| عنوان: | ماہ محرم میں رائج بعض غیر شرعی اور جاہلانہ رسمیں |
|---|---|
| تحریر: | محمد عارف رضا قادری امجدی |
| پیش کش: | جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی |
-
علم، تعزیے، مہندی، ان کی منت گشت، چڑھاوا، ڈھول تاشے، مجیرے، مرثیے، ماتم، مصنوعی کربلا کو جانا، اور عورتوں کا تعزیے دیکھنے کے لیے نکلنا۔ یہ سب باتیں حرام، گناہ اور ناجائز ہیں۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 24، ص: 485]
-
حضرت قاسم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شادی کا میدانِ کربلا میں ہونا اور اس کی بنیاد پر مہندی نکالنا ثابت نہیں بلکہ من گھڑت ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 24، ص: 502]
-
تعزیے کو حاجت روا سمجھنا یا اس کے لیے منت ماننا جہالت اور توہم پرستی ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 24، ص: 500]
-
تعزیے پر یا اس کے سامنے کھانے پینے کی چیزیں رکھنا اور اسے تبرک سمجھنا درست نہیں، البتہ شہداء کرام کے لیے الگ نیت سے نیاز کرنا جائز ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 24، ص: 499]
-
بلا ضرورت بھیک مانگنا حرام ہے اور ایسے لوگوں کو دینا بھی گناہ میں مدد ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 24، ص: 495]
ماہِ محرم الحرام میں پہلا حکم
اس ماہِ مبارک میں مطلقاً کسی بھی دن روزہ رکھنا رمضان کے بعد سب سے افضل روزہ شمار ہوتا ہے، نیز نو اور دس محرم یا دس اور گیارہ محرم کا روزہ رکھنا اور بھی زیادہ فضیلت کی چیز ہے، چنانچہ صحیح مسلم کی حدیث میں وارد ہے:
أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللّٰهِ الْمُحَرَّمُ، وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ صَلَاةُ اللَّيْلِ. [صحيح مسلم، كتاب الصوم، باب فضل صوم المحرم، رقم الحديث: 202]
ترجمہ: “رمضان کے روزوں کے بعد سب سے افضل اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں، اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل رات کی نماز (تہجد) ہے۔”
ماہِ محرم الحرام میں دوسرا حکم
عاشوراء کے دن اپنے اہل و عیال پر کھانے پینے یا کسی بھی اعتبار سے وسعت کرنا، اس کی خاص فضیلت وارد ہے؛ چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت ابو سعید خدری، حضرت ابو ہریرہ اور حضرت جابر رضوان اللہ علیہم اجمعین سے منقول ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مَنْ وَسَّعَ عَلَى عِيَالِهِ فِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ، وَسَّعَ اللّٰهُ عَلَيْهِ السَّنَةَ كُلَّهَا. [شعب الإيمان للبيهقي، كتاب الصيام، صوم التاسع والعاشر، ج: 3، ص: 365]
ترجمہ: “جو شخص عاشوراء کے دن اپنے گھر والوں پر خرچ کرنے میں وسعت و فراخی کرے گا، اللہ تعالیٰ سارا سال اس پر (رزق میں) وسعت فرمائے گا۔”
محرم الحرام میں سوگ کرنے کا حکم
ایک اور چیز جس کا رواج عام طور پر بہت زیادہ ہو چکا ہے کہ یہ مہینہ غم کا مہینہ ہے، اس مہینے میں خوشی نہیں منانی چاہیے، کیوں؟! اس لیے کہ اس مہینے میں نواسۂ رسول حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے خاندان کے چھوٹوں اور بڑوں کو ظالمانہ طور پر نہایت بے دردی سے شہید کر دیا گیا، ان کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کے لیے غم منانا، سوگ کرنا اور ہر خوشی والے کام سے گریز کرنا ضروری ہے۔ اس بارے میں سب سے پہلے علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ کا ایک قول ملاحظہ کرتے ہیں:
