| عنوان: | خطرناک گمراہی (چند خود غرضوں کا گمراہ کن طریق عمل) |
|---|---|
| تحریر: | صدر الافاضل مفتی محمد نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ |
| پیش کش: | عالیہ فاطمہ انیسی |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
حضور پرنور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم روحنا فداہ کی پاک اور مقدس تعلیم کو اگر ہم زریں حرفوں سے لکھیں تو بھی اس کی قدر و مرتبت کا حق ادا نہ ہو گا۔ ایک ایک کلمہ اصولِ ہدایت و ارشاد کا خزانۂ عامرہ اور ایک ایک حرف کشفِ حقائق کا بصیرت افروز ذخیرہ ہے۔
لالیٔ خوشاب زمانہ گزرنے سے بے آب ہو جاتے ہیں۔ گلِ شاداب ایک عرصے کے بعد کوڑا کچرا رہ جاتے ہیں۔ دنیوی قوانین میں کسی مدت کے انقضا سے تبدیل و ترمیم کی ضرورت پیش آتی ہے۔ قوموں کی روش روز مرہ بدلتی رہتی ہے۔ عالم کے دستور آئے دن نئی صورت اختیار کیا کرتے ہیں۔ پرانی قابلِ فخر ایجادیں تھوڑے دنوں میں بیکار سمجھی جاتی ہیں۔ ہر چیز پرانی ہو کر بے قدر ہو جاتی ہے مگر پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم پرانی نہیں پڑتی۔ اس کا نفع اور اس کی ضرورت کم نہیں ہوتی۔ کہنگی اور فرسودگی کے داغوں سے اس کے دامن ہمیشہ پاک رہتے ہیں۔ ان موتیوں کی چمک دمک میں فرق نہیں آتا۔ اس چمنستان میں بادِ خزاں نہیں پہنچ سکتی۔ یہ قوانین کبھی قابلِ ترمیم و تبدیل نہیں ہوتے۔ فلسفہ بدل جاتا ہے۔ فلسفی مسائل کچھ کے کچھ ہو جاتے ہیں کیونکہ ان میں انسانی دماغوں نے کام کیا تھا جو انسانی کمزوری و بے چارگی سے خالی نہ تھے مگر ربانی حکیم معصوم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت کے اصول ویسے ہی مستحکم رہتے ہیں کیونکہ بشری عجز و نادانی کی تاریکی ربانی انوار کے سامنے ٹھہر نہیں سکتی۔
وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ﴿٣﴾ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ ﴿٤﴾[سورۃ النجم: 3-4]
اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے، وہ تو نہیں مگر وحی جو انہیں کی جاتی ہے۔ کے آفتاب کو گہن نہیں لگتا۔ حقانی انوار کی روشنی میں دیکھنے والا خطا نہیں کرتا۔ اس ہادیٔ برحق کا جو کلام ہے حق کا پیام ہے۔ اس میں فرق ہو تو کیسے ہو؟ جتنا زمانہ گزرتا جاتا ہے کلامِ مبارک کی صداقت ظاہر ہوتی جاتی ہے۔ پھر ایک ایک کلمہ ہدایت کی ایک جامع کتاب ہے۔ عقل و فہم ہو، غور و فکر ہو، عقیدہ صحیح ہو تو اس رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حرف سے وہ فائدہ پہنچے جو سالہا سال کے تجربوں اور برسوں کی دنیوی تعلیم سے حاصل نہ ہو سکے۔ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ[سنن أبي داود: ج: 4، ص: 266]
مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔
