| عنوان: | مفتی اعظم عوام و خواص کا مرکز عقیدت (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | علامہ محمد احمد مصباحی |
| پیش کش: | محمد احسان مصطفیٰ |
| منجانب: | جامعۃ المدینہ فیضان عطار، ناگپور |
مفتیِ اعظم مولانا شاہ مصطفیٰ رضا قادری بریلوی قدس سرہ کو ایک علامۂ اجل اور ایک ولیِ باکمال کی حیثیت سے آج دنیا جانتی اور پہچانتی ہے۔ میں نے جب سے شعور کی آنکھیں کھولیں ان کی عظمت و بزرگی کے تذکرے سنتا رہا۔ مگر میں نے ان کی سب سے حیرت انگیز اور امتیازی خصوصیت جو دیکھی وہ یہ ہے کہ ان کے معاصر علما و اکابر بھی برملا ان کی جلالتِ شان اور عظمت و برتری کا اعتراف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ شرف اسی کو حاصل ہوتا ہے جو خدا کی بارگاہ میں قبولِ خاص سے سرفراز ہو چکا ہو۔ اور جس کا سینہ عداوت و حسد، بغض و عناد، دوسروں کی تحقیر اور اپنی تعلی سے پاک ہونے کے ساتھ علم و اخلاص کا مخزن ہو، جس کی زبان غیبت و بدگوئی سے دور اور شریعت و طریقت کی پابندی سے آراستہ و مزین ہو، جس کا قلم نفسانی آویزشوں کے بجائے معارف و حقائق کی سچی عقدہ کشائی سے سرشار ہو، جس کا تفقہ و تدبر اس پائے کا ہو کہ اس کے کردار و گفتار اور زبان و قلم سے بجائے اس کے کہ امت میں کسی بے جا اختلاف و افتراق یا نفاق و شقاق کی راہ کھلے، اتفاق و اتحاد کے سوتے پھوٹیں، بکھرے ہوئے شیرازے مجتمع ہو جائیں اور لوگوں کے دل وحدتِ ملی کے درد و غم سے بے قرار و مضطرب نظر آئیں۔
میں بلا خوفِ تردید یہ کہہ سکتا ہوں کہ مفتیِ اعظم اپنی حیاتِ مبارکہ میں ایسے ہی تابناک نقوش کے حامل رہے جن کے نتیجے میں وہ نہ صرف یہ کہ “تاجدارِ اہلِ سنت” کہلائے بلکہ ان کی حیات تک امت میں بڑی حد تک اتفاق و اتحاد کا قابلِ صد رشک جلوہ کار فرما رہا۔ میں اس اجمال کی تفصیل میں چند شواہد بھی پیش کروں گا۔ سب سے پہلے ان کے بارے میں چند شہادتیں ملاحظہ کیجیے:
(۱) محدثِ اعظم مولانا سید محمد کچھوچھوی علیہ الرحمہ بلا شبہہ مفتیِ اعظم کے معاصر، مولانا وصی احمد محدثِ سورتی اور امام احمد رضا قادری علیہ الرحمہ کے شاگردِ جلیل تھے مگر مفتیِ اعظم سے متعلق ان کے خیالاتِ عظمت و برتری کا ایک منظر آج بھی ایک فتوے کے ذیل میں محفوظ ہے جس پر محدثِ اعظم نے ان الفاظ میں تصدیق کی ہے:
هٰذَا قَوْلُ الْعَالِمِ الْمُطَاعِ، وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الِاتِّبَاعُ
ان جاندار الفاظ میں جو اعترافِ عظمت کار فرما ہے وہ اہلِ علم پر عیاں ہے۔
(۲) حافظِ ملت مولانا شاہ عبد العزیز مراد آبادی علیہ الرحمہ سابق سربراہِ اعلیٰ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور نے جامعہ اشرفیہ کی نئی درسگاہی بلڈنگ کے جشنِ افتتاح کے موقع پر ۱۶، ۱۷ نومبر ۱۹۷۳ء کے لیے مفتیِ اعظم قدس سرہ کو دعوت دی تھی۔ حضرت تشریف لائے، افتتاح کا کام حضرت ہی کے ہاتھوں انجام پانے والا تھا جس کے لیے پہلے دن بعدِ مغرب نئی عمارت میں ایک تقریب منعقد ہوئی۔ یہ ابتدائی سال تھا اور شوال کی ۱۹، ۲۰ تاریخوں کی درمیانی شب تھی۔ اس وقت شیخ الحدیث حضرت مولانا قاضی شمس الدین احمد جعفری رضوی علیہ الرحمہ تھے، درجۂ فضیلت کے طلبہ کو درسِ بخاری شریف شروع کرا کے افتتاح کی رسم ادا ہونے والی تھی۔ اس موقع پر افتتاح سے قبل حافظِ ملت نے ایک مختصر تقریر کی تھی جس کا حاصل کچھ اس طرح ہے: “حضرت مفتیِ اعظم مدظلہ سے اس عمارت کا افتتاح اور ان سے بخاری شریف کا ایک سبق پڑھ لینا بہت بڑی سعادت ہے۔ وہ بلا شبہہ ولی ہیں۔ آج جو ان سے سبق پڑھ رہا ہے کل اسے اس پر فخر ہوگا کہ میں نے مفتیِ اعظم سے سبق پڑھا ہے۔ جو ان سے بیعت ہوگا اسے اس پر فخر ہوگا کہ میں مفتیِ اعظم سے بیعت ہوا ہوں۔ جو ان سے مصافحہ کرے گا وہ فخر کرے گا کہ میں نے ان سے مصافحہ کیا ہے۔ جو ان کی زیارت کرے گا وہ اس پر فخر کرے گا کہ میں نے انھیں دیکھا ہے۔ وہ علم و فن کا سمندر ہیں، خود ایک بار فرمانے لگے کہ جب کوئی مسئلہ لکھنے کے لیے قلم ہاتھ میں لیتا ہوں تو نوکِ قلم پر علمی مضامین کی اس قدر بارش ہونے لگتی ہے کہ سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کی ذات ہمارے لیے بہت غنیمت ہے۔ ان سے سبق پڑھنا آپ کی بہت بڑی سعادت ہے۔ مولیٰ تعالیٰ ان کا سایہ ہمارے سروں پر دراز فرمائے۔”
