| عنوان: | مفسر قرآن: رخ حیات کی چند جھلکیاں (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا محمد عطاء النبی حسینی مصباحی |
| پیش کش: | آفرین فاطمہ رضویہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی مرادآباد |
اس خاک دانِ گیتی پر روز و شب لوگ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، آمد و رفت کا یہ سلسلہ تا قیامِ قیامت دراز رہے گا، جانے والے چلے تو جاتے ہیں اور انہیں کچھ دنوں تک یاد کیا جاتا ہے پھر سب اپنے اپنے کام میں لگ جاتے ہیں اور جانے والے کا تصور دن بہ دن دھندلا ہوتا جاتا ہے، لیکن ان رخصت ہونے والوں میں کچھ ایسی شخصیات ہوتی ہیں جن کے دم قدم سے نہ جانے کتنے ویرانے آباد ہوتے ہیں، جن کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے باوجود اذہان و افکار اور دلوں سے ان کی یادیں رخصت نہیں ہوتیں بلکہ وہ ہمیشہ کے لیے دل و دماغ میں امر ہو جاتے ہیں۔ ان عظیم و جلیل، قابلِ رشک و باعثِ فخر اور لائقِ تقلید شخصیات میں سے ایک شخصیت عالمِ باعمل، صوفی باصفا، زاہدِ بے ریا، عاشقِ مصطفیٰ، مفسرِ قرآن حضرت علامہ شاہ سید ظہور الحسین رضوی منظری کی بھی تھی جو اب “علیہ الرحمہ” ہو گئے،
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ
خلیفۂ حضور مفسرِ قرآن جناب صدام اسماعیلی صاحب نے بتایا کہ “دادا سرکار” کا انتقال ہو گیا، ابھی 16 اکتوبر 2022ء کو سیوان حاضری کی سعادت ملی تھی جہاں سرکار اور خانوادہ کے دیگر افراد کی زیارت سے بھی شرف یاب ہوا تھا لیکن کیا خبر تھی کہ سیوان میں حضرت کی یہ آخری زیارت ہوگی، کیا معلوم تھا کہ حضرت کی صحبت سے مستفید ہونے کا شاید یہ آخری موقع ہوگا۔
یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ہمارا جانے والا آفتابِ نیم روز خاندانِ قادریہ کا باوقار شہزادہ و چشم و چراغ اور اپنے آباؤ اجداد کی ایسی سچی یادگار تھا کہ دنیا اسے مفسرِ قرآن کہنے پر مجبور ہو گئی۔
خاندانی پس منظر
خاندانی روایات سے معلوم ہوا کہ آپ کے آباؤ اجداد صدیوں قبل عرب کی سرزمین سے ہندوستان تشریف لائے، اور تبلیغِ اسلام و رشد و ہدایتِ خلق میں لگے رہے۔ بہار کے مختلف علاقوں میں اس خاندان کے بزرگوں کے مزارات آج بھی موجود و محفوظ ہیں، حضرت پیر سعد اللہ عرف کنگالی شاہ رحمۃ اللہ علیہ مظفر پور میں آسودۂ خاک ہیں، یوں تو آپ حسنی حسینی سادات سے ہیں جس کی مکمل تفصیل کسی اور موقع پر پیش کی جائے گی، فی الوقت اس بزرگ سے آپ کا نسب پیش کیا جا رہا ہے جو ہجرت کر کے ہندوستان تشریف لائے تھے اور وہ اس طرح ہے:
