Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

رشدی کی ضلالت: باعثِ عبرت (قسط: دوم)|علامہ قمر الزماں اعظمی

رشدی کی ضلالت: باعثِ عبرت (قسط: دوم)
عنوان: رشدی کی ضلالت: باعثِ عبرت (قسط: دوم)
تحریر: علامہ قمر الزماں اعظمی
پیش کش: ناظم اسماعیلی

معاشرے میں نہ کوئی وقتی جذبہ ہے اور نہ ہنگامی ضرورت، بلکہ یہ مدارِ ایمان ہے۔ اِس لیے برطانوی مسلمان اُس وقت تک خاموش نہ بیٹھیں گے جب تک اِس کتاب کو ضبط نہ کر لیا جائے۔ خطرہ یہ ہے کہ حکومت نے اگر اِس سلسلے میں لیت و لعل سے کام لیا تو یہ احتجاج مزید شدت اختیار کرے گا اور نتائج کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔

بریڈ فورڈ کے احتجاجی جلوس کے نتیجے میں صرف اتنا ہوا کہ برطانیہ کے سب سے مشہور کتب فروش ڈبلیو ایچ اسمتھ نے اپنے اسٹالوں سے اِس کتاب کو اٹھا لینے کا اعلان کیا مگر ساتھ ہی اس نے یہ بھی کہا، یہ کتاب آرڈر کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔ ہم نے یہ اقدام محض پولیس کے مشورے پر کیا ہے، جب بھی پولیس ہمیں تحفظ فراہم کرے گی، ہم اِس کتاب کو دوبارہ بازار میں لائیں گے۔ ہمیں یقین ہے کہ مستقبلِ قریب میں اِس کی اشاعت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

آپ اندازہ فرمائیں کہ ڈبلیو ایچ اسمتھ نے یہ اقدام مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے نہیں کیا ہے، بلکہ اِس خوف سے کیا ہے کہ اس کتاب کی برسرِ بازار فروخت کہیں مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل نہ کر دے اور ساتھ ہی ساتھ برطانوی پولیس سے یہ اپیل بھی کی گئی ہے کہ وہ اس کو تحفظ فراہم کرے۔

اب مسلمانانِ برطانیہ اِس بات کا جائزہ لینے میں حق بجانب ہیں کہ برطانوی پولیس محض ایک کتاب سے حاصل ہونے والی منفعت کو تحفظ دینے کے لیے دو ملین مسلمانوں کے جذبات کا خون کرتی ہے یا نہیں۔

بعض مراسلہ نگاروں نے برطانوی اخبارات کے ذریعے مسلمانوں سے سوال کیا ہے کہ قرآنِ عظیم میں عیسائیت اور دوسرے مذاہب کے خلاف مواد موجود ہے، تو کیا مسلمان اس بات کی اجازت دیں گے کہ دوسرے مذاہب کے ماننے والے قرآنِ عظیم کے ساتھ بھی وہی سلوک کریں جو مسلمان سلمان رشدی کی کتاب کے خلاف کر رہے ہیں؟

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ مراسلہ نگار پڑھے لکھے ہونے کے باوجود قرآنِ عظیم سے بالکل ناواقف معلوم ہوتے ہیں۔ قرآنِ عظیم نے بعض مذاہب کے اُن باطل نظریات کی تردید کی ہے جو خود ان مذاہب کے اولوالعزم پیغمبروں کی تعلیمات کے خلاف ہیں، ورنہ قرآنِ عظیم نے تو مذاہبِ سابقہ کی تائید کی ہے، ان کی کتابوں پر ایمان لانا جزوِ ایمان قرار دیا ہے اور ان کی عزت و حرمت کو لازمی قرار دیا ہے۔

آپ اگر قرآنِ عظیم کا مطالعہ کریں تو اس میں جنابِ ابراہیم علیہ السلام، جنابِ موسیٰ علیہ السلام اور جنابِ عیسیٰ علیہ السلام کے فضائل و مناقب پر مستقل ابواب ملیں گے۔ بلکہ ہم یہ دعویٰ کریں تو غلط نہ ہوگا کہ قرآنِ عظیم نے ان اولوالعزم پیغمبروں کی عظمت اور تاریخیت کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا ہے، ورنہ کتبِ سابقہ کی موجودہ ژولیدہ بیانی اور درمیانی کڑیوں کی گم شدگی سے تو یہ بھی ممکن نہ تھا کہ حضرت مسیح اور حضرت موسیٰ علیہما السلام کی شخصیتوں کے وجود کو بھی ثابت کیا جا سکتا۔

