Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

مسئلہ تکفیر میں اشعریہ و ماتریدیہ کا اختلاف نہیں (قسط: دوم)|طارق انور مصباحی

مسئلہ تکفیر میں اشعریہ و ماتریدیہ کا اختلاف نہیں (قسط: دوم)
عنوان: مسئلہ تکفیر میں اشعریہ و ماتریدیہ کا اختلاف نہیں (قسط: دوم)
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: بنت اسلم برکاتی

اہل قبلہ سے کون لوگ مراد ہیں؟

اہل قبلہ کی اصطلاح درج ذیل حدیث شریف سے ماخوذ ہے۔ مومن کو اہل قبلہ کہا جاتا ہے، کیوں کہ وہ قبلہ رخ ہو کر نماز ادا کرتے ہیں۔ کافر کلامی کا شمار اہل قبلہ میں نہیں ہوتا ہے۔

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوا وَصَلَّوْا صَلَاتَنَا وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلَتَنَا وَأَكَلُوا ذَبِيحَتَنَا، فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ. [صحيح البخاري، ج: 1، ص: 56]

ترجمہ: حضور اقدس سرور دو جہاں حبیب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے لوگوں سے جہاد کا حکم دیا گیا، یہاں تک کہ وہ کہیں: لا الہ الا اللہ، پس جب (لا الہ الا اللہ) کہیں اور ہماری نماز پڑھیں اور ہمارے قبلہ کی جانب اپنا رخ کریں اور ہمارا ذبیحہ کھائیں تو ہم پر ان کے خون اور ان کے مال حرام ہیں، مگر ان (خون و مال) کے حق کے سبب اور ان لوگوں کا حساب لینا اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔

امام ابن حجر عسقلانی شافعی (773ھ تا 852ھ) نے منقولہ بالا حدیث نبوی کی شرح میں رقم فرمایا:

وَفِيهِ أَنَّ أُمُورَ النَّاسِ مَحْمُولَةٌ عَلَى الظَّاهِرِ، فَمَنْ أَظْهَرَ شِعَارَ الدِّينِ أُجْرِيَتْ عَلَيْهِ أَحْكَامُ أَهْلِهِ مَا لَمْ يَظْهَرْ مِنْهُ خِلَافُ ذَلِكَ. [فتح الباري، ج: 1، ص: 592]

ترجمہ: اس حدیث شریف میں ہے کہ لوگوں کے معاملات ظاہر حال پر محمول ہیں، پس جو دین اسلام کے شعار کو ظاہر کرے، اس پر اہل اسلام کے احکام نافذ کیے جائیں گے، جب تک کہ اس سے اسلام کے خلاف کچھ ظاہر نہ ہو۔

اہل قبلہ کی اصطلاح منقولہ بالا حدیث شریف اور اسی کی مثل احادیث مقدسہ سے ماخوذ ہے۔ اہل قبلہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو کسی ضروریات دین کا انکار نہ کرتے ہوں۔ جو شخص کسی ضروریات دین کا انکار کرے، وہ اہل قبلہ سے خارج ہے، اگرچہ وہ قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھتا ہو۔

اگر اہل قبلہ سے محض کعبہ معظمہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے والا مراد ہو تو یہود و نصاریٰ میں سے جو شخص بھی کعبہ معظمہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لے، وہ اہل قبلہ میں سے ہو جائے گا، اگرچہ وہ اسلام کا منکر ہو، حالاں کہ یہ بات ناقابل قبول ہے، پس اہل قبلہ سے مومن شخص مراد ہے۔ مومن کی علامت ہے کہ وہ قبلہ رخ ہو کر نماز ادا کرتا ہے۔ قبلہ سے کعبہ مقدسہ مراد ہے، کیوں کہ وہی ہمارا قبلہ ہے۔ ایک زمانہ میں بیت المقدس بھی قبلہ تھا۔

امام محمد غزالی شافعی (450ھ تا 505ھ) نے اجماع کی بحث میں بدعتی کے بارے میں رقم فرمایا:

