Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

خاندانی نظامِ حیات: روایت اور جدت|غلام صمدانی

خاندانی نظامِ حیات: روایت اور جدت
عنوان: خاندانی نظامِ حیات: روایت اور جدت
تحریر: غلام صمدانی
پیش کش: بنت صغیر احمد

اسلام زندگی کے تمام شعبۂ حیات سے متعلق ایک مکمل ضابطہ اور سماجی اصول کا آئینہ دار مذہب ہے۔ یہی بات دینِ اسلام کو دنیا کے بقیہ تمام مذاہب سے ممتاز کرتی ہے۔ اس زمین پر روز و شب کے اوقات گزارنے کے لیے انسانی زندگی کو مختلف اداروں اور عقائد سے ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔ عموماً مذہب، عقیدہ، خاندانی، معاشرتی، معاشی، سیاسی، تعلیمی اور عدالتی نظام و فوائد کی پابندی اور سماجی زندگی کے لیے اہم تصور کیا جاتا ہے۔ یہ تمام نظام باہم ایک دوسرے سے ایسے مربوط ہیں کہ ایک کی خرابی سے دوسرے کے اندر بکھراؤ اور ٹکراؤ کے امکانات ہیں۔ پس اگر خاندان صحیح بنیادوں اور اصولوں پر استوار ہے تو اس کی وجہ سے معاشرے کی بنیاد بھی مستحکم ہوگی۔ ماہرِ عمرانیات گورڈن مارشل نے ایک تعریف بیان کی ہے۔ خاندان کی عمومی حیثیت اسی نوعیت کی ہوتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

“ایک گھریلو گروہ جو خونی رشتے، جنسی رفاقت یا قانونی بندھن کی بنا پر ایک دوسرے کے ہم آہنگ اور مربوط ہونے کی اساس پر وجود میں آیا ہو۔ یہ ایک لچکدار سماجی اکائی رہا ہے جو زمانے کے مختلف ادوار میں ہم آہنگ ہوکر باقی رہا ہے۔”

خاندان کی جامع تعریف کرنا ایک دشوار گزار امر ہے کیونکہ اس کی ہیئت و ساخت اور اغراض و مقاصد طبقات اور علاقے کے اعتبار سے مختلف ہیں۔ کسی علاقے کی سماجی ساخت کچھ ہے تو کسی دوسرے کی کچھ، اور دینِ اسلام میں خاندان اور خاندانی نظام کے حوالے سے تفصیلی رہنمائی کا ضابطہ موجود ہے۔ قرآن کی کئی سورتوں کے نام ایسے ہیں جو خاندان اور گھریلو زندگی کے مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہیں مثلاً: سورۂ نساء اور سورۂ طلاق۔ نیز خاندانی نظامِ حیات سے متعلق کئی سورتوں میں رہنمائی کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی اجتماعی اور خانگی زندگی کے تعلق سے وافر نمونے موجود ہیں۔ موجودہ دور میں اس اکائی کی صورتِ حال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مناسب یہ ہوگا کہ سب سے پہلے قرآن اور حدیث کی روشنی میں اجتماعی زندگی گزارنے کے طریقہ کار اور انفرادی طرزِ زندگی کی ذمہ داریوں کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے۔

انسان جِبِلّی طور پر ہر شعبۂ حیات میں ایک دوسرے کا محتاج ہوتا ہے۔ عربی کا ایک مقولہ ہے کہ:

إِنَّ الْإِنْسَانَ مَدَنِيٌّ وَاجْتِمَاعِيٌّ بِالطَّبْعِ

انسان خاندان اور معاشرہ پسند اس وجہ سے ہے کہ اللہ نے اس کے اندر مختلف عناصر کو جمع کر دیا ہے جس کی بنا پر اس کے لیے اکیلا رہنا دشوار گزار مسئلہ ہے۔ غیر انسانی فطرت میں محبت کا عنصر اہمیت کا حامل ہے۔ اس بنا پر ایک دوسرے کے دکھ درد میں کام آنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

