Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں (قسط اول)|مفتی ذو الفقار خاں رضوی ککرالوی

خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں (قسط اول)
عنوان: خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں (قسط اول)
تحریر: مفتی ذو الفقار خاں رضوی ککرالوی
پیش کش: قافیہ نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

مرکزِ اہل سنت بریلی شریف کا مرکزِ عقیدت مارہرہ مقدسہ؛ جو شاہ برکت اللہ کی برکتوں، اچھے میاں کی اچھائیوں، خاتم الاکابر کے بڑے پن، نوری میاں کی نورانیت، ابوالقاسم کی خیرات، تاج العلماء کی تاجداری، نظمی میاں کے نظم، امینِ ملت کی امانت، رفیقِ ملت کی رفاقت، اشرفِ ملت کی شرافت کے حوالے سے دنیائے سنیت میں مشہور ہے۔ وہاں سے اچانک مشائخِ مارہرہ کے مخالف عقائد و نظریات کے حوالے سے کئی باتیں ایک ساتھ سوشل میڈیا پر پھیلائی گئیں۔ جب تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ مارہرہ شریف کے ایک شاہزادہ جنہیں سید سبطین حیدر صاحب کے نام سے لوگ جانتے ہیں؛ وہ آج کل اپنے مشائخ کے طرزِ عمل کے خلاف محاذ آرا ہیں۔ میں نے ان کی ویڈیو دیکھی، آڈیو سنی تو بس یہی کہہ سکا کہ ع

خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں

تقریر سن کر بہت افسوس ہوا۔ کہ سید صاحب مارہرہ شریف کے مقدس خاندان سے وابستہ ہیں، حضور نظمی میاں کے صاحبزادے ہیں۔ فقیر سید صاحب کی ذاتی مخالفت میں کچھ لکھے اس کی اجازت مسلکِ اعلیٰ حضرت نہیں دیتا۔ البتہ تقریر کو لے کر چند ذہنی خلجان ہیں جنہیں معروضات کی شکل میں پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں، اس امید پر کہ نگاہِ عتاب سے امن بخشیں گے اور لب کشائی کو معاف فرمائیں گے۔ حضرت کی ایک ویڈیو سے سنی گئی چند باتوں پر معروضات پیش ہیں۔

عرض کر دوں گا لایا ہوں احمد رضا

سید صاحب نے اپنی تقریر میں کہا:

”یہ بڑا ذمہ دار منبر ہے یہاں پر میرے باپ سید آلِ رسول نے بھی تقریر کری ہے اور میرے دادا آلِ مصطفیٰ نے بھی تقریر کری ہے اور میرے دادا حسن میاں صاحب نے بھی تقریر کری ہے۔ یہاں سے جو بات ہو گی وہ غیر ذمہ دارانہ بات نہیں ہو گی؛ میں ایک ذمہ داری کے ساتھ ایک بات کہتا ہوں، یہ جو مشہور کیا گیا ہے حضور سید شاہ آلِ رسول کے بارے میں، سید شاہ آلِ رسول احمدی کے بارے میں کہ انہوں نے فرمایا کہ قیامت کے دن جب خدا مجھ سے پوچھے گا کیا لائے میرے لیے تو میں کہوں گا احمد رضا لے کر آیا، یہ بات میرے دادا احمدی پر جھوٹ پیش کی گئی ہے۔ سن لو اس بات کو، سن لو میں کھلم کھلا بول رہا ہوں یہ بالکل جھوٹ کہا گیا ہے۔ حضور احمدی سے جب ان کے مرید نے آخری وقت پر پوچھا کہ آپ کچھ نصیحت فرما دیجیے، تو آپ نے معلوم ہے کیا فرمایا؟ پیر و مرشد ہیں یہ مولانا احمد رضا صاحب کے، آپ نے نصیحت فرمائی: ’اطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول‘، اس کے آگے کچھ نہیں فرمایا۔ اور یہ جو باتیں ہیں یہ میرے دادا پر جھوٹ گڑھی گئی ہیں۔ آلِ رسول احمدی رحمتہ اللہ علیہ پر جھوٹ گڑھا گیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ پیش کر دوں گا کہ احمد رضا کو لے کے آیا ہوں، کیسے کیسے جھوٹ! شفیق صحیح کہہ رہے تھے کہ جھوٹ پر پوری عمارت کھڑی کری گئی ہے۔“

سید صاحب نے ذمہ دار اسٹیج سے اہل سنت کے درمیان مشہور بات کو بڑی ذمہ داری کے ساتھ جھوٹا بتا دیا۔ یہ تک نہیں سوچا کہ جن کے حوالے دے کر اسٹیج کو ذمہ دار بتایا ہے وہ بھی سید صاحب کی اس تحقیقِ جدید کی زد میں جھوٹے ثابت ہو جائیں گے، بلکہ اصل جھوٹ کا الزام انہی کے سر جائے گا؛ کیوں کہ وہ گھر کے ہیں۔ جب وہ ہی کہہ رہے ہیں تو باہر والے کہیں تو ان پر کیا الزام۔