أَمَّا إِذَا كَفَرَ بِبِدْعَتِهِ فَعِنْدَ ذَلِكَ لَا يُعْتَبَرُ خِلَافُهُ وَإِنْ كَانَ يُصَلِّي إِلَى الْقِبْلَةِ وَيَعْتَقِدُ نَفْسَهُ مُسْلِمًا، لِأَنَّ الْأُمَّةَ لَيْسَتْ عِبَارَةً عَنِ الْمُصَلِّينَ إِلَى الْقِبْلَةِ بَلْ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ وَهُوَ كَافِرٌ، وَإِنْ كَانَ لَا يَدْرِي أَنَّهُ كَافِرٌ. [المستصفى في الأصول، ج: 1، ص: 184]

ترجمہ: لیکن جب وہ اپنی بدعت کے سبب کافر ہو جائے تو اس وقت (اجماع میں) اس کی مخالفت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا، اگرچہ وہ قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھتا ہو، اور خود کو مسلمان مانتا ہو، کیوں کہ قبلہ کی طرف نماز پڑھنے والوں کا نام امت مسلمہ نہیں ہے، بلکہ مومنین کا نام امت مسلمہ ہے اور یہ شخص کافر ہے، اگرچہ وہ نہ جانتا ہو کہ وہ کافر ہے۔

منقولہ بالا عبارت سے واضح ہو گیا کہ اہل قبلہ سے مراد مومن ہے، نہ کہ محض قبلہ رخ ہو کر نماز ادا کرنے والا۔ ضروریات دین کا منکر کافر ہے، اگرچہ وہ قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھے۔

کافر کلامی اہل قبلہ سے خارج ہے اور کافر فقہی و گمراہ اہل قبلہ میں داخل ہیں، کیوں کہ گمراہ و کافر فقہی کا ضعیف سا تعلق اسلام سے باقی رہتا ہے لیکن ان دونوں سے بھی راہ و رسم رکھنا، ان کے ساتھ خورد و نوش، سلام و کلام، نشست و برخاست، شادی بیاہ وغیرہ ناجائز ہے۔

فصل دوم

ضروریات دین کے انکار پر کلمہ گو کی تکفیر

مومن کو اہل قبلہ کہا جاتا ہے۔ اگر کوئی کلمہ گو ضروریات دین کا انکار کر دے تو وہ نہ مومن ہے، نہ ہی وہ اہل قبلہ ہے، اگرچہ وہ قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھے اور تمام فرائض اسلام کو ادا کرے۔

1۔ قاضی عضد الدین ایجی شافعی (م 756ھ) نے رقم فرمایا:

لَا نُكَفِّرُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ إِلَّا بِمَا فِيهِ نَفْيُ الصَّانِعِ الْقَادِرِ الْمُخْتَارِ الْعَلِيمِ، أَوْ شِرْكٌ، أَوْ إِنْكَارُ النُّبُوَّةِ، أَوْ إِنْكَارُ مَا عُلِمَ مَجِيءُ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم بِهِ ضَرُورَةً، أَوْ إِنْكَارُ مُجْمَعٍ عَلَيْهِ قَطْعًا، وَاسْتِحْلَالُ الْمُحَرَّمَاتِ. [العقائد العضدية مع شرح الدواني، ص: 105]

ترجمہ: ہم اہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیں کرتے ہیں، مگر اسی امر میں جس میں خالق قادر مختار علم والے (اللہ تعالیٰ عزوجل) کی نفی ہو، یا شرک ہو، یا نبوت کا انکار ہو، یا حضور اقدس شفیع محشر نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کے بدیہی طور پر لائے ہوئے امور کا انکار ہو، یا کسی قطعی اجماعی امر کا انکار ہو، اور حرام چیزوں کو حلال قرار دینا ہو۔

2۔ محقق جلال الدین محمد بن اسعد صدیقی دوانی شافعی (830ھ تا 918ھ) نے رقم فرمایا:

