Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

رشدی کی ضلالت: باعثِ عبرت (قسط: چہارم)|علامہ قمر الزماں اعظمی

رشدی کی ضلالت: باعثِ عبرت (قسط: چہارم)
عنوان: رشدی کی ضلالت: باعثِ عبرت (قسط: چہارم)
تحریر: علامہ قمر الزماں اعظمی
پیش کش: ناظم اسماعیلی

رابطہ قائم کیا اور پھر اسے داغِ جدائی دے گئیں۔

یہاں سے مایوسیوں کا شکار ہو کر وہ پاکستان چلا گیا کہ شاید وہاں پناہ مل جائے اور وہاں وہ اپنے ملحدانہ افکار و نظریات کی آزادانہ اشاعت کر سکے، مگر وہاں کے باغیرت مسلمانوں سے خوف زدہ ہو کر پھر برطانیہ واپس آ گیا اور دوبارہ قسمت آزمائی شروع کی۔ اس نے ایک کتاب ہندوستان کے متعلق لکھی اور نہرو خاندان پر جھوٹے الزامات عائد کیے جس کی بنا پر اسے اندرا گاندھی سے معافی مانگنی پڑی۔ پھر اس نے پاکستان کے خلاف اپنے ناپاک عزائم کو تحریری شکل دینے کی کوشش کی، مگر اس میں بھی کوئی پذیرائی نہ مل سکی۔ وہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ وہ نوبل پرائز کا مستحق ہے مگر وہاں تک پہنچنے کے لیے اسے چند ابتدائی انعامات حاصل کرنے ضروری ہیں۔ چنانچہ اس نے ایک ایسا عنوان منتخب کیا جو ایک طرف آج کی ملحد اور سوشلسٹ دنیا کے لیے قابلِ قبول ہو اور دوسری طرف اسلام دشمن عناصر اس کو انعام کا مستحق قرار دیں اور حصولِ انعام کے سلسلے میں اس کی بھرپور تائید کریں۔ پھر شاید وہ یہ بھی سوچ رہا تھا کہ اس کی کامیابیوں کی راہ میں اس کا اسلامی نام سدِ راہ ہے، چنانچہ اس کتاب کے ذریعے اس نے اقوامِ مغرب کو یہ باور کرانا چاہا کہ:

میرے اسلام کو اک قصۂ ماضی سمجھو

اگر اس نے کسی مسلم معاشرے میں زندگی گزاری ہوتی تو اسے یقین ہوتا کہ اس طرح کے اقدام کا کتنا شدید ردِعمل ہوگا، مگر بچپن ہی سے مغربی ماحول میں پلنے کی وجہ سے وہ حالات کی سنگینی کا صحیح اندازہ نہ کر سکا۔ سنا ہے اس ایمان فروش نے پینگوئن سیریز سے 8 لاکھ پونڈ بطور رائلٹی وصول کیے ہیں اور ممکن ہے دس بیس ہزار دوسرے اداروں سے بھی حاصل ہو جائیں۔ کاش! یہ ضمیر فروش دنیا کے ایک ارب مسلمانوں کے جذبات کا اتنا سستا سودا نہ کرتا:

قومے فروختی و چہ ارزان فروختی

مگر اب اسے یقین ہو گیا ہوگا کہ وہ اس 8 لاکھ پونڈ سے اپنی عیاشیوں کی سیج نہ سجا سکے گا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ برمنگھم میں وہ ایک انٹرویو کے لیے آیا تھا، جب برمنگھم کے مسلمانوں کو اطلاع ملی تو اس قدر شدید ہجوم ہوا کہ پولیس اس کو کسی خفیہ راستے سے کسی خفیہ مقام پر لے گئی۔

وائٹ بریڈ لٹریری ایوارڈ

“سیٹینِک ورسز” کو وائٹ بریڈ لٹریری ایوارڈ کے لیے بھی منتخب کیا گیا ہے، جس کا حتمی فیصلہ مشہور براڈ کاسٹر کیٹ ریڈی، سر کیلمنٹ فرائڈ اور برطانیہ کے وزیرِ داخلہ ڈگلس ہرڈ کریں گے۔

