| عنوان: | معراج مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم (قسط اول) |
|---|---|
| تحریر: | خطیب اعظم علامہ قمر الزماں خان اعظمی |
| پیش کش: | ام ماجد |
| منجانب: | نالج آف اسلام اکیڈمی |
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا سفرِ معراج اسلامی تاریخ کا اہم ترین واقعہ، معجزاتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک اہم ترین معجزہ اور خصائصِ رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک اہم ترین خصوصیت ہے۔ اس سفرِ پاک میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے قرب سے نوازا، آسمان و زمین کی سیر کرائی، جنت و دوزخ، لوح و قلم، عرش و کرسی اور بے شمار آیاتِ الہیہ کا مشاہدہ کرایا، تا کہ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم جن حقائق اور اُمورِ غیبیہ پر ایمان لانے کی دعوت دیتے ہیں اُن کو بچشمِ خود ملاحظہ فرمالیں۔ اُمتِ مسلمہ کو جن راہوں سے گزرنے کی اطلاع دیتے ہیں اُن گزرگاہوں سے پہلے خود ان کا گزر ہو جائے تاکہ لوگ علمِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ، نگہِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لائیں اور آخرت کے تمام اُمور کی حیثیت صرف خبر ہی کی نہ ہو، بلکہ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا مشاہدہ اور ان کا سفرِ معراج ان تمام امورِ غیبیہ پر جن کی اطلاع بذریعہ وحی دی گئی تھی، گواہ ہو جائے۔
معجزاتِ مصطفیٰ ﷺ اور ختمِ نبوت
رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم اُس دور میں جلوہ گر ہوئے جب کہ تاریخِ انسانی ایک نئے باب کا آغاز کرنے والی تھی، جہل کا لباس اُتارنے والی تھی اور علم و تحقیق کی راہوں میں قدم رکھنے والی تھی۔ انبیائے کرام کی تاریخ کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پروردگارِ عالم جب کبھی کسی نبی کو کسی قوم کی جانب مبعوث فرماتا ہے تو اس کو ایسے معجزاتِ باہرہ سے نوازتا ہے جن کے سامنے اُس قوم کو اعترافِ شکست کرنا پڑے۔ یہی وجہ ہے کہ سحر و طلسم کے دور میں حضرت موسیٰ علیہ السّلام کو عصائے کلیمی سے نوازا گیا، اور طب و حکمت کے دور میں جناب عیسیٰ علیہ السّلام کو مسیحا بنا کر مبعوث کیا گیا، تاکہ دنیا کا کوئی علم، کوئی فلسفہ نبیِ مبعوث کی مقدس عظمت کو چیلنج نہ کر سکے۔
چوں کہ رسولِ گرامی قدر صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین بنا کر مبعوث کیا گیا ہے، قیامت تک ان کے بعد کوئی اور نبی تشریف لانے والا نہیں ہے۔ اس لیے ان کی ذاتِ اقدس کو مجموعۂ صفاتِ جلیلہ بنا دیا گیا۔ وہ تمام معجزات جو دوسرے انبیائے کرام کو الگ الگ عطا ہوئے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اطہر میں جمع فرمادیے گئے۔ دوسرے الفاظ میں انبیائے سابقین علیہم السّلام کو معجزات دے کر بھیجا گیا تھا مگر رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو سرتاپا معجزہ بنا کر بھیجا گیا۔
حسنِ يوسف، دمِ عیسیٰ، یدِ بیضا داری
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
سفرِ معراج اور جدید سائنسی ترقیاں
اور یہی وجہ ہے کہ قیامت تک جتنی بھی ایسی طاقتیں عالمِ وجود میں آنے والی تھیں جن کی بنا پر انسان خدا کی بندگی کا انکار کر دیتا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس کو ہر ایک کا جواب بنا کر مبعوث کیا گیا تا کہ انسان کسی بھی دور میں ان کی رسالت سے انحراف نہ کر سکے۔ خدائے شہید و بصیر کے علمِ پاک میں یہ بات ازل ہی سے تھی کہ محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ نبوت ہی میں لوگ چاند پر کمندیں ڈالیں گے، سیاروں سے آنکھ مچولی کھیلیں گے، کائنات کے پورے نظامِ کشش سے متعارف ہوکر سیاروں میں زندگی کے امکانات پر غور کریں گے۔ اسی لیے رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کے مقدس سفر میں عالمِ بالا کی سیر کرائی گئی تا کہ بیسویں صدی یا اس کے بعد کا ترقی یافتہ انسان اگر خلاؤں میں پرواز کر کے کہکشاؤں کے راز ہائے سربستہ معلوم کرے اور سیاروں میں زندگی بسر کرنے کے اقدامات کرے تو اسے آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے نقوشِ پا پہلے ہی سے دکھائی دیں اور حدیثِ معراج ان کو آگاہ کرے کہ تم جن منزلوں کی گردِ راہ ہو، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کاروانِ بہار اب سے چودہ سو برس پہلے گزر چکا ہے۔