ہم یہاں پہلے سید صاحب کے والد گرامی اور ان کے دادا وغیرہ مشائخِ مارہرہ مقدسہ کے حوالے سے اس واقعہ کی حقیقتِ واقعی معلوم کرتے ہیں، اس کے بعد خود سید صاحب سے بھی اس کا حوالہ پیش کریں گے۔

سید صاحب کے والد گرامی حضور نظمی میاں علیہ الرحمہ اس واقعہ سے متعلق رقمطراز ہیں:

”جدی کریم حضور پرنور سیدنا شاہ آلِ رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے اگر رب تبارک و تعالیٰ مجھ سے فرمائے گا کہ میرے واسطے کیا لایا تو میں احمد رضا کو پیش کر دوں گا۔“
[امام احمد رضا نمبر، قاری اپریل ۱۹۸۹ء، ص: ۲۷]

حضور نظمی میاں سہ ماہی ”افکارِ رضا“ ممبئی میں اپنے ایک مضمون میں اس واقعہ کو لے کر ایک غلط بیانی کا رد کرتے ہوئے اور صحیح واقعہ بیان فرماتے ہوئے رقمطراز ہیں:

”بیعت کے بعد کے واقعات میں اکثر غلو کی آمیزش پائی جاتی ہے۔ لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں مثلاً شاہ آلِ رسول نے اعلیٰ حضرت کو بیعت کرنے کے بعد فرمایا مجھے بہت دنوں سے اپنی نجات کی فکر دامن گیر تھی الحمد للہ آج وہ فکر دور ہو گئی۔ گویا بریلی کے مولانا احمد رضا خاں قطبِ مارہرہ شاہ آلِ رسول احمدی کے لیے نجات دہندہ بن کر آئے تھے۔
اصل واقعہ صرف اتنا ہے کہ اعلیٰ حضرت کو بیعت کرنے کے ساتھ ساتھ حضور خاتم الاکابر نے انہیں خاندان کی تمام خلافتوں، اجازتوں اور وظائف و اوراد سے بھی نوازا۔ جب حضور خاتم الاکابر کے بھتیجے اور خلیفہ حضور سید شاہ حسن حیدر کو معلوم ہوا تو انہوں نے دبی زبان سے پوچھا ہمارے خاندان کا تو یہ وطیرہ رہا ہے کہ خلافت دینے سے پہلے سالہا سال مجاہدہ کرایا جاتا ہے اور جب ریاضت و مجاہدے کی بھٹی میں تپ کر کندن بن کر نکلتا ہے تب اس کے سر پر خلافت کا تاج رکھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس آپ نے بریلی کے ان صاحب زادے کو کسی بھی طرح کے مجاہدے کے بغیر ساری خلافتیں اور اجازتیں عطا کر دیں۔
خاتم الاکابر مسکرائے اور فرمایا اور لوگ میل کچیل، زنگ آلود دل لے کر آتے ہیں اس کے تزکیے کے لیے ریاضت و مجاہدے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ مصفیٰ و مزیٰ قلب لے کر آئے انہیں ریاضت و مجاہدے کی کیا ضرورت تھی انہیں صرف نسبت کی ضرورت تھی سو وہ ہم نے دے دی۔ اس کے بعد حضور خاتم الاکابر نے وہ مشہور و معروف جملہ ارشاد فرمایا:
’ایک عرصہ سے یہ فکر لاحق تھی کہ بروزِ حشر اگر احکم الحاکمین نے سوال فرمایا کہ آلِ رسول تو ہمارے لیے کیا لایا تو میں کیا پیش کروں گا مگر خدا کا شکر ہے کہ آج وہ فکر دور ہو گئی اب حشر میں رب پوچھے گا اے آلِ رسول ہمارے لیے کیا لایا تو کہہ دوں گا احمد رضا کو لایا۔‘
ملاحظہ فرمایا آپ نے کہ روایتوں کے تضاد نے اصل واقعہ کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا تھا۔ حضور خاتم الاکابر شاہ آلِ رسول احمدی نے اپنے ولی عہد سید شاہ ابوالحسین احمد نوری علیہ الرحمہ کو اس موقع پر ایک وصیت فرمائی جس سے ۲۲ سال کی عمر میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کی جملہ علوم و فنون میں مہارت کا پتہ چلتا ہے آپ نے فرمایا دیکھو اب ہمارے خاندان کے اکابر کی جو کتابیں شائع ہوں ان دونوں عالموں (مولانا احمد رضا خاں اور مولانا عبد القادر بدایونی) کو دکھائی جائیں اور یہ جیسی اصلاح کریں قبول کی جائے پھر اشاعت ہو۔۔۔“
[افکارِ رضا ممبئی، اکتوبر تا دسمبر ۲۰۰۷ء، ص: ۲۲، ۲۳]

