Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حدیثِ رکانہ سے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ|مولانا غلام رسول سعیدی

حدیثِ رکانہ سے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ
عنوان: حدیثِ رکانہ سے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ
تحریر: مولانا غلام رسول سعیدی
پیش کش: شہربانو نعیم قادریہ

شیخ ابن تیمیہ نے حدیثِ رکانہ سے متعلق ایک دوسری روایت مسند احمد کے حوالے سے ذکر کی ہے جس میں یہ ہے کہ حضرت رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک طلاق قرار دیا اور انہیں رجوع کرنے کا حکم دیا۔ شیخ ابن تیمیہ نے مسند احمد کی اس حدیث کو جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، سنن ابوداؤد کی مذکورہ روایت پر ترجیح دی ہے، لیکن شیخ ابن تیمیہ کا جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ اور سنن ابوداؤد کی روایت پر مسند احمد کو ترجیح دینا عدل و انصاف سے سخت بعید ہے، کیونکہ اہل علم سے مخفی نہیں ہے کہ مسند احمد میں صرف احادیثِ صحیحہ کو جمع کرنے کا التزام نہیں کیا گیا، اس میں ضعیف، حسن، صحیح ہر قسم کی احادیث ہیں۔ برخلاف جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ اور سنن ابوداؤد کے کیونکہ یہ ان کتبِ احادیث میں سے ہیں جن میں احادیثِ صحیحہ جمع کرنے کا التزام کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ اور سنن ابوداؤد کو صحاحِ ستہ میں شمار کیا جاتا ہے اور مسند احمد کو صحاحِ ستہ میں شمار نہیں کیا جاتا۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ امام ابوداؤد کے علم میں بھی مسند احمد کی یہ روایت تھی جس میں طلاق البتہ تین طلاقوں کے ذکر ہے لیکن انہوں نے اس روایت کو اپنی کتاب میں درج نہیں کیا اور اس کی وجہ یہ بیان کی:

هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَنَّ رُكَانَةَ طَلَّقَ اِمْرَأَتَهُ ثَلَاثًا لِأَنَّهُمْ أَهْلُ بَيْتِهِ وَهُمْ أَعْلَمُ بِهِ [سنن أبي داود، ج: 1، ص: 301، مطبوعہ مجتبائی لاہور]

یہ حدیث ابن جریج کی روایت کی بہ نسبت صحیح ہے جس میں ہے کہ حضرت رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں کیونکہ اس حدیث کی روایت حضرت رکانہ کے اہل بیت سے ہے اور وہ اپنے گھر کے واقعات کو دوسروں کی بہ نسبت زیادہ جاننے والے تھے۔ امام ابوداؤد نے اپنی تینوں احادیث یزید بن رکانہ سے روایت کی ہیں۔ اسی طرح امام ترمذی نے بھی یزید بن رکانہ کی روایت سے حدیث بیان کی ہے، اس کے برخلاف امام احمد نے مسند احمد میں ابن جریج سے حضرت رکانہ کی روایت بیان کی ہے اور یہ بالکل معقول اور انصاف کی بات ہے کہ حضرت رکانہ کے گھر کا واقعہ وہی درست ہو گا جو ان کے بیٹے نے بیان کیا ہے اور ان کے بیٹے کی روایت کے خلاف اگر کسی غیر متعلق شخص نے کوئی واقعہ بیان کیا ہے تو وہ درست قرار نہیں دیا جائے گا۔

شیخ ابن تیمیہ نے البتہ والی روایت کو مرجوح قرار دینے کے لیے کسی کتاب کا حوالہ دیے بغیر لکھا ہے کہ امام احمد بن حنبل، امام بخاری، ابوعبید اور ابومحمد بن حزم نے البتہ والی روایت کو ضعیف قرار دیا اور بیان کیا ہے کہ اس کے راوی مجہول ہیں، ان کی عدالت اور ضبط کا حال معلوم نہیں ہے۔ [مجموع الفتاوى، ج: 33، ص: 15، مطبوعہ عبدالعزیز آل سعود]