اگر وائٹ بریڈ اور اس کے مقرر کیے ہوئے ججوں نے اس کتاب کو 20 ہزار پونڈ کا انعام دیا تو ان کا یہ عمل مسلمانوں کے زخم پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہوگا۔ برطانیہ کے مسلمانوں نے وائٹ بریڈ لٹریری ایوارڈ کے تقسیم کاروں کو شدید احتجاجی خطوط لکھے ہیں لیکن تا ہنوز انہوں نے مسلم امت کے جذبات کی پرواہ نہیں کی ہے اور وہ اپنے فیصلے پر قائم ہیں۔

سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اس انعام کا فیصلہ وزیرِ داخلہ کے ذریعے ہوگا۔ اگر وزیرِ داخلہ نے اس کتاب کے حق میں فیصلہ دیا تو مسلمانانِ برطانیہ شدید مایوسیوں کا شکار ہوں گے، اور وہ ایک بار پھر خود کو اس ملک میں اجنبی محسوس کرنے میں حق بجانب ہوں گے۔ [نوٹ: مجلہ حجاز کی اشاعت کے آخری مرحلے میں یہ اطلاع ملی کہ سلمان رشدی وائٹ بریڈ لٹریری ایوارڈ سے محروم کر دیا گیا ہے]

مسلمانانِ برطانیہ کے لیے لمحۂ فکریہ

سلمان رشدی اس لیے گمراہ ہوا کہ اس کے باپ نے اپنی مغرب زدگی کی تسکین کے لیے اپنے نو عمر بچے کو برطانوی معاشرے میں از خود پروان چڑھنے کے لیے بھیج دیا اور اس کی دینی و فکری رہنمائی کا کوئی معقول بندوبست نہ کر سکا، جس کے نتیجے میں ایک رشدی دنیا کے ایک ارب مسلمانوں کے لیے شیطانِ لعین سے بھی زیادہ ملعون ثابت ہوا ہے۔ اس نے پیغمبرِ اسلام کی حرمت پر حملہ کر کے ہر مسلمان کو بے قرار کر دیا ہے۔ اپنے بچے کی دینی تربیت کے سلسلے میں ایک باپ کی مجرمانہ غفلت نے کتنا خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے، اس کا اندازہ سلمان رشدی کے ناول سے کیا جا سکتا ہے۔ لیکن برطانیہ کے دو ملین مسلمانوں کی اکثریت اپنے بچوں کو ایسے ہی آزادانہ معاشرے میں پروان چڑھا رہی ہے اور ان کی دینی و فکری رہنمائی کے معقول انتظامات نہیں کیے گئے ہیں۔ برطانیہ میں پروان چڑھنے والی مسلم نسل کو یہ خطرہ لاحق ہے کہ دین سے آزاد ہو کر مغربی معاشرے میں مکمل طور پر ضم نہ ہو جائے۔ خدانخواستہ اگر ایسا ہوا تو خوف ہے کہ برطانیہ کی آغوش میں پروان چڑھنے والے بچوں میں کوئی دوسرا رشدی نہ پیدا ہو جائے جو مسلمانوں کے سکون کو غارت کر دے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانانِ برطانیہ اپنے بچوں کی دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کا بھرپور انتظام کریں اور یہ دینی تعلیم اس روایتی طریقے سے نہ دی جائے جو ہند و پاک میں رائج ہے، بلکہ بچوں کی ذہنی و فکری تربیت کے لیے ذہین ترین اساتذہ اور علما کا انتخاب کیا جائے، جن کا مطالعہ اتنا وسیع ہو کہ وہ مستشرقینِ یورپ اور دشمنانِ اسلام کے جملہ اعتراضات کا جواب دے سکیں۔ خدا کرے مسلمانانِ برطانیہ رشدی سے عبرت حاصل کر سکیں۔ [مقالات خطیب اعظم، ص: 108 تا 110]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!