| عنوان: | نبوت کا بیان اور خصائصِ مصطفیٰ ﷺ (قسط: چودہویں) |
|---|---|
| تحریر: | اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ |
| پیش کش: | مہرتاج |
| منجانب: | اقراء القرآن اکیڈمی |
نبوت کا بیان اور خصائصِ مصطفیٰ ﷺ
عقیدۂ نبوت و رسالت، خصوصاً حضور سید المرسلین محمد مصطفیٰ ﷺ کے فضائل، اختیارات، اور کمالاتِ غیبیہ علمِ عقائد کا ایک نہایت اہم اور وسیع باب ہیں۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ نے اپنی متعدد تصانیف اور فتاویٰ میں قرآنی آیات اور احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں مقامِ رسالت کو نہایت پُرکشش اور مدلل انداز میں واضح فرمایا ہے۔
حضور سید المرسلین ﷺ کا مقام و مرتبہ
اعلیٰ حضرت نے اپنے رسالے ”اعتقاد الاحباب“ میں حضور اقدس ﷺ کے بے مثال مرتبے کو یوں بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کائنات کا مرکز، اپنی خلافتِ کاملہ کا مقتدا اور خزائنِ الٰہی کا قاسم بنایا ہے۔ علومِ اولین و آخرین آپ کے بحرِ علم کی نہریں ہیں، اور ازل سے ابد تک کا غیب و شہادت آپ پر روشن ہے۔
- تصرف و اختیارات: کائنات کے ذرے ذرے پر آپ کا حکم جاری ہے۔ مردے کو فرمائیں تو زندہ ہو جائے اور چاند کو اشارہ کریں تو دو ٹکڑے ہو جائے۔ دنیا و دین میں جو کچھ بھی کسی کو ملتا ہے، وہ بارگاہِ مصطفیٰ ﷺ ہی سے تقسیم ہوتا ہے۔
- دائرۂ عبدیت: اتنے عظیم کمالات کے باوجود آپ دائرۂ عبدیت (بندگی) اور افتقار سے باہر نہیں ہیں۔ آپ اللہ کے سچے بندے اور اس کے سب سے محبوب رسول ہیں۔ عیسائیوں کی طرح عینیت یا مثلیت کا گمان کرنا سراسر کفر ہے۔
دیگر انبیاء و مرسلین کا مقام
انبیاءِ کرام علیہم السلام کے باہمی مراتب میں تفاضل (کمی بیشی) حق ہے، مگر امت کا کوئی بھی ولی، صحابی، یا اہلِ بیت کا فرد، کسی بھی نبی کے ادنیٰ مرتبے تک نہیں پہنچ سکتا۔ انبیاءِ کرام کی ادنیٰ توہین بھی سید المرسلین ﷺ کی توہین کی طرح کفرِ قطعی ہے۔
عقیدۂ ختمِ نبوت اور فتنوں کا تعاقب
ختمِ نبوت کا مسئلہ ضروریاتِ دین سے ہے، جس کا منکر قطعی کافر ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹے دعوائے نبوت اور دیگر فتنوں کے رد میں اعلیٰ حضرت نے مستقل رسائل تحریر فرمائے:
- جزاء اللہ عدوہ بآبانہ ختم النبوۃ: اس مفصل رسالے میں کثیر روایات، آثارِ صحابہ، اور اکابرِ امت کے اقوال سے ثابت کیا گیا ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کسی بھی قسم کے نئے نبی کا آنا محال ہے۔
- السوء والعقاب علی المسیح الکذاب: اس میں مرزا قادیانی کے دس صریح کفریات کو شمار کر کے شرعی حکم واضح کیا گیا ہے۔
- قہر الدیان علی مرتد بقادیان: قادیانی کذاب کی طرف سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں کی جانے والی 44 گالیوں کا محاسبہ اور مناظرے کا چیلنج ہے۔
- الجراز الدیانی علی المرتد القادیانی: اس رسالے میں قادیانیوں کے اس باطل دعوے کا رد کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں۔
محبت و تعظیمِ رسول ﷺ اور افضلیت کا بیان
اصلِ ایمان: اعلیٰ حضرت کی تعلیمات کا مغز یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم و محبت ہی مدارِ ایمان اور مدارِ نجات ہے۔ اپنے رسالے ”تمہیدِ ایمان“ میں آپ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص خواہ وہ کتنا ہی قریبی تعلق رکھتا ہو (باپ، بھائی، استاد یا پیر)، اگر شانِ رسالت میں گستاخی کرے، تو اسے دل سے مکھی کی طرح نکال پھینکنا ایمان کا تقاضا ہے۔