وَجَعَلْنَا بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً

(ہم نے تمہارے اندر محبت و الفت پیدا کر دیا ہے)۔ ایک انسان ہونے کی حیثیت سے اسے باپ محبت کرتا ہے، ماں کی جانب سے تعریفیں حاصل ہوتی ہیں، بھائی بہن اور دیگر رشتہ داروں کے ذریعے خوب پیار ملتا ہے۔ ان ہی بنیادوں پر خاندان کی تشکیل ہوتی ہے۔

تصورِ خاندان کا اسلامی نظریہ یہ ہے کہ قرابت داری اور اعزہ پروری میں حقوق و فرائض، آپسی اتحاد و مودّت اور تعاون و ایثار کا جذبہ شریعت کے مطابق ہو۔ کیونکہ اسلام نے معاشرے کے جملہ معاملات کی اساس انسانیت اور اخلاقی قدروں پر رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

يَٰٓأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّأُنْثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوْا

(لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنائیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو)۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ہی جامع انداز میں بیان فرمایا ہے کہ:

كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ

اس حدیث کو سلطنت اور حکومت سے قطع نظر خاندانی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ہر انسان انفرادی اور اجتماعی طور پر جداگانہ ذمہ داریوں کا حامل ہوتا ہے۔

خاندان کا اثر انسانی ذات پر کس طرح مرتب ہوتا ہے اس حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ہر بچہ اپنی فطرت یعنی اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ لیکن بچے کے ماں باپ اسے عیسائی، یہودی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان خدا اور مذہب کے ساتھ بھی خاندان کے وسیلے سے رابطے میں آتا ہے۔

اسلامی اور سماجی نقطۂ نظر سے خاندان کو وسیع پس منظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ یقیناً خاندان شوہر اور بیوی کے تعلق سے وجود میں آتا ہے۔ لیکن یہ محض خاندان کی ابتدا ہے۔ اس کے اگلے مرحلے میں اس میں دادا، دادی، نانا، نانی، چچا، چچی، ماما، خالہ اور پھوپھیاں وغیرہ ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ ان کے بیٹے اور بیٹیاں اور دیگر رشتہ دار بھی اس ادارے سے منسلک ہوتے ہیں۔ خاندان کے اور بھی درجے ہیں۔ اس کے بعد کے درجے میں دور کے رشتہ دار بھی خاندانی نظام کے تحت ہوتے ہیں۔ خاندان کا ایک دائرہ وہ ہے جس میں پڑوسی بھی شامل ہیں۔ اسلام میں پڑوس کا تصور یہ ہے کہ چالیس گھر دائیں اور چالیس گھر بائیں ان تمام لوگوں کی خبر گیری مسلمانوں کے لیے ضروری ہے۔ ہم معاشرے کے کمزور طبقات کی جانب وقتاً فوقتاً مادی اور اعتقادی وسائل کے ذریعے متوجہ ہوتے ہیں۔ ہمارا کسی کے ساتھ محبت سے پیش آنا یا کسی کی ضرورت کو پورا کرنا احسان جتانے کے جذبے پر مبنی عمل نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ اسے اس کے حق کے طور پر عطا کرنے کا عقیدہ انسان اور انسانیت کی معراج ہے۔ اس اعتبار سے اسے بھی خاندان کا ایک دائرہ تصور کیا جا سکتا ہے۔ پوری امت مسلمہ کے درمیان اخوت اور محبت کا جذبہ قائم کرنا بھی ایک اہم دائرہ ہے۔ خاندان کا آخری دائرہ یہ ہے کہ پوری انسانیت کو خاندان کا ایک جزو خیال کیا جائے کیونکہ ہم سب حضرت آدم اور حوّا کی اولاد ہیں۔ خاندان کی مذکورہ بالا درجہ بندی سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کا دوسرے پر کوئی نہ کوئی حق ہے جس کی ادائیگی میں انسانیت اور انسانی سماج کی بقا کے راز مضمر ہیں۔