وَلَا نُكَفِّرُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ، وَهُمُ الَّذِينَ اعْتَقَدُوا بِقَلْبِهِمْ دِينَ الْإِسْلَامِ اعْتِقَادًا جَازِمًا خَالِيًا عَنِ الشُّكُوكِ، وَنَطَقُوا بِالشَّهَادَتَيْنِ، فَإِنَّ مَنِ اقْتَصَرَ عَلَى أَحَدِهِمَا لَمْ يَكُنْ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ، إِلَّا إِذَا عَجَزَ عَنِ النُّطْقِ لِعِلَلٍ فِي لِسَانِهِ، أَوْ لِعَدَمِ تَمَكُّنِهِ مِنْهُ بِوَجْهٍ مِنَ الْوُجُوهِ. [شرح الدواني على العقائد العضدية، ص: 105]

ترجمہ: (ہم اہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیں کرتے ہیں) اور اہل قبلہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دل سے دین اسلام کا جزمی یقینی شکوک سے خالی اعتقاد رکھیں اور شہادتین کا اقرار لسانی کریں، کیوں کہ جس نے ان دونوں (تصدیق بالقلب و اقرار باللسان) میں سے ایک پر اکتفا کیا تو وہ اہل قبلہ میں سے نہیں ہے، مگر یہ کہ وہ اپنی زبان میں بیماری کے سبب بولنے سے عاجز ہو، یا کسی وجہ سے وہ بولنے پر قادر نہ ہو۔

3۔ ملا علی قاری حنفی (م 1014ھ) نے رقم فرمایا:

اعْلَمْ أَنَّ الْمُرَادَ بِأَهْلِ الْقِبْلَةِ الَّذِينَ اتَّفَقُوا عَلَى مَا هُوَ مِنْ ضَرُورِيَّاتِ الدِّينِ كَحُدُوثِ الْعَالَمِ وَحَشْرِ الْأَجْسَادِ وَعِلْمِ اللَّهِ تَعَالَى بِالْكُلِّيَّاتِ وَالْجُزْئِيَّاتِ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنَ الْمَسَائِلِ الْمُهِمَّاتِ، فَمَنْ وَاظَبَ طُولَ عُمْرِهِ عَلَى الطَّاعَاتِ وَالْعِبَادَاتِ مَعَ اعْتِقَادِ قِدَمِ الْعَالَمِ، أَوْ نَفْيِ عِلْمِهِ سُبْحَانَهُ بِالْجُزْئِيَّاتِ لَا يَكُونُ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ. وَأَنَّ الْمُرَادَ بِعَدَمِ تَكْفِيرِ أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ عِنْدَ أَهْلِ السُّنَّةِ، أَنَّهُ لَا يُكَفَّرُ مَا لَمْ يُوجَدْ شَيْءٌ مِنْ أَمَارَاتِ الْكُفْرِ وَعَلَامَاتِهِ، وَلَمْ يَصْدُرْ عَنْهُ شَيْءٌ مِنْ مُوجِبَاتِهِ. [مِنَحُ الرَّوْضِ الْأَزْهَرِ شَرْحُ الْفِقْهِ الْأَكْبَرِ، ص: 189]

ترجمہ: جان لو کہ اہل قبلہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو ضروریات دین پر متفق ہوں جیسے دنیا کا حادث ہونا اور حشر جسمانی اور اللہ تعالیٰ کا کلیات و جزئیات کا علم اور جو ان کی طرح اہم مسائل ہیں، پس جو عمر بھر طاعات و عبادات کی پابندی کرے، دنیا کو قدیم ماننے کے اعتقاد کے ساتھ یا اللہ تعالیٰ سے جزئیات کے علم کی نفی کے اعتقاد کے ساتھ، وہ اہل قبلہ سے نہیں ہوگا۔ اور اہل سنت و جماعت کے نزدیک اہل قبلہ میں سے کسی کی عدم تکفیر سے مراد ہے کہ تکفیر نہیں کی جائے گی جب تک کہ کفر کی علامتوں اور نشانیوں میں سے کوئی چیز نہ پائی جائے اور اس سے کفر کے اسباب میں سے کوئی چیز صادر نہ ہو۔

4۔ محدث شہیر ملا علی قاری حنفی نے رقم فرمایا:

