Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

شیر غران سطوت|مفتی غلام مصطفیٰ عینی

شیر غران سطوت
عنوان: شیر غران سطوت
تحریر: مفتی غلام مصطفیٰ عینی
پیش کش: نوری کرن
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

شیر غران سطوت

جبیر بن مطعم کا شمار مکہ کے تعلیم یافتہ اور تحمل مزاجوں میں ہوتا تھا لیکن بدر کی ذلت آمیز شکست نے انہیں اندر سے ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اسی جنگ میں ان کا چچا طعیمہ بن عدی مارا گیا۔ خود انہیں قیدی بننے کی صعوبت اٹھانا پڑی۔ سردارانِ مکہ کی ایک بڑی تعداد اس جنگ میں کام آئی۔ عمِ رسول سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کی جنگی مہارت اور بے مثال شجاعت نے کافروں کو ایسا حواس باختہ کیا کہ وہ بدر کی شکست کے بعد بھی انہیں بھلا نہ سکے۔

جبیر بن مطعم بھی امیر حمزہ کے ہاتھوں اپنے چچا طعیمہ کے قتل کو نہیں بھولے اس لیے انہوں نے رہائی کے فوراً بعد ایک ماہر نشانہ باز وحشی بن حرب نامی ایک حبشی النسل غلام کو امیر حمزہ کے قتل پر آمادہ کیا اور یہ وعدہ کیا:

«إِنْ قَتَلْتَ حَمْزَةَ بِعَمِّي فَأَنْتَ حُرٌّ» [صحیح البخاری، رقم الحدیث: 4072]

اگر تم نے حمزہ کو میرے چچا کے بدلے میں قتل کر دیا تو تم آزاد ہو جاؤ گے، کسی بھی غلام کے لیے آزادی سے بڑی کوئی نعمت نہیں ہوتی، وحشی نے سودا منظور کر لیا۔

میدان احد میں کفار مکہ تین ہزار کا لشکر جرار لے کر مقابلے پر آئے۔ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مقابلے کی بابت صحابہ کرام سے مشورہ فرمایا تو امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نہایت بہادرانہ انداز میں عرض کیا:

«وَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ لَا أَطْعَمُ الْيَوْمَ طَعَاماً حَتَّى أُجَالِدَهُمْ بِسَيْفِي خَارِجَ الْمَدِينَةِ» [سبل الھدی، ج: 4، ص: 275]

اس ذات کی قسم جس نے آپ پر یہ کتاب نازل فرمائی، میں آج اس وقت تک کھانا نہیں کھاؤں گا جب تک مدینے سے باہر نکل کر ان سے مقابلہ نہ کر لوں۔

دیگر پر جوش اور نوجوان صحابہ کی بھی یہی رائے تھی اس لیے شہر کی بجائے باہر نکل کر جنگ لڑنا طے پایا اور وقت مقررہ پر لشکر اسلام مدینہ منورہ سے باہر میدان احد کی جانب نکل پڑا، جنگ ابتدا ہی سے نہایت سخت اور ہولناک تھی، تین ہزار فوجی، جن میں سات سو افراد زرہ پوش تھے۔ جوش انتقام میں کفار مکہ اس بار نہایت سخت جان بنے ہوئے تھے۔ پہلے ہی مرحلے میں کافروں کا علم بردار طلحہ بن ابوطلحہ حضرت علی کے ہاتھوں اور اس کے بعد اس کا بھائی عثمان بن ابوطلحہ حضرت حمزہ کے ہاتھوں مارا گیا۔

دو بھائیوں کی ہلاکت کے بعد تیسرے بھائی نے کافروں کا علم سنبھالا۔ اسے سعد بن وقاص نے واصل جہنم کیا۔ بعدہ یکے بعد دیگرے گیارہ افراد نے علم سنبھالا اور مارے گئے لیکن انتقامی جذبہ اس قدر ابال پر تھا کہ ایک گرتا تو دوسرا فوراً ہی علم سنبھال لیتا، کفار مکہ کی یہ بے جگری ثابت کر رہی تھی کہ وہ جوش انتقام میں کس قدر جھلسے ہوئے تھے۔ ایسی قوم سے لڑنا دنیا کی کسی بھی قوم کے لیے آسان نہیں تھا۔ یہ تو مسلمانوں کا جذبہ ایمانی اور ذات رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ عشق کا ثمرہ تھا کہ مٹھی بھر مسلمانوں نے ایسی جفا کش قوم کو نہایت بے جگری کے باوجود پہلے ہی مرحلے میں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