“ہر مسلمان کے لیے مناسب یہ ہے کہ اس کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ غمگین کر دے، اس لیے کہ وہ مسلمانوں کے سردار اور اہلِ علم صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے تھے۔ آپ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے افضل لختِ جگر کے بیٹے یعنی آپ کے نواسے تھے، آپ عبادت کرنے والے، بڑے بہادر اور بہت زیادہ سخی تھے۔ آپ کے والد (حضرت علی کرم اللہ وجہہ) آپ سے زیادہ افضل تھے، ان کو چالیس ہجری سترہ رمضان جمعہ کے دن جب کہ وہ اپنے گھر سے نمازِ فجر کے لیے تشریف لے جا رہے تھے شہید کر دیا گیا، اسی طرح حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اہلِ سنت و الجماعت کے نزدیک حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے افضل ہیں، جنہیں چھیالیس ہجری عید الاضحی کے بعد انہی کے گھر میں شہید کر دیا گیا، لیکن لوگوں نے ان کے قتل کے دن کو بھی اس طرح ماتم نہیں کیا۔ اسی طرح حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان دونوں حضرات (حضرت عثمان اور علی کرم اللہ وجہہ) سے افضل ہیں، جن کو مسجد کے محراب میں نماز کی حالت میں جب کہ وہ قراءت کر رہے تھے شہید کر دیا گیا، لیکن ان کے قتل کے دن بھی اس طرح ماتم نہیں کیا جاتا، اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو دنیا و آخرت میں بنی آدم کے سردار ہیں، ان کی وفات کے دن کو بھی کسی نے ماتم کا دن قرار نہیں دیا۔”
اس قول کو ملاحظہ کرنے کے بعد یہ سمجھنا چاہیے کہ “شہادت” کا مرتبہ خوشی کا ہے یا غم اور سوگ کا؟! تعلیماتِ نبویہ سے تو یہ سبق ملتا ہے کہ شہادت کا حصول تو بے انتہا سعادت کی بات ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“کسی بھی عورت کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو، یہ حلال نہیں ہے کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے، سوائے اپنے شوہر کے (جس کا سوگ چار ماہ دس دن ہے)۔” [صحیح البخاری]
-
تعزیوں کو ماتم کرتے ہوئے گلی گلی پھرانا، تعزیوں کے سامنے سجدہ کرنا، بچوں کو محرم کا فقیر بنا کر بھیک منگوانا۔
-
مال کو ضائع کرنا، برتن پھوڑنا، دسویں محرم کو گھر میں کھانا پکانے کو معیوب سمجھنا، خود کو فقیر بنا کر بھیک مانگنا وغیرہ۔
-
ماتم کرنا، کپڑے پھاڑنا، نوحے پڑھنا، رونا پیٹنا، بطور سوگ سیاہ لباس پہننا، کالے بلے پہننا، نئے لباس کو برا سمجھنا وغیرہ۔
-
ناچنا، کودنا، رقص کرنا، مرد و عورت کا ایک ساتھ مجالس و محافل میں بیٹھنا، جھوٹے واقعات بیان کرنا وغیرہ۔
-
جھوٹی منتیں ماننا، امام قاسم کی مہندی نکالنا، فضول کاموں میں لگ کر نمازیں ترک کر دینا وغیرہ۔
-
حضرت علی و حسنین کریمین یا دیگر بزرگوں کی تصاویر بنانا، ان کو حقیقت کا رنگ دینا وغیرہ۔
-
محرم الحرام میں شادی بیاہ و دیگر تقریبات کو ممنوع اور باعث نحوست سمجھنا، حالانکہ بعض روایات کے مطابق حضرت علی اور سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہما کا نکاح محرم الحرام میں ہی ہوا تھا۔
مذکورہ خرافات و بدعات یا اس طرح کی اور رسومات جو مسلمانوں میں رائج ہیں سب ناجائز و ممنوع ہیں ان سے بچنا ہر صورت لازم ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ خرافات ہماری دنیا اور آخرت کی بربادی کا سبب بن جائیں اور ہمیں علم بھی نہ ہو۔
امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کا مؤقف
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی قادری حنفی علیہ الرحمہ سے سوال ہوا کہ بعض اہل سنت جماعت عشرۂ 10 محرم الحرام کو نہ تو دن بھر روٹی پکاتے ہیں اور نہ جھاڑو دیتے ہیں، کہتے ہیں کہ بعد دفن تعزیہ روٹی پکائی جائے گی۔ (2) ان دس دن میں کپڑے نہیں اتارتے ہیں، ماہ محرم میں بیاہ شادی نہیں کرتے ہیں۔ ان ایام میں سوائے امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہما کے کسی کی نیاز فاتحہ نہیں دلاتے ہیں، آیا یہ جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: پہلی تینوں باتیں سوگ ہیں اور سوگ حرام ہے، اور چوتھی بات جہالت ہے، ہر مہینہ ہر تاریخ میں ہر ولی کی نیاز اور ہر مسلمان کی فاتحہ ہو سکتی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
اسی طرح اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ نے ایک سوال کے جواب میں محرم الحرام میں امام عالی مقام کے نام کا فقیر بن کر بھیک مانگنا یا اپنے بچوں کو فقیر بنا کر بھیک منگوانے کو بھی ناجائز و حرام قرار دیا ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 24، ص: 102]
اللہ رب العزت ہمیں کہنے سننے سے زیادہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