فِي الْمَوَاقِفِ: لَا يَكْفُرُ إِلَّا فِيمَا فِيهِ نَفْيُ الصَّانِعِ الْقَادِرِ الْعَلِيمِ، أَوْ شِرْكٌ، أَوْ إِنْكَارٌ لِلنُّبُوَّةِ، أَوْ مَا عُلِمَ مَجِيئُهُ بِالضَّرُورَةِ، أَوِ الْمُجْمَعِ عَلَيْهِ كَاسْتِحْلَالِ الْمُحَرَّمَاتِ إِلَخْ. وَلَا يَخْفَى أَنَّ الْمُرَادَ بِقَوْلِ عُلَمَائِنَا: لَا يَجُوزُ تَكْفِيرُ أَهْلِ الْقِبْلَةِ بِذَنْبٍ، لَيْسَ مُجَرَّدَ التَّوَجُّهِ إِلَى الْقِبْلَةِ، فَإِنَّ الْغُلَاةَ مِنَ الرَّوَافِضِ الَّذِينَ يَدَّعُونَ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ غَلِطَ فِي الْوَحْيِ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَرْسَلَهُ إِلَى عَلِيٍّ رضی اللہ عنہ، وَبَعْضُهُمْ قَالُوا: إِنَّهُ إِلَهٌ، وَإِنْ صَلَّوْا إِلَى الْقِبْلَةِ لَيْسُوا بِمُؤْمِنِينَ. [مِنَحُ الرَّوْضِ الْأَزْهَرِ شَرْحُ الْفِقْهِ الْأَكْبَرِ، ص: 199]

ترجمہ: مواقف میں ہے: کافر نہیں ہوگا مگر اسی امر میں جس میں خالق قادر علم والے (رب تعالیٰ) کی نفی ہو، یا شرک ہو، یا نبوت کا انکار ہو، یا اس کا انکار ہو جس کا لایا جانا بدیہی طور پر معلوم ہو، یا کسی اجماعی امر کا انکار ہو جیسے حرام چیزوں کو حلال قرار دینا: الخ۔ اور مخفی نہیں کہ ہمارے علما کے قول (کسی گناہ کے سبب اہل قبلہ کی تکفیر جائز نہیں ہے) سے صرف قبلہ کی طرف توجہ کرنا مراد نہیں، کیوں کہ غالی روافض جو دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت جبریل علیہ الصلوۃ والسلام نے وحی میں غلطی کی، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور بعض غالی روافض نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ معبود ہیں اور اگرچہ یہ لوگ قبلہ کی طرف نماز پڑھیں، یہ لوگ مومن نہیں ہیں۔

5۔ علامہ سعد الدین تفتازانی شافعی (722ھ تا 792ھ) نے رقم فرمایا:

الْمَبْحَثُ السَّابِعُ فِي حُكْمِ مُخَالِفِ الْحَقِّ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ فِي بَابِ الْكُفْرِ وَالْإِيمَانِ. وَمَعْنَاهُ أَنَّ الَّذِينَ اتَّفَقُوا عَلَى مَا هُوَ مِنْ ضَرُورِيَّاتِ الْإِسْلَامِ كَحُدُوثِ الْعَالَمِ وَحَشْرِ الْأَجْسَادِ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ، وَاخْتَلَفُوا فِي أُصُولٍ سِوَاهَا كَمَسْأَلَةِ الصِّفَاتِ وَخَلْقِ الْأَعْمَالِ وَعُمُومِ الْإِرَادَةِ وَقِدَمِ الْكَلَامِ وَجَوَازِ الرُّؤْيَةِ وَنَحْوِ ذَلِكَ مِمَّا لَا نِزَاعَ فِيهِ أَنَّ الْحَقَّ فِيهَا وَاحِدٌ، هَلْ يَكْفُرُ الْمُخَالِفُ لِلْحَقِّ بِذَلِكَ الِاعْتِقَادِ وَبِالْقَوْلِ بِهِ أَمْ لَا؟ وَإِلَّا فَلَا نِزَاعَ فِي كُفْرِ أَهْلِ الْقِبْلَةِ الْمُوَاظِبِ طُولَ الْعُمُرِ عَلَى الطَّاعَاتِ بِاعْتِقَادِ قِدَمِ الْعَالَمِ وَنَفْيِ الْحَشْرِ وَنَفْيِ الْعِلْمِ بِالْجُزْئِيَّاتِ وَنَحْوِ ذَلِكَ، وَكَذَا لِصُدُورِ شَيْءٍ مِنْ مُوجِبَاتِ الْكُفْرِ عَنْهُ. وَأَمَّا الَّذِي ذَكَرْنَا، فَذَهَبَ الشَّيْخُ الْأَشْعَرِيُّ وَأَكْثَرُ الْأَصْحَابِ إِلَى أَنَّهُ لَيْسَ بِكَافِرٍ، وَبِهِ يُشِيرُ مَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، لِأَنَّهُ مَا رَدَّ شَهَادَةَ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ إِلَّا الْخَطَّابِيَّةَ لِاسْتِحْلَالِهِمُ الْكَذِبَ. وَفِي الْمُنْتَقَى عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: أَنَّهُ لَمْ يُكَفِّرْ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ، وَعَلَيْهِ أَكْثَرُ الْفُقَهَاءِ، وَمِنْ أَصْحَابِنَا مَنْ قَالَ بِكُفْرِ الْمُخَالِفِينَ. [شرح المقاصد، ج: 5، ص: 228]

