| عنوان: | تقلید شخصی کی شرعی حیثیت (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی |
| پیش کش: | اختری |
تقلید کا مادہ قلادہ ہے۔ قلادہ کے معنی پٹے کے ہیں۔ باب تفعیل میں جا کر اس کے معنی گلے میں پٹہ ڈالنے کے ہو گئے۔ اصطلاحِ شرع میں تقلید کے معنی علماء نے یہ لکھے:
تَسْلِيمُ قَوْلِ الْغَيْرِ بِلَا دَلِيلٍ
ترجمہ: دوسرے کی بات بلا دلیل مان لینا۔
اسی کو علامہ سمہودی نے عقد الفرید میں یوں بیان فرمایا:
التَّقْلِيدُ قَبُولُ الْقَوْلِ بِأَنْ يَعْتَقِدَ مِنْ غَيْرِ مَعْرِفَةِ دَلِيلٍ
ترجمہ: کسی کی بات دلیل جانے بغیر اس طرح مان لینا کہ اس پر اعتقاد جم جائے۔
اگر دلیل کے ذریعہ کسی بات کے حق ہونے کا اعتقاد ہو تو یہ تقلید نہیں بلا دلیل محض قائل کے ساتھ حسنِ ظن کی بنا پر اس کی کہی ہوئی بات پر اعتقاد جم جائے کہ چونکہ یہ شخص اعلیٰ درجے کا دین دار، صادق، امین اور علوم و فنون کا ماہر فائق ہے۔ اس لیے جو بات کہتا ہے وہ حق ہے، یہی تقلید ہے۔
معمولاتِ شرعیہ سے قطع نظر ہوتے ہوئے جب ہم روز مرہ کے حالات اور اپنی طرزِ زندگی پر نظر کرتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر لمحہ میں تقلید کے بندھنوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ اس میں عوام و خواص شہری، دیہاتی ہر طبقہ کے لوگ مساوی حصہ دار ہیں۔
آپ غور کریں۔ ایک بچہ ہوش سنبھالتے ہی اپنے ماں باپ، اپنے مربی کی تقلید کے سہارے پروان چڑھتا ہے۔ ایک بیمار اپنے معالج کی تقلید ہی کر کے شفایاب ہوتا ہے۔ ایک مستغیث کسی قانون داں وکیل کی تقلید کر کے ہی اپنا حق پاتا ہے۔ راستے سے نا بلد ایک راہ رو کسی راستہ بتانے والے کی تقلید کر کے ہی منزل مقصود تک پہنچتا ہے۔ ایک نا خواندہ اپنے معلم کی تقلید ہی سے صاحبِ علم و فضل بنتا ہے۔ صنعت و حرفت سے عاری کسی ماہر فن استاد کی تقلید کر کے ہی صنعت کار ہوتا ہے۔ یہ وہ روز مرہ کی باتیں ہیں کہ ان سے نہ تو انکار کی کوئی گنجائش ہے اور نہ بحث و تمحیص کی۔ ایک بنگالی کا بچہ اپنے ماں باپ کو دیکھتا ہے کہ وہ مچھلی بھات کھاتے ہیں تو وہ کوئی دلیل طلب کیے بغیر خود بھی مچھلی بھات کھانے لگتا ہے۔ دھوتی باندھنے لگتا ہے، بنگالی بولی سنتا ہے، تو خود بھی بنگالی بولنے لگتا ہے۔ یوں ہی پنجابی کا بچہ اپنے والدین کی عادت و خصلت دیکھ کر روٹی گوشت کھانے لگتا ہے۔ شلوار قمیص پہننے لگتا ہے۔ پگڑی باندھنے لگتا ہے۔ پنجابی بولنے لگتا ہے۔ یہی تقلید ہے۔
مکتب میں ایک بچہ گیا، معلم نے بچے کو ایک حرف پر انگلی رکھ کر بتایا کہ یہ “الف” ہے، بچے نے بلا دلیل مان لیا کہ یہ الف ہے۔ دوسرے حرف پر انگلی رکھ کر معلم نے بچے سے کہا: “با” بچے نے بلا بحث و تمحیص اسے مان لیا کہ یہ “با” ہے۔ کبھی کسی بچے نے اپنے استاد سے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ کیوں پہلے والے حرف کو “الف” کہتے ہیں اور دوسرے کو “با”۔ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ اگر بچہ اس وقت کیوں اور کیوں کے چکر میں پھنسا تو اصل تعلیم سے بھی محروم رہ جائے گا۔
ایک مستغیث وکیل کے یہاں جاتا ہے، اپنا مدعا بیان کرتا ہے، وکیل اسے مشورہ دیتا ہے کہ وہ تعزیراتِ ہند کی فلاں دفعہ کے ماتحت دعویٰ کرے۔ مستغیث بلا چوں و چرا وہی کرتا ہے، اسی کا نام تقلید ہے۔
