| عنوان: | خلیج کا بحران (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | علامہ محمد احمد مصباحی ناظم تعلیمات جامعہ اشرفیہ |
| پیش کش: | محمد سلمان العطاری |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
اقوامِ متحدہ کا کردار:
اس سلسلے میں یہ اقتباس پڑھیے:
”اقوامِ متحدہ دوسری جنگِ عظیم کے فوراً بعد ۱۹۴۵ء میں وجود پذیر ہوئی۔ اس کا نصب العین بین الاقوامی سطح پر امن قائم رکھنا ہے۔ ابتدا میں اس کے ممبروں کی تعداد صرف ۵۱ تھی۔ دو سال کے عرصے میں اس کی تعداد بڑھ کر ۸۱ ہو گئی جو آج کئی سو پر مشتمل ہے۔ اقوامِ متحدہ کی ایک سلامتی کونسل ہے جس میں دنیا کی پانچ بڑی طاقتیں امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس اور چین شامل ہیں۔ ان کے علاوہ دوسرے ملک بھی شامل ہوتے ہیں جن کی حیثیت عارضی ہوتی ہے۔ سلامتی کونسل کا خاص مقصد یہ ہے کہ وہ بین الاقوامی تنازع پر غور کرے اور جارحانہ کارروائی کرنے والے کے خلاف کارروائی کرے۔ پندرہ ممبروں والی اس کونسل میں کسی قرارداد کی منظوری کے لیے ۹ ممبروں کی حمایت ضروری ہے جبکہ پانچ مستقل ارکان کو ویٹو پاور حاصل ہے جو کسی بھی تجویز کو مسترد کر سکتے ہیں۔ لیجیے ۹ ممبروں کی رائے کو ایک نے ٹھکرا دیا، مطلب صاف ہے کہ جس کے پاس طاقت ہے اس کی چودھراہٹ چلے گی۔ ان پتوں پر تکیہ کرنا آج عالمی برادری کے تمام کمزور ملکوں کی مجبوری بن چکا ہے۔“
دراصل مغربی سامراج اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے آج سے ۴۵ سال قبل پیش قدمی کے طور پر اقوامِ متحدہ کو وجود میں لایا تھا؛ تاکہ اس کی آڑ لے کر اسلام اور مسلمانوں کی سرکوبی کرتا رہے۔ اس سازش کا دوسرا حصہ اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنا ہے جسے صرف چند ملکوں ہی نے تسلیم کیا ہے، جب کہ فلسطین کے وجود کو دنیا کے ۱۱۵ ملکوں نے تسلیم کیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود آج صہیونی طاقت برابر فلسطینیوں سے نبرد آزما ہے۔ اس سازش میں امریکہ کے ساتھ دنیا کی دوسری بڑی طاقت روس بھی شامل ہے۔ اسی سازش کے تحت روسی یہودیوں کی اسرائیل میں نوآباد کاری ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں روسی یہودیوں کو اسرائیل میں آباد کیا گیا ہے۔ شیرِ فلسطین یاسر عرفات نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل ایک عظیم تر ریاست بنانے کا خواب دیکھ رہا ہے، جس میں عراق، شام، لبنان، اردن، مصر اور سعودیہ عربیہ کے کچھ حصے شامل ہوں گے۔ اس وسیع تر اسرائیل کے نقشے بھی شائع ہو چکے ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ اپنے ۴۵ سالہ دور میں اقوامِ متحدہ نے کئی کام کیے اور بہت سے نازک مرحلوں میں اقوامِ متحدہ نے بیچ میں پڑ کر جنگوں کو ٹالا ہے۔ ایران، یونان، ڈچ، انڈونیشیا، جنوبی و شمالی کوریا، انگلستان اور مصر کے درمیان ہونے والے جھگڑے اس کی چند مثالیں ہیں۔
جنوبی افریقہ اور روڈیشیا میں نسل پرستی اور رنگ کا مسئلہ، جنوبی اور شمالی ویتنام کا مسئلہ اقوامِ متحدہ کے لیے جیتا جاگتا نمونہ ہے، اور سب سے بڑھ کر فلسطین کا مسئلہ اس کے ماتھے پر بدنما داغ بنا ہوا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد ۲۴۲ اور ۳۳۸ جس میں اسرائیل سے عرب مقبوضہ علاقے خالی کرنے کی بات کی گئی ہے، اسی طرح قرارداد ۴۲۵ جس کے تحت جنوبی لبنان سے اسرائیل کو اپنی فوجیں بلا لینی چاہییں؛ لیکن اسرائیل نے اس پر آج تک عمل نہ کیا۔ کیوں کہ اس کا ناجائز باپ امریکہ ہر اس قرارداد کو ویٹو کر دیتا ہے جو اس کی ناجائز اولاد اسرائیل کے خلاف ہوتی ہے۔ [اخبارِ نو، دہلی، جلد ۸، شمارہ ۱۶-۱۷ / تا ۱۳ ستمبر ۱۹۹۰ء، ص: ۶]