ترجمہ: ساتویں بحث اہل قبلہ میں سے کفر و ایمان کے باب میں حق کی مخالفت کرنے والے کے حکم کے بیان میں ہے۔ اس کا معنی ہے کہ جو لوگ ضروریات دین پر متفق ہیں، مثلاً دنیا کے حدوث، حشر جسمانی اور اس کے مماثل امور پر (متفق ہیں) اور ان کے علاوہ اصول میں مختلف ہیں، جیسے صفات الہیہ کا مسئلہ خلق اعمال عباد، ارادہ الہیہ کا عموم، کلام الہی کا قدیم ہونا اور (آخرت میں) رویت الہی کا جواز اور ان جیسے امور میں (مختلف ہیں) جن میں نزاع نہیں کہ حق ان میں ایک ہی ہے، کیا ان امور میں حق کا مخالف اس اعتقاد اور اس قول کی وجہ سے کافر ہو گا یا نہیں؟ ورنہ عمر بھر طاعات کی پابندی کرنے والے اہل قبلہ کے دنیا کے قدیم ہونے کا اعتقاد اور انکار حشر اور اللہ تعالیٰ سے جزئیات کے علم کی نفی اور ان جیسے (باطل) اعتقاد کے سبب، اور اس سے کفر کے کسی سبب کے صدور کی وجہ سے اس کے کافر ہونے میں کوئی اختلاف نہیں۔ لیکن جس کا ہم نے ذکر کیا (یعنی غیر ضروریات کا منکر)، پس امام اشعری اور (ان کے) اکثر اصحاب کا مذہب ہے کہ وہ شخص کافر نہیں ہے اور اسی کی جانب حضرت امام شافعی رضی اللہ عنہ کا قول اشارہ کرتا ہے، کیوں کہ انہوں نے اہل اہوا (اہل بدعات) کی شہادت کو رد نہیں فرمایا، مگر خطابیہ کی شہادت کو، ان لوگوں کے کذب کو حلال سمجھنے کے سبب۔ اور منتقی میں حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے اہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیں کی اور اسی پر اکثر فقہائے کرام ہیں اور ہمارے اصحاب شوافع میں سے بعض وہ ہیں جنہوں نے (غیر ضروریات دین کے) مخالفین کے کفر کا قول کیا۔

6۔ امام شعرانی شافعی نے رقم فرمایا:

أَمَّا مَنْ خَرَجَ بِبِدْعَتِهِ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ كَمُنْكِرِي حُدُوثِ الْعَالَمِ وَمُنْكِرِي الْبَعْثِ لِلنَّشْرِ وَالْحَشْرِ وَالْأَجْسَامِ وَالْعِلْمِ بِالْجُزْئِيَّاتِ عَلَى مَا مَرَّ فِي بَحْثِ اسْمِهِ تَعَالَى: الْعَالِمُ، فَلَا نِزَاعَ فِي كُفْرِهِمْ لِإِنْكَارِهِمْ بَعْضَ مَا عُلِمَ مَجِيءُ الرَّسُولِ بِهِ ضَرُورَةً. [اليواقيت والجواهر، ص: 396]