شیخ المشائخ، مفسرِ قرآن حضرت علامہ سید شاہ ظہور الحسین رضوی علیہ الرحمہ ابن شمس العارفین، قطب السالکین حضرت سید شاہ امیر الحق علیہ الرحمہ ابن زبدۃ الاولیاء سند الاصفیاء حضرت سید شاہ واعظ الحق علیہ الرحمہ ابن سراج السالکین حضرت صوفی سید شاہ عبد الجلیل علیہ الرحمہ ابن زبدۃ العارفین حضرت صوفی سید شاہ خیرات علی علیہ الرحمہ ابن امام الاتقیاء حضرت علامہ صوفی سید شاہ قربان علی علیہ الرحمہ ابن تاج المشائخ حضرت علامہ سید شاہ خدا بخش علیہ الرحمہ ابن سلطان الاولیاء، محبوب العالم سیدنا شیخ سعد اللہ مہاجر مکی معروف بہ پیر کنگالی شاہ علیہ الرحمہ بھوساہی گدی۔
ولادت باسعادت
آپ کی ولادت سے قبل ہی آپ کی ولادت کی خبر آپ کے عمِ محترم سید الاولیاء حضرت علامہ سید صوفی منظور الحق علیہ الرحمہ نے اپنے وصال سے قبل ہی دے دی تھی۔
رسالہ “باغہائے واعظیہ مع گلدستۂ حسینیہ” میں ہے:
“زبدۃ الاولیاء سند الاصفیاء حضرت شیخ المشائخ صوفی مولوی سید واعظ الحق علیہ الرحمہ پور سیوان کے دو صاحبزادگان جن میں بڑے صاحبزادے سید الاولیاء، سند الاصفیاء، شیخِ طریقت رہبرِ راہِ شریعت حضرت الشاہ الحاج منظور الحق قادری علیہ الرحمہ والرضوان جنہوں نے گیارہ گھنٹہ قبل وصال، مریدوں کی بے چینی و بے صبری کو دیکھ کر بذریعہ کشف یہ خوشخبری عطا کی کہ تمہاری رہبری اور سکونِ قلبی کے لیے ساداتِ پور سیوان میں شیخ المشائخ کے چھوٹے شہزادے شمس العارفین، قطب السالکین، شیخ الطریقت حضرت سید شاہ امیر الحق رحمۃ اللہ علیہ کے صحن عزیزی سید شاہ ظہور الحسین احمدی القادری کی ولادت باسعادت ہو چکی ہے۔” [باغہائے واعظیہ، ص: 3-4]
اس طرح حضور مفسرِ قرآن کی ولادت باسعادت 27ویں شبِ رجب 1344ھ / 1924ء بروز شنبہ کو ہوئی۔ ولادت کے چھ ماہ بعد آپ کی والدہ ماجدہ کا انتقال ہو گیا اس لیے آپ کی دادی جان نے آپ کی پرورش و تربیت اور کفالت و نگرانی کی۔
باغہائے واعظیہ میں ہے:
“آپ (شمس العارفین سید امیر الحق علیہ الرحمہ) نے تین صالحہ و عارفہ بیویوں سے نکاح کیے۔ پہلی شادی جناب صاحب رضا سرمی کی دخترِ نیک کے ساتھ ہوئی جن سے 1344ھ میں فقیر کے مرشدِ گرامی..... حضرت علامہ سید شاہ ظہور الحسین احمدی القادری صاحب قبلہ دامت فیوضہم القدسیہ رونق افروز ہوئے۔” [مصدر سابق]
تعلیم و تربیت
حضور مفسرِ قرآن تعلیمی نسبت کے اعتبار سے “منظری” تھے کیوں کہ آپ کی تعلیم کی تکمیل یادگارِ اعلیٰ حضرت “دارالعلوم منظرِ اسلام” مرکزِ اہلِ سنت درگاہ اعلیٰ حضرت بریلی شریف سے ہوئی، لیکن حضور مفسرِ قرآن کی تعلیم و تربیت کس طرح ہوئی، کس کس سے اور کہاں کہاں حصولِ علم کیا، اس تعلق سے حضور مفسرِ قرآن نے خود اپنے ایک مختصر انٹرویو میں زبانی بیان کیا جسے مولانا صفی اللہ مصباحی نے الفاظ کا جامہ یوں پہنایا:
“میں اسکول کے چوتھے درجے کا طالب علم تھا، حضور حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا بریلوی اپنے بہار دورے پر آئے ہوئے تھے، ملاقات کے بعد حضرت نے ارشاد فرمایا:”
“یہ علم پڑھ کر کیا کریں گے؟ اپنا مذہب پڑھیے اور اسے پھیلائیے۔”
