| عنوان: | موضوع: نیک لڑکی اور حیا کا پیغام (مرحومہ نوف کا سچا واقعہ) |
|---|---|
| پیش کش: | شہربانو نعیم قادریہ |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
یہ ایک ایسی سچی اور ایمان افروز کہانی ہے جس کی راویہ قصیم شہر (سعودی عرب) میں غسلِ میت ڈیپارٹمنٹ کی ایک رکن خاتون ہیں۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ ایک دن کسی مدرسے کی مڈل لیول کی ایک طالبہ کا انتقال ہو گیا، جس کی عمر ابھی بہت کم تھی اور وہ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ رہی تھی۔ اس کا نام 'نوف' تھا؛ جب اس کی وفات ہوئی تو اس کی ماں اور بہنیں اسے غسل و کفن کے لیے میرے پاس لائیں، جبکہ شدتِ غم سے اس کی ماں کا رو رو کر برا حال تھا اور وہ اپنی بیٹی سے جدا ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔
دورانِ غسل حیرت انگیز مشاہدات اور چہرے کا نور
خاتون راویہ کہتی ہیں کہ میں نے بڑی مشکل سے ماں کو علیحدہ کیا اور غسل خانے کا دروازہ بند کر دیا۔ لیکن جیسے ہی میں نے اس بچی کے چہرے سے کپڑا ہٹایا، میں ششدر رہ گئی۔ اللہ کی قسم! اس کے چہرے سے نور کی شعاعیں اٹھ رہی تھیں اور میں اس کی تابانی دیکھ کر ورطۂ حیرت میں ڈوب گئی۔ عام طور پر غسل کے لیے لائی جانے والی لڑکیوں کے چہرے مرجھائے ہوئے ہوتے یا بعض سے ناگوار بو آتی تھی، مگر نوف کا معاملہ بالکل الٹ تھا، اس کا چہرہ روشنی سے دمک رہا تھا اور اس کے دائیں و بائیں دونوں ہاتھوں کی شہادت کی انگلیاں تشہد کی طرح اٹھی ہوئی تھیں۔
میں نے اس کی ماں اور بہنوں کو خوشی کی مٹھاس میں ڈوبی بلند آواز سے اندر بلایا اور انہیں ان حیرت انگیز برکات سے مطلع کیا۔ اس کی ماں نے اپنی بیٹی کی پیشانی کو چومتے ہوئے بتایا کہ نوف کی سب سے ممتاز خوبی نماز کی پابندی تھی۔
ترکہ اور سادگی کا پیغام (چار کارٹون)
وفات کے دو دن بعد امِ نوف نے غسالہ خاتون کو فون کر کے بیٹی کا سامان مستحقین میں تقسیم کرنے کے لیے بھجوایا، جو چار کارٹونوں پر مشتمل تھا۔ راویہ کہتی ہیں کہ جب میں نے ان ڈبوں کو کھولا تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی:
- پہلا کارٹن: اس میں نوف کے نقاب اور عبایات تھے، جو سب کے سب انتہائی ڈھیلے ڈھالے، بے جوڑ اور شرعی اصولوں کے مطابق باحیا تھے، نہ وہ تنگ تھے اور نہ چھوٹے تھے۔
- دوسرا کارٹن: اس میں اس کے روزمرہ کے کپڑے تھے، جو پورے بازوؤں والے، جسم کو مکمل ڈھانپنے والے اور موٹے فبرک کے تھے، جن سے جسم کا کوئی حصہ نظر نہیں آسکتا تھا اور ان میں کوئی شوخی یا بھڑک پن نہیں تھا۔
- تیسرا اور چوتھا کارٹن: اس میں اس کا اسکول کا سامان، قلم، ایک سادہ ڈائری اور ایک مسواک تھی، جس سے واضح تھا کہ وہ بچی زندگی میں سنتِ نبوی ﷺ کو اپنانے والی تھی۔
راویہ کی زندگی میں انقلاب
ایمان کی تبدیلی: راویہ کہتی ہیں کہ نوف کا سامان دیکھنے کے بعد میرے دل اور ایمان کی کیفیت میں اچانک ایک بڑا تغیر برپا ہو گیا۔ میں جلدی سے اپنی الماری کی طرف گئی اور وہ تمام کپڑے نکال کر باہر پھینک دیے جو تنگ، باریک یا چھوٹے بازوؤں والے تھے۔ میں نے اسی لمحے خود سے وعدہ کیا کہ میں آج کے بعد نوف کی طرح حیا و حجاب قائم رکھنے والا لباس ہی پہنوں گی اور اس کی ڈائری کو اپنے پاس رکھ لیا تاکہ اس میں اسلامی لیکچرز لکھ کر اس کے لیے صدقۂ جاریہ بنا سکوں۔
معاشرے اور مسلم خواتین کے لیے لمحہ فکریہ
جب راویہ نے امِ نوف کو اس ماڈرن ازم کے دور میں بھی اپنی بیٹی کی بہترین اسلامی تربیت پر مبارکباد دی، تو ماں نے روتے ہوئے کہا: "اس کا دل ہر وقت نماز سے لگا رہتا تھا، جیسے ہی موذن اذان دیتا، وہ تمام کام کاج چھوڑ کر فوراً اپنے رب کے سامنے حاضر ہو جاتی۔"
اللہ تعالیٰ نوف اور ان تمام عورتوں پر رحم فرمائے جنہوں نے زمانے کے چلن کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے رب کی خوشنودی کی خاطر اسلامی تعلیمات کے مطابق لباس پہنا اور احکامِ الہی کا دامن تھام کر رکھا۔ اس واقعے میں امت کی ان ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے لیے حوصلہ افزائی کا سامان ہے جو فانی دنیا کے بجائے پروردگار کو خوش کرنے کی فکر میں رہتی ہیں۔
دوسری طرف، جو مسلم خواتین ماڈرن طبقے اور مغربی رجحانات کی مصنوعی چکا چوند سے متاثر ہو کر نیم عریاں اور چست لباس زیب تن کر کے معاشرے میں تہذیب یافتہ بننے کی فکر میں اپنے رب کو ناراض کرتی ہیں، ان کے لیے یہ پیغام ہے کہ وہ اپنی روش سے باز آجائیں، کیونکہ ایک نہ ایک دن اپنے رب کے سامنے پیش ہونا لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
