Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

قربانی کی حقیقت اور حضرت ابراہیم و اسماعیل کی سنت (دوسری قسط) | محمد اشفاق عالم امجدی

قربانی کی حقیقت اور حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کی سنت (دوسری قسط)
عنوان: قربانی کی حقیقت اور حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کی سنت (دوسری قسط)
تحریر: محمد اشفاق عالم امجدی علیمی (بچباری آباد پور کٹہار، بہار)
پیش کش: شاہین صبا نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی اتر پردیش

حضرت اسماعیل کی رضامندی

جب حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خواب کے ذریعہ اللہ کی جانب سے یہ حکم ہو گیا کہ وہ اپنے لختِ جگر کو اللہ کی راہ میں قربان کر دیں تو آپ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اس خواب اور حکمِ خداوندی سے آگاہ فرمایا، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی حکمِ خداوندی پر رضامندی کے حوالے سے قرآنِ پاک ارشاد فرماتا ہے:

قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ

کہا اے میرے باپ کیجئے جس بات کا آپ کو حکم ہوتا ہے، خدا نے چاہا تو قریب ہے آپ مجھے صابر پائیں گے۔

حضرت اسماعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام جانتے تھے کہ ایک نہ ایک دن موت کا آنا یقینی ہے تو کیوں نہ اس جان کو اللہ کے حکم کے آگے سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے قربان کر دیا جائے۔ اسی لیے حضرت اسماعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی جان کی قربانی پیش کرنے پر راضی ہو گئے۔

یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی؟

حقیقت یہ ہے کہ اللہ عزوجل کی جانب سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی آزمائش اور وہ بھی اتنی عظیم آزمائش کہ ان سے انہیں کی جان کو قربان کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے اور وہ اپنی جان کو قربان کرنے کے لیے راضی ہیں محض اس لیے کہ یہ اللہ عزوجل کا حکم ہے اور حکمِ خدا کی پابندی بندوں کا فرض ہوتا ہے۔ ہمیں بھی اللہ عزوجل آزماتا ہے، ہمارا بھی اس دنیا میں امتحان ہوتا ہے، کبھی ہمیں فقر و فاقہ میں مبتلا کر دیا جاتا ہے، کبھی ہماری نظروں کے سامنے ہمارا لختِ جگر، نورِ نظر دم توڑ دیتا ہے، کبھی ہمیں بیماریوں سے دوچار کر دیا جاتا ہے، کبھی مصائب و آلام میں گرفتار کر دیا جاتا ہے اور اس وقت اگر ہم صبر و ضبط کا مظاہرہ کریں تو ہمیں کیا انعام ملے گا اس کے حوالے سے فرمانِ خداوندی ہے:

وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ

اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو کہ جب ان پر کوئی مصیبت پڑے تو کہیں ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی طرف پھرنا ہے۔ یہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی درودیں ہیں اور رحمت اور یہی لوگ راہ پر ہیں۔

لہٰذا اگر ہم ان فضائل کو پانا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ ہم آنے والی مصیبتوں پر صبر کا مظاہرہ کریں اور اسوۂ خلیل و اسماعیل علیہما السلام کو اپنانے کی کوشش کریں۔

شیطان کا فریب

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت کعب احبار کا قول اور محمد بن اسحاق نے اپنے راویوں کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا ارادہ کر لیا تو شیطان نے کہا اگر میں اس وقت ابراہیم کے گھر والوں کو نہ بہکا سکا تو پھر کبھی ان کی اولاد میں سے کسی کو نہ بہکا سکوں گا۔ یہ ارادہ کر کے وہ مرد کی شکل میں لڑکے کی ماں حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس پہنچا اور کہنے لگا کیا تم کو معلوم ہے کہ ابراہیم تمہارے بیٹے کو کہاں لے گئے ہیں؟ ماں نے کہا دونوں اس گھاٹی سے لکڑیاں لینے گئے ہیں۔ شیطان نے کہا نہیں خدا کی قسم! ایسا نہیں ہے بلکہ ابراہیم اسماعیل کو ذبح کرنے لے گئے ہیں۔ ماں نے کہا ایسا نہیں ہو سکتا، وہ تو بیٹے سے بہت پیار کرتے ہیں اور ان کے دل میں بیٹے کی بہت محبت ہے۔ شیطان نے کہا وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے انہیں اسماعیل کو ذبح کرنے کا حکم دیا ہے۔ ماں نے کہا کہ اگر ان کے رب نے یہ حکم دیا ہے تو حکمِ رب کی اطاعت کرنی ہی بہتر ہے۔