دراصل خاندان کا یہی وہ تصور ہے جو مسلمانوں میں صدیوں تک رائج تھا۔ اسلامی خاندان کے تربیتی نظام میں اس تصور کو مرکزی اہمیت حاصل تھی۔ غور کیا جائے تو یہ اندازہ ہوگا کہ خاندانی ادارے کے اس وسیع مفہوم میں بے پناہ روحانی، جذباتی اور ذہنی تنوع تھا۔ اور ان ہی بنیادوں پر انسانیت اور صالح معاشرت کی تعمیر ہوئی تھی۔ لیکن سائنسی، جدید تعلیمی، صنعتی، سیاسی اور تکنیکی ترقیات کی وجہ سے انسان کے شعور و نظریات میں ایسی حرکت پذیری آئی کہ انفرادی حریت کے سوا سارے ڈھانچے بے معنی ہو گئے۔

موجودہ دور میں خاندان اور سماج کی کیا صورتِ حال ہے اس کا اندازہ آپ بخوبی اپنے خاندان، پڑوس، سماج اور ملکی سطح پر ہونے والی تخریب کاریوں سے لگا سکتے ہیں۔ فرد اور سماج کی زندگی میں رشتوں، قدروں اور دیگر معیاروں کی آج جو صورتِ حال ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے آپ بخوبی واقف ہوں گے۔ اس کی تفصیل سے قطع نظر یہاں یہ بحث غور طلب ہے کہ کیا آج کی صورتِ حال کے لیے سماج اور خاندان کے رویوں اور پیچیدگیوں کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے؟ اس سوال سے متعلق چند نکات کی نشاندہی کرنے کی ادنیٰ کوشش مناسب ہوگی تاکہ مضمحل حالات کو بیان کر کے اس پر آنسو بہائے جا سکیں۔

