Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حافظ ملت تعلیمی ماحول میں (قسط: سوم)|علامہ محمد احمد مصباحی

حافظ ملت تعلیمی ماحول میں (قسط: سوم)
عنوان: حافظ ملت تعلیمی ماحول میں (قسط: سوم)
تحریر: علامہ محمد احمد مصباحی
پیش کش: محمد احسان مصطفیٰ

(۳) بحیثیت سربراہ اعلیٰ

۱۹۷۰ء میں وہ مجلس انتظامیہ کے صدر اور ادارہ کے سربراہ اعلیٰ کی حیثیت سے منتخب ہوئے، مگر ان کے اوپر اس منصب کا کوئی جاہ و جلال نظر نہ آیا، انھوں نے بارہا فرمایا کہ “میں کل بھی ادارہ کا خادم تھا اور آج بھی ادارہ کا خادم ہی ہوں”۔

جہاں تک منصبی ذمہ داریوں کی انجام دہی کا سوال ہے میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ الجامعۃ الاشرفیہ کی فلک بوس عمارت، اس کی تاحد نظر وسیع و عریض زمین، اس کی نوع بہ نوع عمارتیں سب حافظ ملت کے منصبِ صدارت کا عطیہ ہیں۔ وہ بڑی تیزی کے ساتھ اپنے منصوبوں کو عملی شکل دینا چاہتے تھے، مگر کوئی بھی بڑا کام متحرک و فعال رفقائے کار کی تن دہی اور سرگرمی کے بعد ہی پورا ہو سکتا ہے۔ انھوں نے جامعہ کی عمارت بننے کے بعد ہی لائبریری کو مستقل حیثیت دی۔ اس کے لیے مولانا عبد المبین نعمانی جیسے باخبر، ملت کے درد مند، علم و فن کے شیدا اور متحرک و فعال شخص کو لائبریرین مقرر کیا، مولانا نے دیکھتے دیکھتے کتابوں کے گودام کو ایک باضابطہ لائبریری میں تبدیل کر دیا اور اس کی ثروت و ترقی کے لیے سرگرم عمل ہو گئے۔

باضابطہ شعبہ تجوید قائم کیا اور اس کے لیے اپنے احباب کے انتخاب پر شیخ القراء قاری محب الدین صاحب کی خدمت میں ایک عالم کو بھیج کر تجوید کی تکمیل کرائی، اسی طرح جامعہ کا ترجمان “ماہنامہ اشرفیہ” جاری کیا اور مولانا بدر القادری کو بلا کر اس خدمت پر لگایا پھر خود اس کی توسیع و اشاعت کے لیے سرگرم رہے۔ سنی دارالاشاعت حضرت مولانا عبد الرؤف صاحب علیہ الرحمہ کے اچانک انتقال سے بے یار و مددگار ہو چکا تھا، اس کے لیے مفتی عبد المنان صاحب اعظمی کو منتخب کیا، انگریزی تعلیم کے لیے ماسٹر آفتاب احمد صاحب کو جو جامعہ ملیہ دہلی میں کام کر رہے تھے بلا کر اشرفیہ کا استاذ مقرر کیا، طلبہ میں عربی لکھنے بولنے کی مہارت پیدا کرنے کے لیے مولانا یسین اختر اعظمی اور مولانا افتخار احمد قادری کی خدمات حاصل کیں، ان کی یہ بھی خواہش تھی کہ جامعہ ازہر سے رابطہ قائم کیا جائے، اور وہاں کچھ لوگوں کو بھیج کر تعلیم دلائی جائے، پھر اشرفیہ میں ان کی خدمات حاصل کی جائیں، اس سلسلے میں علامہ ارشد القادری نے برطانیہ جاتے ہوئے ازہر کے ذمہ داران سے ملاقات کر کے کچھ سلسلہ جنبانی بھی کی مگر کام آج تک مؤخر ہی ہوتا جا رہا ہے۔ یہ سب داخلی اور معنوی طور پر اشرفیہ کو سنوارنے اور بڑھانے کی کوششیں تھیں، جو شاید عام لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہوں، ظاہری طور پر تعمیرات کے سلسلے میں انھوں نے باوجود پیری و ضعیفی کے ملک بھر کے دورے کیے اور اشرفیہ کو لوگوں کی امیدوں کا مرکز اور دلوں کی دھڑکن بنا دیا، اسے کون نہیں جانتا۔