ایک مریض، معالج کے یہاں گیا، اس نے مرض کی تحقیق کر کے اس کے لیے ایک نسخہ لکھا۔ دنیا کا کوئی مریض، حکیم، ڈاکٹر سے یہ بحث نہیں کرتا کہ میری بیماری کا نسخہ یہی کیوں ہے۔ یہ دوائیں کس طرح میرا مرض دور کریں گی، جو مریض اس بحث میں پڑا وہ اچھا ہو چکا؟
آپ ایک مسافت طے کر رہے ہیں۔ ایک چوراہے پر پہنچ کر حیرت زدہ ہو کر کھڑے ہو گئے کہ اب دائیں جائیں کہ بائیں یا سیدھے، آگے چلے چلیں۔ اچانک کوئی مقامی آدمی آ گیا۔ آپ اس سے سوال کرتے ہیں کہ فلاں جگہ کون سا راستہ جائے گا؟ وہ جدھر بتاتا ہے، آپ اس کی کورانہ تقلید کرتے ہوئے بلا دلیل اسی راستے پر چل کھڑے ہوتے ہیں۔
اب آپ حضرات غور کریں! اگر ہم تقلید کو اپنے تمدن سے نکال دیں، تو ہماری معیشت کی گاڑی ایک انچ آگے نہیں چل سکے گی۔ ہم اپنی زندگی کے گوشہ گوشہ میں تقلید کے محتاج ہیں۔ اور یہ احتیاج قوم کے ہر فرد کو عام ہے۔ جس طرح ایک جاہل بیماری میں ڈاکٹر کا، قانونی ضرورت میں وکیل کا، راستہ معلوم نہ ہونے کی صورت میں رہنما کی تقلید کا محتاج ہے، اسی طرح ایک عالم بھی اور جس طرح ایک دیہاتی خورد و نوش، بول چال، تعلیم و تربیت میں اپنے ماں باپ، استاد کا مقلد ہے، اسی طرح ایک شہری بھی۔
اب اگر تقلید کو ہم اپنے تمدن سے نکال دیں تو ہماری زندگی مفلوج ہو کر رہ جائے گی۔ غور کریں! اگر بیمار، معالج کے نسخہ کو استعمال کرنے سے پہلے نسخہ کے رموز سمجھنے کے لیے بحث شروع کر دے۔ شرح اسباب و علامات قرابادین و معالجات نفسی کے اسباق پڑھنے لگے تو وہ اچھا تو کیا ہوگا، البتہ جلد ہی دوسرے عالم کا سفر کر دے گا۔ یوں ہی ایک مستغیث وکیل سے قانون کی لم سمجھے بغیر دعویٰ نہ کرے تو اس کا حق مل چکا۔ جب تک وہ ایل ایل بی کے نصاب پڑھنے کے لائق ہوگا، دعویٰ کی میعاد بھی ختم ہو جائے گی۔ اسی لیے ہر متمدن انسان کا اس پر اجماع ہے کہ جس فن کا انسان ماہر نہ ہو۔ اس میں کسی ماہر فن کی تقلید کرے۔ اسی لیے ہر فرد بشر کسی نہ کسی دوسرے فرد بشر کی کسی نہ کسی معاملہ میں تقلید کرتا ہوا دیکھا جاتا ہے۔
اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ تقلید ہماری زندگی کا جزوِ لاینفک ہے اور بغیر تقلید کے زندگی بسر کرنا ناممکن ہے، جس طرح ہم اپنی زندگی کے معمولات میں تقلید سے مستغنی نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح دینی معاملات میں بھی تقلید سے مفر نہیں۔ اس لیے امت کا اس پر اجماع ہے کہ تقلید فرض ہے۔ اس کی فرضیت اور وجوب ایسا قطعی ہے کہ منکرینِ تقلید کے پیشوائے اعظم، میاں نذیر حسین صاحب کو بھی معیار میں یہ لکھنا پڑا۔
سو جو کوئی اہل ایسے ذکر کا ہوگا عموماً خواہ کوئی ہو اس کا اتباع وقت لا علمی واجب ہوگا۔
اس لیے کسی بھی دیندار یا مدعی دین داری کی یہ ہمت نہیں کہ وہ تقلید کی فرضیت سے انکار کر سکے معاملہ یہ ہے کہ اگر تقلید کو فرض قرار نہ دیں تو پھر دین پر عمل متعذر اور شدید متعذر ہو جائے گا۔