پہلا نکتہ یہ ہے کہ خاندان کے اغراض و مقاصد اور ہیئت و ساخت میں اقتضائے حال کے مطابق تبدیلی کی کبھی شعوری کوشش نہیں کی گئی۔ اور نہ ہی ضروریاتِ زمانہ کے لحاظ سے خاندان کے افراد کی تربیت کی گئی۔ بیشتر خاندان میں فرد سے برتاؤ اور توقع کا معیار وہی ہے جو صدیوں پہلے تھا لیکن تعلیم و تربیت کے معیار، محبت و رواداری کے جذبات میں تنزلی ہمیشہ بڑھتی رہی۔ مثال کے طور پر آج انسان کی مصروفیات میں تیزی سے بدلاؤ آئے ہیں، نیز ان کے اندر یہ شعور جاگا ہے کہ محض خاندانی پشت پناہی سے موجودہ دور میں زندگی کا سفر بہت دشوار ہے۔ اس کے لیے اچھی تعلیم اور بہتر روزگار کے مواقع تلاش کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ اس صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے وہ شہروں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔ وہاں انھیں مختلف تہذیب و ثقافت سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے ان کی زندگی کے لائحۂ عمل میں تعلیم و ترقی کے حصول کا جذبہ شدت سے جگہ پانے لگتا ہے۔ اسی جذبے سے مغلوب ہو کر وہ علاحدہ رہائش کے انتظام کے لیے تگ و دو کرنے لگتے ہیں۔ اب اس جگہ خاندان کا معاندانہ رویہ کہاں تک درست ہو سکتا ہے؟ جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کے مطالعے سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ علاحدہ رہائش کا تصور خاندان کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواجِ مطہرات میں سے ہر ایک کے لیے علاحدہ انتظام فرمایا۔ ایک بیوی کو یہ اجازت تک نہیں ہوتی تھی کہ وہ دوسری بیوی کے حجرے میں اس کی اجازت کے بغیر سالن تک بھیجے۔ عرب میں بھی یہی رواج تھا کہ شادی کے بعد اس کے لیے علاحدہ خیمے کا انتظام کر دیا جاتا تھا۔ اور باپ کے مال سے کچھ ضروریات کا سامان دے دیا جاتا تھا۔ ہمارے خیال سے یہ طریقہ خاندانی رشتوں میں اور گہرائی پیدا کرنے کا ذریعہ ہو سکتا ہے۔ ایک سوال یہ پیدا ہو سکتا ہے کہ پھر مشترکہ خاندانی نظام جس میں ایک ہی چھت کئی نسلوں کی رہائش گاہ ہوتی تھی اس کے کیا معنی ہیں۔ ہمارے خیال سے یہ مشرقی طرزِ خاندان کا ڈھانچہ ہے، خاص طور سے آریائی خاندان جس میں بڑے بیٹے کے سر پوری ذمہ داری ہوتی تھی کہ وہ سبھی کی دیکھ بھال کرے اور ساری جائیداد کا مالک بھی وہی ہوتا تھا۔ ہندوستان کے سماجی اور معاشرتی ڈھانچے کے لیے بھی اس کی اہمیت تھی لیکن موجودہ دور میں مشترکہ خاندان کی روایت بے شمار پیچیدگیوں کی وجہ سے اقتضائے حال سے مطابقت نہیں رکھتی ہے۔ اسلام نے وراثت کا باقاعدہ نظام مرتب کیا ہے ہمیں اس نظام کو صحیح وقت پر نافذ کر کے خاندانی نظام کو وسیع مفہوم میں اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ چھوٹے خاندان کے ساتھ مختلف النوع مسائل ہیں۔ لیکن ان مسائل سے پورا سماج اور ملک گھرا ہوا ہے۔ چھوٹے چھوٹے خاندانی ادارے کی بہتر تعمیر میں ان کے ازالے کی تدبیر پنہاں ہے۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ مرد اساس خاندانی نظام میں مردانہ تسلط کی ذہنیت عام طور پر حاکمانہ رویے کی طرف زیادہ مائل رہی ہے۔ اس کے ثبوت میں قرآن کی یہ آیت پیش کی جاتی ہے:

الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ

دراصل ہمارے خاندانی نظامِ تربیت میں بچوں کو بچپن پر ترجیح دینے کا عام رجحان پایا جاتا ہے۔ اس طرح کے ترجیحی رویے سے خاندان کی روح کئی جہتوں سے مجروح ہوئی ہے۔ موجودہ دور میں جبکہ چارسو بہ جا اور بے جا طور پر آزادیِ تحریکِ نسواں کی لہر چل رہی ہے۔ خاندانی نظام اسے صحیح سمت و رفتار عطا کر سکتا ہے۔ ورنہ آئندہ آنے والی تخریب کاری کی ذمہ داری خاندانی نظام کے سر جائے گی۔ سب سے پہلے ہمیں “قوامون” لفظ کا درست مفہوم اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ قوام کے معنی ہرگز یہ نہیں کیے جانے چاہئیں جس سے تسلط اور تحکم کا جذبہ پیدا ہو۔ بلکہ بچپن سے ہی بچوں کو یہ ذہن دیا جانا چاہیے جس سے اس کے اندر تحفظ، ترحم، حقوق کی بحالی، اور نگہبانی کا مزاج ترقی کرے۔ مربی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ترجیحی اور تنظیمی امور میں جدت پسندانہ سلوک اختیار کیا جائے۔ رواداری اور رشتوں کی اہمیت کو بچوں میں جاگزیں کرنا مستقبل میں پیدا ہونے والے بیشتر مسائل کے تدارک کے امکانات پیدا کرتا ہے۔