خلیج کے معاملے میں امریکہ کی اس قدر دلچسپی کیوں؟
اس سلسلے میں اخبارِ نو لکھتا ہے: ”یہ تمام بحران تو بادی النظر میں عربوں کی باہمی چپقلش معلوم ہوتے ہیں، لیکن اگر اس کے پسِ منظر کو غور سے دیکھا جائے تو محسوس ہو گا کہ ہر بحران کے پیچھے مغربی سامراج کارفرما رہا ہے۔ جب جب کسی عرب لیڈر نے تیل کی طاقت کو محسوس کر کے اسے بطورِ اسلحہ استعمال کرنے کی کوشش کی تو اسے پوری توانائی سے مغربی سامراج نے کچلا ہے۔ شاہ فیصل کا قتل اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ آج صدام حسین کے خلاف یہ تمام تر توانائیوں کے ساتھ آمادۂ پیکار ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس وقت ان کا طریقہ کار اور تھا، آج اور ہے۔“ [جلد ۸، ش ۱۸-۲۱ / تا ۲۷ ستمبر ۱۹۹۰ء، ص: ۱۳]
امریکہ کے نقد فائدے
یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ امریکہ جیسے خود غرض اور شر پسند ممالک اپنے مادی منافع کے بغیر اپنی جگہ سے ہلنا تو دور کی بات ہے، کسی کی حمایت یا مخالفت میں زبان بھی نہیں ہلا سکتے۔ انسانی ہمدردی، حقوقِ انسانی کی حفاظت، اخلاقی بلندی وغیرہ جیسے خوبصورت الفاظ ان کے یہاں محض ایک نمائش کا لیبل اور جلبِ منفعت کے کارگر اسلحہ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ ان کے الفاظ کے بطن میں حقیقی معنی کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ پھر سوال یہ ہے کہ امریکہ نے کویت کی بازیابی اور سعودی عرب کی شاہی بچانے کے لیے اپنی فوج اور دوسری توانائیوں اور کوششوں کی پیش کش کیسے گوارا کر لی؟
اس کا جواب یہ ہے کہ امریکہ نے یہ سب اپنے خاص منافع کے پیشِ نظر کیا ہے اور اس کے عزائم نہایت خطرناک ہیں۔ اس کا اور دیگر مغربی ممالک کا پہلا فائدہ یہ ہے کہ عراق کی قیادت سے تیل کی قیمت اور پیداوار پر پابندی لگ رہی تھی۔ اس لیے مصلحت یہ تھی کہ اسے اس قدر پسپا اور رسوا کر دیا جائے کہ وہ کسی معاملے میں قیادت کا خیال ہی ترک کر دے۔ یہی سزا اس نے ایران کو دی تھی، جب ایران نے امریکی یرغمالیوں کے معاملے میں اسے اپنے سامنے جھکنے پر مجبور کر دیا۔ سزا کی نوعیت تھوڑی بدلی ہوئی تھی۔ وہ یہ کہ عراق کو بالواسطہ مدد پہنچا کر ۹ سال ایران و عراق جنگ جاری رکھ کر ایران کو اس قدر کمزور کر دیا کہ وہ سر بھی نہ اٹھا سکے۔
اسی طرح وہ مختلف طریقوں سے مصر اور لیبیا کو بھی زیر کر چکا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب جتنے عرب ممالک ہیں وہ بری طرح امریکہ سے لرزاں و ترساں نظر آتے ہیں، اور وہ جو چاہتا ہے ان سے منوا لیتا ہے۔ کویت کے تیل کی پیداوار میں اضافہ اور کم سے کم قیمت پر امریکہ کے ہاتھوں اس کی فروخت امریکہ کی اسی منفعت جوئی کا ایک حصہ ہے۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ ڈھائی لاکھ فوج کا جو خرچ امریکہ کے سر آتا تھا وہ یک لخت سعودیہ کے سر منتقل ہو گیا، جو یومیہ کروڑوں ڈالر تک پہنچتا ہے۔
تیسرا فائدہ یہ کہ عرب ممالک میں مالی لحاظ سے سعودیہ سب سے زیادہ طاقتور نظر آتا تھا۔ اسے اس قدر مصارف میں ڈال دیا جائے کہ اس کی بھی کمر ٹوٹ کر رہ جائے۔ ظاہر ہے کہ جو ملک اپنے پورے دفاعی بجٹ سے صرف پچاس ہزار فوج کا انتظام کرتا تھا، یک بیک اس پر اپنی فوج کے مقابلے میں کئی گنا بہتر اور زیادہ لوازم کے ساتھ ڈھائی لاکھ فوج کا انتظام بڑا ہی خزانہ شکن معاملہ ہے۔ مگر امریکہ نے اسے باور کرایا کہ اگر وہ ہماری فوجیں نہیں حاصل کرتا ہے تو اس کا سارا وجود ہی خطرے میں ہے۔ اس لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے جس سے انحراف اپنی موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