اس کا بیان یہ ہے کہ ہم کو اللہ عزوجل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اطاعت اور اتباع کا حکم دیا ہے۔ اور اتباع و اطاعت موقوف ہے، قرآن و احادیث کے حصول پر نہ صرف حصول بلکہ یہ بھی جاننے پر کہ ان میں کون ناسخ ہے، کون منسوخ ہے، کون خاص ہے، کون عام ہے، کون ظاہر کون خفی، کون نص ہے، کون مشکل، کون مفسر ہے، کون مجمل، کون متشابہ وغیرہ وغیرہ سینکڑوں باتیں ایسی ہیں کہ جب تک انسان ان سب پر کامل عبور حاصل کر کے قرآن و حدیث سے مسائل کے استنباط و استخراج پر کامل دست گاہ نہ رکھے، قرآن و حدیث پر عمل ناممکن ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ کریں۔
سورۂ بقرہ کے تیسویں رکوع میں ہے:
وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا [سورۃ البقرۃ: 234]
ترجمہ: اور تم میں جو مریں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو یہ اپنے آپ کو چار مہینے دس دن روکے رہیں۔
اس کے بعد اسی سورہ کے اکتیسویں رکوع میں ہے:
وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِّأَزْوَاجِهِم مَّتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ [سورۃ البقرۃ: 240]
ترجمہ: اور تم میں جو مریں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو ان کے لیے وصیت کر جائیں کہ ان کو سال بھر کا نان و نفقہ دیا جائے اور گھر سے نہ نکالا جائے۔
ایک ہی سورہ ایک ہی پارہ میں ایک ہی مسئلہ کے بارے میں دو مختلف احکام ایسے مذکور ہیں کہ ان دونوں کو پڑھ کر آدمی چکر آ جائے کہ وہ عمل کس پر کرے۔ پہلی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بیوہ کی عدت چار مہینے دس دن ہے، اور دوسری آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بیوہ کی عدت ایک سال ہے۔ عربی زبان کا ماہر سے ماہر پروفیسر، عربی زبان پر کتنا ہی عبور رکھتا ہو۔ کس آیت پر عمل کرنا چاہیے، بتا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ اور آگے بڑھیے، ان دونوں آیتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ بیوہ خواہ حاملہ ہو یا غیر حاملہ اس کی عدت چار مہینے دس دن، یا ایک سال ہے مگر سورۂ طلاق میں حاملہ عورتوں کی عدت کے بارے میں فرمایا گیا:
وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ [سورۃ الطلاق: 4]
ترجمہ: اور حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جن لیں۔
ایک نقطہ پر آ کر سورہ بقرہ اور سورہ طلاق کی آیتوں میں شدید تعارض ہے۔ ایک شخص مرا، اس کی بیوی حاملہ ہے، تو اس کی عدت کیا ہوگی۔ چار مہینے دس دن یا ایک سال یا وضع حمل۔
اور سنتے چلیے، اسی سورہ بقرہ کے بائیسویں رکوع میں ہے:
كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ [سورۃ البقرۃ: 180]
ترجمہ: تم پر فرض کیا گیا کہ جب تم میں سے کسی کو موت آئے، اگر وہ کچھ مال چھوڑے تو وہ ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں کے لیے وصیت کرے، پرہیز گاروں پر یہ واجب ہے۔
لفظ اقربین عام ہے، اولاد، بھائی، بہن، دادا دادی وغیرہ سب کو شامل ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ شریعت نے کسی کا کوئی حصہ مقرر نہیں فرمایا۔ یہ مورث کی صواب دید پر ہے، جس کے لیے جتنا چاہے وصیت کر جائے، اس کی وصیت کے مطابق رشتہ داروں حتیٰ کہ ماں باپ کو بھی حصہ ملے گا، مگر سورۂ نساء کا دوسرا رکوع تلاوت کریں۔ اس میں ماں، باپ، میاں، بیوی، بیٹی، بیٹا، پوتا وغیرہ کے شرعی سہام کی تعین تفصیل کے ساتھ کی گئی ہے۔ عربی زبان کا کوئی کتابی ماہر کیوں نہ ہو، محض زبان دانی سے وہ اس گتھی کو ہرگز ہرگز نہیں سلجھا سکتا۔