“حضرت مجھے اپنے ساتھ بریلی لے گئے، بریلی پہنچا جب تک حضرت حیاتِ ظاہری میں تھے، حضرت کے گھر ہی میرے کھانے پینے کا انتظام تھا، مجھے رہنے کے لیے جو کمرہ ملا تھا وہ مزارِ اعلیٰ حضرت سے متصل تھا، میرے ساتھ تین اور بھی ساتھی تھے لیکن سب پر میرا رنگ غالب تھا، سب میری باتیں مانتے تھے، حضرت نے اپنے وصال سے قبل مفسرِ قرآن (شہزادۂ حجۃ الاسلام، نبیرۂ اعلیٰ حضرت، مفسرِ اعظم ہند جیلانی میاں) مولانا ابراہیم رضا سے ارشاد فرمایا: مجھے سید (ظہور الحسین) صاحب کے کمرے میں دفن کرنا، آپ دیکھیں گے حضور حجۃ الاسلام کا مزار مبارک کچھ ہٹ کر ہے، حضور حجۃ الاسلام کے وصال کے بعد مجھ پر غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا، غموں سے نڈھال میں نے کھانا پینا سب چھوڑ دیا....... خادمہ نے کسی طرح حضور مفتیِ اعظم سے میری حالتِ یتیمی کی کہانی کہہ دی کہ ایک سید زادے جو حضور حجۃ الاسلام کے نورِ نظر تھے، تین دن سے غمِ فراق میں تڑپ رہے ہیں، حجۃ الاسلام کی جدائی نے ان کا سب کچھ چھین لیا ہے، سسکیوں، ہچکیوں اور آنسوؤں کی بے پناہ سوغات ہے، مفتیِ اعظم بے چین ہو گئے، تشریف لائے اور دلاسا دیا، سینے سے لگایا، فرمایا حجۃ الاسلام نہیں ہیں اب میں آپ کی ناز برداری کروں گا، میرے مدرسے میں تشریف لے چلیے، میں حضور مفتیِ اعظم کے مدرسے میں آگیا..........”
“میں جب حضور مفتیِ اعظم کی محبت کے سائبان میں آگیا، آپ کی شفقتوں کا سایہ ملا، ملاطفت کی مشکبار فضا نے غم کی تاریکی کو کافور کیا، حوصلوں کی لو پھر جگمگانے لگی، ہمت یکجا کر کے مطالعہ کی طرف متوجہ ہوا کہ ایک صاحب کو اپنی مسجد کے لیے امام چاہیے تھا بضد ہوئے، اور مفتیِ اعظم سے گزارش کی کہ سید صاحب قبلہ کو مجھے دے دیجیے، یہ میری مسجد میں امامت کریں گے اور پڑھنے کے لیے یہاں تشریف لائیں گے، میں وہاں امامت کرتا اور پڑھنے کے لیے حضرت کے مدرسہ میں آتا، محدثِ بہار حضرت احسان صاحب قبلہ، حضور صدر الشریعہ اور محدثِ اعظم پاکستان علامہ سردار جیسے جلیل القدر علماء اور محدثین کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیے۔” [سالنامہ سعدیہ، مظفر پور کا تصوف نمبر، ص: 190-191]
پھر آخر میں آپ کی فراغت “دارالعلوم منظرِ اسلام” بریلی شریف سے علمائے کرام کی موجودگی میں ہوئی۔
مشاہیر اساتذہ کرام
حضور مفسرِ قرآن کو دنیا سے دین کی طرف پھیرنے کا وسیلہ حضور حجۃ الاسلام بنے پھر آپ نے بریلی شریف کا سفر کیا، اور “دارالعلوم منظرِ اسلام” اور “دارالعلوم مظہرِ اسلام” میں تحصیلِ علم کیا، اس درمیان جن اساتذہ کرام سے استفادہ و اکتسابِ علم کیا ان میں سے مشاہیر درج ذیل ہیں:
-
حضور حجۃ الاسلام حضرت علامہ حامد رضا خان علیہ الرحمہ
-
حضور مفتیِ اعظم ہند حضرت مفتی مصطفیٰ رضا خان علیہ الرحمہ
-
حضور صدر الشریعہ حضرت مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ
-
محدثِ اعظم پاکستان حضرت علامہ سردار احمد علیہ الرحمہ
