| عنوان: | حافظ ذہبی کی ایک عبارت کا صحیح مفہوم |
|---|---|
| تحریر: | مولانا نثار مصباحی |
| پیش کش: | آفرین فاطمہ رضویہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی مرادآباد |
کچھ لوگ امامِ جرح و تعدیل، مؤرخ و محدث حافظ شمس الدین ذہبی (متوفی: 748ھ) کی کتاب “سیر اعلام النبلاء” سے ایک عبارت پیش کرتے ہیں کہ امام ذہبی نے لکھا ہے:
لَيْسَ تَفْضِيلُ عَلِيٍّ بِرَفْضٍ وَلَا هُوَ بِبِدْعَةٍ، بَلْ قَدْ ذَهَبَ إِلَيْهِ خَلْقٌ مِنَ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ [سير أعلام النبلاء، ج: 16، ص: 457]
یہ عبارت پیش کر کے کہتے ہیں کہ دیکھو مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو حضرت ابوبکر صدیق و عمر رضی اللہ عنہما سے افضل ماننے کا عقیدہ نہ تو رافضیت ہے، نہ کوئی بدعت و گمراہی بلکہ یہ صحابہ و تابعین کی ایک جماعت کا مذہب ہے۔
یہ ان لوگوں کا ایک فریب ہے، وہ لوگ فریب کاری اور دھوکے کے ذریعے اپنی فکر کو جسٹیفائی اور صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، چونکہ اس کی وجہ سے کئی لوگ غلط فہمی کا شکار ہو سکتے ہیں، اس لیے ان کے اس فریب کی حقیقت واضح کرنا ضروری ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ “سیر اعلام النبلاء” سے امام ذہبی کی یہ عبارت کاٹ چھانٹ کر بیچ سے اٹھائی جاتی ہے اور پھر یہ باور کروایا جاتا ہے کہ تفضیل (یعنی حضرت علی کو ابوبکر و عمر سے افضل ماننا) نہ تو رافضیت ہے اور نہ بدعت و گمراہی بلکہ یہ صحابہ و تابعین کی ایک جماعت کا مذہب ہے، جبکہ امام ذہبی نے یہ بات حضرت علی کو ابوبکر صدیق سے افضل ماننے کے بارے میں نہیں کہی ہے بلکہ حضرت علی کو حضرت عثمان غنی سے افضل ماننے کے بارے میں کہی ہے۔ یعنی حضرت علی کو حضرت عثمان غنی سے افضل ماننا نہ تو رافضیت ہے اور نہ بدعت و گمراہی بلکہ یہ صحابہ و تابعین کی ایک جماعت کا نظریہ رہا ہے (جبکہ جمہور اور اکثر حضرات اس وقت بھی حضرت عثمان غنی ہی کو افضل مانتے تھے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کو دیگر خلفائے راشدین بشمول حضراتِ ختنین یعنی حضرت مولا علی و حضرت عثمان غنی سے نیز تمام صحابۂ کرام سے افضل ماننا اہلِ سنت کا اجماعی مسئلہ ہے جس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں، یہ ضروریاتِ اہلِ سنت میں سے ہے، اس کا انکار گمراہی ہے، اس کے برخلاف حضراتِ ختنین یعنی حضرت مولا علی کو حضرت عثمان غنی سے افضل ماننا یہ بھی اہلِ سنت ہی کے چند اکابر اور ایک چھوٹی جماعت کا موقف ہے، البتہ جمہور اہلِ سنت کے نزدیک یہ فضیلت علیٰ ترتیب الخلافہ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ جمہور اہلِ سنت حضرت عثمان کو حضرت مولا علی سے افضل مانیں یا اس میں توقف کریں تو اس میں نہ گمراہی ہے اور نہ بدعت جیسا کہ حضرت امام اعظم کی کتاب “فقہ اکبر” اور ملا علی قاری کی شرح “شرح فقہ اکبر” میں اس کی تفصیل موجود ہے۔ محمد سلیم بریلوی)۔
