Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

معراج مصطفٰی ﷺ (قسط دوم) | خطیب اعظم علامہ قمر الزماں خان اعظمی

معراج مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم (قسط دوم)
عنوان: معراج مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم (قسط دوم)
تحریر: خطیب اعظم علامہ قمر الزماں خان اعظمی
پیش کش: ام ماجد
منجانب: نالج آف اسلام اکیڈمی

سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو امام الاولین والآخرین بنا کر مبعوث فرمایا گیا تھا۔ زمانے کے اعتبار سے تو سب کے بعد میں تشریف لائے لیکن اپنے منصب و مرتبہ کے اعتبار سے آپ تمام انبیاء کے سردار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ واجب الوجود جل جلالہ نے شاہ کارِ عالمِ ایجاد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق روزِ ازل ہی تمام انبیائے کرام سے وعدہ لیا تھا:

وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُم مِّن كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنصُرُنَّهُ ۚ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَىٰ ذَٰلِكُمْ إِصْرِي ۖ قَالُوا أَقْرَرْنَا ۚ قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُم مِّنَ الشَّاهِدِينَ ﴿٨١﴾

ترجمہ: "اور یاد کرو جب اللہ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا جو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے تو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا۔ فرمایا: کیا تم نے اقرار کیا؟ اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا؟ سب نے عرض کی: ہم نے اقرار کیا۔ فرمایا: تو ایک دوسرے پر گواہ ہو جاؤ اور میں آپ تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں ۔“ [سورہ آل عمران: آیت 81]

میثاقِ ازلی اور امامتِ انبیاء

یہی وہ میثاقِ ازلی تھا جس کے پابند تمام انبیائے کرام تھے۔ چنانچہ شبِ معراج مسجدِ اقصیٰ میں تمام انبیائے کرام، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لیے موجود تھے اور جب نماز کا وقت آیا تو انبیائے کرام نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا امام بنایا، تا کہ ان کا سید المرسلین اور امام الانبیاء ہونا ایک امرِ مشاہد بن جائے اور کائنات مشاہدہ کر لے کہ سب سے بعد میں تشریف لانے والے آج سب رسولوں کے امام ہیں۔

جملہ انبیائے کرام کے فرائضِ نبوت میں سے ایک فریضہ یہ بھی تھا کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت دیں اور اپنے اپنے عصرِ نبوت میں اپنی امتوں کو نبیِ امی صلی اللہ علیہ وسلم کے عصرِ رحمت کے بارے میں بتائیں۔ چنانچہ قرآنِ عظیم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مقصدِ بعثت کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:

وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُم مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِن بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ ۖ ﴿٦﴾

ترجمہ: "اور جب فرمایا عیسیٰ ابن مریم علیہ السّلام نے: اے بنی اسرائیل! میں تمہاری جانب اللہ کا رسول بن کر آیا ہوں، میں اس توریت کی تصدیق کرنے والا ہوں جو میرے ہاتھوں میں ہے اور اُس رسول کی بشارت دے رہا ہوں جو میرے بعد آنے والے ہیں جن کا نام احمد ہوگا"۔ [سورۃ الصف: آیت 6]

اس آیتِ کریمہ سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے فرائضِ نبوت میں دو اہم ترین فرض تھے؛ اوّل توریت کی تصدیق اور دوم سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت تا کہ دنیا ان کی آمد سے پہلے ہی ان کے لیے دیدہِ انتظار بنی رہے اور جب نبیِ آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو لوگ ان کے روئے زیبا کو توریت و انجیل کے آئینے میں دیکھ کر ایمان لائیں۔ دوسرے لفظوں میں تمام انبیائے کرام کی ذمے داری تھی کہ کائناتِ انسانی کو رسولِ عالم پناہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں پہنچا دیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا منصب یہ تھا کہ وہ کائنات کو خدائے وحدۂ قدوس کے قربِ خاص میں لے جائیں۔ اسی لیے صرف رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو معراج کرائی گئی کہ بالآخر کائنات انہیں کے آستانے سے خدائے پاک کے جلوؤں سے آشنا ہو گی۔

تجلیِ طور اور سفرِ معراج کا موازنہ

جب خدائے قدیر کو منظور ہوا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو توریت جیسی عظیم الشان کتابِ زندگی عطا فرمائے تو اس نے انہیں کوہِ طور پر جانے کا حکم دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خدا کے حضور میں کلامِ خدا کے ساتھ جمالِ خداوندی کی بھی تمنا کی مگر ان کے عشق، ان کے درد اور ان کے سوزِ دروں کے جواب میں ہمیشہ 'لَنْ تَرَانِي' کا مقدس جملہ سنائی دیتا رہا لیکن فخرِ انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو رب العزت نے اس عزت و شان کے ساتھ اپنے قربِ خاص سے نوازا کہ جنابِ جبریل بارگاہِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے۔ عرش سے لے کر فرش تک ملائکہ قطار اندر قطار پیشوائی کے لیے ایستادہ ہوئے، آدم علیہ السلام سے لے کر جنابِ عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیائے کرام اپنے قلوبِ مبارکہ میں اشتیاقِ ملاقات لیے سراپا انتظار بنے رہے۔ آسمانوں کی رفعتوں کو صدیوں کے انتظار کے بعد نبیِ رحمت، پیغمبرِ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم چومنے کا موقع ملا اور اس طرح سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کون و مکاں کی وسعتوں کو بھی معراج ملی:

تیری معراج محمد تو ہے قربِ معبود
میری معراج کہ میں تیرے قدم تک پہنچا

اور جب واپس تشریف لائے تو اپنی گنہ گار اُمت کو بھی لذتِ معراج اور کیفِ قُربِ خداوندی سے آشنا کرنے کے لیے نماز کا تحفہ لے کر آئے۔

الصَّلَاةُ مِعْرَاجُ الْمُؤْمِنِينَ

ترجمہ: نماز مومنوں کی معراج ہے۔

[حوالہ:- مقالاتِ خطیبِ اعظم علامہ قمر الزماں خان اعظمی، ناشر رضا اکیڈمی، ص 56 تا 62]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!