| عنوان: | مفسر قرآن: رخ حیات کی چند جھلکیاں (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا محمد عطاء النبی حسینی مصباحی |
| پیش کش: | آفرین فاطمہ رضویہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
بیعت و ارادت
حضور مفسرِ قرآن کا خانوادہ کئی صدیوں سے روحانی اور عرفانی فیوض و برکات کا مرکز ہے، جہاں مشائخِ عظام اپنے اپنے حصے کا رشد و ہدایت کا کام انجام دیتے آ رہے ہیں، اس لیے حضور مفسرِ قرآن عہدِ طفلی ہی میں اپنے جدِ امجد شمس الاولیاء حضرت علامہ سید واعظ الحق علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر شرفِ بیعت و ارادت سے مشرف ہوئے۔
نیز دورانِ تحصیلِ علم جب حضور مفتیِ اعظم ہند فریضۂ حج سے واپس تشریف لائے تو 24 رجب المرجب 1365ھ میں آپ نے حضور مفتیِ اعظم ہند کے تقویٰ و طہارت سے متاثر ہو کر ان سے اپنے سلسلہ میں داخل کرنے کی خواہش ظاہر کی تو حضور مفتیِ اعظم ہند نے آپ کی خواہش پر آپ کو داخلِ سلسلۂ قادریہ فرمایا، اس طرح آپ پہلے بھی اپنے جدِ امجد کے دستِ اقدس سے داخلِ سلسلۂ قادریہ ہوئے اور پھر حضور مفتیِ اعظم ہند کے دستِ بابرکت سے داخلِ سلسلۂ قادریہ ہوئے۔
اجازت و خلافت
آپ کے عمِ محترم سید الاولیاء حضرت علامہ سید منظور الحق علیہ الرحمہ نے حضور مفسرِ قرآن کے عہدِ طفلی میں ہی فرمایا تھا کہ آپ اپنے سلسلہ کے شیخِ طریقت ہوں گے جیسا کہ اوپر مذکور ہوا، جو آپ کے سلسلہ کے خلیفہ ہونے کی طرف واضح اشارہ ہے، اس لیے آپ کو خلافت کی نعمت اپنے جدِ امجد شمس الاولیاء حضرت علامہ سید واعظ الحق علیہ الرحمہ اور اپنے والدِ ماجد شمس العارفین حضرت علامہ سید امیر الحق علیہ الرحمہ سے حاصل تھی اور حضور مفتیِ اعظم ہند علیہ الرحمہ نے بھی بعد فراغت آپ کو اپنی خاص اجازت و خلافت اور دیگر اوراد و وظائف اور اذکار و اشغالِ خاندانی کی اجازت سے سرفراز فرمایا۔
خدمات و کارنامے
آپ کی حیات کا مطالعہ کرنے اور مشاہدہ کرنے والے پر یہ واضح ہے کہ آپ کی ساری زندگی مخلوقِ خدا کی رشد و ہدایت اور پند و موعظت اور خدمت و خیر خواہی ہی میں بسر ہوئی۔
امامت و خطابت
آپ امامت و خطابت کے عظیم منصب پر رہ کر خدمتِ دینِ متین کا فریضہ انجام دیتے رہے، اس منصب پر خود حضور مفتیِ اعظم ہند نے آپ کو فائز فرمایا جیسا کہ ماقبل میں مذکور ہوا۔
رشد و ہدایت و ارشاد
آپ کا گھرانہ ایک عرصہ سے رشد و ہدایت اور بیعت و ارشاد کا مرکز رہا ہے، اس لیے یہ سعادت اور خدمت آپ کو جہاں اپنے خاندانی بزرگوں سے ورثہ میں ملی وہیں حضور مفتیِ اعظم ہند نے بھی آپ کو اس خدمت پر مامور فرمایا، چنانچہ جب آپ اپنی تعلیم سے فارغ ہوئے تو حضور مفتیِ اعظم ہند نے آپ کو اجازت و خلافت سے نوازا اور آپ کو اپنے علاقہ میں رشد و ہدایت کا سلسلہ جاری رکھنے اور آگے بڑھانے کا حکم فرمایا۔
حضور مفسرِ قرآن فرماتے ہیں:
"فراغت کے بعد حضور مفتیِ اعظم ہند نے خلافت سے نوازا اور حکم دیا کہ آپ تشریف لے جائیں اور اپنے سلسلے کو فروغ دیں، میری جوانی کے ایام تھے، بہار اپنے وطن پہنچا اور اپنے طور پر خدمتِ دین میں لگ گیا۔" [سالنامہ سعدیہ، مظفر پور کا تصوف نمبر، ص: 191]