شیطان یہاں سے مایوس ہو کر بیٹے کے پاس پہنچا، بیٹا اس وقت باپ کے پیچھے پیچھے جا رہا تھا۔ شیطان نے ان سے کہا لڑکے! کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے باپ تم کو کہاں لے جا رہے ہیں؟ لڑکے نے کہا ہم اس گھاٹی سے گھر کے لیے ایندھن کی لکڑیاں لینے جا رہے ہیں۔ شیطان نے کہا نہیں، خدا کی قسم! اس کا مقصد یہ نہیں بلکہ وہ تم کو ذبح کرنا چاہتا ہے۔ لڑکے نے کہا کیوں؟ شیطان نے کہا اس کا خیال ہے کہ اس کے رب نے اس بات کا حکم دیا ہے۔ لڑکے نے کہا ایسا ہے تو اس کو اپنے رب کے حکم کی اطاعت بسر و چشم کرنی ضروری ہے (میں بھی اس پر راضی ہوں)۔

جب لڑکے نے شیطان کا مشورہ نہ مانا تو شیطان نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف رخ کیا اور کہنے لگا شیخ کہاں کا ارادہ ہے؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا میں ایک کام سے اس گھاٹی میں جانا چاہتا ہوں۔ شیطان بولا خدا کی قسم! میں جانتا ہوں کہ شیطان نے خواب میں آ کر تم کو اپنے لڑکے کے ذبح کا حکم دیا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پہچان لیا کہ یہ شیطان ہے، بولے دشمنِ خدا! میرے پاس سے ہٹ جا، میں ضرور ضرور اپنے رب کے حکم پر عمل کروں گا۔ شیطان غضبناک ہو کر لوٹ گیا اور ابراہیم اور ان کے گھر والوں کے معاملہ میں کچھ بھی کامیاب نہ ہو سکا۔ اللہ نے ان سب کو شیطان سے محفوظ رکھا۔ [تفسیر مظہری]

شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے، قرآنِ مقدس اور احادیثِ مبارکہ میں جگہ جگہ اس سے بچنے کی تاکید فرمائی گئی ہے کیوں کہ شیطان اہل ایمان کو ہر نیک کام سے روکنے کی کوشش کرتا ہے، انہیں صراطِ مستقیم سے بہکا کر غلط راستوں پر ڈال دیتا ہے، انسان کو عیش پرست، حکم عدول اور گناہوں کا عادی بنا دیتا ہے، اس نے اللہ کے عظیم پیغمبر کو بھی بہکانے کی کوشش کی تھی مگر جب کوئی شخص مخلص ہوتا ہے تو اس کے ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ کی تائید ہوتی ہے۔ حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام اور حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حکم الٰہی کے آگے اپنا سرِ تسلیم خم کر دیا تھا اور بے چون و چرا اللہ کے حکم پر عمل کرنے کے لیے تیار ہو گئے تھے، لہذا اس عزم و استقلال کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ عزوجل نے انہیں شیطان کے شر سے محفوظ فرما دیا اور وہ حضرات امتحان میں کامیاب ہو گئے۔ ہم بھی اگر شیطان کے شر سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم تمام کارہائے خیر میں عزم و استقلال اور خلوص کا مظاہرہ کریں۔

(جاری ہے...)

[حوالہ :- سہ ماہی القلم شمارہ نمبر 12 ذی الحجہ 1446 ھ تا 1447 ھ ص 25 تا 28]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!