حضرت امیر حمزہ ہمیشہ کی طرح میدان جنگ میں طاقت ور شیر کی طرح نظر آ رہے تھے، جدھر رخ کرتے صفیں الٹ پلٹ ہو جاتیں۔ کسی کو ہمت نہ تھی کہ مقابلے میں کھڑا ہونے کی جرأت کرتا، سباع بن عبد العزی غبشانی نامی شخص نے ہمت جتائی اور للکار کر کہا:

«هَلْ مِنْ مُبَارِزٍ؟»

اس کی للکار سن کر سیدنا حمزہ سامنے آئے اور فرمایا:

«يَا ابْنَ أُمِّ أَنْمَارٍ مُقَطِّعَةِ الْبُظُورِ! أَتُحَادُّ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ؟»

اے ختنہ کرنے والی ام انمار کے بیٹے! تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے آیا ہے؟

یہ کہہ کر آپ نے اس پر حملہ کیا، ایک ہی وار میں سباع بن عبدالعزیٰ مٹی کا ڈھیر ہو چکا تھا۔

ان کے آگے وہ حمزہ کی جاں بازیاں
شیرِ غراں سطوت پہ لاکھوں سلام

حضرت امیر حمزہ کی دودھاری تلوار بدر کی طرح احد میں بھی بجلی کی طرح کوند رہی تھی۔ ان کی شیرانہ چال، بجلی سی سرعت اور بھاری بھرکم شخصیت کے آگے بند باندھنے کی ہمت کسی میں نہ تھی۔ امیر حمزہ کی شخصیت کا خوف ہی تھا کہ وحشی بن حرب جنہیں بطورِ خاص امیر حمزہ کے لیے تعینات کیا گیا تھا، ان کی ہمت بھی سامنے آنے کی نہ ہو سکی۔ وہ چٹانوں اور پتھروں کی آڑ میں چھپتے چھپاتے حضرت حمزہ پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ سامنے آنے کی صورت میں زندہ رہ پانا ممکن نہیں تھا، وہ اسی تاک میں لگے رہے کہ حضرت حمزہ کی توجہ ہٹے اور وہ اپنا کام کریں۔

سباع بن عبدالعزیٰ کی موت کے بعد وہ موقع آیا جب حضرت امیر حمزہ اس کی زرہ اٹھانے جھکے، ہلکی سی پھسلن ہوئی اور آپ کا پیٹ ذرا سا کھل گیا۔ وحشی اسی موقع کی تاک میں تھے، ان کے اپنے الفاظ ہیں:

«وَكَمَنْتُ لِحَمْزَةَ تَحْتَ صَخْرَةٍ، فَلَمَّا دَنَا مِنِّي رَمَيْتُهُ بِحَرْبَتِي، فَأَصَبْتُهَا فِي ثُنَّتِهِ حَتَّى خَرَجَتْ مِنْ بَيْنِ وَرِكَيْهِ»

میں ایک چٹان کے نیچے حمزہ رضی اللہ عنہ کی تاک میں تھا اور جوں ہی وہ مجھ سے قریب ہوئے، میں نے ان پر اپنا چھوٹا نیزہ پھینک کر مارا، نیزہ ان کی ناف کے نیچے لگا اور بدن کے پار ہو گیا۔

حضرت حمزہ نے غضب ناک شیر کی طرح پلٹ کر دیکھا اور وحشی کی جانب جھپٹنا چاہا مگر وار نہایت کاری تھا۔ اندرونی آنتیں کٹ چکی تھیں۔ خون نہایت تیزی سے بہہ رہا تھا۔ اس لیے تمام تر قوت کے باوجود اللہ کا یہ شیر حملہ نہیں کر سکا، جب جسم پر زیادہ زور ڈالا تو نقاہت کی وجہ سے آپ زمین پر گر پڑے، اس طرح وہ ہاشمی آفتاب جس کی بہادری سے کفر کی تاریکیاں لرزہ براندام تھیں، وہ گہنا گیا۔ گھمسان کی جنگ اور مسلمانوں کا سب سے طاقت ور سپاہی خون سے وضو کر کے شہادت کا کفن اوڑھ چکا تھا۔

شہیدوں کا ترے شہرہ زمیں سے آسماں تک ہے
فلک سے بلکہ آگے بڑھ کے تیرے آستاں تک ہے

اُحد کی سرزمین حضرت حمزہ کے خون سے تر ہو چکی تھی۔ امیر حمزہ کے گرتے ہی حالات بدلنے لگے، مثل مشہور ہے:

«إِذَا سَقَطَ الْجَمَلُ كَثُرَتْ سَكَاكِينُهُ»

