| عنوان: | زکوٰۃ کی اہمیت احادیث کریمہ کی روشنی میں |
|---|---|
| تحریر: | توحید احمد خان رضوی |
| پیش کش: | جامعہ تحسینیہ ضیاء العلوم، بریلی شریف |
| منجانب: | تحسینی فاؤنڈیشن، بریلی شریف |
اسلام کی بنیاد جن پانچ چیزوں پر ہے ان میں سے ایک زکوٰۃ بھی ہے۔ احادیث کریمہ میں زکوٰۃ دینے کی بہت ساری فضیلتیں وارد ہوئی ہیں اور جو لوگ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے انہیں سخت عذاب کی وعیدیں بھی سنائی گئی ہیں۔ اسلام نے امیروں کے مال میں غریبوں کا بھی حصہ رکھا ہے، اگر اسلامی اصول کے مطابق صحیح طور پر لوگ زکوٰۃ ادا کریں تو ہمارے معاشرے میں کافی حد تک غریبی کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ ہم یہاں پر چند احادیث کریمہ پیش کر رہے ہیں جن سے زکوٰۃ کی اہمیت بخوبی پتہ چلتی ہے۔
حدیث
حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: “قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔”
آپ نے یہ جملہ تین مرتبہ فرمایا، پھر سر مبارک جھکا لیا۔ ہم سب نے بھی سر جھکا لیا اور رونے لگے۔ ہمیں معلوم نہ تھا کہ آپ کس بات پر قسم کھا رہے ہیں۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک اٹھایا، چہرہ اقدس خوشی سے جگمگا رہا تھا۔ یہ منظر ہمیں سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب تھا۔
پھر آپ نے ارشاد فرمایا: “جو شخص پانچ وقت کی نماز ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے، زکوٰۃ ادا کرے اور ساتوں کبیرہ گناہوں سے بچے، اس کے لیے جنت کے دروازے کھول دیے جائیں گے اور اس سے کہا جائے گا: سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ۔” [سنن نسائی، حدیث: 440]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرو، کیونکہ وہ تمہیں پاک کرنے والی ہے۔ یہ تمہیں گناہوں سے پاک کرے گی، رشتہ داروں سے حسن سلوک کرو، مسکینوں، پڑوسیوں اور سائلوں (مانگنے والوں) کے حقوق کو پہچانو۔” [مسند احمد بن حنبل، مسند انس بن مالک، حدیث: 12397، ج: 4، ص: 274]
حدیث
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “زکوٰۃ اسلام کا پل ہے۔” [المعجم الاوسط، حدیث: 8937]
حدیث
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جو بھی سونا یا چاندی والا شخص اپنے اس مال کا حق (زکوٰۃ) ادا نہیں کرتا، اس کے لیے قیامت کے دن آگ کی تختیاں تیار کی جائیں گی اور انہیں جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر ان سے اس کے پہلو، اس کی پیشانی اور پشت کو داغا جائے گا۔ جب جب بھی تختیاں ٹھنڈی ہو جائیں گی، انہیں دوبارہ گرمایا جائے گا۔ یہ عذاب ایک ایسے دن میں ہوگا، جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہوگی۔ (یہ سلسلہ جاری رہے گا) یہاں تک بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے اور (عذاب میں گرفتار شخص) جنت یا جہنم کی جانب اپنا راستہ دیکھ لے۔”
عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! اونٹوں کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جو شخص اونٹوں کا مالک ہو اور وہ ان کا حق (زکوٰۃ) ادا نہ کرتا ہو اور ان کا حق یہ بھی ہے کہ ان کو پانی پلانے کے دن (ضرورت مندوں اور مسافروں کے لیے) ان کا دودھ دوہا جائے، تو قیامت کے دن اس شخص کو اونٹوں کے سامنے ایک ہموار میدان میں منہ کے بل اوندھا ڈال دیا جائے گا اور اس کے سارے اونٹ پہلے سے بھی زیادہ فربہ حالت میں وہاں موجود ہوں گے اور ان میں سے اونٹ کا ایک بچہ تک بھی کم نہ ہوگا۔ یہ اونٹ اپنے کھروں سے اس شخص کو روندیں گے اور اپنے منہ سے اسے کاٹیں گے۔ ان میں سے جب آخری اونٹ گزر جائے گا، تو اس پر ان میں سے پہلے اونٹ کو دوبارہ لوٹا دیا جائے گا۔ یہ عذاب ایسے دن میں ہوگا، جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہو گی۔ (یہ سلسلہ جاری رہے گا) یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے اور وہ جنت یا جہنم کی جانب اپنا راستہ دیکھ لے۔”
عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! گائے اور بکریوں کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جو شخص گایوں اور بکریوں کا مالک ہو اور ان کا حق ادا نہ کرتا ہو، قیامت کے دن اسے ایک ہموار میدان میں اس کی گایوں اور بکریوں کے سامنے اوندھے منہ ڈال دیا جائے گا۔ ایک بھی گائے یا بکری کم نہیں دکھے گی۔ کسی کا سینگ نہ مڑا ہوگا، نہ ٹوٹا ہوگا اور نہ کوئی بلا سینگ ہوگی۔ وہ اپنے سینگوں سے اسے ماریں گی اور اپنے کھروں سے اسے کچلیں گی۔ جب آخری گائے یا بکری روند کر چلی جائے گی، تو پہلی کو دوبارہ لوٹا دیا جائے گا۔ یہ عذاب ایسے دن میں ہوگا، جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی۔ (یہ سلسلہ جاری رہے گا) یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے اور وہ شخص جنت یا دوزخ کی طرف اپنا راستہ دیکھ لے۔” [صحیح مسلم، حدیث: 987]
حدیث
سرکار دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے: “زکوٰۃ کا مال جس میں ملا ہوگا اسے تباہ و برباد کر دے گا۔” [شعب الایمان، حدیث: 3522]
صدر الشریعہ، بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: بعض ائمہ نے اس حدیث کے یہ معنی بیان کیے کہ زکوٰۃ واجب ہوئی اور ادا نہ کی اور اپنے مال میں ملائے رہا تو یہ حرام اس حلال کو ہلاک کر دے گا اور امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ معنی یہ ہیں کہ مالدار شخص مال زکوٰۃ لے تو یہ مال زکوٰۃ اس کے مال کو ہلاک کر دے گا کہ زکوٰۃ تو فقیروں کے لیے ہے اور دونوں معنی صحیح ہیں۔ [بہار شریعت، ج: 1، حصہ: 5، ص: 871]
حدیث
نبی مکرم، نور مجسم، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جو قوم زکوٰۃ نہ دے گی اللہ عزوجل اسے قحط میں مبتلا فرمائے گا۔” [المعجم الاوسط، حدیث: 4577]
حدیث
پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جب لوگ زکوٰۃ کی ادائیگی چھوڑ دیتے ہیں تو اللہ عزوجل بارش کو روک دیتا ہے اگر زمین پر چوپائے موجود نہ ہوتے تو آسمان سے پانی کا ایک قطرہ بھی نہ گرتا۔” [سنن ابن ماجہ، حدیث: 4019]
حدیث
حضرت سیدنا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: “زکوٰۃ نہ دینے والے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے۔” [صحیح ابن خزیمہ، حدیث: 2250]
حدیث
آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “خشکی و تری میں جو مال برباد ہوا ہے وہ زکوٰۃ نہ دینے کی وجہ سے ہلاک ہوا ہے۔” [مجمع الزوائد، حدیث: 4335]
حدیث
حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “فقیر ہرگز ننگے بھوکے ہونے کی تکلیف نہ اٹھائیں گے مگر مال داروں کے ہاتھوں، سن لو! ایسے مالداروں سے اللہ تعالیٰ سخت حساب لے گا اور انہیں دردناک عذاب دے گا۔” [المعجم الاوسط، حدیث: 3579]
حدیث
نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “دوزخ میں سب سے پہلے تین شخص جائیں گے ان میں سے ایک وہ مالدار ہے جو اپنے مال میں اللہ عزوجل کا حق ادا نہیں کرتا۔” [صحیح ابن خزیمہ، حدیث: 2249]
اوپر ذکر کی گئی احادیث سے زکوٰۃ کی اہمیت ہر کسی پر روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم شرعی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کریں تاکہ قیامت کے دن ہمیں ان ہولناکیوں سے پناہ حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