چوتھا فائدہ یہ ہے کہ اس طرح امریکی ماہرین کو سعودی عرب کے زمینی ذخیروں کی دریافت، اور اس سرزمین کی مالی صلاحیتیں جانچنے کا بھرپور موقع مل سکے گا، اور وہ سیر و سیاحت کے نام پر اس خطہ کے چپے چپے کو چھان کر اس کی مخفی قوتوں کا راز معلوم کر سکیں گے۔
پانچواں فائدہ یہ ہے کہ امریکی فوج میں شامل اسرائیلی فوج سعودی سرزمین کے راستوں اور اس پر فوجی حملہ کے متوقع اور منصوبہ بند ذرائع کو بروئے کار لانے کے سارے طریقوں پر غور کر سکے گی۔
چھٹا فائدہ یہ ہے کہ اتنی بڑی فوج یہاں رکھنے کے بعد سعودی حکومت پوری طرح تابعِ فرمان رہے گی۔ کیوں کہ ہر لمحہ اسے یہ خطرہ رہے گا کہ کسی بات میں بھی اگر اپنی ضد پر اڑ گئے تو امریکہ چشمِ زدن میں ہمیں خاکستر کر دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی وزارتِ دفاع جس نے بار بار یہ اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین سے عراق پر حملہ کی اجازت نہ دے گی، آج امریکہ کی خواہش اور سرگرمی کے پیشِ نظر اپنا موقف تبدیل کر چکی ہے۔
ساتواں فائدہ یہ ہے کہ اس علاقے میں امریکی فوج کے بھاری بھرکم وجود کے باعث کوئی بھی عرب ملک اسرائیل کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ بھی نہ سکے گا، اور اگر کسی نے اس پر حملے کا ارادہ بھی کیا تو سب سے پہلے اسے خود اپنے وجود و عدم کے بارے میں غور کر لینا ہو گا۔ اس طرح عرب ممالک کی ہزارہا مخالفتوں، لا تعداد کانفرنسوں، بے شمار تجویزوں اور منصوبوں کے باوجود اسرائیل کے وجود کا پورا پورا تحفظ ہو جائے گا۔ اور یہ امرِ واقعہ ہے کہ آج فلسطینیوں پر اسرائیل کے تازہ ترین مظالم سامنے آ رہے ہیں، لیکن کوئی ملک نمائشی مذمت سے زیادہ اسرائیل کے ساتھ کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ یہاں تک کہ اب مقبوضہ علاقوں کی واپسی کا مطالبہ چھوڑ کر ایک نمائشی قسم کی نئی تنظیم بنانے کی تجویز پاس ہو رہی ہے۔ یقیناً یہ سب خلیج اور سعودی عرب میں امریکہ کی بھاری طاقت کی موجودگی کا کرشمہ ہے۔
آٹھواں فائدہ یہ ہے کہ ایک طرف امریکی فوج کے بوجھ سے سعودیہ کی کمر ٹوٹے گی، تو دوسری طرف اقتصادی و معاشی ناکہ بندی سے عراق کا کس بل نکل جائے گا۔ پھر جنگ ہو یا نہ ہو، عالمِ اسلام میں کوئی ملک ایسا نہ بچ سکے گا جو مغربی مفادات اور امریکی سامراج کے خلاف کچھ سوچنے سمجھنے کی بھی ہمت کر سکے۔
نواں فائدہ یہ ہے کہ اربوں ڈالر کا امریکی اسلحہ جو بیکار ہو رہا تھا، سعودیہ کے ہاتھوں فروخت کر کے مالی استحصال کی راہ بھی ہموار ہو گئی۔ اب وہ استعمال ہو یا نہ ہو امریکہ کا دام خالی ہو گیا۔ دوسری طرف اسرائیل کو بھی اس سے زیادہ مقدار اور قوت میں اسلحے فراہم کرنے کا جواز نکل آیا کہ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو طاقت کا توازن برقرار نہ رہتا۔
دسواں فائدہ یہ ہے کہ تحفظِ حرمین کے نمائشی کردار کے باعث تمام عرب ممالک جو امریکہ سے یک گونہ نفرت رکھتے تھے وہ اس کے بہت قریب آ سکیں گے اور پوری طرح اس کے اشاروں پر چلنے کے لیے تیار رہیں گے۔ پھر اگر جنگ بھی ہوتی ہے تو کوئی امریکہ کی مذمت نہ کر سکے گا، بلکہ سب اس جرم میں برابر کے شریک ٹھہریں گے۔
یہ تو نقد فوائد ہیں جو خود ہی اتنی اہمیت رکھتے ہیں کہ مغرب کو اس بحران سے جو کچھ نقصان ہو رہا ہے ان کے فوائد کی وجہ سے یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ آئندہ امریکہ کے جو خطرناک منصوبے اور منفعت پرستانہ و جارحانہ عزائم ہیں وہ تو ابھی کالی کوٹھری میں بند ہیں۔ کاش! عالمِ اسلام کو عقل آئے اور وہ اپنے مسائل خود حل کرنے اور اپنے کو دشمن سے محفوظ رکھنے کی صلاحیت پیدا کرے۔ اس کے لیے ایمانی عزم و یقین اور قرآنی ہدایات پر استقامت سے کاربند ہونے کی ضرورت ہے۔