جب اونٹ گرتا ہے تو چھریاں زیادہ چلتی ہیں۔ آپ کی شہادت نے بھاگتے ہوئے کافروں کو واپس پلٹا دیا۔ کمزور پڑتے دشمنوں میں نئی جان سی پڑ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے بازی پلٹ سی گئی۔ ایک حمزہ کے نہ ہونے سے جنگ کا نقشہ ہی بدل گیا۔ جاں نثارانِ مصطفیٰ اپنے آقا پر جانیں نچھاور کرتے گئے۔ شہیدوں کی تعداد ستر تک پہنچ گئی۔

خود حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے زخم کھائے۔ دندانِ مبارک پر چوٹ آئی۔ اختتامِ جنگ کے بعد جب شہدا کی تلاش کی گئی تو آپ نے فرمایا:

«مَا فَعَلَ عَمِّي؟»

کوئی میرے چچا کی خبر سناؤ! تلاشِ بسیار کے بعد وادی کے وسط میں آپ کی نعشِ مبارک ملی، خبر ملتے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لائے۔ نظر نعشِ مبارک پر پڑی تو بے اختیار آنکھیں اشک بار ہو گئیں۔ جس دل میں نبی کی محبت کا چشمہ پھوٹتا تھا وہ نہایت بے حسی کے ساتھ نکال لیا گیا تھا۔ جن آنکھوں میں محبتِ رسول کے چراغ روشن رہتے تھے، انہیں ہند بنتِ عتبہ نے بے دردی کے ساتھ خراب کر دیا تھا۔

جسمِ مبارک کے ساتھ ایسا نازیبا اور بے رحمانہ سلوک کیا جو اس سے پہلے دیکھنے میں نہ آیا تھا۔ ایسے وفا شعار، ہمدرد اور ٹوٹ کر محبت کرنے والے چچا کی یہ حالت دیکھ کر میرے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دل بھر آیا، آنکھوں سے آنسوؤں کی برسات شروع ہو گئی۔ مصطفیٰ کیا روئے، کائنات رو پڑی۔ احد کی بے زبان وادیاں بھی غمِ مصطفیٰ میں سسک رہی تھیں، جاں نثارانِ مصطفیٰ کی سرخ آنکھیں بھی ان کے دلوں کا حال بیان کر رہی تھیں۔ کریم مصطفیٰ نے اپنے بہادر چچا کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

«رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَيْكَ، فَإِنَّكَ كُنْتَ كَمَا عَلِمْتُكَ فَعُولاً لِّلْخَيْرَاتِ، وَصُولاً لِّلرَّحِمِ»

آپ پر اللہ کی رحمتیں ہوں، جیسا میں آپ کو جانتا تھا، آپ بھلائیاں کرنے والے اور صلہ رحمی کرنے والے تھے۔

شفیق چچا کی جدائی اور مظلومانہ شہادت کا غم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس قدر طاری تھا کہ بوقتِ جنازہ بھی حضور کے لبوں سے امیر حمزہ کا نام اس طرح نکلا:

«يَا حَمْزَةُ يَا عَمَّ رَسُولِ اللّٰهِ وَأَسَدَ اللّٰهِ وَأَسَدَ رَسُولِهِ، يَا حَمْزَةُ يَا فَاعِلَ الْخَيْرَاتِ، يَا حَمْزَةُ يَا كَاشِفَ الْكُرُبَاتِ، يَا حَمْزَةُ يَا ذَابّاً عَنْ وَجْهِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» [شرح الزرقانی علی المواہب، ج: 4، ص: 470]

اے حمزہ! اے رسول اللہ کے چچا، اللہ اور اس کے رسول کے شیر! اے حمزہ، اے بھلائیوں میں پیش پیش رہنے والے۔ اے حمزہ! اے رنج و ملال اور پریشانیوں کو دور کرنے والے۔ اے حمزہ! رسول اللہ کے چہرے سے دشمنوں کو دور بھگانے والے۔

متعدد مرتبہ نمازِ جنازہ کا شرف پا کر اللہ و رسول کے شیر سیدنا امیر حمزہ وادیِ احد میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ سپردِ خاک کر دیے گئے۔ جہاں سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم تا حینِ حیات حاضر ہوتے رہے، عہدِ رسالت سے لے کر آج تک اہل مدینہ اور اہلِ محبت بھی آستانۂ امیر حمزہ پر سلامی کے لیے بصد احترام حاضر ہوتے ہیں اور ان کے فیوض و برکات سے دامنِ مراد کو بھرتے ہیں۔

احد کا میدان آج بھی سینہ تانے یہ اعلان کرتا ہے:

پاک فطرت ہے تری پاک نسب ہے تیرا
نام حمزہ، اسد اللہ لقب ہے تیرا
ذکرِ رستم ہے فقط زیبِ حکایت کے لیے
ورنہ میدان میں ثانی کوئی کب ہے تیرا

ماہنامہ سنی دنیا بریلی شریف [اپریل 2026ء، ص: 35]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!