اس طرح آپ نے اپنی رشد و ہدایت اور بیعت و ارشاد کا کام بہار و بنگال اور نیپال میں خوب خوب انجام دیا، یہی وجہ ہے کہ آپ کے ان صوبوں اور ملک میں آپ کے مریدین کی تعداد بے شمار ہے اور آپ کے مریدین میں صرف عوام ہی نہیں بلکہ مفتیانِ کرام، علمائے عظام، قراء حضرات، حفاظ وغیرہ بھی کافی ہیں۔ نیپال کا وہ خطہ جو وہابیت و دیوبندیت کی آماجگاہ ہے، وہاں آپ نے سنیت کے فروغ کے لیے خوب کام کیا، نیپال کے اس خطہ میں روتہٹ، جے نگر، پوکھریا ڈمار، گوڑ، سرہا، بیرگنج وغیرہ آتے ہیں، نیز آپ نے اپنے سلسلے کی ترویج و اشاعت کے لیے خالصتاً لوجہ اللہ اہلِ علم حضرات کو اپنے سلسلہ کی خلافت و اجازت تفویض فرمائی جن کی تعداد کثیر ہے، ان میں سے صرف چند کے اسمائے گرامی ذیل میں ذکر کیے جا رہے ہیں:
-
حضرت علامہ مولانا سید نظر عالم صاحب عرف منو بابو، سادات پور مقدسہ سیوان (جانشین حضور مفسرِ قرآن)
-
حضرت علامہ سید ظفر الحق صاحب عرف چاند بابو، سادات پور مقدسہ سیوان
-
سید انوار الحسین صاحب قبلہ پاربنی پور بنگلہ دیش
-
حضرت علامہ مولانا مظاہر الحسین صاحب قبلہ دیناج پور بنگلہ دیش
-
حضرت علامہ مولانا سید اختر حسین صاحب قبلہ کراچی
-
حضرت علامہ عبد السبحان صاحب قبلہ ہر پوروا سیتا مڑھی بہار
-
حضرت مولانا محمد صدیق صاحب قبلہ لہوریا شریف سیتا مڑھی بہار
-
حضرت حافظ و قاری قمر الہدیٰ لہوریا شریف سیتا مڑھی بہار
-
حضرت مولانا مجیب الرحمن صاحب لہوریا شریف سیتا مڑھی بہار
-
حضرت مولانا مستقیم صاحب قبلہ کھر ساہا شریف سیتا مڑھی
-
حضرت علامہ و مولانا عبد اللطیف صاحب قبلہ سہرسہ
-
حضرت علامہ مولانا قمر الحسن صاحب قبلہ شاہو گڑھ مدھے پورہ
-
حضور حکیمِ ملت حضرت علامہ مولانا محمد اسماعیل حسینی چترویدی، بیلا، جنک پور نیپال
-
حضرت حافظ و قاری محمد نسیم صاحب قبلہ لوہنا، نیپال
-
حضرت علامہ مولانا ضیاء المصطفیٰ صاحب قبلہ مصباحی بھٹکواں شریف (مظفر پور)
-
حضرت حافظ و قاری جناب اظہار الحسین صاحب قبلہ کراچی (پاکستان)
-
حضرت علامہ مولانا محمد سعید حسن نعیمی صاحب ابن محمد سمیع احمد مقام و پوسٹ لہوریا شریف، سیتا مڑھی بہار
-
قاضیِ نیپال حضرت علامہ مولانا مفتی محمد اظہار النبی حسینی مصباحی ابوالعلائی ابن حضور حکیمِ ملت علامہ اسماعیل چترویدی، صدر المدرسین دارالعلوم قادریہ مصباح المسلمین علی پٹی و صدر مفتی و قاضی مرکزی ادارہ شرعیہ جنک پور نیپال
-
حضرت مولانا مفتی محمد سرفراز عالم مصباحی صاحب قبلہ اکڈنڈی سیتا مڑھی
-
حضرت مولانا مفتی محمد تحسین رضا مرکزی استاذ جامعہ حنفیہ برکاتیہ جانگی نگر جنک پور نیپال
-
فقیر راقم الحروف محمد عطاء النبی حسینی مصباحی ابوالعلائی ابن حضور حکیمِ ملت علامہ اسماعیل حسینی چترویدی، سجادہ نشین خانقاہ اسماعیلیہ حسینیہ پھاٹکی گھاٹ، کولکاتا
تصنیف و تالیف
یوں تو آپ کی زندگی کے اکثر ایام تبلیغی دوروں اور اسفار میں گزرتے رہے ہیں جیسا کہ آگے مذکور ہوگا، اس لیے آپ کو تصنیف و تالیف کا وقت بہت کم ملا لیکن جب بھی کوئی فرصت کے اوقات میسر آئے آپ نے ان اوقات کا فائدہ اٹھایا اور قوم و ملت کے لیے کچھ تصنیفی و تالیفی یادگاریں چھوڑیں جن کے نام درج ذیل ہیں:
-
