمَضَانَ»
(روزہ وغیرہ کے سبب) ماہِ رمضان کی آخری رات میں اس امت کو بخش دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد / مشکوٰۃ، ص: 174]
اگر یزید نوازوں کی بات مان لی جائے تو ان احادیثِ کریمہ کا یہ مطلب ہوگا کہ مسلمان سے مصافحہ کرنے والے، روزہ دار کو افطار کرانے والے اور ماہِ رمضان میں روزہ رکھنے والے سب بخشے بخشائے جنتی ہیں۔ اب اگر وہ حرمینِ طیبین کی بے حرمتی کریں معاف، کعبہ شریف کو کھود کر پھینک دیں معاف، مسجدِ نبوی میں غلاظت ڈالیں معاف، ہزاروں بے گناہ کو قتل کر ڈالیں معاف یہاں تک کہ اگر سید الانبیاء کے جگر پاروں کو تین دن کا بھوکا پیاسا رکھ کر ذبح کر ڈالیں تو وہ بھی معاف اور جو چاہیں کریں سب معاف۔ «نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ»
برادرانِ ملت! اگر کسی عملِ خیر سے صغیرہ، کبیرہ اور اگلے پچھلے سب گناہ معاف ہو جائیں جیسا کہ آج کے یزیدیوں نے سمجھا ہے تو دنیا کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ اس لیے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے مصافحہ کرے گا اور اس کے بعد جو چاہے گا کرے گا۔ اگر کوئی اسے سرزنش کرے گا تو کہے گا ایک مسلمان سے مصافحہ کے سبب ہمارا اگلا پچھلا سب گناہ معاف ہو گیا ہے۔ ہمیں کچھ نہ کہو۔
خدائے عزوجل یزید نوازوں کو صحیح سمجھ عطا فرمائے اور گمراہی و بد مذہبی سے بچنے کی توفیق رفیق بخشے۔ آمین۔
