| عنوان: | حیلہ زکوٰۃ پر امام ابو یوسف پر غیر مقلدین کے اعتراض کا رد |
|---|---|
| تحریر: | طارق محمود رضوی |
| پیش کش: | محمد رفیع مرکزی |
سیدی حضور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں غیر مقلد محی الدین کی مؤلفہ “غفر المبین” کے متعلق ایک استفتاء آیا کہ اس میں لکھا ہوا ہے: “امام ابو یوسف سال کے آخر پر اپنا مال اپنی بیوی کے نام ہبہ کر دیا کرتے تھے اور اس کا مال اپنے نام ہبہ کرا لیا کرتے تھے تاکہ زکوٰۃ ساقط ہو جائے اور یہ بات کسی نے امام اعظم ابو حنیفہ سے نقل کی اور اسے درست فرمایا۔” ایک مقلد عالم نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امام بخاری نے بھی نقل فرمایا وہ بھی بہت نفرت کے ساتھ لکھا ہے، اس اعتراض کے رد میں سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے نہایت محققانہ اور مدلل رسالہ رَادِعُ التَّعَسُّفِ عَنِ الْإِمَامِ أَبِي يُوسُفَ (١٣١٨ھ) تصنیف فرمایا، جو فقہی بصیرت اور ائمۂ دین کے دفاع کا عظیم شاہکار ہے۔
سیدی حضور اعلیٰ حضرت نے اس رسالے میں سات اصولی نکات ذکر فرمائے ہیں:
-
اولاً: آپ نے واضح فرمایا کہ صحیح بخاری شریف میں اول تا آخر کہیں یہ مذکور نہیں کہ امام ابو یوسف علیہ الرحمہ خود اس فعل کے عامل تھے یا امام اعظم نے اس کی توثیق فرمائی ہو، بلکہ امام بخاری نے صرف بعض علماء کا ایک مذہب نقل کیا ہے کہ اگر کوئی ایسا کرے تو اس پر زکوٰۃ واجب نہ ہوگی۔
-
ثانیاً: ہمارے کتبِ مذہب نے اس مسئلے میں صاحبین کا اختلاف نقل کیا اور صاف لکھ دیا کہ فتویٰ امام محمد کے قول پر ہے کہ ایسا فعل جائز نہیں، اور سیدنا امام اعظم کا مذہب بھی یہی مذہبِ امام محمد ہے کہ ایسا فعل ممنوع و برا ہے، تو امام اعظم کی طرف تصدیق کی نسبت کرنا خود امام اعظم کے مذہب کے بالکل خلاف ہے، اس پر سیدی حضور اعلیٰ حضرت نے تنویر الأبصار، در مختار، درر و غرر، رد المحتار، غمز العیون، مجمع الانہر، وقایہ، اصلاح اور ایضاح وغیرہ سے متعدد جزئیات درج فرمائے ہیں۔
-
ثالثاً: اس میں آپ نے یہ بیان فرمایا کہ حیلے کے مکروہ و ناپسند ہونے پر ہمارے ائمہ کا اجماع ہے، اختلاف اس میں ہے کہ امام ابو یوسف مکروہ تنزیہی فرماتے ہیں اور طرفین مکروہ تحریمی، مزید آپ نے امام ابو یوسف کی متواتر کتابِ مستطاب الْخَرَاج میں جس عبارتِ شریفہ کا بچشمِ خود مطالعہ کیا اس کو نقل فرمایا، جس میں یہ ہے کہ امام ابو یوسف نے بھی زکوٰۃ کو باطل نہ کرنے کا حیلہ بیان فرمایا، بعد ازاں دونوں اقوال میں تطبیق دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ: ”امام ابو یوسف علیہ الرحمہ نے اس قول سے رجوع فرمایا اور ان کا آخر قول یہی ٹھہرا جو ان کے استاذِ اعظم امام الائمہ اور شاگردِ اکبر امام محمد کا ہے۔“
-
رابعاً: امام ابو یوسف کی طرف یہ حکایت کسی سندِ مستند سے ثابت نہیں اور بے سند مذکور ہونا طعن و تشنیع کے لیے ہرگز مفید نہیں۔
-
خامساً: اس میں آپ نے ایک نہایت لطیف الزامی جواب دیا وہ یہ کہ امام غزالی نے اپنی کتاب إِحْيَاء عُلُومِ الدِّينِ میں بیان فرمایا کہ جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ یزید نے امام کے قتل کرنے کا حکم دیا یا وہ قاتل ہے تو اسے آمر یا قاتل نہیں کہا جائے گا چہ جائیکہ اس پر لعنت کی جائے کیونکہ بغیر تحقیق کسی مسلمان کی طرف گناہ کی نسبت کرنا جائز نہیں، تو جب یزیدِ پلید کی طرف یہ نسبت ناجائز و حرام ہے کہ اس نے امامِ مظلوم سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا یا کرایا کیونکہ اس کا حکم دینا اس خبیث سے متواتر نہیں تو امام ابو یوسف علیہ الرحمہ جیسے جلیل القدور امام کی طرف ایسی عظیم تہمت کیسے روا ہو سکتی ہے، حالانکہ تواتر چھوڑیے اصلاً کوئی ٹوٹی پھوٹی سند بھی نہیں۔
