Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

مدارس اسلامیہ مسائل، مشکلات اور چند تجاویز (قسط: اول)

مدارس اسلامیہ مسائل، مشکلات اور چند تجاویز (قسط: اول)
عنوان: مدارس اسلامیہ مسائل، مشکلات اور چند تجاویز (قسط: اول)
تحریر: مفتی محمد ساجد رضا مصباحی
پیش کش: مریم رضوی

ہندوستان کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے مدارس اسلامیہ مسلمانوں کی دینی و مذہبی تشخص کی بقا کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، جب تک مدارس اسلامیہ کا وجود رہے گا، یہاں کے مسلمانوں کے اندر اسلامی روح باقی رہے گی اور ان کا ایمانی جذبہ بھی سلامت رہے گا، کیوں کہ مسلمانوں کو دینی و روحانی غذا مدارس اسلامیہ ہی فراہم کرتے ہیں۔ مدارس اسلامیہ کا وجود اسلام دشمنوں کے لیے ہمیشہ تکلیف کا باعث رہا ہے، ہمارے اپنے سماج کے افراد اس کی اہمیت کو سمجھیں یا نہ سمجھیں لیکن مخالفین کو مدارس کی اہمیت اور مسلم سماج کے استحکام میں اس کے عملی کردار کا خوب علم ہے، یہی وجہ ہے کہ ماضی میں اسلام دشمن عناصر نے جب اور جس سر زمین پر بھی مسلمانوں کو بے دست و پا کرنے اور ان کے وجود کو ختم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تو ان کا سب سے پہلا حملہ مدارس اسلامیہ اور دینی درسگاہوں پر ہوا ہے۔ آج پھر ایک بار ہندوستان کے مدارس اسلامیہ زعفرانی طاقتوں کے نشانے پر ہیں، ان کا منشا یہ ہے کہ مدارس اسلامیہ کے ذریعہ دین و مذہب کے حوالے سے جو توانائی امت مسلمہ کو ملتی ہے اس کا سلسلہ بند ہو جائے، کیوں کہ جب ان کے اندر روحانی و ایمانی طاقت ختم ہو جائے گی اور ان کی مذہبی شناخت کمزور ہو جائے گی تو ان کو نیست و نابود کرنا آسان ہو جائے گا۔ باطل طاقتوں کے عزائم بلند ہیں، وہ قوم مسلم کو ہر محاذ پر بے دست و پا دیکھنا چاہتی ہیں، ان کی معیشت کو تباہ و برباد کرنا چاہتی ہیں، ان کی عزت و آبرو پر مسلسل حملہ کر کے اور سر بازار انہیں رسوا کر کے ان کو دوسرے درجے کا شہری بنانا چاہتی ہیں۔

اس سلسلے میں انہوں نے پوری منصوبہ بندی کے ساتھ سب سے پہلے مسلمانوں کے علمی و روحانی مراکز مدارس اسلامیہ کو بے اثر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، یہاں کی تعلیمی روح، یہاں کے نظام و نصاب کو یکسر بدل کر انہیں اسکولوں کی شکل میں چلانے پر مجبور کرنا ان کا اولین مقصد ہے، اس منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اقدامات شروع ہو گئے ہیں، وقف ترمیمی ایکٹ اور اس سے قبل آسام کے مدارس کے تعلق سے پیدا شدہ صورت حال سے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے، اسی طریقہ کار کو اتر پردیش اور اتراکھنڈ میں بھی آزمانے کی کوشش ہو رہی ہے، بلکہ دوسرے صوبوں کے مدارس کے ساتھ بھی مستقبل میں اسی طرح کی روایتی پیش رفت یقینی ہے۔