آپ نے ۱۳۰۵ھ میں ایک معرکہ آرا کتاب ”تجلی الیقین بآن نبینا سید المرسلین“ تصنیف فرمائی، جس میں 18 غیر لکھی وحی الٰہی (احادیثِ قدسیہ)، 53 احادیثِ مبارکہ اور کثیر آثار و روایات سے یہ ثابت کیا کہ حضور ﷺ کا تمام مخلوقات اور انبیاء سے افضل ہونا ایک قطعی اور اجماعی عقیدہ ہے۔
شفاعت اور علمِ غیب کا ثبوت
حضور ﷺ کے لیے مقامِ شفاعتِ کبریٰ کے ثبوت پر اعلیٰ حضرت نے ”اسماع الاربعین فی شفاعۃ سید المحبوبین“ (5 آیات اور 40 احادیث) اور ”سمع و طاعۃ لاحادیث الشفاعۃ“ تحریر فرمائے۔
علمِ غیبِ رسول ﷺ کے حوالے سے آپ نے کئی شہرہ آفاق کتابیں لکھیں، جن میں ”خالص الاعتقاد“، ”انباء المصطفیٰ“ اور مکہ مکرمہ میں بغیر کتب کے چند گھنٹوں میں لکھی جانے والی تاریخی کتاب ”الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ“ شامل ہیں۔ ان میں واضح کیا گیا کہ اللہ کا علم ذاتی اور غیر محدود ہے، جبکہ رسول کا علم عطائی (اللہ کا دیا ہوا) ہے، اس لیے شرک کا کوئی شائبہ پیدا ہی نہیں ہوتا۔
عرش تک رسائی، اختیارات اور ندائے یا رسول اللہ ﷺ
شبِ معراج حضور ﷺ کا چشمِ سر سے دیدارِ الٰہی کرنا اور عرشِ اعظم تک جسمانی رسائی حاصل کرنا اعلیٰ حضرت نے اپنے رسالے ”منبہ المنیہ“ میں احادیثِ مرفوعہ اور ائمہ کے اقوال سے ثابت فرمایا ہے۔
آپ کے وسیع تشریعی و کائنات کے اختیارات پر ”فقہ شہنشاہ“ اور ”سلطنت المصطفیٰ“ تحریر فرمائی۔ نیز، حضور ﷺ کو ”دافع البلاء“ (بلاؤں کو دور کرنے والا) ماننے کے جواز پر ”الامن والعلیٰ“ جیسی مایہ ناز کتاب لکھی جس میں 6 آیات اور 60 احادیث سے اسنادِ مجازی، اور 44 آیات و 240 احادیث سے اسنادِ حقیقی عطائی کے طور پر اس عقیدے کو ثابت کیا۔ وفات کے بعد انبیاء و اولیاء کو پکارنے اور مدد چاہنے کے جواز پر ”انوار الانتباہ“ اور ”برکات الامداد“ تحریر فرمائے۔
نورِ محمدی ﷺ اور مسئلہ عدمِ سایہ
اعلیٰ حضرت نے ”صلات الصفا فی نور المصطفیٰ“ میں مصنف عبدالرزاق کی مشہور حدیثِ جابر کی روشنی میں ثابت کیا کہ حضور ﷺ کا نور کائنات کی سب سے پہلی تخلیق ہے اور ساری کائنات اسی نور سے بنی۔ آپ کا نور اللہ کی ذاتِ پاک سے بلا واسطہ پیدا ہوا، مگر اس کا مطلب مادی ٹکڑا ہونا نہیں، کیونکہ اللہ پاک اجزاء اور تقسیم سے پاک ہے۔
حضور ﷺ کے جسمِ انور کا سایہ نہ ہونے کے قطعی ثبوت پر اعلیٰ حضرت نے تین شاندار رسائل تحریر فرمائے:
- نفی الفئی عمن استنار بنورہ کل شئی (۱۲۹۶ھ): اس میں صحابہ، تابعین اور جلیل القدر ائمہ (جیسے قاضی عیاض، امام سیوطی، امام قسطلانی اور شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی) کے اقوال پیش کیے گئے کہ آپ سراپا نور تھے، اس لیے دھوپ یا چاندنی میں آپ کا سایہ زمین پر نہ پڑتا تھا۔
- قمر التمام فی نفی الظل عن سید الانام (۱۲۹۶ھ): اس میں اس بات کو خرقِ عادت (معجزہ) کے طور پر ثابت کیا گیا اور معترضین کے شکوک و وساوس کا علمی انداز میں ازالہ کیا گیا۔
- ہدی الحیران فی نفی الفئی عن سید الاکوان (۱۲۹۹ھ): اس رسالے میں منکرینِ عدمِ ظل کے اعتراضات کا ایک ایک کر کے مسکت جواب دیا گیا۔
والدینِ کریمین علیہما السلام کا ایمان
اعلیٰ حضرت نے اپنے رسالے ”شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام“ میں 10 قوی دلائل اور 35 اکابرِ امت کے ناموں کے ساتھ یہ ثابت فرمایا ہے کہ حضور ﷺ کے والدینِ کریمین (حضرت عبداللہ و حضرت آمنہ رضی اللہ عنہما) سے لے کر حضرت آدم علیہ السلام تک آپ کے تمام آبا و اجداد موحد اور صاحبِ ایمان تھے، اور ان میں سے کوئی بھی کفر یا شرک کی حالت میں نہیں مرا۔
