| عنوان: | علمائے اہل سنت و جماعت اور آزمائش |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | عائشہ فاطمہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
(۱) ابن کثیر دمشقی (۷۰۱ھ-۷۷۴ھ) نے لکھا:
وَكَانَ الَّذِينَ ثَبَتُوا عَلَى الْفِتْنَةِ فَلَمْ يُجِيبُوا بِالْكُلِّيَّةِ أَرْبَعَةٌ، أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَهُوَ رَئِيسُهُمْ، وَمُحَمَّدُ بْنُ نُوحِ بْنِ مَيْمُونٍ الْجُنْدَيْسَابُورِيُّ وَمَاتَ فِي الطَّرِيقِ، وَنُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ الْخُزَاعِيُّ وَقَدْ مَاتَ فِي السِّجْنِ، وَأَبُو يَعْقُوبَ الْبُوَيْطِيُّ وَقَدْ مَاتَ فِي سِجْنِ الْوَاثِقِ عَلَى الْقَوْلِ بِخَلْقِ الْقُرْآنِ وَكَانَ مُثْقَلًا بِالْحَدِيدِ، وَأَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ الْخُزَاعِيُّ وَقَدْ ذَكَرْنَا كَيْفِيَّةَ مَقْتَلِهِ.
ترجمہ: جو لوگ فتنہ معتزلہ کے سلسلے میں ثابت قدم رہے، اور بالکل (خلقِ قرآن کے قول کو) قبول نہ کیے، وہ چار حضرات ہیں: (۱) امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالی عنہ (۱۶۴ھ-۲۴۱ھ)، اور وہ ان حضرات کے سردار ہیں (۲) اور محمد بن نوح بن میمون جند یساپوری (م۲۱۷ھ)، اور یہ (قید میں بغداد آتے ہوئے) راستے میں وفات پاگئے (۳) اور نعیم بن حماد خزاعی (م۲۲۹ھ)، اور یہ قید خانے میں واصل الی اللہ ہوئے (۴) اور ابو یعقوب بویطی، اور یہ خلقِ قرآن کے قول پر واثق کے قید خانے میں وفات پائے، اور یہ بیڑیوں میں بندھے ہوئے تھے (۵) اور احمد بن نصر خزاعی (م ۲۳۱ ھ)، اور ان کے قتل کی کیفیت میں نے بیان کر دی۔ [البدایۃ والنہایہ، ج ۱۰، ص ۳۳۵ - مكتبة المعارف بیروت]
توضیح: مذکورہ بالا چار حضرات کے علاوہ بھی بہت سے علما گرفتار ہوئے، بعض کسی طرح رہائی پائے، اور بعض قید خانے میں واصل الی اللہ ہوئے۔ خلیفہ کی جانب سے صرف اکابرینِ اہل سنت کی گرفتاری ہوئی تھی۔
(۲) ابن کثیر دمشقی (۷۰۱ھ - ۷۷۴ھ) نے لکھا:
وَالْبُوَيْطِيُّ صَاحِبُ الشَّافِعِيِّ مَاتَ فِي السِّجْنِ مُقَيَّدًا عَلَى الْقَوْلِ بِخَلْقِ الْقُرْآنِ فَامْتَنَعَ مِنْ ذَلِكَ.
ترجمہ: امام شافعی کے شاگرد امام بویطی بغدادی (م۲۳۱ھ) خلقِ قرآن کے قول پر مقید ہو کر قید خانے میں وفات پائے۔ انہوں نے اس قول سے انکار کیا تھا۔ [البداية والنهايه، ج ۱۰، ص ۳۰۸ - مكتبة المعارف بیروت]
(۳) حافظ حسن بن صباح بغدادی (م۲۴۹ھ) نے اپنے بارے میں فرمایا:
حُمِلْتُ فِي الْمِحْنَةِ إِلَى الرُّومِ.