امام احمد بن حنبل چونکہ اس روایت کو اپنی کتاب میں درج کرنے والے ہیں اس لیے وہ ایک فریق کی حیثیت رکھتے ہیں، لہذا اگر ان کی توثیق ہو بھی تو وہ بحث سے خارج ہے اور ابن حزم کا حوالہ دینا، شیخ ابن تیمیہ کی مغالطہ آفرینی ہے۔ شیخ ابن حزم نے سنن ابوداؤد کی ایک اور روایت کو بعض بنی ابی رافع کی وجہ سے مجہول لکھا ہے۔ رہے امام بخاری تو ان کے بارے میں یہ کہنا صحیح نہیں کہ انہوں نے البتہ والی روایت کی توثیق کی ہے، بلکہ صحیح یہ ہے کہ امام بخاری نے مسند احمد والی روایت کو مضطرب اور معلل قرار دیا ہے، جیسا کہ حافظ ابن حجر (متوفی 854ھ) نے لکھا ہے۔ [التلخيص الحبير، ج: 3، ص: 213، مطبوعہ مصر] اور علامہ ابن عبدالبر نے اس کو تمہید میں ضعیف قرار دیا ہے۔

علامہ ابن جوزی (متوفی 597ھ) مسند احمد والی حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں: “یہ حدیث صحیح نہیں ہے، اس کی سند کا ایک راوی ابن اسحاق مجروح ہے اور دوسرا راوی داؤد اس سے بھی زیادہ ضعیف ہے۔ امام ابن حبان نے کہا ہے کہ اس کی روایات سے اجتناب کرنا واجب ہے اور البتہ والی (صحاحِ ستہ کی) روایت صحت کے قریب ہے اور مسند احمد والی روایت میں راویوں کی غلطی ہے۔” [العلل المتناهية في الأحاديث الواهية، ج: 2، ص: 151، مطبوعہ ادارۃ العلوم الاثریہ فیصل آباد]

علامہ ابوبکر رازی جصاص (متوفی 370ھ) نے مسند احمد کی اس روایت کے بارے میں یہ قول نقل کیا ہے کہ یہ حدیث منکر ہے۔ [أحكام القرآن، ج: 1، ص: 388، سہیل اکیڈمی لاہور]

علامہ کمال الدین ابن ہمام (متوفی 861ھ) نے لکھا ہے کہ رکانہ کی حدیث منکر ہے اور صحیح روایت وہ ہے جو ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق البتہ دی تھی۔ [فتح القدير، ج: 3، ص: 331، مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر]

حدیثِ رکانہ اور صحاحِ ستہ

شیخ ابن تیمیہ نے حضرت رکانہ کی البتہ والی روایت پر جرح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ “اس حدیث کے راوی مجہول ہیں اور ان کی عدالت اور ضبط کا حال معلوم نہیں ہے۔”

شیخ ابن تیمیہ کی یہ بات بھی عدل و انصاف اور حقیقت اور صداقت سے بہت دور ہے۔ یہ حدیث ترمذی، ابن ماجہ اور ابوداؤد میں ہے اور امام ابوداؤد نے اس کو تین مختلف سندوں کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اختصار کے پیشِ نظر ہم صرف امام ترمذی کی سند کے راویوں کی عدالت اور ضبط کا حال بیان کر رہے ہیں:

امام ترمذی نے اس حدیث کو از ہناد، از قبیصہ، از جریر بن حازم از زبیر بن سعید از عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ بیان کیا ہے۔ سند کے پہلے راوی ہناد ہیں، ان کے بارے میں حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: امام احمد بن حنبل نے کہا تم ہناد کو لازم رکھو، ابوحاتم نے کہا وہ بہت سچے ہیں۔ قتیبہ نے کہا میں نے دیکھا کہ وکیع ہناد سے زیادہ کسی کی تعظیم نہیں کرتے تھے۔ امام نسائی نے کہا کہ وہ ثقہ ہیں۔ امام ابن حبان نے بھی ان کا ثقات میں ذکر کیا ہے۔ [تہذيب التہذيب، ج: 11، ص: 71، مطبوعہ مجلس دائرۃ المعارف ہند]

