Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

مطالعہ کیا ہے اس کی اہمیت اور فوائد|محمد عارف رضا قادری امجدی

مطالعہ کیا ہے اس کی اہمیت اور فوائد
عنوان: مطالعہ کیا ہے اس کی اہمیت اور فوائد
تحریر: محمد عارف رضا قادری امجدی
پیش کش: جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی

مطالعہ کے لغت کے اعتبار سے کئی معانی ہیں:

  1. کسی چیز کو اس سے واقفیت حاصل کرنے کی غرض سے دیکھنا

  2. غور

  3. توجہ اور دھیان

  4. کتاب بینی

جب کہ اصطلاح میں اس کی یہ تعریف ہے کہ بذریعہ تحریر مصنف یا مؤلف کے کلام کی مراد سمجھنا مطالعہ کہلاتا ہے۔

مطالعہ کا موضوع اور غرض و غایت

فن مطالعہ کا موضوع تحریر ہے اور خطا سے بچتے ہوئے مصنف کی غرض کو سمجھنے میں کامیابی اس فن کی غرض و غایت ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ [سورۃ الزمر: 9]

ترجمہ کنز الایمان: تم فرماؤ کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان۔

علم ایک ایسا نور اور روشنی ہے جس سے جہالت کے اندھیرے دور ہوتے ہیں اور انسان کا دل اور دماغ منور ہوتا ہے۔ علم کے ذریعے ہی انسان نیکی اور بدی میں فرق کرتا ہے۔ انہی کے ذریعے دماغ کی پوشیدہ صلاحیتیں بیدار ہوتی ہیں۔

چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے:

إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ [سورۃ آل عمران: 190]

ترجمہ کنز الایمان: بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لیے۔

دین کو سمجھنے کا بہترین ذریعہ علم ہے اور علم حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ دینی مطالعہ ہے، اور جو علم حاصل کرنے کی جستجو رکھتا ہے، علم حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، اللہ تعالی اس کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔

مالک ہیں خزانہ قدرت کے جو جس کو چاہیں دے ڈالیں
دی خلد جناب ربیعہ کو بگڑی لاکھوں کی بنائی ہے

مطالعہ کیوں ضروری ہے؟

حصول علم دین کے لیے مطالعہ انتہائی ضروری ہے کہ اچھی اور دینی معلومات سے بھرپور کتب کا مطالعہ نظر و فکر کی درستگی اور حصول علم کا بہترین ذریعہ ہے۔

مطالعہ علم دین کی جان ہے، اور مطالعہ سے اتنا علم حاصل ہوگا، گویا جس کی انتہا نہیں۔ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

إِنَّمَا الْعِلْمُ بِالتَّعَلُّمِ [صحيح البخاري، كتاب العلم، باب العلم قبل القول والعمل، ص: 91]

یعنی علم سیکھنے سے ہی آتا ہے۔

مطالعہ کسی کتاب، مضمون، رسالے یا تحریر کو غور و فکر کے ساتھ پڑھنے اور سمجھنے کا نام ہے۔ مطالعہ صرف الفاظ پڑھنے کا نام نہیں، بلکہ ان کے مفہوم، پیغام اور علم کو حاصل کرنے کا عمل ہے۔ جو شخص مطالعہ کرتا ہے وہ اپنے علم، سوچ اور تجربے میں اضافہ کرتا ہے۔

مطالعہ ایمان کی مضبوطی اور پختگی کا باعث ہے مگر یہ اس وقت ہوگا جب کسی کتاب کو پڑھنے کے بعد ایمان کو تازگی ملے اور انسان کے دل میں موجود توحید و رسالت کی شمع مزید روشن ہو جائے۔ اس لیے جب کوئی شخص ایمان کو نور بخشنے والی معتبر و مستند کتب، جیسے کہ تمہید الایمان، بہار شریعت کا پہلا حصہ، جاء الحق، حافظ ملت عبدالعزیز محدث مبارک پوری رحمۃ اللہ علیہ کا رسالہ المصباح الجدید بنام حق و باطل کا فرق کا مطالعہ کرتا ہے تو ایمان کو پختگی ملتی ہے، اور اس کی نورانیت میں اضافہ ہوتا ہے اور مطالعہ کرنے والا حقیقی مسلمان بنتا ہے۔