ترجمہ: لیکن جو اپنی بدعت کے سبب اہل قبلہ سے نکل جائے جیسے دنیا کے حادث ہونے کے منکرین اور نشر و حشر جسمانی کے لیے دوبارہ زندہ اٹھائے جانے اور (اللہ تعالیٰ کے لیے) جزئیات کے علم کے منکرین، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اسم پاک “العالم” کی بحث میں گزرا، پس ان لوگوں کے کافر ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے، ان لوگوں کے ان بعض امور کا انکار کرنے کے سبب جن کا حضور اقدس حبیب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم کا لانا بدیہی طور پر معلوم ہے۔

اگر قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھنے والا کسی ضروریات دین کا انکار کرے تو کافر ہے۔ اس وقت وہ اہل قبلہ نہیں ہے۔ اس سے واضح ہو گیا کہ اہل قبلہ سے وہ کلمہ گو مراد ہے جو کافر کلامی نہ ہو۔

7۔ علامہ سید ابن عابدین شامی حنفی (1198ھ تا 1252ھ) نے رقم فرمایا:

لَا خِلَافَ فِي كُفْرِ الْمُخَالِفِ فِي ضَرُورِيَّاتِ الْإِسْلَامِ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ الْمُوَاظِبِ طُولَ عُمْرِهِ عَلَى الطَّاعَاتِ كَمَا فِي شَرْحِ التَّحْرِيرِ. [رد المحتار، ج: 1، ص: 377]

ترجمہ: ضروریات اسلام کے مخالف کے کافر ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے، اگرچہ وہ اہل قبلہ سے ہو، عمر بھر طاعات کی پابندی کرنے والا ہو، جیسا کہ شرح تحریر الاصول میں ہے۔

8۔ امام غزالی شافعی (450ھ تا 505ھ) نے رقم فرمایا:

وَقَدْ أَشَرْنَا إِلَى شَيْءٍ مِنْهُ فِي كِتَابِ فَيْصَلِ التَّفْرِقَةِ بَيْنَ الْإِسْلَامِ وَالزَّنْدَقَةِ، وَالْقَدْرُ الَّذِي نَذْكُرُهُ الْآنَ، أَنَّهُ يَرْجِعُ إِلَى ثَلَاثَةِ أَقْسَامٍ: الْأَوَّلُ مَا يَكُونُ نَفْسُ اعْتِقَادِهِ كُفْرًا كَإِنْكَارِ الصَّانِعِ وَصِفَاتِهِ وَجَحْدِ النُّبُوَّةِ. الثَّانِي مَا يَمْنَعُهُ اعْتِقَادُهُ مِنَ الِاعْتِرَافِ بِالصَّانِعِ وَصِفَاتِهِ وَتَصْدِيقِ رُسُلِهِ وَيَلْزَمُهُ إِنْكَارُ ذَلِكَ مِنْ حَيْثُ التَّنَاقُضُ. الثَّالِثُ مَا وَرَدَ التَّوْقِيفُ بِأَنَّهُ لَا يَصْدُرُ إِلَّا مِنْ كَافِرٍ كَعِبَادَةِ النِّيرَانِ وَالسُّجُودِ لِلصَّنَمِ وَجَحْدِ سُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ وَتَكْذِيبِ بَعْضِ الرُّسُلِ وَاسْتِحْلَالِ الزِّنَا وَالْخَمْرِ وَتَرْكِ الصَّلَاةِ، وَبِالْجُمْلَةِ إِنْكَارُ مَا عُرِفَ بِالتَّوَاتُرِ وَالضَّرُورَةِ مِنَ الشَّرِيعَةِ. [المستصفى في الأصول، ج: 1، ص: 185]

