Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

رشدی کی ضلالت: باعثِ عبرت (قسط: اول)|علامہ قمر الزماں اعظمی

رشدی کی ضلالت: باعثِ عبرت (قسط: اول)
عنوان: رشدی کی ضلالت: باعثِ عبرت (قسط: اول)
تحریر: علامہ قمر الزماں اعظمی
پیش کش: ناظم اسماعیلی

رشدی کی ضلالت: باعثِ عبرت

آج کل پورے برطانیہ میں اِس صدی کے سب سے بڑے گستاخِ رسول؛ سلمان رشدی کی رُسوائے زمانہ کتاب “سیٹینِک ورسز” [Satanic Verses] کے خلاف احتجاج کا طوفان اُمڈا ہوا ہے، برطانیہ کے چھوٹے بڑے تمام شہروں میں مسلم عوام بڑے بڑے جلوسوں کے ذریعے اپنے جذبات اور غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار مسلمانوں کی نیندیں حرام ہیں، ان بڑے بڑے اجتماعات میں مسلمان رہنما، دانش ور اور علما حکومتِ برطانیہ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ “سیٹینِک ورسز” پر پابندی عائد کرے، اور مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرے۔ اِس کے ساتھ ساتھ یہاں کے مشہور اشاعتی ادارے پینگوئن سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اِس کتاب کی اشاعت اور فروخت بند کر دے، اور وہ تمام کتب فروش ادارے جو اِس کتاب کو فروخت کر رہے ہیں، اِس کتاب کو اپنے بک اسٹالوں سے اٹھا لیں، لیکن ان تمام جلسوں، جلوسوں اور پاس ہونے والی تجاویز کا نہ برطانوی حکومت پر کوئی اثر ہو رہا ہے اور نہ ہی پینگوئن کے اشاعتی ادارے پر۔ اِس کے برعکس کتاب کی اشاعت میں اضافہ ہو گیا ہے اور اب وہ لوگ بھی اِس کتاب کی تلاش میں ہیں جو اس کے نام سے بھی آشنا نہ تھے۔ اِس طرح سے لاشعوری طور پر مسلمانوں کا احتجاج اِس کتاب کی اشاعت کا سبب بن رہا ہے۔

لیکن مسلمان بھی مجبور ہیں، انہوں نے تاریخ کے کسی دور میں بھی اپنے عظیم پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نہ گستاخی برداشت کی ہے اور نہ برداشت کر سکیں گے، اِس دور میں چونکہ احتجاج مجبوروں کا ہتھیار ہے، اِس لیے یہاں کے بے بس مسلمان احتجاج ہی کی زبان استعمال کر رہے ہیں۔

برطانیہ کے بڑے بڑے اخبارات جن کی اشاعت لاکھوں ہے، اُنہوں نے اِس کتاب پر اور اِس سے متعلق مسلمانوں کے احتجاج پر اداریے لکھے ہیں۔ سنڈے ٹائمز، گارجین اور دوسرے قومی سطح کے اخبارات نے مسلمانوں کو “جیو اور جینے دو” کے اصول پر عمل کرنے کا مشورہ دیا ہے، انہیں صبر و تحمل کی تلقین کی ہے۔ بعض اخبارات نے اس تحریک کو مُلّا ازم کا نام دے کر اسے محض ایک مذہبی گروہ کا مسئلہ قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ چند ایک نے کھلے بندوں اِس دل آزار تحریر کو ادب کا شاہکار اور فکشنل لٹریچر میں ایک معقول اضافہ قرار دیا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ یہ سب کچھ مسلم دشمن عناصر بالخصوص یہودیوں کے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہو رہا ہے۔ انہیں یقین ہے کہ مسلمان اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی برداشت نہ کرسکیں گے اور وہ احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں گے، اِس طرح سے اس کتاب کی اشاعت میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔

برطانوی ریڈیو اور ٹی وی نے اپنی بین الاقوامی خبروں میں مسلمانوں کے احتجاج کے تذکرے کیے اور سلمان رشدی کے انٹرویو کے ساتھ ساتھ ایسے مسلمانوں سے بھی انٹرویو لیے جو نہ کما حقہ دین سے آشنا ہیں اور نہ ہی اِس کتاب کے مندرجات اور اس کی قباحتوں کا حقیقی شعور رکھتے ہیں، اِس طرح سے برطانیہ کے تمام نشریاتی ذرائع اِس کتاب کی اشاعت کا سامان فراہم کر رہے ہیں۔ حکومتِ برطانیہ نے سلمان رشدی کو برطانوی شہری قرار دے کر اُسے بھر پور تحفظ فراہم کیا ہے۔ اِس طرح وہ اپنے چہیتے برطانوی شہری کی خواہشات کی تکمیل کے لیے کم و بیش دو ملین مسلم شہریوں کی دل آزاری کر رہی ہے۔