کہکشاں جلوہ فشاں ہے کہ اسی رستے سے
ہونے والا ہے محمد کا گزر آج کی رات
عظمتِ انسانیت اور بندگی کا حقیقی تصور
سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانوں کو اُسی منصبِ بلند کا حق دار قرار دیا جس سے وہ صدیوں پہلے اپنی بداعمالیوں کی بنیاد پر اُتار دیا گیا تھا اور اس نے انبیائے کرام کی مقدس تعلیمات سے گریز کر کے خود کو اسفل السافلین کی سطح پر لا کر کھڑا کر دیا تھا۔ انسان کی با عظمت پیشانی مظاہرِ فطرت کے سامنے جھکی ہوئی تھی۔ زمین کے ذروں سے لے کر آسمان کے ستاروں تک ہر شے اس کا مسجود بن چکی تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بندگی کا حقیقی مفہوم دُنیا کے سامنے پیش کیا اور ارشاد فرمایا کہ: تمہارا معبود صرف خدائے برتر و بالا ہے، جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ انہوں نے انسانوں کو ایک سجدے کا پابند بنا کر ہزاروں سجدوں سے نجات دلا دی۔
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
انہوں نے اپنے سفرِ معراج کے ذریعے انسانوں کو یقین دلایا کہ اس پوری کائنات میں انسان سب سے بلند ہے۔ وہ خلیفۃ اللہ فی الارض ہے اور عالمِ امکان اس ممکن الوجود کی گردِ راہ ہے:
سبق ملا ہے یہ معراجِ مصطفیٰ سے مجھے
کہ عالمِ بشریت کی زد میں ہے گردوں
معراجِ پاک کے مقدس سفر میں لباسِ بشری میں تشریف لے جا کر آپ نے نوعِ بشر کو عزت و سربلندی کے اُس مقامِ بلند تک پہنچا دیا کہ بغیر آپ کے انسان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا:
دلیلِ عظمتِ انسانیت ہیں
محمد مصطفیٰ انسانِ کامل
عبدیت کا اعلیٰ مقام اور گواہی کا منصب
آپ نے اپنے سفرِ معراج میں عبدیتِ کاملہ کے اس ارفع اور بلند ترین تصور سے ذہنِ انسانی کو آراستہ کیا جس کے پیشِ نظر انسان خدائے قدیر و جبار کی ہیبت و جلال کے سامنے ہمیشہ سرنگوں رہے گا۔ جناب عیسیٰ علیہ السّلام کے دستِ پاک سے چند مریضوں کو شفایاب ہوتے ہوئے اور چند مردوں کو زندہ ہوتے ہوئے دیکھ کر ایک طبقے نے انہیں خدا بنا لیا تھا۔ مگر حریمِ نور میں خرامِ ناز فرمانے والے، مقام 'قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى' پر سرفراز ہونے والے، جلوت کدۂ محبوب میں اپنے محبوبِ حقیقی کو سر کی آنکھوں سے دیکھنے والے رسولِ عالی وقار صلی اللہ علیہ وسلم وہاں بھی یہ ہمہ صفت محبوب بشانِ بندگی ہی تشریف لے گئے۔ چنانچہ قرآن عظیم نے اس سفرِ عظیم کی حکایت ان الفاظ میں کی ہے:
سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى
ترجمہ: پاک ہے وہ ذات جس نے سیر کرایا اپنے بندے کو رات کے ایک حصے میں مسجد حرام سے لے کر مسجد اقصیٰ تک۔ [سورہ بنی اسرائیل: آیت 1]
ثابت ہوا کہ یہ کائنات بلند و رفیع جس کے سفرِ عظمت کی گردِ راہ ہے جب وہ بھی بندے ہی ہیں تو پھر کائنات کی کوئی اور شے معبود کیوں کر ہو سکتی ہے۔
سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو شاہد بنا کر مبعوث فرمایا گیا ہے اور ان کے فرائضِ نبوت میں سے ایک اہم فریضہ یہ بھی ہے کہ جملہ انبیائے سابقین کی اُمتوں نیز اپنی اُمت کے اعمال و کردار کی گواہی دیں۔ چنانچہ قرآن کریم ارشاد فرماتا ہے:
إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا ﴿٤٥﴾ وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا ﴿٤٦﴾
ترجمہ: ہم نے آپ کو شاہد، مبشر، نذیر، داعی الی اللہ اور سراجِ منیر بنا کر بھیجا۔ [سورة الاحزاب: آیت 45۔46]
ان کے منصبِ جلیل کے لیے ضروری تھا کہ وہ تمام انبیاء کو اور ان کی اُمتوں کو بچشمِ خود ملاحظہ فرمالیں، ان کے احوال کا جائزہ لے لیں تا کہ خدائے وحدہٗ قدوس کی بارگاہ میں گواہی دے سکیں۔ چنانچہ معراجِ مقدس کے سفر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت آدم علیہ السلام تا حضرت عیسیٰ علیہ السّلام تمام انبیائے کرام سے ملاقات کی، اُن کی اُمتوں اور ان کے جملہ اعمال کا مشاہدہ فرمایا۔
(جاری ہے...)
[حوالہ:- مقالاتِ خطیبِ اعظم، ناشر رضا اکیڈمی، ص 56 تا 62]