وہ مدرسین کی ضروریات اور ان کی پریشانیوں سے باخبر تھے، انھوں نے خود عمر کا بیشتر حصہ اسی دشت کی سیاحی میں گزارا تھا اگرچہ انھوں نے اپنے استاذ کے حکم کے مطابق ادارے کا کام ہمیشہ خدمت کی نیت سے کیا اور تنخواہ کی کمی بیشی سے کوئی مطلب نہ رکھا، نہ کبھی اضافہ تنخواہ کی درخواست ارکانِ عالیہ کی خدمت میں گزاری لیکن وہ جانتے تھے کہ سات سات ماہ اور گیارہ گیارہ ماہ تک تنخواہیں موقوف رہنے سے مدرسین پر کیا گزری، دوسرے مدرسین کے اضافوں کی فکر سے بھی وہ غافل نہ ہوتے، نہ ہی کبھی کوئی منفی رویہ اختیار کرتے۔

سربراہ اعلیٰ ہونے کے بعد وہ بلا درخواست اضافہ کی راہ نکالتے، ایک بار حضرت کی مجلس میں لوگوں نے اپنے کاروبار کی پریشانی اور گرانی کی زیادتی کا تذکرہ کیا جیسا کہ عموماً ایسے موقعوں پر ہوتا ہے کہ ہر شخص اپنی پوری لسانی و فکری صلاحیت کے ساتھ آٹا، دال، چاول، سوت، ریشم، مسرائز کا بھاؤ اور بازار کا اتار چڑھاؤ بتانے لگتا ہے اور کوئی گوشہ تاریک نہیں چھوڑنا چاہتا، حضرت کے سامنے بھی لوگ بیان کرتے رہے اور حضرت یہ ساری باتیں بڑی متانت اور دردمندی سے سنتے رہے، بتانے والوں میں زیادہ تر مجلس عاملہ کے ارکان ہی تھے، آخر میں فرمایا کہ جب گرانی کا یہ حال ہے تو مدرسین کی تنخواہوں میں اضافہ ضروری ہے، دوسرے دن میٹنگ طلب کی اور بغیر کسی درخواست اور تحریک کے تمام مدرسین کی تنخواہوں میں اضافہ کر دیا کسی رکن میں اختلاف کی مجال بھی نہ تھی کیوں کہ ایک دن پہلے خود ہی سب کچھ سنا چکے تھے۔ یہ واقعہ حضرت نے ایک موقعے پر خود مجھ سے بیان کیا۔

مولانا یسین اختر صاحب بتاتے ہیں کہ ہم لوگ بہت سی پریشانیوں اور بے التفاتیوں کا شکار رہتے مگر حضرت کی مجلس میں پہنچتے تو ان کا ایک ہی جملہ ہمارے سارے غم و الم کافور کر دیتا۔ وہ فرماتے: اشرفیہ آپ کا ہے، آپ کو رہنا اور کام کرنا ہے۔ ۳۱ مئی ۱۹۷۶ء کو ان کا وصال ہوا تو پورے مبارک پور ہی نہیں پورے ملک میں افسردگی اور غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی، اشرفیہ کے در و دیوار کی پژمردگی اور اداسی کا کیا حال رہا ہو گا، اس منظر کو اشرفیہ کی فضا میں سانس لینے اور شب و روز گزارنے والے حساس شاعر نے دیکھا اور محسوس کیا تو اسے الفاظ کے قالب میں اس طرح ڈھالا ہے:

سہمی سہمی سی فضا ہے تھر تھراتا ہے جگر
رہنمائے ملت اسلامیاں جاتا رہا

سوز و جذب اندروں سے جس کے اٹھتا تھا دھواں
قوم کا غم خوار وہ قلب تپاں جاتا رہا

گلستان جامعہ پر چھا گئی پژمردگی
خون دل سے سینچنے والا کہاں جاتا رہا

سوال جامعہ کا ذرہ ذرہ کر رہا ہے یہ
ہائے اختر میرا وہ محسن کہاں جاتا رہا

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!