| عنوان: | کبھی محروم نہیں مانگنے والا تیرا (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | حافظ افتخار احمد قادری |
| پیش کش: | ناظم اسماعیلی |
ہندوستان کی مایہ ناز شخصیت جسے دنیائے سنیت سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام سے جانتی، پہچانتی اور مانتی ہے۔ سرکارِ خواجہ غریب نواز کی ذات ایسی ذات ہے کہ جس کے عرفان و آگہی کی داستانیں چمن چمن میں پہنچ گئی ہیں۔ موجِ قرطاس سے گزر کر ان کے فیوض و برکات کا چراغ کشورِ دل کے شبستانوں میں جل رہا ہے۔ یہی وہ عظیم الشان شخصیت ہے جس کے شام و سحر اور شب و روز کا ایک ایک لمحہ دینی و مذہبی مہمات میں اس درجہ مصروف تھا کہ خیالِ غیر کی کوئی باریابی نہیں ہوتی تھی۔ سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خونِ جگر کی سرخی سے ویرانوں میں دین کے گلشن لہلہا اٹھے۔ عشق و ایمان کی روح ان کے وجود کی رگ رگ میں اس طرح رچ بس گئی تھی کہ اپنے آقائے پاک علیہ الصلوۃ والسلام کے جمال کے لیے ہر وقت بے چین و بیقرار رہتے اور جب دیدارِ مصطفیٰ علیہ الصلوۃ والسلام سے آنکھیں سیراب ہوئیں تو چہرے سے تابانی جھلکتی تھی۔ ایسا کیوں نہ ہوتا، آخر وہ خاندانِ رسول ہی کے تو ایک فرد تھے۔
تاریخِ ہند کا مطالعہ کرنے سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ جب ہندوستان کفرستان بنا ہوا تھا، معبودِ برحق کی عبادت و بندگی کرنے کے بجائے خود تراشیدہ پتھروں، بے جان مورتیوں کو اپنا پالنہار و خالق مان کر اس کی پرستش کر رہے تھے، ہندوستان کے اخلاق و اطوار بگڑ چکے تھے، ظلم و ستم کا بازار گرم ہو چکا تھا، وحشت و بربریت پھیلتی جا رہی تھی، لوٹ کھسوٹ، چوری، عیاشی اور شراب نوشی میں لوگ منہمک تھے، حقوق العباد غصب کرنا عام طور پر ضروری بن چکا تھا۔ جگہ جگہ انتشار تھا۔ جگہ جگہ بے چینی و بے قراری تھی۔ گویا ہندوستان کی تہذیب اپنی شمع گل کر چکی تھی۔ ایسے وقت میں آپ کے قدومِ میمنت لزوم کی برکت سے یہ ہندوستان جو کفرستان بنا ہوا تھا تکبیر و رسالت کی دلنواز صداؤں اور ملکوتی ترانوں سے گونج اٹھا۔ اس قدسی صفت بزرگ کی چھوٹی سی مجلس رشد و ہدایت اور نورِ ایمان کا ذریعہ بن گئی۔ کفر و شرک کے دلدل میں پھنسے ہوئے لاکھوں باشندگانِ ہند اسلام کے اس چشمۂ شیریں کی جانب دوڑنے لگے اور کفر کے مجسمے جامِ ہدایت پی پی کر اسلام میں سرشار ہونے لگے۔
سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پورے عالمِ اسلام کے مسلمان انتہائی عقیدت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہندوستان میں سلسلۂ چشتیہ اور اسلام کے آفاقی پیغام کی ترویج و اشاعت کے تعلق سے آپ کو تقدیم و اولیت حاصل ہے۔ اس کفرستانِ ہند میں اسلام کا چراغ اگرچہ آپ سے پہلے بھی جل چکا تھا اور اسلامی مبلغین و مصلحین آ چکے تھے لیکن اسلام کو قبولیتِ عام نہ مل سکی تھی، آپ کی تبلیغ نے ایک عظیم انقلاب برپا کر دیا اور لوگ بہت تیزی کے ساتھ اسلام کے دامن میں پناہ لینے لگے، اسلام کی دلکش بہاریں آپ کی دعوت و تبلیغ اور رشد و ہدایت کا نتیجہ ہیں کیوں کہ آپ کے گلشنِ ہدایت کی جو ہوا چلی تو بساطِ ہند میں نورِ اسلام سے چراغاں ہی چراغاں ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر شخص آپ کا قدر دان ہے۔ بدعقیدگی کا سیلاب بھی آپ کی عظمت و رفعت کو متاثر نہ کر سکا اور ان شاء اللہ صبح قیامت تک متاثر نہ کر سکے گا۔ آپ کے عقیدت مند آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے رہیں گے اور بدعقیدگی کے چہرے پر لعنت و ملامت کے تیر برساتے رہیں گے۔ سرکارِ خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نگاہِ ولایت سے دل بھی بدلے، آپ کے خلفاء و متوسلین خاکِ ہند کے جس خطے میں پہنچے تو اسلام کا بول بالا ہوتا اور نورِ ہدایت پھیلتا ہوا اور کفر کا اندھیرا چھٹتا چلا گیا۔