یہ چند مثالیں میں نے قرآن مجید سے تقریب فہم کے لیے پیش کر دی ہیں۔ اگر استقصا کیا جائے تو ایک دفتر تیار ہو جائے۔ احادیث میں اس قسم کے اشکالات کی کوئی گنتی نہیں۔ اب اگر تقلید کو درمیان سے نکال دیا جائے تو فرض عین ہے کہ ہر مسلمان ان تمام تفصیلات کو جانے جن سے اس قسم کے اشکالات حل ہو سکیں۔ اب اگر ہر مسلمان کو ان تمام تفصیلات کے جاننے کا مکلف کیا جائے تو:
اولاً: یہ ممکن نہیں کہ ہر شخص ان تمام علوم کو حاصل کر سکے جو مجتہدین کے لیے ضروری و لازم ہیں۔
ثانیاً: اگر بالفرض یہ تمام علوم حاصل بھی ہو جائیں تو تفقہ فی الدین جو خالص خدا داد اور وہبی صلاحیت ہے، سب کو بلکہ اکثر کو کہاں نصیب؟
حضرت امام بخاری جیسے امام و ماہر حدیث نے اسی وہبی فضل خداوندی، تفقہ فی الدین کی کمی کی وجہ سے ایسے عجیب و غریب فتوے دیے کہ حیرت ہوتی ہے۔ مثلاً مشہور ہے کہ امام بخاری نے یہ فتویٰ دیا کہ اگر ایک لڑکا اور ایک لڑکی کسی بکری کا دودھ مدتِ رضاعت میں پی لیں تو حرمتِ رضاعت ہو جائے گی۔
بخاری کو اٹھا کر دیکھیے! آپ انگشت بدنداں رہ جائیں گے۔ ایک جگہ ہے کہ پانی میں نجاست پڑنے سے اس وقت تک ناپاک نہیں ہوگا جب تک پانی کے تین اوصاف میں سے ایک وصف رنگ یا بو یا مزہ نہ بدل جائے۔ دوسری جگہ ہے کہ اگر کتا کسی برتن میں منہ ڈال دے تو برتن ناپاک ہے۔ ایسا کہ اسے سات مرتبہ دھوؤ۔
اب آپ غور کریں! ایک برتن میں پانی ہے، اس میں کتے نے منہ ڈال دیا۔ پانی کا نہ رنگ بدلا، نہ بو، نہ مزہ۔ تو لازم کہ پانی پاک رہے اور برتن بہر حال ناپاک۔
امام بخاری کے حفظ و اتقان، تقویٰ پرہیز گاری روایتِ حدیث میں احتیاط کے کمال سے انکار نہیں، مگر تفقہ فی الدین ایک الگ نعمت ہے، جو ہر حافظ کو نہیں ملتی۔ اسی لیے تو ایک جلیل القدر محدث نے فرمایا:
الْأَحَادِيثُ مَضَلَّةٌ إِلَّا لِلْفُقَهَاءِ
اور حضرت امام اعمش قدس سرہ نے بڑی صفائی اور دیانت داری کے ساتھ حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ کے تفقہ فی الدین کا اعتراف کرتے ہوئے خود حضرت امام صاحب سے فرمایا:
نَحْنُ الصَّيَادِلَةُ وَأَنْتُمُ الْأَطِبَّاءُ
ہم دوا فروش ہیں اور تم لوگ طبیب ہو۔
ثالثاً: چلیے تفقہ فی الدین بھی حاصل ہو گیا، اور وہ تمام علوم و فنون جو لوازمِ اجتہاد ہیں، حاصل ہو جائیں تو دین داری اور للہیت کا آج کتنا فقدان ہے۔ اسے کون نہیں جانتا۔ حال یہ ہے کہ بہت سے ابوحنیفۂ دوراں اور نعمانِ زماں بننے والے جوشِ عداوت و وفورِ محبت و افراطِ عقیدت کی بنیاد پر اپنے نوکِ قلم سے کیا کیا گل کھلائے، اس کی تھوڑی سی سیر کرتے چلیں۔
-
سارے دیوبندیوں اور غیر مقلدین نے اسماعیل کی “ایضاح الحق” کی ایک عبارت پر اسے کافر گمراہ ہونے کا فتویٰ دیا۔ مگر جب معلوم ہوا کہ یہ تو ہمارے طائفہ کے امام کی عبارت ہے تو سب کو سانپ سونگھ گیا۔
-
ابھی چند دن کی بات ہے کہ مفتی دیوبندی مولوی مہدی حسن نے جناب قاری طیب صاحب کی ایک عبارت پر فتویٰ دیا کہ اس میں الحاد ہے۔ مگر جب معلوم ہوا کہ یہ تو ہمارے آقا کی عبارت ہے تو فتویٰ بدل گیا۔