ترجمہ: ایامِ محنت (آزمائش کے دور) میں مجھے ملکِ روم لے جایا گیا۔ [تذکرة الحفاظ للذہبی، ج ۲، ص ۴۸]
قاضی بغداد امام ابو الولید اور دیگر اسلاف کا ثبات
(۴) امام ابو یوسف کے شاگرد قاضیِ بغداد ابوالولید بشر بن ولید کندی (م ۲۳۸ ھ) کو اس کے گھر میں مقید کر کے سپاہی متعین کر دیئے گئے، پھر جب متوکل خلیفہ ہوا تو اہل سنت پر سے پابندیاں ختم ہوئیں، اور اہل سنت و جماعت خوش ہو گئے۔
(۵) شمس الدین ذہبی نے لکھا:
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ: رَوَى بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ عَنْ أَبِي يُوسُفَ كُتُبَهُ، وَوَلِيَ قَضَاءَ بَغْدَادَ فِي الْجَانِبَيْنِ، فَسَعَى بِهِ رَجُلٌ إِلَى الدَّوْلَةِ وَقَالَ: إِنَّهُ لَا يَقُولُ بِخَلْقِ الْقُرْآنِ، فَأَمَرَ بِهِ الْمُعْتَصِمُ أَنْ يُحْبَسَ فِي دَارِهِ وَوَكَّلَ بِبَابِهِ، فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ الْمُتَوَكِّلُ، أَمَرَ بِإِطْلَاقِهِ.
ترجمہ: بشر بن ولید کندی نے امام ابو یوسف سے ان کی کتابیں روایت کیں، اور بغداد کے جانبین (دونوں حصوں) کے قاضی ہوئے تو ایک آدمی نے ان کے بارے میں حکومت کے پاس شکایت کی اور کہا کہ وہ خلقِ قرآن کے قائل نہیں ہیں، پس معتصم نے ان کے بارے میں حکم دیا کہ انہیں ان کے گھر میں قید کر دیا جائے، اور اس کے دروازے پر سپاہی متعین کر دیا، پھر جب متوکل خلیفہ ہوا تو ان کی آزادی کا حکم دیا۔ [سیر اعلام النبلاء، ج ۲۰، ص ۱۹۰]
علمائے حق کی قربانیاں اور باطل پروپیگنڈے کا رد
توضیح: مذکورہ احوال علمائے کرام سے متعلق ہیں۔ خلفائے بنی عباس کے حکم سے چودہ سالوں تک علمائے اہل سنت کو قتل و قید کیا جاتا رہا، پھر بھی لوگ مذہبِ اہل سنت و جماعت پر قائم رہے۔ آخر کار متوکل کے عہد میں آزمائش کا عہد اختتام پذیر ہوا۔ اکابرینِ علمائے کرام کی آزمائش کی جاتی تھی، تاکہ ان کے سبب عام مسلمان بھی معتزلی مذہب کی طرف آ جائیں۔ علمائے اسلام نے اپنی جانوں کی قربانیاں دیں، قید و بند کی مشقتیں برداشت کیں لیکن گمراہی کو قبول نہ فرمایا۔ اس طرح عام مسلمان مذہبِ حق پر ہی قائم رہے۔
اب یہ کہنا کہ اس عہد میں یہی چند علمائے کرام ہی مذہبِ حق پر تھے، باقی تمام عوام و خواص معتزلی مذہب پر تھے، انتہائی غلط پروپیگنڈہ ہے۔ جب عام مسلمانوں کی آزمائش نہ کی گئی تو کن حقائق کی بنیاد پر تمام مسلمانوں کو معتزلی مذہب کا پیروکار قرار دیا جا رہا ہے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ اتنے مظالم کے بعد بھی مذہبِ اہل سنت و جماعت کثرتِ تعداد کے ساتھ قائم و موجود رہا، اور دنیا نے ہمارے رسول ﷺ کے فرمانِ عالیشان "لا تزال طائفۃ من امتی" کی سچائی کا مشاہدہ اپنے سر کی آنکھوں سے کیا۔
اگر اس عہد میں معتزلہ کثیر التعداد ہوتے، اور اہل سنت قلیل التعداد ہوتے تو خلفائے بنی عباس کو قتل و قید کا راستہ اپنانے کی ضرورت پیش نہیں آتی، بلکہ وہ تبلیغ کے ذریعہ باقی ماندہ افراد کو معتزلی مذہب کی طرف مائل کر لیتے؛ قتل و قید کی نوبت اس لیے آئی کہ تبلیغ کے باوجود عوام و خواص معتزلی مذہب سے دور ہی رہے۔ تب آخری حربہ یعنی قتل و قید کو اختیار کیا گیا۔
السواد الاعظم من عہد الرسالۃ الی قرب القیامہ