پھر نظریات کی تردید دوسری شے ہے اور کسی پیغمبر کی کردار کشی اِس سے مختلف چیز ہے۔ آج بھی اسلامی عقائد و نظریات کے خلاف ہزاروں باتیں کی جاتی ہیں اور ہم اُس کا جواب انتہائی صبر و تحمل سے دیتے ہیں، مگر چونکہ اس کتاب میں پیغمبرِ اسلام کی کردار کشی کی گئی ہے، اِس لیے یہ کتاب ناقابلِ برداشت ہے۔

مسلم حکومتوں کا افسوس ناک کردار

اِس رُسوائے زمانہ کتاب کے سلسلے میں مسلم حکومتوں کا کردار انتہائی افسوس ناک ہے۔ تا ہنوز بعض سفرائے ممالک کی ایک میٹنگ اور قراردادِ مذمت، چند ایک ممالک میں پینگوئن کی کتابوں پر پابندی کی دھمکی کے علاوہ اور کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا گیا، جس سے مسلمانانِ برطانیہ سخت کبیدہ خاطر ہیں۔

مسلم ممالک اپنے معمولی اختلافات کی بنا پر مغربی ممالک سے اپنے سفارتی تعلقات ختم کر لینے کی دھمکی دیتے ہیں، مگر پیغمبرِ اسلام کے خلاف لکھی جانے والی کتاب کے خلاف حکومتی سطح پر برطانیہ سے مؤثر احتجاج نہیں کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ برطانوی رائے عامہ مسلمانوں کے احتجاج کو کٹر مذہب پرستی اور مُلّائیت کا نام دے رہی ہے۔

ابھی چند سال قبل سعودی عرب کے شاہی خاندان کے خلاف دِکھائی جانے والی ایک فلم The Death of a Princess سے مشتعل ہو کر سعودی عرب نے برطانیہ سے اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے اور اپنے سفیر کو واپس بُلا لیا تھا۔ دیکھنا یہ ہے کہ حرمین مقدس کی خدمت اور تولیت کے یہ دعوے دار شہنشاہِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و آبرو کے خلاف لکھی جانے والی اس کتاب کے سلسلے میں کس غیرتِ دینی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

اگر سعودی عرب اور بعض مسلم ممالک برطانیہ سے کیے گئے چند تجارتی اور تعمیراتی معاہدے منسوخ کر دیں تو حکومتِ برطانیہ مسلمانوں کے مطالبات کے سامنے سر خمیدہ ہو جائے۔ خلافتِ عثمانیہ کے باغیرت تاجدار سلطان عبدالحمید نے ایک یورپین ملک کو محض اِس لیے جنگ کی دھمکی دی تھی، کہ اُس نے سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی پر فلم بنانے کا ارادہ کیا تھا۔ مجبوراً اُسے اپنا یہ پروگرام ملتوی کرنا پڑا۔

مسلم ممالک کو چاہیے کہ وہ برطانوی مسلمانوں کے احتجاج کی تائید میں اپنے سیاسی اثر و رسوخ کا بھرپور استعمال کریں اور سفارتی دباؤ ڈال کر برطانیہ کو مجبور کریں کہ وہ اِس کتاب پر پابندی عائد کرے۔ اگر برطانوی قانون میں اس طرح کی کتابوں پر پابندی کی کوئی شق موجود نہیں ہے، تو برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان ایک بل کے ذریعے مذاہب اور بانیانِ مذاہب کے احترام کی دفعہ منظور کرا کے اِس کتاب کو غیر قانونی قرار دیں۔

ووٹ کا مؤثر ہتھیار

مسلمانانِ برطانیہ اپنے اپنے علاقوں میں ایم پی اور کونسلر حضرات سے ملاقات کریں اور اُنہیں اِس بات پر آمادہ کریں کہ وہ پارلیمنٹ میں اس کتاب کے خلاف پیش کیے جانے والے بل کی حمایت کریں، ورنہ واشگاف لفظوں میں انھیں آگاہ کر دیا جائے کہ وہ آئندہ الیکشن میں مسلمانوں کے ووٹوں سے محروم ہو جائیں گے۔

ایسا لگتا ہے کہ اسلام کی بڑھتی ہوئی قوت کو دیکھ کر دنیا بھر کی غیر مسلم اور ملحد قوتوں نے یہ منصوبہ کر لیا ہے کہ وہ اِس سیلِ رواں کو روکنے کے لیے اسلام کے خلاف ہر ممکن [مقالات خطیب اعظم، ص: 102 تا 104]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!