تفسیرِ قرآن: ڈھائی پارے قرآن مجید کی تفسیر آپ نے بہت اعلیٰ انداز میں تحریر فرمائی تھی، اس تفسیر کے بارے میں مولانا سید نظر عالم صاحب برادرزادہ مفسرِ قرآن کا بیان ہے کہ یہ کرم خوردہ ہو کر ضائع ہو گئی، حضرت نے خود ہی اس کی طباعت سے منع فرما دیا۔
-
تشریحات الابجد و اصطلاحات احمد: یہ کتاب علمِ عدد میں تحریر و کتابت سے متعلق تصنیف فرمائی۔
-
اظہارِ ربانی
-
اوراقِ غم: مجموعۂ نعت
-
گلستانِ اخیار: مجموعۂ نعت۔ ڈیڑھ سو صفحات پر مشتمل طبع ہو چکی ہے۔
درج بالا کتابوں میں سے مؤخر الذکر طبع ہو کر منظرِ عام پر آئی بقیہ ضائع ہو گئیں۔
تبلیغی و دعوتی اسفار
حضور مفسرِ قرآن کی زندگی کا ایک ایک لمحہ دعوتی و تبلیغی اسفار اور دوروں میں صرف ہوا، آپ کی صحبت نشینی نے ہزاروں قلوب میں زندگی پیدا کر دی، آپ کی دعوتی خدمات کا دائرہ تقریباً 80 سال پر محیط ہے، بہار، بنگال کے علاوہ ملک نیپال، آپ کی تبلیغ و ارشاد کا سب سے اہم مرکز رہا، صرف ملک نیپال میں درج ذیل مقامات پر آپ کے دورے ہوا کرتے تھے بقیہ بہار و بنگال کے دعوتی اسفار اس پر مستزاد ہیں۔
تبلیغی مقامات
حضرت مفسرِ قرآن نے نیپال کے جن علاقوں کا بکثرت تبلیغی دورہ فرمایا ان کے نام یہ ہیں:
-
بیر گنج
-
بیر گنیا
-
پوکھریا
-
ڈمار
-
جنک پور
-
لوہنا
-
لوہر پٹی
-
سنگیاہی
-
روتہٹ
-
گور بازار
-
کروبنا
-
بیریا
-
بسہا
-
سنت پور
-
تیجا پاکر
-
راج پور
-
بلوا
-
کرونیا
-
بھگوان پور
-
جے نگر
-
لادو بیلا
-
علی پٹی
-
مغلن
-
لو کانا
-
کوپوا وغیرہ
(ان سارے خطوں میں الحمدللہ! میرا جانا ہوا ہے، ہر جگہ سرکار اعلیٰ حضرت اور سرکار مفتیِ اعظم ہند کے نام پر مسجدیں اور مدرسے دیکھ کر حیرت ہوئی تھی اور معلوم کیا تھا کہ آخر یہاں بریلی شریف کا ہر جگہ اثر کیسے دکھائی دے رہا ہے؟ تب وہاں کے بزرگوں نے بتایا کہ حضرت مولانا سید ظہور الحسین صاحب کا یہاں آنا جانا رہتا ہے اور خاص کر روتہٹ کے وہابیت زدہ خطے میں جو کچھ سنیت باقی ہے وہ ان ہی کی وجہ سے ہے اور ان ہی کی وجہ سے یہاں اعلیٰ حضرت اور مفتیِ اعظم ہند کے فیضان کے جلوے دکھائی دے رہے ہیں۔ محمد سلیم بریلوی)
وصال پر ملال
حضور مفسرِ قرآن بیماری کے گھیرے میں کافی عرصہ پہلے ہی آ چکے تھے کیوں کہ حضرت دل کے مریض تھے جہاں مشین لگی تھی لیکن فضلِ الٰہی کہ یہ بیماریاں کبھی بھی آپ کے پیروں کے لیے زنجیر نہیں بنیں بلکہ ان بیماریوں کے باوجود آپ کے دعوتی اور تبلیغی دورے ہوتے رہے، وفات سے کچھ ہفتہ قبل آپ کی طبیعت کچھ ناساز ہوئی جس کی خبر خلیفۂ حضور مفسرِ قرآن و حضور حکیمِ ملت کلام الدین اسماعیلی نے راقم کو دی پھر بھی زندگی گزرتی رہی لیکن جب وصالِ مولیٰ تقدیرِ الٰہی ہو تو پھر کون روک سکتا ہے، چنانچہ 22 دسمبر 2022ء کی شب تقریباً ساڑھے گیارہ بجے بروز جمعرات اپنی جان، جان آفریں کے حوالے کر دی۔
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ
تدفین: 23 دسمبر 2022ء بروز جمعہ آپ کی نمازِ جنازہ آپ کے جانشین صوفی باصفا حضرت مولانا مظہر عالم مصباحی صاحب نے ادا کرائی، جس میں کثیر اژدہام تھا، آپ کی تدفین آپ کے آبائی قبرستان سیوان بہار میں ہوئی۔
[ماہنامہ اعلیٰ حضرت، مارچ 2023ء]