اس وقت ملک کی متعدد ریاستوں میں مدارس کے سروے کے نام پر اہلِ مدارس کو ہراساں کیا جا رہا ہے، اس کا مقصد مسلمانوں کو رسوا کرنا اور برادرانِ وطن کی نظر میں ان کو مشکوک بنانا ہے، اگر حکومت جاننا چاہتی ہے کہ تعلیمی ادارے حکومت کے اصول و ضوابط پر عمل پیرا ہیں یا نہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن صرف مدارس کے حالات اور اس کے انفراسٹرکچر ہی کی جانچ کیوں ضروری ہے؟ اس طرح کی جانچ تمام تعلیمی اداروں میں ہونی چاہیے، چاہے وہ اکثریتی فرقے کے تعلیمی مراکز ہوں یا اقلیتوں کے، اور اقلیتوں میں مسلمانوں کے ہوں یا سکھوں کے، عیسائیوں کے ہوں یا بدھسٹوں کے، بلکہ پرائیویٹ اداروں سے زیادہ سرکاری اداروں کا سروے کرنے اور جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ حکومت کے قواعد و ضوابط کے مطابق اسکولوں کا جو انفراسٹرکچر ہونا چاہیے وہ مہیا ہے یا نہیں؟ صرف مسلمانوں کے تعلیمی اداروں یا دینی مدرسوں کا سروے مسلمانوں کے خلاف شکوک و شبہات کا موقع پیدا کرتا ہے، اور اس وقت نفرت کی جو آندھی آئی ہوئی ہے، یا لائی جا رہی ہے، اس میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مدارس مسلمانوں کا اثاثہ ہیں، اس کی زمین، اس کی عمارت، اس کا فرنیچر، اس کی لائبریری وغیرہ قوم کے تعاون سے مہیا کیے جاتے ہیں، تاکہ تعلیمی اعتبار سے پس ماندہ قوم کے بچے ان مدارس میں تعلیم حاصل کر سکیں۔ نئی نسل تعلیم سے آراستہ ہوگی تو گھر، خاندان اور ملک سب کا بھلا ہوگا، سماج و معاشرے کی ترقی ہوگی، برائیوں کا خاتمہ ہوگا۔ لیکن پھر بھی مسلم تعلیمی اداروں کو مسلسل کمزور کرنا اور وہاں کی تعلیم کو متاثر کرنا ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہی کہا جا سکتا ہے۔

مدارس اسلامیہ کے حوالے سے ریاستی حکومتوں کا منشا جان لینے کے بعد اہلِ مدارس کو بھی اپنے نظام میں حسبِ ضرورت تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ حکومتوں کے بڑے اختیارات ہوتے ہیں اگر حکومت ان اختیارات کا استعمال کر کے مدارس کے نظام میں شفافیت لانے کے بہانے گاہے گاہے جانچ کے نام پر دستاویزات طلب کرے تو اہلِ مدارس انہیں یکسر منع بھی نہیں کر سکتے، بلکہ ایسے معاملات میں حکومتی عملے کا تعاون اہلِ مدارس کی ذمہ داری ہوگی۔

مدارس اسلامیہ داخلی و خارجی دونوں طرح کے مسائل سے جوجھ رہے ہیں، غیروں کی یلغار کے ساتھ بے شمار داخلی مسائل و مشکلات مدارس کو کھوکھلا کر رہے ہیں اور ان کا نظام دن بہ دن خستہ حالی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔

مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد دن بہ دن گھٹتی جا رہی ہے، چند مدارس کو چھوڑ کر باقی تمام مدارس طلبہ کی تعداد کے حوالے سے تشویش ناک صورت حال سے دوچار ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب مدارس میں پڑھنے والے طلبہ ہی نہیں ہوں گے تو ان مدارس کا وجود بے معنی ہو کر رہ جائے گا۔ لہٰذا ہمیں اس کے اسباب و وجوہات پر غور کر کے اس کا بھی حل ڈھونڈنا ضروری ہے۔

در اصل مدارس کی تعلیم کے تعلق سے ماضی قریب میں مسلسل منفی پروپیگنڈا ہوا ہے اور یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اس تعلیم سے کوئی دنیاوی فائدہ نہیں ہے، یہ تعلیم معاش کے لیے کسی طرح مفید نہیں ہے، مدرسے میں پڑھنے کے بعد دو چار ہزار کی ملازمت کرنی پڑے گی اور دوسروں کے رحم و کرم پر زندگی گزارنا پڑے گا وغیرہ۔ یہ تمام باتیں بالکل بے بنیاد بھی نہیں ہیں، ائمہ و مدرسین کی تنخواہوں کی جو کیفیت ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، اہلِ مدارس اپنے ملازمین کے ساتھ جو غیر انسانی رویہ روا رکھتے ہیں اس سے بھی ہر ذی ہوش واقف ہے۔ مدارس سے تعلیم حاصل کر کے فارغ ہونے والے طالبانِ علومِ نبویہ کی ذہن سازی اور تربیت ایسی ہوتی ہے کہ وہ فراغت کے بعد کسی مدرسے میں تدریس یا پھر امامت ہی کو اپنے معاش کا واحد ذریعہ سمجھتا ہے یا پھر اپنے آپ کو اسی لائق پاتا ہے۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ مدارس کی بقا کے لیے اس کے نظام اور نصاب میں تھوڑی ایسی ترمیم ہو جس سے دینی تعلیم کی روح بھی باقی رہے اور حصولِ معاش کے لیے وہ صرف مدارس یا مساجد میں ہی ملازمت کرنے پر مجبور نہ ہوں بلکہ وہ کسی دوسرے میدان میں بھی جا کر اپنے معاش کا انتظام کر سکیں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!