اب آئیے! مخالفین اور تفضیلی لوگوں کی طرف سے امام ذہبی کی جس عبارت کو کاٹ چھانٹ کر پیش کر کے غلط مفہوم بیان کیا جاتا ہے اور اس کے ذریعہ عقیدۂ تفضیل کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اس کی حقیقت دیکھتے ہیں۔ امام ذہبی کی پوری عبارت دیکھنے سے ان فریب کاروں کے فریب کا پردہ خود بخود چاک ہو جاتا ہے، امام ذہبی لکھتے ہیں:
قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: اخْتَلَفَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ بَغْدَادَ، فَقَالَ قَوْمٌ: عُثْمَانُ أَفْضَلُ، وَقَالَ قَوْمٌ: عَلِيٌّ أَفْضَلُ، فَتَحَاكَمُوا إِلَيَّ، فَأَمْسَكْتُ، وَقُلْتُ: الْإِمْسَاكُ خَيْرٌ، ثُمَّ لَمْ أَرَ لِدِينِي السُّكُوتَ، وَقُلْتُ لِلَّذِي اسْتَفْتَانِي: ارْجِعْ إِلَيْهِمْ، وَقُلْ لَهُمْ: أَبُو الْحَسَنِ يَقُولُ: عُثْمَانُ أَفْضَلُ مِنْ عَلِيٍّ بِاتِّفَاقِ جَمَاعَةِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هَذَا قَوْلُ أَهْلِ السُّنَّةِ، وَهُوَ أَوَّلُ عَقْدٍ يَحِلُّ فِي الرَّفْضِ. قُلْتُ: لَيْسَ تَفْضِيلُ عَلِيٍّ بِرَفْضٍ وَلَا بِبِدْعَةٍ، بَلْ قَدْ ذَهَبَ إِلَيْهِ خَلْقٌ مِنَ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ، فَكُلٌّ مِنْ عُثْمَانَ وَعَلِيٍّ ذُو فَضْلٍ وَسَابِقَةٍ وَجِهَادٍ، وَهُمَا مُتَقَارِبَانِ فِي الْعِلْمِ وَالْجَلَالَةِ، وَلَعَلَّهُمَا فِي الْآخِرَةِ مُتَسَاوِيَانِ فِي الدَّرَجَةِ، وَهُمَا مِنْ سَادَةِ الشُّهَدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَلَكِنَّ جُمْهُورَ الْأَئِمَّةِ عَلَى تَرْجِيحِ عُثْمَانَ عَلَى الْإِمَامِ عَلِيٍّ، وَإِلَيْهِ نَذْهَبُ، وَالْخَطْبُ فِي ذَلِكَ يَسِيرٌ. وَالْأَفْضَلُ مِنْهُمَا بِلَا شَكٍّ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، مَنْ خَالَفَ فِي ذَا فَهُوَ شِيعِيٌّ جَلْدٌ، وَمَنْ أَبْغَضَ الشَّيْخَيْنِ وَاعْتَقَدَ صِحَّةَ إِمَامَتِهِمَا فَهُوَ رَافِضِيٌّ مَقِيتٌ، وَمَنْ سَبَّهُمَا وَاعْتَقَدَ أَنَّهُمَا لَيْسَا بِإِمَامَيْ هُدًى فَهُوَ مِنْ غُلَاةِ الرَّافِضَةِ، أَبْعَدَهُمُ اللَّهُ. [سير أعلام النبلاء، ج: 16، ص: 457، 458]
