| عنوان: | کیا بات ہے رضا اُس چمنستانِ کرم کی |
|---|---|
| تحریر: | سائرہ الطاف امجدی |
کیا بات ہے رضا اُس چمنستانِ کرم کی
زہرا ہے کلی جس میں حسن اور حسین پھول
امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے اس شعر میں اہلِ بیتِ اطہار کی عظمت، اُن کی قربانیوں اور اُن کے بے مثال مقام کی طرف نہایت لطیف انداز میں اشارہ کیا گیا ہے۔ واقعی کیا ہی عظیم ہے وہ چمنستانِ کرم جس سے رحمت، محبت، وفا اور قربانی کے چشمے پھوٹتے ہیں۔ وہ خانوادۂ رسول جس کا ہر فرد عشقِ رسول ﷺ کا روشن چراغ اور دینِ اسلام کا مضبوط محافظ ہے۔
یہ وہ مقدس خاندان ہے جس نے اپنے نانا جان، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی حفاظت کے لیے ایسی قربانیاں پیش کیں جن کی مثال تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔ آج دینِ اسلام جس آسانی سے ہم تک پہنچا ہے، اس کے پیچھے اہلِ بیتِ اطہار خصوصاً امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما کی عظیم قربانیاں شامل ہیں۔
ذرا غور کیجیے! جس خاندان کے ننھے ننھے نونہالوں تک نے دین کی سربلندی کے لیے اپنی جانیں قربان کر دیں، جس خاندان نے اپنے لختِ جگر شہید کروا دیے مگر حق کا دامن نہ چھوڑا، اُس خاندان کا مقام کتنا بلند ہو گا۔ وہ امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما جن کے بارے میں خود حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”جو حسن و حسین سے محبت کرتا ہے، وہ مجھ سے محبت کرتا ہے“۔
امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کو کلی اور امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہما کو اُس باغ کے پھول قرار دیا ہے۔ اب ذرا سوچیے! جب پھولوں کی گردنیں کاٹ دی جائیں، جب اُن پھولوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جائے جن سے پورے گلستان میں خوشبو پھیلی ہوئی ہو، تو اُس کلی کے دل پر کیا گزرتی ہو گی؟
یہ وہی پھول تھے جنہیں سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مبارک کندھوں پر سوار فرمایا کرتے تھے، جن سے محبت کا اظہار خود نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے۔ مگر میدانِ کربلا میں انہی پھولوں نے اپنے نانا کے دین کی خاطر سر تو کٹوا دیے، لیکن باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا bilge۔
بظاہر کربلا میں پھول کٹ گئے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ دین کی اصل بہار وہیں سے شروع ہوئی۔ سر تن سے جدا ہو گیا، مگر عزت اور عظمت بلند سے بلند تر ہو گئی۔ سجدے میں سر ضرور کٹا، مگر یزید کے سامنے جھکا نہیں۔ یہی وہ پیغام ہے جس نے قیامت تک حق و باطل کے درمیان فرق واضح کر دیا۔
واقعۂ کربلا ہم سب کے لیے ایک عظیم درس ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ دین کی خاطر قربانی دینی پڑے تو پیچھے نہ ہٹیں، مشکلات آئیں تو صبر کریں، اور دنیا کی وقتی منفعت کے لیے اپنے ایمان اور عقیدے کا سودا نہ کریں۔
آج افسوس کے ساتھ ایسے لوگ بھی نظر آتے ہیں جو تھوڑے سے مال، معمولی دنیاوی فائدے یا وقتی خواہشات کی خاطر دین کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو کربلا کی قربانیاں یاد رکھنی چاہئیں۔ یاد رکھو! ایک دن ہم سب نے اُس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے جن کے نواسوں نے دین کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ اُس دن ہم کیا جواب دیں گے؟
لہٰذا ضروری ہے کہ ہم واقعۂ کربلا کو یاد رکھیں، اسے پڑھیں، سمجھیں اور اپنی زندگیوں میں اس کے پیغام کو اپنائیں، تاکہ ہمارے دلوں میں دین کی محبت، اہلِ بیتِ اطہار کی عقیدت اور اسلام کی سربلندی کا جذبہ ہمیشہ زندہ رہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما کی قربانیوں کو یاد رکھنے، اُن سے سبق حاصل کرنے اور اُن کے نانا جان صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر استقامت کے ساتھ چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