ترجمہ: اس میں سے بعض چیز کی طرف ہم نے کتاب “فيصل التفرقة بين الإسلام والزندقة” میں اشارہ کر دیا ہے اور جس مقدار کا ابھی ہم ذکر کر رہے ہیں، وہ تین قسموں میں منقسم ہوتی ہے: (1) پہلی قسم: جس کا نفس اعتقاد کفر ہو جیسے خالق عالم اور اس کی صفات کا انکار اور نبوت کا انکار۔ (2) دوسری قسم: جس کا اعتقاد خالق عالم اور اس کی صفات کے اعتراف اور اس کے رسولوں کی تصدیق سے مانع ہو، اور مناقض ہونے کے سبب اس اعتقاد کو اس (خالق عالم اور اس کی صفات کے اعتراف اور اس کے رسولوں کی تصدیق) کا انکار لازم ہو۔ (3) تیسری قسم: جس بارے میں توقیف (قرآن و حدیث) وارد ہو کہ وہ صرف کافر سے صادر ہوتا ہے جیسے آگ کی پوجا اور بت کو سجدہ کرنا اور قرآن مقدس کی کسی سورہ کا انکار اور بعض رسولوں کی تکذیب اور زنا و شراب اور ترک نماز کو حلال سمجھنا اور حاصل کلام اس کا انکار کرنا جو تواتر سے معلوم ہو یا شریعت سے بدیہی طور پر معلوم ہو (یعنی ضروریات دین)۔

9۔ امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے رقم فرمایا: “تمہارا رب عزوجل فرماتا ہے:”

لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّبِيِّينَ [سورۃ البقرة: 177]

اصل نیکی یہ نہیں ہے کہ اپنا منہ نماز میں پورب یا پچھتم کو کرو، بلکہ اصل نیکی یہ ہے کہ آدمی ایمان لائے، اللہ اور قیامت اور فرشتوں اور قرآن اور تمام انبیا پر۔ دیکھو، صاف فرما دیا کہ ضروریات دین پر ایمان لانا ہی اصل کار ہے۔ بغیر اس کے نماز میں قبلہ کو منہ کرنا کوئی چیز نہیں، اور فرماتا ہے:

وَمَا مَنَعَهُمْ أَنْ تُقْبَلَ نَفَقَاتُهُمْ إِلَّا أَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَى وَلَا يُنْفِقُونَ إِلَّا وَهُمْ كَارِهُونَ [سورۃ التوبة: 54]

وہ جو خرچ کرتے ہیں، اس کا قبول ہونا بند نہ ہوا مگر اسی لیے کہ انہوں نے اللہ اور رسول کے ساتھ کفر کیا اور نماز کو نہیں آتے، مگر جی ہارے اور خرچ نہیں کرتے، مگر برے دل سے۔ دیکھو، ان کا نماز پڑھنا بیان کیا اور پھر انھیں کافر فرمایا۔ کیا وہ قبلہ کو نماز نہیں پڑھتے تھے؟ فقط قبلہ کیسا، قبلہ دل و جان کعبۂ دین و ایمان سرور عالمیان صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جانب قبلہ نماز پڑھتے تھے۔ اور فرماتا ہے:

فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَنُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ. وَإِنْ نَكَثُوا أَيْمَانَهُمْ مِنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوا فِي دِينِكُمْ فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُونَ [سورۃ التوبة: 11-12]

پھر اگر وہ توبہ کریں اور نماز برپا رکھیں اور زکات دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں اور ہم پتے کی باتیں صاف بیان کرتے ہیں علم والوں کے لیے اور اگر قول و قرار کر کے پھر اپنی قسمیں توڑیں اور تمہارے دین پر طعن کریں تو کفر کے پیشواؤں سے لڑو۔ ان کی قسمیں کچھ نہیں۔ شاید وہ باز آئیں۔

دیکھو، نماز و زکات والے اگر دین پر طعن کریں تو انہیں کفر کا پیشوا، کافروں کا سرغنہ فرمایا۔ کیا خدا اور رسول کی شان میں وہ گستاخیاں دین پر طعنہ نہیں۔ [تمہید ایمان، ص: 53]

عصر حاضر میں عوامی ماحول ایسا بنتا جا رہا ہے کہ وہ محض عبادات پر نظر رکھتے ہیں، عقائد سے غفلت برتتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ عوام معذور ہیں، حالاں کہ عاقل بالغ پر شرعی حکم نافذ ہوتا ہے اور تمام مسلمان مردوں عورتوں کو دین کا ضروری علم سیکھنا فرض ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!