تاریخ دانوں نے لکھا ہے کہ آپ نے اجمیر شریف میں گوشہ نشینی اختیار کی۔ اسلام کا چراغ جلایا۔ ہندوستان کے ہر دور کے خوش عقیدہ مسلمان اس مقدس دربارِ گہربار میں حاضر ہوتے رہے ہیں اور ان کے وسیلے سے دل کی مرادیں پاتے رہے۔ اس بارگاہِ اقدس میں سلاطینِ ہند بھی پاپیادہ حاضر ہوتے رہے ہیں اور مشائخِ طریقت بھی گردنیں خم کرتے رہے ہیں۔ اساطینِ علم و دانش بھی با ادب آتے رہے ہیں اور کج کلاہانِ زمانہ بھی خمیدہ نظر آتے رہے ہیں کیوں کہ آپ کی نگاہ جس پر پڑتی دل کی دنیا بدل جاتی، آپ کی بارگاہ میں جو بھی آتا فیضیاب ہو جاتا، رہزن آتا رہبر بن جاتا، قاتل آتا محافظ بن جاتا، شقی آتا سعید بن جاتا، نااہل آتا اہل بن جاتا، سرکش آتا غلام بن جاتا، کافر آتا مسلمان ہو جاتا، فاسق آتا متقی بن جاتا، دشمن آتا حاشیہ بردار بن جاتا، جادوگر آتا تائب ہو کر عاملِ قرآن بن جاتا۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا مجدد دین و ملت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے منجھلے بھائی، استاذِ زمن حضرت علامہ حسن رضا خاں بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مزارِ مقدس کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے، ایک مبنی بر حقیقت شعر کہا ہے:
خواجہ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
کبھی محروم نہیں مانگنے والا تیرا
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے کسی نے سوال کیا کہ جو مقبولیت سلطان الہند کو حاصل ہے وہ کسی اور کو حاصل نہیں۔ جو ان کے مزارِ پرانوار پر جاتا ہے ان پر فریفتہ اور دیوانہ ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے قدرے توقف کے بعد فرمایا:
ایں سعادت بزورِ بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظمت کا اندازہ اس واقعہ سے بھی ہوتا ہے کہ آپ کے عرس کا مبارک موقع ہے۔ لاکھوں عقیدت مند دور دراز سے سفر طے کر کے آتے ہیں۔ آنے والوں کا جمِ غفیر ہے۔ گہما گہمی کا عالم ہے۔ اجمیر کی مقدس گلیوں کوچوں میں دھوم دھام ہے۔ سب کے چہروں پر مسرت و شادمانی کے آثار نمایاں ہیں۔ آخر یہ سب کیوں ہے؟ صرف اس لیے کہ خدا کے برگزیدہ بندے اور مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس شہزادے کا عرس ہے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہم تمام مسلمانوں پر سرکارِ خواجہ غریب نواز کے فیضان کی موسلا دھار بارش نازل فرمائے۔
خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے مختصر حالات:
سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذاتِ والا صفات کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ آپ ظاہری و باطنی فضائل و کمالات کی جامع اور شریعت و طریقت، معرفت و حقیقت اور رشد و ہدایت کے بحرِ بیکراں تھے۔ آپ روحانی کمالات و تصرفات، فیوض و برکات کے سبب اولیائے ہند کے پیشوا اور مقتدائے اعظم ہیں۔ آپ کے قدومِ میمنت لزوم کی نسبت و برکت سے ہندوستان کی تاریک فضا اسلام و ایمان کے نور سے منور ہو گئی۔ اس ہندوستان میں اجمیر ہی وہ مقدس شہر ہے جس کو خواجۂ خواجگان سرکارِ خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلام و ایمان کی تبلیغ و اشاعت کے لیے مرکزِ رشد و ہدایت اور روحانی راجدھانی قرار دیا اور اسی مبارک شہر سے بغیر کسی مادی دباؤ یا مالی ترغیب و تحریص کے اسلام کی حقانیت و صداقت ہندوستان کے گوشہ گوشہ میں اشاعت پذیر ہوئی، نیز یہی وہ محبوب شہر ہے جہاں روحانیت و عرفانیت کا وہ ابدی چشمہ پھوٹا جس نے ہندوستان کی سرزمین کو حقیقت و طریقت کے گلہائے رنگارنگ سے رشکِ چمن بنا دیا۔ آپ کا اسمِ گرامی “معین الدین حسن” اور والد ماجد کا نام حضرت “خواجہ غیاث الدین محمد” ہے۔ آپ نجیب الطرفین سید ہیں۔ آپ کے جدِ اعلیٰ بنی عباس کے مظالم سے تنگ آ کر اپنے وطن “اصفہان” سے ہجرت فرما کر “سنجر” نامی قصبہ میں اقامت پذیر ہو گئے۔ سنجر ایک مردم خیز قصبہ ہے جو ایران و خراسان کے کنارے تہران سے ڈیڑھ سو میل دوری پر واقع ہے۔ اسی مبارک قصبہ میں بتاریخ 14 رجب المرجب 535 ہجری بروزِ دوشنبہ حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت ہوئی۔ ابھی آپ سات برس کے تھے کہ تاتاریوں نے آپ کے وطن پر حملہ کر دیا۔ آپ کے والدِ بزرگوار مع اہل و عیال عراق منتقل ہو گئے اور وہیں بغداد شریف میں آپ اقامت گزیں ہو گئے۔ سرکارِ خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بچپن اور زیادہ وقت خراسان میں گزرا ابھی چودہ سال ہی کے تھے کہ والدِ ماجد کا سایہ سر سے اٹھ گیا کچھ عرصہ کے بعد والدہ ماجدہ بھی وصال کر گئیں۔ ترکۂ پدری میں ایک باغ اور پن چکی ملی، قصبہ سنجر کی طرح تاتاریوں کے ہاتھ قتل و غارت گری ظلم و بربریت خراسان میں بھی نازل ہو گئی۔ حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حساس قلب و ضمیر نے بہت زیادہ رنج و ملال محسوس کیا۔ دنیا سے دل اچاٹ کھا گیا۔ آپ کے مبارک قلب میں عرفان و روحانیت کا احساس پیدا ہوا ہی تھا کہ بحکمِ رب ایک مجذوبِ صادق حضرت ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ آپ کے باغ میں آ گئے۔ آپ نے تازہ انگور کے خوشوں سے تواضع کی، فقیر نے عادتاً کچھ کھا لیا۔ آپ کی تواضع سے خوش ہو کر اپنی جھولی سے روٹی یا کھل کے سوکھے ٹکڑے نکال کر چبائے اور لقمہ بنا کر فرمایا کہ کھا لو، آپ نے بلا تامل کھا لیا جس سے آپ پر غیر معمولی تجلیات و کیفیات کا ظہور ہوا۔ آپ کے روحانی قویٰ ایک دم شگفتہ ہو گئے اور غلبۂ عشقِ الٰہی سے متاثر ہو کر تلاشِ حق میں نکل پڑے۔ سب سے پہلے سن شعور کو پہنچ کر باقاعدہ علومِ اسلامیہ دینیہ کی تحصیل و تکمیل کے لیے آپ “بلخ”، سمرقند تشریف لے گئے۔ مختلف علماء و محدثین کے زیرِ درس رہ کر دو سال کی مدت میں قرآنِ مجید، تفسیر، حدیث، فقہ، معارف و اسرار وغیرہم علومِ حقیقیہ و فنونِ حکمیہ میں آپ نے پوری مہارت و سبقت حاصل کر لی اور اپنے معاصر علماء و فضلاء سے ممتاز ہو گئے۔ علومِ متداولہ سے فارغ ہو کر بہت سے اولیاء اللہ سے افاضہ و استفادہ کرتے رہے۔ مکمل روحانی تعلیم و تربیت کے لیے آپ سیدنا خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت اقدس میں بغداد حاضر ہوئے اور اپنے شیخ کی مراد ہو گئے۔ [ماہنامہ اعلیٰ حضرت، مارچ: 2023، ص: 35 تا 37]