کتاب ”فنِ شاعری اور حسان الہند“ میں بطورِ تقریظ حضور نظمی میاں کی تحریر شامل ہے اس میں آپ اس واقعہ کو بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

”دنیائے ارادت میں غالباً یہ پہلا واقعہ ہے کہ جب ایک مرشد اپنے رب کے حضور تحفے کے طور پر اپنے مرید کو پیش کرنے کی خواہش ظاہر کر رہا ہے۔“
[فن شاعری اور حسان الہند، ص: ۲۶]

حضور احسن العلماء سید حسن میاں صاحب علیہ الرحمہ اپنے ایک انٹرویو میں حضور اعلیٰ حضرت کی بیعت کا ذکر فرمانے کے بعد حضور آلِ رسول احمدی علیہ الرحمہ کا مذکورہ فرمان نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”اور فرمایا الحمد للہ آج میں مطمئن ہو گیا اب خدا جب مجھ سے قیامت میں پوچھے گا کہ ہمارے یہاں کے لیے کیا لایا تو میں اپنے مولوی احمد رضا خاں (قدس سرہ العزیز) کو پیش کر دوں گا۔“
[ماہنامہ، استقامت، کانپور، دسمبر ۱۹۷۵ء، ص: ۱۸]

حضور امینِ ملت دام ظلہ اپنے والد ماجد حضور سید احسن العلماء اور عمِ مکرم سید العلماء علیہما الرحمۃ والرضوان اور دادا صاحب حضرت سید آلِ عبا قادری نوری علیہ الرحمہ کے حوالے سے حضور اعلیٰ حضرت کی بیعت کا واقعہ تفصیل سے بیان کرتے ہوئے ایک مقام پر رقمطراز ہیں:

”اسی مجلس میں اعلیٰ حضرت کے مرشد سیدی آلِ رسول قدس سرہ نے ارشاد فرمایا میاں صاحب ایک فکر عرصہ سے پریشان کیے ہوئے تھی بحمد اللہ آج وہ دور ہو گئی قیامت میں جب اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ آلِ رسول ہمارے لیے کیا لایا تو میں اپنے مولوی احمد رضا خاں کو پیش کر دوں گا۔“
[امام احمد رضا نمبر، قاری اپریل ۱۹۸۹ء، ص: ۲۳۶، ۲۳۷]

حیرت کی بات یہ کہ ۱۷ سال قبل ”اہل سنت کی آواز“ جو مارہرہ شریف سے نکلنے والا با برکت سالانہ مجلہ ہے اس میں خود آنجناب نے بھی اس واقعہ کو بیان کیا ہے۔ مگر کیوں کہ طویل عرصہ گزر گیا اس لیے حضرت کو خود کا لکھا ہوا یاد نہیں رہا۔ ہم یاد کرائے دیتے ہیں؛ سید صاحب لکھتے ہیں:

”وہی امام احمد رضا جن کو اپنے جیسا بنانے کے بعد حضور آلِ رسول احمدی مطمئن ہو گئے، کہ اب اپنے رب کی بارگاہ میں سرخ رو حاضر ہو جاؤں گا اور سوال ہو گا تو اپنے اس مریدِ با مراد کو پیش کر دوں گا۔“
[اکتوبر ۲۰۰۰ء، ص: ۲۷]

متذکرہ بالا حوالہ جات کی روشنی میں صاف ہو گیا کہ حضور اعلیٰ حضرت کو ان کے پیر و مرشد کا خدا کی بارگاہ میں پیش کرنے کا واقعہ بالکل سچا ہے؛ جس کی گواہی کے لیے کسی مولوی یا کسی پیر کی ضرورت نہیں ہے بس حضور سیدی آلِ رسول احمدی علیہ الرحمہ کے اہل خانہ اور ان کے مقدس شہزادوں کی شہادتیں ہی کافی ہیں۔ ان شہادتوں کے ہوتے ہوئے سید صاحب کا اس واقعہ کو گڑھا ہوا اور جھوٹا بتاتے ہوئے یہ کہنا کہ اپنے بزرگوں کے تقدس کو پامال کرنا اور انہیں جھوٹا ثابت کرنا ہے۔ اگر سید صاحب ”شفیق“ کے صحیح کو اب بھی صحیح مانیں تو جھوٹ پر پوری عمارت کھڑا کرنے کا الزام کسی اور پر نہیں اپنے گھر والوں پر لگا بیٹھیں گے۔ العیاذ باللہ! بلکہ اس عمارت کی تعمیر میں حصہ لینے کے سبب خود بھی زد میں آ جائیں گے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!