حضرت قاضی شمس الدین احمد علیہ الرحمہ نے فرمایا: “جہاں تک مجھے علم ہے حضرت نے کسی کو بخاری شریف شروع نہ کرائی۔ یہ سعادت ان طلبہ کا مخصوص حصہ ہے۔” اس کے ساتھ وہ حافظِ ملت کے بیان کی تصدیق بھی کرتے جا رہے تھے۔
(۳) میں رمضان ۱۳۹۰ھ میں رانچی پہنچا۔ اس وقت مدرسہ غریب نواز رانچی کے بانی مولانا شاہ عبد الحق چشتی امجدی اعظمی وہیں تشریف فرما تھے۔ دو دن ان کے مدرسہ میں میرا قیام رہا۔ اس دوران ان سے بہت سے موضوعات پر گفتگو رہی، انھوں نے مجھ سے پوچھا تم کسی سے مرید ہو یا نہیں؟ میں نے کہا نہیں۔ فرمایا: مرید ہونا ہے تو مفتیِ اعظم سے مرید ہونا۔ سیادت اپنی جگہ ہے مگر تقویٰ میں ان کا کوئی ہم پلہ نہیں۔
شاہ صاحب علیہ الرحمہ خود بہت بڑے پیر اور سید تھے مگر مفتیِ اعظم سے ان کی عقیدت اور ان کی طرف اپنے ایک ہم وطن کی mخلصانہ رہنمائی اس سطوت و شوکت کا پتہ دیتی ہے جو ان بزرگ پیروں کے دلوں پر بھی حکمرانی کر رہی تھی۔ وہ محفلِ سماع کے عادی تھے مگر جب کبھی مفتیِ اعظم اجمیر شریف پہنچ جاتے شاہ صاحب بہت محتاط ہو جاتے اور کہتے کہ انھوں نے اگر دیکھ لیا تو پھر خیر نہیں۔
(۴) حضرت مولانا غلام آسی بلیاوی جو ایک سلسلے کے معروف پیر اور درسِ نظامی کے جید فاضل ہیں، ان سے جمشید پور وغیرہ میں اکثر میری ملاقات اور گفتگو رہتی۔ ایک بار فرمانے لگے کہ اس وقت drei اکابر ہیں: مفتیِ اعظم، حافظِ ملت، مجاہدِ ملت (مولانا شاہ حبیب الرحمن قادری اڑیسوی علیہ الرحمہ)۔ ان کے دم سے تقویٰ کا بھرم باقی ہے۔ خدا ان کا سایہ دراز کرے۔ ان کے بعد پھر کوئی ایسا نظر نہیں آتا۔
مجھے موصوف کی یہ بات بار بار یاد آتی ہے اور اس وقت سے آج تک برابر میرے کانوں میں گونجتی رہتی ہے۔ “ان کے دم سے تقویٰ کا بھرم باقی ہے” انھوں نے بڑی تنقیدی نگاہ سے جائزہ لیتے ہوئے یہ کہا تھا اور خود میں بھی جب غور کرتا ہوں تو ان کا قول حرف بحرف صحیح نظر آتا ہے۔ یہ تو اکثر حضرات کو علم ہے کہ مفتیِ اعظم قدس سرہ کی حیات تک جب کسی مسئلے میں کوئی خلجان ہوتا یا کوئی اختلاف نظر آتا تو مفتیِ اعظم کا فیصلہ حرفِ آخر سمجھا جاتا اور تمام علما ان کی فقہی و کلامی باریک بینی کے قائل نظر آتے۔ صرف لاؤڈ اسپیکر پر نماز پڑھانے کے مسئلے میں بعض علما نے ان سے اختلاف کیا اور اپنے اختلاف پر قائم رہ گئے مگر مفتیِ اعظم نے جو دلائل پیش کیے ان کا جواب آج تک نہ ہو سکا۔ اور جمہور علما نے حضرت ہی کی تائید کی۔
اس اختلاف کا خاص پہلو یہ ہے کہ اس خصوص میں مفتیِ اعظم نے اپنی تحریروں میں صرف مسئلے کا اثبات کیا اور کسی کی ذات یا علم و فن کو طنز و تعریض کا نشانہ ہرگز نہ بنایا، نہ ہی اس اختلاف کو علمی اختلاف کی سرحدوں سے کسی طرح متجاوز ہونے دیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اختلاف کرنے والے بھی حضرت کے ادب و احترام سے دور اور ان کی عظمت و عبقریت کے اعتراف سے منحرف نہ ہو سکے اور قلم کی متانت و شرافت بھی آلودہ نہ ہو سکی۔ اس صورتِ حال سے مفتیِ اعظم کا اخلاصِ عمل، ان کی سنجیدگی، ان کی بالغ نظری اور حکمت و تدبر سبھی عیاں ہے۔ یقیناً اس میں ہمارے لیے بہت عظیم درسِ عبرت ہے۔ [مقالاتِ مصباحی، ص: 402 تا 404]
