Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

ناقص تصورِ دین: مسلم لڑکیوں کے ارتداد کا سبب|عبدالغفار صدیقی

ناقص تصورِ دین: مسلم لڑکیوں کے ارتداد کا سبب
عنوان: ناقص تصورِ دین: مسلم لڑکیوں کے ارتداد کا سبب
تحریر: عبدالغفار صدیقی
پیش کش: نازیہ ظفر بنت محمد شہاب الدین
منجانب: لباب اکیڈمی

گزشتہ دنوں ایک حضرت کا بیان اخبارات کی سرخی بنا کہ “مسلم لڑکیوں کے ارتداد کا سبب مخلوط نظام تعلیم ہے”۔ اس بیان کے ساتھ حضرت نے یہ وضاحت بھی فرما دی تھی کہ میں لڑکیوں کی تعلیم کا مخالف نہیں ہوں، بلکہ ان کی تعلیم کا حامی ہوں۔ البتہ ان کے لیے تعلیمی ادارے الگ ہونے چاہئیں۔ ظاہر ہے اس بات سے کون اتفاق نہیں کرے گا لیکن یہ کام کون کرے گا؟ کیا وہ سرکاریں جو ہماری بہنوں کے سر سے حجاب نوچ کر پھینک دینا چاہتی ہیں، ہماری بچیوں کے لیے الگ اسکول اور کالج بنائیں گی؟ سرکاریں تو ان اداروں کو بھی بند کرنا چاہتی ہیں جو چل رہے ہیں۔

کسی زمانے میں جی جی آئی سی (گورنمنٹ گرلز انٹر کالج) قائم ہوا کرتے تھے۔ شاید وہ زمانہ آزادی سے پہلے کا تھا یا فوراً بعد کا۔ اس کے بعد اول تو سرکاری اسکول ہی کم تعداد میں قائم ہوئے اور اگر کہیں قائم بھی ہوئے تو وہ مخلوط تعلیم ہی تھے۔ البتہ مسلم امت نے اپنے طور پر یہ کام کیا تھا، لیکن اس کی حیثیت اونٹ کے منہ میں زیرے کی تھی۔ امت کے تعلیمی ادارے آپسی جھگڑوں کی نذر ہو کر اپنی افادیت کھو چکے ہیں لیکن حضرت کی یہ بات کہ مخلوط نظام تعلیم کی وجہ سے مسلم لڑکیاں ارتداد کا شکار ہو رہی ہیں، کچھ ہضم نہیں ہو رہی ہے۔

ایک زمانہ تھا کہ مسلمان لڑکیوں کے بارے میں یہ کوئی سوچ نہیں سکتا تھا کہ وہ اپنا دین چھوڑ دیں گی۔ اگر ان سے کوئی غیر مسلم لڑکا عشق کرنے کی غلطی کر بیٹھتا تو اسے اپنے مذہب سے ہاتھ دھونا پڑتا تھا۔ اسی طرح غیر مسلم لڑکیاں اسلام قبول کر کے مسلم سماج کا حصہ بنتی تھیں۔ دین کو چھوڑنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ تبدیلیِ مذہب کا عمل انسان کی دنیا اور آخرت دونوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس ارتداد کا بڑا سبب مسلم معاشرے میں دین کے ناقص تصور کا چلن ہے۔ خاص طور پر خواتین کے تعلق سے ہمارے یہاں ایسی باتیں رائج ہیں جو دین کا حصہ نہیں ہیں۔ حصولِ تعلیم کوئی جرم نہیں، اسلام نے اس معاملے میں کوئی جنسی تفریق نہیں کی، لیکن ہم نے ان پر تعلیم کے دروازے بند رکھے۔

معاشیات کا باب اٹھا کر دیکھیں گے تو آپ دنگ رہ جائیں گے کہ دورِ رسالت اور اس کے بعد کے ادوار میں مسلم خواتین نے صنعت و حرفت اور تجارت میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا وہ خاتون ہیں جنہوں نے اکیلے زندگی کے ہر میدان میں نمایاں رول ادا کیا، انہوں نے علمِ حدیث میں خواتین میں سب سے زیادہ احادیث روایت کیں، میراث کا علم سیکھا، مرد بھی ان سے میراث کا علم سیکھتے تھے، وہ علمِ طب کی بھی ماہر تھیں، وہ شاعرہ بھی تھیں۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا چمڑے کی دستکار تھیں، ام مبشر انصاریہ رضی اللہ عنہا زراعت کی ماہر تھیں، ام عطیہ رضی اللہ عنہا طبیب اور جراح تھیں یعنی آج کل کی زبان میں سرجن تھیں، حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا بڑی تاجرہ تھیں، حضرت خنساء رضی اللہ عنہا کی شاعری مجاہدین کے حوصلے کو بڑھاتی تھی، حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا میدانِ جنگ میں خواتین کی قیادت کرتی تھیں، تمام جنگوں میں رسد کا کام خواتین کے ذمہ ہوتا تھا، وہ زخمیوں کو پانی پلانے کا کام کرتی تھیں، وہ تیر انداز بھی تھیں اور تلوار بھی چلاتی تھیں، وہ خیمے بناتیں، تیر بناتیں اور تلواریں تیز کرتی تھیں۔ حضرت اسماء بنت مخرمہ رضی اللہ عنہا عطر کا کاروبار کرتی تھیں، حضرت خولہ رضی اللہ عنہا خود کاشت کرتیں اور اپنے شوہر پر خرچ کرتی تھیں۔ حضرت شفاء رضی اللہ عنہا عہدِ رسالت میں مدینہ مارکیٹ کی نگراں مقرر کی گئی تھیں۔