چالیس سال کا معمول

سیدنا امام حسن بن زیاد کوفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میرے چالیس سال اس طرح گزرے ہیں کہ سوتے جاگتے میرے سینے پر کتاب رہی۔ یعنی مطالعہ کرتے ہوئے چالیس سال گزارے۔

حضرت سیدنا امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا: کیا حافظے کو قوی کرنے کے لیے بھی کوئی دوا ہے؟ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: دوا کا تو مجھے معلوم نہیں، البتہ آدمی کے انہماک اور دائمی مطالعے کو میں نے قوت حافظہ کے لیے مفید ترین پایا ہے۔

مطالعہ سے عقل و شعور میں اضافہ ہوتا ہے۔ باشعور انسان ہمیشہ کامیابیاں اور عزتیں سمیٹتا ہے اور بے شعور کے حصے میں اکثر ناکامی و ذلت آتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ باشعور انسان یہ سیکھ جاتا ہے کہ کہاں کیا بولنا ہے اور کیا کیا کرنا ہے، یعنی عاقل انسان سوچ سمجھ کر قول و فعل ادا کرتا ہے، اور بے شعور کو سوچنے سمجھنے کی نوبت ہی نہیں۔ لہذا شعور کی بیداری میں جہاں دیگر عوامل جیسے مشاہدہ و تجربہ کردار ادا کرتے ہیں وہیں مطالعہ بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

مطالعہ کے فوائد

  1. علم میں اضافہ ہوتا ہے۔

  2. عقل اور سمجھ بوجھ میں ترقی ہوتی ہے۔

  3. گفتگو اور لکھنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔

  4. نئی نئی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔

  5. سوچنے اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت بڑھتی ہے۔

  6. وقت کا بہترین استعمال ہوتا ہے۔

  7. دینی اور اخلاقی شعور میں اضافہ ہوتا ہے۔

  8. کامیابی حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔

  9. دنیا اور معاشرے کے بارے میں آگاہی بڑھتی ہے۔

  10. شخصیت میں نکھار اور اعتماد پیدا ہوتا ہے۔

حاصل مطالعہ کو محفوظ کرنے کی دو ہی صورتیں ہیں، پہلی یہ کہ قوت حافظہ مضبوط رہے تو ذہن میں محفوظ کر لیا جائے اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہے تو پھر اسے اپنے پاس لکھ لیا جائے اور یہ دوسری صورت ہی زیادہ مفید ہے۔

آخری باتیں: مطالعہ کیجیے، مطالعہ کیجیے اور بس مطالعہ کیجیے۔

خلاصہ کلام

مطالعہ انسان کی زندگی کا قیمتی سرمایہ ہے۔ جو شخص کتابوں سے دوستی کر لیتا ہے، وہ علم، حکمت اور کامیابی کی دولت حاصل کر لیتا ہے۔

خوبصورت قول

“مطالعہ وہ چراغ ہے جو جہالت کے اندھیروں کو علم کی روشنی میں بدل دیتا ہے۔”

حضرت سیدنا شیخ ابو طالب مکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: عمل سے پہلے علم ضروری ہے کیونکہ عمل کے فرض ہونے کی وجہ سے اس کا علم حاصل کرنا بھی فرض ہو جاتا ہے۔ [قوت القلوب، الفصل الحادی والثلاثون، ج: 10، ص: 229]

بزرگان دین کے ارشادات

حضرت سیدنا امام ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا حافظے کی دوا کیا ہے؟ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا: کتب کا مطالعہ کرتے رہنا حافظے کی مضبوطی کے لیے بہترین دوا ہے۔ [جامع بیان العلم، ص: 1-5]

علماء کرام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کتب فقہ کا مطالعہ کرنا قیام اللیل یعنی رات میں نفل نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ [الدر المختار، ج: 1، ص: 101]