اس میں ایماندار کو تلقین ہے کہ وہ چشمِ بصیرت وا رکھیں اور ایک مرتبہ غلطی میں مبتلا ہونے کے بعد متنبہ ہو جائے۔ بیدار رہے۔ پھر اسی قسم کی غلطی کا مرتکب نہ ہو۔ ایک مرتبہ تجربے کے بعد بھی صحیح نتیجے پر نہ پہنچنا ایماندار کی شان نہ ہونا چاہیے۔ ایک ہی طرح کی غلطی میں بار بار پھنس جانا اور ایک ہی صورت میں فریب سے پیہم دھوکے کھانا، تجربے سے نتیجے پر نہ پہنچنا، نہایت سفیہ و بدعقل کا کام ہے جس کے قوائے مدرکہ ماؤف ہو گئے ہوں۔ پیشوائے اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کبھی سفاہت و بدعقلی کی ذلت اپنے نیازمندوں کے لیے گوارا نہیں فرماتے۔ اس لیے ارشاد ہوتا ہے کہ جس سوراخ سے آزار پہنچا، جس راہ میں گزند ہوئی، جس ہاتھ سے ایذا پائی، جس مدعیٔ دوستی سے بے وفائی وقوع میں آئی، مومن کو ہمیشہ اس سے احتیاط کرنا چاہیے۔ دوبارہ پھر ایسی مصیبت میں مبتلا ہونا، اسی کنویں میں گرنا، اسی سوراخ سے نقصان پانا، مومن کی شان نہ ہونا چاہیے۔
ہندوؤں کی بے وفائی کا ایک دو مرتبہ نہیں، دس مرتبہ نہیں، هزار مرتبہ نہیں، روز مرہ ہر کہیں تجربہ ہو رہا ہے۔ ان کا بچہ بچہ مسلمانوں کی عداوت و ایذا رسانی کے خمار میں مست و سرشار ہے۔ سلطنتِ اسلام کے عہد میں شاہانِ اسلام کے مراحمِ خسروانہ اس قوم کے حال پر مبذول رہے۔ انہیں تعلیم دی، علم سکھایا، شائستہ بنایا، وزارتیں دیں، عہدے اور منصب دیے، جاگیریں دیں، انعام و اکرام کیے جن کے اثر آج تک باقی ہیں لیکن اس قوم کی محسن کشی و غداری اس زمانے میں بھی نہ شرمائی اور عنایات و اکرام کے سامنے ممنونِ احسان ہو کر خمیدہ سر نہ ہوئی۔ پروپیگنڈے، ریشہ دوانیاں، بداندیشی و بدخواہی ان کی طرف سے ہمیشہ جاری رہی۔ اچھے سلوکوں کا انہوں نے برا بدلہ کیا اور اس محسن سلطنت کو نیست و نابود کرنے کی فکر میں ہمیشہ لگے ہی رہے۔ مگر غلامانہ ذہنیت کے ساتھ دشمنی پر دوستی کا، اور بدخواہی پر خیر خواہی کا، غداری پر وفاداری کا پردہ ڈالے رکھا۔ سلطنتِ اسلام کے بعد سے اب تک بھی ان کا یہی طریقِ عمل ہے۔ وہ مسلمانوں کو نجس و ناپاک سمجھتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں کی چھوئی ہوئی چیز پلید جانتے ہیں۔ جب نفرت کا یہ عالم ہے تو ایذا رسانی سے وہ کس طرح صبر کر سکتے۔ آدمی جس چیز کو ناپاک سمجھتا ہے اس کو دفع کرنے پر اس کی طبیعت مجبور ہوتی ہے۔ ہر قرن اور ہر زمانے میں ہندو طرح طرح کے حیلوں اور تدبیروں سے مسلمانوں کو مٹانے میں کوشاں رہے۔ اب سے دس سال قبل جب ہندو مسلم اتحاد کے علم بلند کیے گئے، اور مسلمان جاہل و خود رائے لیڈروں کے اغوا سے ہندوؤں پر فدا ہو رہے تھے، جوشِ محبت میں بہت سی ناکردنی حرکات کے مرتکب ہوئے۔
ہندوؤں کو مسجدوں میں بلایا، منبروں پر بٹھایا، اپنی پیشانیوں پر قشقے لگوائے، ہولیوں میں خاک اڑائی، ہندو مردوں کی ٹکٹیاں اٹھائیں، جے کے نعرے لگائے، قربانی کی گائیں گؤشالوں میں پہنچائیں، کشتگانِ امرتسر کی ہڑتالیں کیں، انہیں شہید بنایا، سب کچھ کیا مگر ہندوؤں نے ستم رانی کی خصلت نہ چھوڑی۔ ان کی جفا شعاری میں فرق نہ آیا۔ آرہ، شاہ آباد اور کٹار پور کے مظالم سے بھی سیر نہ ہوئے۔ ملک بھر میں مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہائیں، مسجدوں کی بے حرمتی کی، نمازوں کے وقت مسجدوں کے سامنے باجہ بجا کر مسلمانوں کو تنگ اور آزردہ کیا۔ اس حسد سے مار دھاڑ شروع کی۔ ہزارہا بے گناہ مسلمانوں کو قتل کر ڈالا، لوٹ لیا، گھروں کو آگ لگا دی، جلتی آگ میں مسلمانوں کو ڈال کر پھونک دیا۔ تلخ تجربے ہونے کے بعد کون مسلمان تھا جو ہندوؤں سے امیدِ وفا کرتا، امیدِ خیر خواہی رکھتا!!!