ترجمہ: امام دارقطنی (وفات: 385ھ) فرماتے ہیں: بغداد کے کچھ لوگوں میں اختلاف ہو گیا، ان میں سے کچھ کہتے ہیں کہ حضرت عثمان، حضرت علی سے افضل ہیں، اور کچھ کہتے ہیں کہ حضرت علی، حضرت عثمان سے افضل ہیں۔ وہ لوگ معاملہ میرے (یعنی امام دارقطنی کے) پاس لائے تو میں نے سکوت اختیار کیا اور کہا کہ سکوت بہتر ہے۔ پھر میں نے سوچا کہ یہ سکوت تو دیانت داری کے خلاف ہے، اس لیے میں نے مستفتی سے کہا کہ ان کے پاس واپس جاؤ اور ان سے کہو کہ “ابو الحسن دارقطنی” کہہ رہے ہیں کہ حضرت عثمان، حضرت علی سے افضل ہیں اور اس پر جماعتِ صحابہ کا اتفاق ہے، یہی اہلِ سنت کا قول ہے، اور یہی پہلی گرہ ہے جو رافضیت میں کھلتی ہے (یعنی حضرت علی کو حضرت عثمان سے افضل کہنا رافضیت کا پہلا درجہ اور پہلا زینہ ہے)۔ (چونکہ تفضیلِ علی بر عثمان، رافضیت ہرگز نہیں ہے، اس لیے امام دارقطنی کے اس قول پر نقد کرتے ہوئے امام ذہبی کہتے ہیں:)
میں کہتا ہوں: حضرت علی کو (حضرت عثمان سے) افضل ماننا رافضیت نہیں ہے اور نہ ہی یہ بدعت (بدمذہبی) ہے بلکہ یہ تو صحابہ و تابعین کی ایک جماعت کا مذہب ہے، کیونکہ حضرت عثمان و علی دونوں حضرات صاحبِ فضل، سابق الاسلام اور صاحبِ جہاد ہیں، علم اور جلالتِ شان میں دونوں حضرات قریب قریب ہیں، امید ہے کہ دونوں حضرات آخرت میں بلندیِ درجات میں برابر ہوں گے، یہ دونوں حضرات ساداتِ شہداء میں سے ہیں، لیکن جمہورِ امت حضرت عثمان غنی کو امام علی سے افضل مانتی ہے اور یہی ہمارا بھی مذہب ہے اور معاملہ اس میں آسان ہے (یعنی جو اس کے خلاف مانے اسے اس بنیاد پر رافضی نہیں کہا جائے گا)۔
اور ان دونوں حضرات (حضرت عثمان غنی و علی) سے بلاشبہ حضرت ابوبکر صدیق و عمر افضل ہیں، جو اس میں اختلاف کرے وہ پکا شیعہ ہے، جو شخص شیخین (ابوبکر و عمر) کی خلافت تو صحیح و برحق مانے، مگر ان سے بغض رکھے وہ شدید مبغوض رافضی ہے اور جو شخص ان دونوں حضرات (شیخین) کی گستاخی کرے اور انہیں خلیفۂ برحق نہ مانے وہ غالی رافضیوں میں سے ہے، اللہ رافضیوں کو دور کرے۔
یہ ہے امام ذہبی کی پوری عبارت، جسے دیکھنے سے خود بخود واضح ہو جاتا ہے کہ حافظ ذہبی نے جس “تفضیل” کو کہا ہے کہ وہ نہ رافضیت ہے اور نہ بدعت، وہ مولا علی کی حضرت عثمان پر تفضیل ہے نہ کہ شیخین پر۔ شیخین پر تفضیل کے بارے میں اسی عبارت میں آگے چل کر انہوں نے صاف بیان کر دیا ہے کہ:
وَالْأَفْضَلُ مِنْهُمَا بِلَا شَكٍّ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، مَنْ خَالَفَ فِي ذَا فَهُوَ شِيعِيٌّ جَلْدٌ
ترجمہ: اور ان دونوں حضرات (حضرت عثمان و علی) سے بلاشبہ حضرت ابوبکر صدیق و عمر افضل ہیں (یعنی حضرت علی سے حضرت ابوبکر صدیق و عمر کو افضل نہ ماننے والا اور شیخین سے حضرت علی کو افضل ماننے والا تفضیلی شیعہ ہے، جو یہ عقیدہ نہ رکھتا ہو تو ایسا تفضیلی شیعہ گمراہ اور بدعتی ہے)۔ [ماہنامہ اعلیٰ حضرت، ص: 45]