معاشرتی زندگی میں اسلام کی تعلیمات اٹھا کر دیکھ لیجیے، اسلام وہ پہلا دین ہے جس نے نکاح سے پہلے لڑکی کی مرضی معلوم کرنے کو صحتِ نکاح کے لیے شرط قرار دیا، جس نے شوہر کے مظالم سے بچنے کے لیے خلع کا طریقہ بتایا، جس نے شوہر سے کہا کہ جو لقمہ تم اپنی بیوی کو کھلاتے ہو وہ صدقہ یعنی نیکی ہے، جس نے باپ، شوہر اور اولاد کی جائیداد میں عورت کا حصہ مقرر کر دیا لیکن آج ذرا مسلم معاشرے کا جائزہ لیجیے، ہمارے بیش تر گھروں میں خواتین کو اسلام کے عطا کردہ حقوق حاصل نہیں ہیں۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم خواتین کے حقوق کے موضوع پر اظہارِ خیال اس لیے نہیں کرتے کہیں خواتین اپنے حقوق نہ مانگنے لگیں۔

کوئی شخص جب دیکھتا ہے کہ اس کا اپنا دین اسے باعزت زندگی گزارنے کے حق سے محروم رکھتا ہے تو وہ دین چھوڑنے کے بارے میں سوچتا ہے۔ یہی ملک ہے جہاں ستی کی رسم نے ہزاروں ہندو خواتین کو دین چھوڑنے پر مجبور کیا۔ ہزاروں بیواؤں نے اس لیے اسلام قبول کیا کہ ان کے اپنے دین میں بیواؤں کی دوسری شادی کی اجازت نہ تھی۔ کتنی ہی خواتین جہیز کی لعنت سے مجبور ہو کر اسلام کے دامنِ عافیت میں آئیں، لیکن افسوس آج وہی لعنت ہمارے یہاں در آئی اور ہزاروں لڑکیاں بن بیاہے جیون گزارنے پر مجبور ہیں۔ اسلام کی جانب خواتین اس لیے جوق در جوق آئیں کہ انہیں یہ محسوس ہوا کہ اس دین میں ان کی عزت و آبرو محفوظ ہے اور ان کو معاشرے میں مساوی حقوق حاصل ہیں۔ دورِ اول کے اسلام قبول کرنے والوں میں زیادہ تعداد کمزوروں کی تھی، بادشاہ نجاشی نے جب مکہ کے وفد سے سوال کیا تھا کہ “محمد کا دین قبول کرنے والے کون لوگ ہیں؟” تو وفد نے جواب دیا تھا کہ سماج کے کمزور اور غلام۔ کسی سماج کے کمزور اور غلام کسی دین کو اسی وقت قبول کرتے ہیں جب انہیں اس دین میں عافیت محسوس ہوتی ہے۔

آج ہم نے اسلام کی جو تشریح سماج کے سامنے پیش کی ہے اور جو تصور یہ مسلم معاشرہ پیش کر رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے وہ لڑکیاں جو دین کی تعلیم سے ناآشنا ہیں اور جنہیں اسلامی ماحول میسر نہیں ہے، انہیں جب کسی غیر مسلم لڑکے میں دلچسپی پیدا ہوتی ہے اور ان کو اپنا روشن مستقبل اس کے ساتھ زندگی گزارنے میں نظر آتا ہے تو وہ اس کے ساتھ ہو لیتی ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ ضرور کوئی نیا دین قبول کر لیتی ہیں، بلکہ بیش تر معاملات میں تو ان دونوں کا کوئی دین ہی نہیں ہوتا اور کہیں ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ دونوں اپنے اپنے دین پر قائم رہتے ہوئے زندگی گزار رہے ہیں، لیکن اتنا ہونا بھی امتِ مسلمہ کے لیے لمحۂ فکریہ ہونا چاہیے۔ کیا ہم صرف یہ کہہ کر اطمینان کی سانس لے لیں کہ اس کا سبب مخلوط نظام تعلیم ہے؟ اگر ہے بھی تو اس کا تدارک کون کرے گا؟

آج کے دور میں جہاں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے خلوت گاہوں تک میں رسائی حاصل کر لی ہو، آپ مخلوط سوسائٹی سے کس طرح کنارہ کر سکتے ہیں۔ میری معلومات کی حد تک صرف تعلیم یافتہ مسلم لڑکیاں ہی اسلام نہیں چھوڑ رہی ہیں، بلکہ بعض کم تعلیم یافتہ لڑکیاں بھی غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ بھاگ رہی ہیں۔ ایک وجہ مسلمانوں کا محکوم ہونا ہے اور محکوم قوموں میں ارتداد کی بیماری ہمیشہ پھیلتی ہے، لیکن ارتداد کی اصل وجہ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ مسلم سماج میں دین کے ناقص تصور کا چلن ہے۔ اس لیے عوام و خواص سے یہ بھی گزارش ہے کہ ایک بار اللہ کی کتاب کو اس زبان میں پڑھ کر دیکھ لیجیے جو آپ جانتے ہیں، آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اللہ نے آپ کی بیٹیوں اور بہنوں کو جو کچھ دیا ہے اگر وہ آپ انہیں دے دیں تو وہ کسی حال میں بھی اسلام کو چھوڑنا پسند نہیں کریں گی۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!