مطالعہ کی وجہ سے انسان کے ذہن اور دماغ کو تقویت ملتی ہے

یہاں ہمارے وہ دوست توجہ فرمائیں جو کہتے ہیں ہمیں سبق یاد نہیں ہوتا، یاد کرتے ہیں اور بھول جاتے ہیں۔ وہ طالب علم یہاں سے نصیحت پکڑیں اور اچھی کتابوں کے مطالعے کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیں، ساتھ ہی ساتھ رب کے حضور دعا مانگیں، پھر دیکھیں کہ یاد ہوتا ہے یا نہیں۔

ایمان مضبوط ہوتا ہے

تلاوت، نماز، روزہ اور دیگر عبادات تو ایمان کی مضبوطی کا سبب ہیں ہی، اس کے ساتھ ساتھ اگر صحیح دینی کتب کا اور سنی صحیح العقیدہ عالم کے رسائل وغیرہ کا مطالعہ کیا جائے جو جنت کی طرف راغب کریں، جہنم سے دور کریں، وہ کتاب جو انسان کو صراط مستقیم پر لے آئے، وہ کتاب جو آپ کے عقائد کی درستگی کا سبب بنے، وہ کتاب جو آپ کے دل و دماغ سے شکوک و شبہات کا ازالہ کرے، بلاشبہ اس کتاب کا مطالعہ کرنے سے آپ کا ایمان مضبوط ہوگا۔

علم میں ترقی

مطالعہ سے علم بڑھتا ہے۔ یاد رہے کہ علم سیکھنے ہی سے آتا ہے۔ حدیث پاک میں ہے: بے شک علم سیکھنے سے آتا ہے۔ [کنزالایمان، ج: 1، ص: 14، حدیث: 29252]

اور سیکھنے کا ایک بہترین ذریعہ مطالعہ بھی ہے۔

وقت کا درست استعمال

مطالعہ کرنے سے انسان کے وقت کی حفاظت ہوتی ہے۔ وقت کا درست استعمال کرنے والا آدمی ہی کامیاب ہے، اس شخص کے برعکس جو اپنے وقت کا درست استعمال نہ کر سکے، اپنے جدول کو فالو نہ کر سکے، جو جی میں آئے کر لے، اپنا وقت برباد کرتا پھرے، اپنا وقت ضائع کرے۔ ایسا شخص کامیاب نہیں ہو سکتا۔ کتابوں کا مطالعہ کرنے سے وقت کا درست استعمال ہو سکتا ہے۔

مطالعہ کے لیے وقت

فرض کریں ایک شخص کی عمر 65 سال ہے اور وہ اپنی تعلیم سے فارغ ہو کر پچیس سال کی عمر میں مطالعہ شروع کرے، تو وہ چالیس سال مطالعہ کرے گا اور اس مدت میں وہ روز صرف بارہ منٹ میں چار صفحات کے مطالعہ کے ذریعے 57600 صفحات پڑھنے میں کامیاب ہو جائے گا، اور اگر ایک کتاب کے سو صفحات شمار کریں تو 576 کتابوں کا مطالعہ ہو جائے گا۔ تو آپ بھی روزانہ بارہ منٹ مطالعہ کرنے کی نیت فرما لیں۔

مطالعہ کا شوق نہ صرف آپ کو دماغی امراض سے تحفظ دیتا ہے بلکہ ذہنی تناؤ کو بھی ختم کرتا ہے، اور لوگوں سے دوستی کو مضبوط کرتا ہے۔

جو نور علمی چاہیے تو کیجیے مطالعہ
ہاں معرفت بھی چاہیے تو کیجیے مطالعہ

نظر بھی ہو وسیع تر دماغ بھی ہو تیز تر
بھلے برے میں فرق اور کام کا سلیقہ بھی

اگر نکتہ سنجی چاہیے تو کیجیے مطالعہ
معارف کتاب اور سیرت رسول سے

جو رہنمائی چاہیے تو کیجیے مطالعہ
عارف یہی پیام ہے علم و عمل کی راہ میں

دونوں جہاں کی کامیابی چاہیے تو مطالعہ کیجیے
اللہ پاک ہمیں وقت کی قدر کرنے والا بنائے

آمین۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں زیادہ سے زیادہ دینی کتب کا مطالعہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!