-
سادساً: اس میں آپ نے بیان فرمایا کہ مجرد استقباح و استبعاد (صرف کسی چیز کو برا سمجھنا، اور بعید از عقل جاننا) بے دلیلِ شرعی مسموع نہیں، نہ احکامِ زہد احکامِ شرع پر جاری ہوتے ہیں، ما نحن فیہ کا محلِ اجتہاد ہونا مخالف نے نہ بتایا نہ قیامت تک بتا سکتا ہے۔
-
سابعاً: سیدی اعلیٰ حضرت نے نہایت دقیق نکتہ بیان فرمایا کہ زکوٰۃ واجب ہو جانے کے بعد اس سے بچنے کا حیلہ بالاجماع حرام ہے، جبکہ یہاں گفتگو اس صورت میں ہے کہ ابھی زکوٰۃ واجب ہی نہیں ہوئی۔ امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ اس میں کون سے حکم کی نافرمانی ہوئی، اللہ تعالیٰ نے سال مکمل ہونے پر زکوٰۃ فرض کی، جو واجب ہونے کے بعد ادا نہ کرے بالاجماع گنہگار ہے، یہ تو فرض نہیں کیا کہ اپنے مال پر سال گزر بھی جانے دے، ائمۂ دین کو دھوکے کی تعلیم کی طرف منسوب کرنا بدگمانی ہے، جو عام مسلمان پر بھی جائز نہیں اور حق یہ ہے کہ امام ابو یوسف کا یہ قول بھی اس لیے نہیں کہ لوگ اسے دستاویز بنا کر زکوٰۃ سے بچیں بلکہ وہ وقتِ ضرورت و حاجت پر محمول ہے، ساتھ ہی سیدی اعلیٰ حضرت نے قرآن و حدیث کی روشنی میں شرعی حیلے بیان کرتے ہوئے لکھا: ”بابِ حیل وسیع ہے، اگر کلام کو وسعت دی جائے تطویل لازم آئے، اہلِ انصاف کو اسی قدر بس ہے، پھر جب اللہ و رسول اجازت دیں تعلیمیں فرمائیں تو ابو یوسف پر کیا الزام آ سکتا ہے!“
رسالے کے اختتام پر سیدی اعلیٰ حضرت نے نہایت بلیغ انداز میں امام بخاری اور امام اعظم کے مراتب کا فرق بیان کرتے ہوئے حضرت امیر معاویہ اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہما کی مثال ذکر فرمائی، اور اعتدال کا وہ عظیم اصول بیان فرمایا جو اہلِ سنت کا طرۂ امتیاز ہے، فرماتے ہیں: ”بالجملہ ہم اہلِ حق کے نزدیک حضرت امام بخاری کو حضورِ پرنور امام اعظم سے وہی نسبت ہے جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو حضورِ پرنور امیر المؤمنین مولا المسلمین سیدنا و مولانا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے کہ فرقِ مراتب بے شمار اور حق بدستِ حیدرِ کرار مگر معاویہ بھی ہمارے سردار، طعن ان پر بھی کارِ فجار۔ جو معاویہ کی حمایت میں عیاذاً باللہ اسد اللہ کے سبقت و اولیت و عظمت و اکملیت سے آنکھ پھیر لے وہ ناصبی یزیدی اور جو علی کی محبت میں معاویہ کی صحابیت و خدمت و نسبتِ بارگاہِ حضرتِ رسالت بھلا دے وہ شیعی زیدی، یہی روشِ آداب بحمد اللہ تعالیٰ ہم اہلِ توسط و اعتدال کو هر جگہ ملحوظ رہتی ہے۔“
پیھر آپ نے رسالے کا اختتام ان الفاظ میں فرمایا: ”لاجرم اعتراض باطل اور معترض معذور اور معترض علیہم کی شان ارفع و اقدس، الحمد للہ رب العالمین۔“
بالجملہ یہ رسالہ بہت سے فوائد کا خزینہ ہے، فقیر کی رائے میں اس کا کم از کم تین بار ضرور مطالعہ ہونا چاہیے۔ فقیر نے اس کے تین مختلف نسخوں کا مطالعہ کیا ہے، اور تجربه یہی ہے کہ فتاویٰ رضویہ قدیم یا ہاتھ سے لکھے ہوئے مترجم نسخے زیادہ مفید اور صحیح ہیں، کیونکہ کمپیوٹرائزڈ نسخوں میں متعدد طباعتی اغلاط موجود ہیں مثلاً: ثانیاً والے حصے میں قدیم و ہاتھ سے لکھے ہوئے نسخے میں ہے: ”ہمارے کتبِ مذہب نے اس مسئلے میں امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ تعالیٰ کا اختلاف نقل کیا اور صاف لکھ دیا کہ فتویٰ امام محمد کے قول پر ہے کہ ایسا فعل جائز نہیں“، کمپیوٹرائزڈ والے نسخے میں صاف کی جگہ ”صرف“ لکھ دیا گیا ہے۔ لہٰذا حتی المقدور قدیم یا ہاتھ سے لکھے ہوئے نسخوں سے استفادہ کرنا زیادہ بہتر ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بزرگوں کے فیوض و برکات سے مالا مال فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