-
محدثِ بہار حضرت علامہ احسان علی بہاری علیہ الرحمہ
-
صدر العلماء حضرت علامہ سید غلام جیلانی میرٹھی علیہ الرحمہ
-
یادگارِ اسلاف حضرت مفتی تقدس علی خان علیہ الرحمہ
حضور حجۃ الاسلام سے محبت
آپ شہزادۂ اعلیٰ حضرت حضور حجۃ الاسلام علامہ حامد رضا خاں علیہ الرحمہ سے حد درجہ محبت کرتے تھے بلکہ ان کو ہی اپنا ماویٰ و ملجا سمجھتے تھے، یہی وجہ ہے کہ حضور حجۃ الاسلام کی وفات کے بعد آپ کی حالت نہایت دگرگوں ہو گئی، نہ کھانے کی فکر نہ پڑھنے کی فکر، بس مفارقت و جدائی کی یادوں میں گم رہتے، اس کیفیت کو آپ یوں بیان کرتے ہیں:
“حضور حجۃ الاسلام کے وصال کے بعد مجھ پر غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا، غموں سے نڈھال میں نے کھانا پینا سب کچھ چھوڑ دیا، دنیا کے لیے تو ایک عالم اٹھا تھا، میرا سب کچھ لٹ چکا تھا، اپنا ماویٰ و ملجا میں انہیں کو جانتا تھا، حضور حجۃ الاسلام دوسروں کے لیے یادِ رفتگاں تھے، میرے لیے تو زندگی بخشنے والی تازۂ نیم سحر تھے اور ہیں بھی، آنسوؤں کی لڑی بندھی کی بندھی تھی، میرے کمرے میں آج خود حجۃ الاسلام آرام فرما تھے، سسکیاں کبھی دوسرے بھی سنتے ہیں تو دل کی گہرائیوں میں ہی سسکیاں انگڑائیاں لیتی رہتی تھیں، کھانے کا غم تھا، نہ پیاس کا احساس، اپنے مربی و محسن کی ادائیں حجاب سے آنکھ مچولی کرتی تھیں۔” [مصدر سابق، ص: 190]
حضور حجۃ الاسلام کی آپ سے محبت
ساداتِ کرام کی تعظیم و تکریم اور ان سے الفت و محبت خاندانِ رضا کو ورثہ میں ملی ہے، جس کا جلوہ ہر خاص و عام نے اپنی آنکھوں سے دیکھا بھی ہے اور اب بھی یہ سلسلہ قائم و دائم ہے، حضور حجۃ الاسلام سے حضور مفسرِ قرآن دل و جان سے محبت کرتے تھے بلکہ اپنا ماویٰ و ملجا آپ ہی کو مانتے تھے، حضور حجۃ الاسلام بھی آپ سے غایت درجہ محبت فرماتے اور آپ پر نہایت شفیق و مہربان بھی تھے، جی ہاں! دورِ طالب علمی میں حضور مفسرِ قرآن کو حضور حجۃ الاسلام نے ان کی رہائش کے لیے ایک کمرہ دیا تھا جو “مزارِ اعلیٰ حضرت” سے جانبِ مغرب بالکل قریب تھا جس میں اعلیٰ حضرت کی تربتِ مبارک اور یہ کمرہ تھا یہ حضور حجۃ الاسلام کی ملکیت میں تھا، وقتی طور پر یہ کمرہ اگرچہ سید صاحب کو دے دیا تھا مگر وقف نامہ میں حجۃ الاسلام نے یہ کمرہ اپنی تدفین کے لیے خاص کر دیا تھا یہی وجہ ہے کہ وصال کے بعد حضور حجۃ الاسلام کی تدفین اسی کمرے میں ہوئی جہاں پر آج آپ کی قبرِ مبارک بنی ہوئی ہے، اس تعلق سے خود مفسرِ قرآن فرماتے ہیں:
“حضرت (حجۃ الاسلام) نے اپنے وصال سے قبل مفسرِ قرآن فرمایا: مجھے (مفسرِ اعظم جیلانی میاں حضرت مفتی) ابراہیم رضا سے ارشاد فرمایا: مجھے سید (ظہور الحسین) صاحب کے کمرے میں دفن کرنا، آپ دیکھیں گے حضور حجۃ الاسلام کا مزار مبارک کچھ ہٹ کر ہے۔” [سالنامہ سعدیہ کا تصوف نمبر، ص: 190]
[ماہنامہ اعلیٰ حضرت، مارچ 2023ء]