مسلمانوں کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران ایک برطانوی لیڈر نے مشورہ دیا کہ آپ لوگ اِس کتاب کے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں کر سکتے، اِس لیے کہ ہمارے قانون میں ایک برطانوی شہری کے لیے تحفظات تو ضرور فراہم کیے گئے ہیں مگر پیغمبرِ اسلام کی آبرو اور ان کے وقار کے تحفظ کے لیے کوئی دفعہ موجود نہیں ہے۔ اِس طرح کی قانونی چارہ جوئی کا نتیجہ خود مسلمانوں کے حق میں مفید نہ ہوگا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کم و بیش دو ملین مسلمان برطانوی شہری ہیں یا نہیں؟ اگر یہاں بسنے والے مسلمان بھی برطانوی شہری ہیں تو پھر یہاں کے ایک شہری کو یہ حق کیسے دیا جا سکتا ہے کہ وہ 20 لاکھ مسلمانوں کی عزت و آبرو سے کھیلے؟ برطانوی اربابِ اقتدار کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ مسلمان اپنے پیغمبر کے ناموس پر اپنا سب کچھ قربان کر سکتا ہے، وہ اپنے نبی کی ذات پر حملہ براہِ راست پوری ملتِ اسلامیہ پر حملہ تصور کرتا ہے۔

ہم یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اہلِ مغرب کے اندر مذہبی غیرت نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے، وہ خود اپنے پیغمبر کے خلاف دی لاسٹ ٹیمپٹیشن آف کرائسٹ (The Last Temptation of Christ) کی نمائش کو کیسے گوارا کر لیتے ہیں، جس میں سیّدنا مسیح علیہ السلام کی جنسی زندگی کے مناظر فلمائے گئے ہیں۔ اگر برطانیہ کا عیسائی معاشرہ سیّدنا مسیح علیہ السلام کی آبرو کا تحفظ نہیں کر سکتا تو پیغمبرِ اسلام کے سلسلے میں اس کی بے حسی قابلِ فہم ہے۔

مگر ہم برطانیہ کے اربابِ حل و عقد کو مشورہ دیں گے کہ اب برطانوی معاشرہ کثیر الثقافتی اور کثیر المذہبی معاشرہ بن چکا ہے۔ اب اِس معاشرہ پر ان کی اجارہ داری ختم ہو چکی ہے۔ مسلمان یہاں کی دوسری بڑی قوم ہیں، اِس لیے مسلمانوں کے مسائل کو اپنی مخصوص مغربی فکر کی عینک سے دیکھنا بند کر دیں اور مسلمانوں کے محسوسات کو سمجھنے کے لیے مسلم روایات و اقدار کا مطالعہ کریں۔ اگر انہوں نے دوسرے مذاہب کے ماننے والوں پر اپنی فکر مسلط کرنے کی کوشش کی تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہوں گے۔

برطانوی حکومت اور برطانیہ کے نشریاتی ذرائع مسلمانوں کے جذبات کو تھپکیاں دے کر سُلانا چاہتے ہیں، مگر ہم اُن سے اپیل کریں گے کہ وہ مسلمانوں کے جذبات کی شدت کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیں۔ وہ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ احتجاج کا یہ طوفان رُک جائے گا اور مسلمان خاموش ہو جائیں گے اور برطانوی تاریخ کے میوزیم میں ایک ملحد کی عالم آشوب تالیف، اسلام دشمنی کی جیتی جاگتی تصویر بن کر محفوظ ہو جائے گی۔ بلاشبہ احتجاج اور ہنگاموں کی عمر بہت مختصر ہوتی ہے مگر صرف وہ احتجاج جن کے پس منظر میں کوئی وقتی جذبہ یا کوئی ہنگامی ضرورت کار فرما ہو۔ پیغمبرِ اسلام کا احترام مسلم۔ [مقالات خطیب اعظم، ص: 99 تا 101]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!