خاندانی نظام کو استحکام عطا کرنے میں عورتوں کا کردار کئی حیثیتوں سے اہمیت کا حامل ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ عورتوں کو ہی سب سے زیادہ پابندیوں کی مار جھیلنی پڑتی ہے۔ مردانہ اساس معاشرے میں عورت کی کارکردگی پر خوش طبع اور نشاط آمیز عمل کا مظاہرہ نہ کرنا خاندانی نظام کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ شوہر اور دیگر مرد ارکانِ عورت کے اخلاقی اور تمدنی حقوق کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ خاندانی نظام میں عورتوں سے متعلق بعض واقعات تو ایسے ہیں جن سے پوری انسانیت مجروح ہو گئی ہے۔ مثال کے طور پر آتش زنی، ضرب و کوب اور تیزاب افشانی کے واقعات۔ نیز گھریلو تشدد میں واقع ہونے والے غیر انسانی رویے۔ جبکہ قرآن کی آیت ہے:

وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ:

أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، وَخِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِهِمْ خُلُقًا [الترمذي، كتاب الرضاع، ما جاء في حق المرأة على زوجها]

عورتوں کے تئیں مردوں کا جو رویہ عام رہا ہے اس لحاظ سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ عورتوں کی موافقت اور مخالفت کے اکثر معاملوں میں حق اور اعتدال سے روگردانی کی گئی ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:

لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً، إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ آخَرَ [صحيح مسلم، كتاب الرضاع، باب الوصية بالنساء]

عورت کی سماجی حیثیت کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند مقام عطا کیا ہے۔ انہوں نے جب ان کے اندازِ طبیعت کو دیکھا تو ان میں شرم و حیا اور پاکدامنی کو زیادہ پایا۔ صنفِ نازک کا نصیب یہ ہے کہ آقا نے انہیں نیک فال بتایا۔ ان کا نام مستورہ اور میمونہ (نیک بخت و عصمت مآب خاتون) رکھا۔ لیکن آج کی عورتوں کی حالت کو دیکھ کر آپ کے لیے یہ تصور قائم کرنا مشکل ہے۔ اس کی بس ایک ہی وجہ ہے مرد سالاری سماجی نوعیت کا پردہ نشینوں کے تئیں ذہنی اور عملی رویہ۔ آج بھی اگر عورتوں کو اسی نظریے سے دیکھا جائے جیسا کہ ہمارے آقا نے دیکھا، آج بھی ان کے حقوق انہیں دیے جائیں۔ تو مجھے امید ہے کہ وہ اپنے خوش بخت اور نیک فال ناموں کو صالح کرداروں سے چار چاند لگا سکتی ہیں، اور صالح انجام کاری سے میمونہ اور مستورہ ہونے کا ثبوت پیش کر سکتی ہیں۔

موجودہ سماج میں اقدار شکن واقعات کی اتنی لمبی فہرست ہے کہ اس کو تحریر میں لاتے ہوئے قلم کی زبان خشک ہو جاتی ہے۔ مختصر یہ کہا جا سکتا ہے کہ خاندانی نظام سے فرسودگی اور توہمات کو ختم کرنا ضروری ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اس نظام کو بالکل مردہ قرار دے دیا جائے، ہمارے خیال سے خاندانی نظامِ حیات میں کچھ تو ایسی صورتیں تھیں جنہیں ترمیم تو کہا جا سکتا ہے۔ کچھ ایسا بھی تھا جسے اب بھی حکمت کے زمرے میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ آج تربیت، طبیعت اور عادت کو انسانی اصولوں پر ترقی دینا اہم ہے۔ انسان جب تک اپنی خارجی اور باطنی یگانگت میں مبتلا رہے گا خود احتسابی اور خود اصلاحی عمل کا امکان پیدا نہیں ہو سکتا۔ فرد، خاندان، سماجی روایات اور معاشرتی اقدار کی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ انسان کا باطن اور خارج دونوں ہم آہنگ ہوں۔ [ماخوذ از: ماہنامہ پیغام شریعت دہلی]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!