اس سند کے دوسرے راوی قبیصہ ہیں۔ ان کے بارے میں حافظ ابن حجر لکھتے ہیں کہ حافظ ابوزرعہ اور ابونعیم کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: ان دونوں میں قبیصہ افضل ہیں۔ ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے قبیصہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا وہ بہت سچے ہیں۔ اسحاق بن سیار نے کہا میں نے شیوخ میں سے قبیصہ سے بڑھ کر کوئی حافظ نہیں دیکھا۔ امام نسائی نے کہا ان سے روایت میں کوئی حرج نہیں اور امام ابن حبان نے ان کا ثقات میں ذکر کیا ہے۔ [تہذيب التہذيب, ج: 8، ص: 348-349، مطبوعہ مجلس دائرۃ المعارف ہند]

اس حدیث کے تیسرے راوی ہیں جریر بن حازم، ان کے بارے میں حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: موسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حماد جتنی تعظیم جریر بن حازم کی کرتے تھے کسی اور کی نہیں کرتے تھے۔ عثمان دارمی نے ابن معین سے نقل کیا کہ یہ ثقہ ہیں۔ دوری کہتے ہیں میں نے یحییٰ سے پوچھا کہ جریر بن حازم اور الاشہب میں کس کی روایت بہتر ہے؟ انہوں نے کہا جریر کی روایت احسن اور اسند ہے۔ ابوحاتم نے کہا یہ بہت سچے اور نیک ہیں۔ [تہذيب التہذيب، ج: 2، ص: 70، مطبوعہ مجلس دائرۃ المعارف ہند]

اس حدیث کے چوتھے راوی زبیر بن سعید ہیں، ان کے بارے میں حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: دوری نے ابن معین سے نقل کیا کہ یہ ثقہ ہیں، دارقطنی نے کہا یہ معتبر ہیں، اور امام ابن حبان نے ان کا ثقات میں ذکر کیا ہے۔ [تہذيب التہذيب، ج: 3، ص: 315، مطبوعہ مجلس دائرۃ المعارف ہند]

اس حدیث کے پانچویں راوی عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ ہیں یہ خود حضرت رکانہ کے اہل بیت سے ہیں۔ امام محمد ابن حبان تمیمی (متوفی 354ھ) نے ان کا ثقات میں ذکر کیا ہے۔ [كتاب الثقات، ج: 7، ص: 15، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1401ھ] اور حافظ ابن حجر نے اس کو برقرار رکھا ہے۔ [تہذيب التہذيب، ج: 5، ص: 325، مطبوعہ مجلس دائرۃ المعارف ہند]

حدیثِ رکانہ اور ابوداؤد کی روایت کا ضعف

پیر کرم شاہ صاحب نے سنن ابوداؤد کی اس روایت سے بھی استدلال کیا ہے جس میں یہ ہے کہ حضرت عبد یزید ابورکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اپنی بیوی سے رجوع کر لو۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ میں نے تو اسے تین طلاقیں دے دی ہیں، آپ نے فرمایا: میں جانتا ہوں تم اس سے رجوع کر لو! [سنن أبي داود، ج: 1، ص: 298-299، مطبع مجتبائی پاکستان لاہور، 1405ھ]

اس حدیث سے پیر صاحب کا استدلال اس لیے صحیح نہیں ہے کہ اس کی سند میں بنی ابی رافع موجود ہیں، جو مجہول ہیں۔ غیر مقلدین کے بہت بڑے عالم شیخ ابن حزم اس حدیث کی سند پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں: (شیخ ابن تیمیہ نے سنن ابوداؤد کی جس حدیث کے بارے میں ابن حزم کا حوالہ دیا تھا وہ اصل میں یہ حدیث ہے)

قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: لَا نَعْلَمُ لَهُمْ شَيْئًا احْتَجُّوا بِهِ غَيْرَ هَذَا، وَهَذَا لَا يَصِحُّ لِأَنَّهُ عَنْ غَيْرِ مُسَمًّى مِنْ بَنِي أَبِي رَافِعٍ، وَلَا حُجَّةَ فِي مَجْهُولٍ [المحلى، ج: 10، ص: 168، مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنيرية، 1352ھ]

ترجمہ: ہمارے علم میں اس حدیث کے سوا ان لوگوں کی اور کوئی دلیل نہیں ہے، اور یہ حدیث صحیح نہیں ہے کیونکہ ابورافع کی اولاد میں سے جس شخص سے یہ روایت ہے اس کا نام نہیں لیا گیا، اور مجہول راوی کی روایت دلیل نہیں ہو سکتی۔

اگر کوئی شخص یہ کہے کہ مستدرک کی بعض روایات میں بعض بنی ابی رافع کی تعیین محمد بن عبیداللہ بن ابی رافع سے کر دی گئی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ حافظ ابن حجر عسقلانی محمد بن عبیداللہ بن ابی رافع کے بارے میں لکھتے ہیں: امام بخاری نے کہا کہ یہ منکر الحدیث ہے۔ ابن معین نے کہا یہ لیس بشئی ہے۔ ابوحاتم نے کہا یہ ضعیف الحدیث، منکر الحدیث اور ذاہب الحدیث ہے۔ ابن عدی نے کہا یہ کوفے کے شیعہ میں سے ہے اور فضائل میں اس نے ایسی روایات بیان کی ہیں جن کا کوئی متابع نہیں۔ ابن حبان نے اس کا ثقات میں ذکر کیا ہے۔ برقانی نے دارقطنی سے روایت کیا کہ یہ متروک ہے۔ [تہذيب التہذيب، ج: 9، ص: 321، مطبوعہ دائرۃ المعارف ہند, 1326ھ]

یاد رہے کہ امام بخاری نے فرمایا ہے جس شخص کے بارے میں میں یہ کہوں کہ یہ منکر الحدیث ہے اس سے روایت کرنا صحیح نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ملحوظ رہنی چاہیے کہ امام ابن عدی نے اس کو شیعہ لکھا ہے اور تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دینا شیعہ حضرات کا مسلک ہے۔

اس روایت کی سند اس پائے کی نہیں ہے، جس سے حلال اور حرام کے مسئلے میں استدلال ہو سکے۔ خصوصاً جبکہ اس روایت سے وہ জিনিস حلال ہو رہی ہو جو قرآن مجید اور احادیثِ صحیحہ کی صراحت سے حرام ہو چکی ہو، اور ائمہ اربعہ اور جمهور مسلمین کا اس کی حرمت پر اتفاق ہو۔

شیخ ابن تیمیہ اور ان کے حامیوں کے پاس تین طلاق کو ایک طلاق قرار دینے کے لیے صرف یہ تین روایات تھیں۔ ایک صحیح مسلم کی روایت جو طاؤس کا وہم اور شاذ روایت ہے۔ دوسری مسندِ احمد کی روایت جو مضطرب، منکر، معلل اور ضعیف روایت ہے۔ تیسری سنن ابوداؤد کی یہ روایت جو مجہول، منکر اور متروک کی روایت ہے۔ اور یہ بات بدیہی ہے کہ شاذ روایت، ضعیف روایت اور متروک کسی بھی صحیح حدیث پر فوقیت نہیں رکھتا۔ لہٰذا صحیح روایت کے ہوتے ہوئے ضعیف و شاذ اور متروک ناقابلِ عمل ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!