تمام ملک کے مسلمان ان کے دستِ ستم سے نالاں تھے۔ ان کی حکومت پر کیسے راضی ہوتے اس لیے موجودہ زمانے کی تحریکاتِ کانگریس میں مسلمان بالکل علیحدہ رہے۔ ان کا کوئی طبقہ شریکِ عمل نہ ہوا۔ یہ روش مسلمانوں کے لیے بہت بہتر تھی۔ اس فرصت کو غنیمت سمجھتے اور اپنی بگڑی حالت درست کرنے کی طرف متوجہ ہو جاتے مگر ہندوؤں نے محسوس کیا کہ یہ علیحدگی مسلمانوں کو نفع پہنچائے گی، اور اس فرصت میں وہ کچھ نہ کچھ کمزوری رفع کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور گورنمنٹ کا مقابلہ تنہا ہندوؤں سے رہ جائے گا۔ اس کا جو خمیازہ بھگتنا ہو گا وہ تنہا ہندو قومیت کے سر پڑے گا۔ اگر مسلمان شریک ہوئے ہوتے تو مرنے، پیٹنے، قید ہونے کے موقعوں پر انہیں پیش کیا جاتا اور یار لوگ کنی کاٹ جاتے۔
اس خیال سے انہیں بہت فکر تھی کہ مسلمانوں کو اس تحریک میں کس طرح شامل کیا جائے مگر مسلمانوں کا کوئی طبقہ ان کے ہاتھ نہ آیا۔ البتہ چند خود غرض لوگ ان کے ہتھے چڑھ گئے جنہوں نے اپنے ذاتی مفاد کو مقدم رکھ کر قوم کے ساتھ غداری کی، اور مسلمانوں کو شرکتِ کانگریس کی دعوت دی اور ہندوؤں کے روپیہ سے مدد لے کر اغوائے اہلِ اسلام کا کام جاری رکھا۔ اس قلیل طماع خود غرض جماعت نے اپنا نام جمعیۃ العلماء رکھا اور مسلمانوں کو مغالطہ دیا کہ ہندوستان کے تمام علماء کی جمعیت ہے باوجودیکہ تمام علمائے ہند اس کے سخت مخالف ہیں اور اس نام نہاد جمعیت کو جمعیتِ ہنود جانتے ہیں جو چند ذی وقار علماء اس میں پہلے کسی وجہ سے شریک ہو گئے تھے اس وقت وہ بھی علیحدہ ہو گئے۔ گنتی کے آٹھ دس نام کے مولوی رہ گئے ہیں جنہوں نے اپنا ضمیر ہندوؤں کے ہاتھ کھوٹے داموں فروخت کر دیا اور کانگریسی پروپیگنڈا کے ایجنٹ ہو گئے اور کسی نہ کسی قدر مسلمانوں کو مغالطہ دینے میں کامیاب ہو گئے۔
یہ خطرناک جماعت ہندوؤں کی کٹھ پتلی ہے، ان کے اشاروں پر رقص کیا کرتی ہے۔ مسلمان اس سے متفق نہیں نہ ملک کا کوئی معتمد شخص ان کے ساتھ شریکِ عمل ہے۔ مسلمانوں کو اس حقیقت سے آگاہ رہنا چاہیے کہ نام نہاد جمعیۃ العلماء ہندوستان کے علماء یا عام اہلِ اسلام کی نائب و ترجمان نہیں ہے بلکہ وہ تمام مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں سے سازش کرنے کی مجرم ہے۔ اس نے اپنے نفع کی خاطر بہت مسلمانوں کو غلطی میں ڈالا اور نقصان میں مبتلا کیا۔ غلط فتوے دیے۔ بے فائدہ ہندو تحریک پر مرنے والوں کو شہید بتا کر مسلمانوں کو جانیں کھونے پر آمادہ کیا۔ مسلمان اس غدار، مسلم کش، ہندو پرست جماعت کے دامِ تزویر سے بچ کریں۔
[السواد الاعظم، جمادی الاخری، 1349 ھ، ص: 2 تا 5]
