Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

سوادِ اعظم: مفہوم و حقائق (قسط: دوم)|طارق انور مصباحی

سوادِ اعظم مفہوم و حقائق (قسط: دوم)
عنوان: سوادِ اعظم مفہوم و حقائق (قسط: دوم)
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: مفتیہ ام ہانی امجدی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

(10) رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: سَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى نِيفٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، النَّاجِي مِنْهُمْ وَاحِدٌ، وَالْبَاقِي فِي النَّارِ - فَقِيلَ: وَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: الْجَمَاعَةُ - وَرُوِيَ: السَّوَادُ الْأَعْظَمُ - وَرُوِيَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي. [تفسير الكبير للإمام الرازي، ج: 8، ص: 142]

ترجمہ: حضور اقدس شفیعِ محشر صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب میری امت تہتر فرقوں میں منقسم ہو جائے گی، ان میں ایک فرقہ نجات پانے والا ہے، اور باقی جہنمی ہیں، پس دریافت کیا گیا: یا رسول اللہ! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ جماعت ہے، اور بعض روایت میں ہے کہ وہ سوادِ اعظم ہے، اور بعض روایت میں ہے کہ جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقہ پر ہو۔

توضیح: مذکورہ بالا احادیثِ طیبہ میں جماعت سے مسلمانوں کی بڑی جماعت مراد ہے، اور اگر مطلقاً جماعت مراد لیا جائے تو پھر جماعتِ حقہ و جماعتِ باطلہ میں امتیاز کیسے ہوگا؟ لغوی اعتبار سے سوادِ اعظم کا اطلاق بھی بڑی جماعت پر ہوتا ہے، اور حق جماعت کی شناخت کا یہ ایک ذریعہ ہے کہ جماعتِ حق کی تعداد زیادہ ہوگی۔

(11) عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّهُ قَامَ فِينَا فَقَالَ: أَلَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِينَا فَقَالَ: أَلَا إِنَّ مَنْ قَبْلَكُمْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ افْتَرَقُوا عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَإِنَّ هَذِهِ الْمِلَّةَ سَتَفْتَرِقُ عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ - ثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ، وَهِيَ الْجَمَاعَةُ. [سنن أبي داود، باب شرح السنة]

ترجمہ: حضرت ابوعامر ہوزنی سے روایت ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، پس انہوں نے کہا: آگاہ ہو جاؤ کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان قیام فرما ہوئے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آگاہ ہو جاؤ کہ تم سے پہلے کے اہلِ کتاب بہتر فرقوں میں منقسم ہو گئے، اور یہ امت عنقریب تہتر فرقوں میں منقسم ہو جائے گا۔ بہتر جہنمی ہیں، اور ایک جنتی، اور وہ بڑی جماعت ہے۔

توضیح: “ہی الجماعة” اور “السواد الاعظم” کی علامت عالم و غیر عالم دونوں کے درمیان مشترک ہے، کیونکہ افراد کی قلت و کثرت کا ادراک بدیہیات میں سے ہے، اور جماعت سے مراد “جماعتِ عظمیٰ” ہے۔ اگر مطلقاً جماعت مراد ہو تو اہل حق و اہل باطل کے مابین امتیاز نہ ہو سکے گا، کیونکہ اہل عرب کے یہاں مطلقاً تین فرد کو جماعت کہا جاتا ہے۔

حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے دو اور اس سے زائد افراد کو نماز کے لیے جماعت قرار دیا، لیکن یہ مفہوم مذہبِ حق کی علامت نہیں ہو سکتا، کیونکہ اب تک عموماً گمراہ فرقوں میں تین سے زائد افراد رہے ہیں، حالانکہ صحابہ کرام کے سوال پر حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے بطورِ علامت “ہی الجماعة” فرمایا۔ اسی طرح بعض روایتوں میں “السواد الاعظم” کا لفظ وارد ہوا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ان الفاظ سے بڑی جماعت مراد ہے، اور یہ ایسی علامت ہے، جس کو عوام و خواص ہر ایک سمجھ سکتے ہیں، پس اللہ و رسول کا بڑا فضل و کرم ہے کہ ایسی علامت و نشانی بیان فرمائی گئی کہ عوام و خواص حق و باطل کی تمیز کر لیں، اور انہیں کچھ دشواری بھی نہ ہو۔ علمائے اسلام نے سوادِ اعظم سے کثیر التعداد ہونا ہی مراد لیا ہے۔

(12) عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الِاثْنَانِ فَمَا فَوْقَهُمَا جَمَاعَةٌ. [سنن دارقطني، ج: 1, ص: 280، شرح معاني الآثار، ج: 2، ص: 308، سنن ابن ماجه، باب الاثنان جماعة، المعجم الأوسط للطبراني، ج: 6، ص: 362، المستدرك، ج: 3، ص: 371]

ترجمہ: حضورِ اقدس سرورِ عرب و عجم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دو اور دو سے زائد ہو، وہ جماعت ہے۔

(13) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الِاثْنَانِ جَمَاعَةٌ، وَالثَّلَاثَةُ جَمَاعَةٌ، وَمَا كَثُرَ فَهُوَ جَمَاعَةٌ. [السنن الكبرى للبيهقي، ج: 3، ص: 79]

ترجمہ: حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دو آدمی جماعت ہیں، تین آدمی جماعت ہیں، اور جو (تین سے) زائد ہوں، پس وہ جماعت ہیں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!