| عنوان: | زندگی سستی ہو گئی ہے |
|---|---|
| تحریر: | محمد سلیمان محی الدین قادری |
شہرِ حیدرآباد، جسے “سٹی آف پرلز” یعنی موتیوں کا شہر کہا جاتا ہے، اپنے حسن، تہذیب اور وقار کی وجہ سے ملک بھر میں مشہور ہے۔ لیکن افسوس! اسی باوقار شہر میں دن بدن بڑھتی ہوئی قتل و غارت گری کی دل دہلا دینے والی وارداتیں ہم سب کے لیے باعثِ تشویش ہیں۔ صرف حیدرآباد ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے حالات ہمارے سامنے ہیں۔
ہر روز اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے ایسی خبریں موصول ہوتی ہیں کہ کہیں بیٹے نے باپ کو قتل کر دیا، کہیں باپ نے بیٹے کی جان لے لی، کہیں سالے نے بہنوئی کو موت کے گھاٹ اتار دیا، تو کہیں بیوی نے شوہر کا قتل کر دیا۔ کہیں معشوقہ نے عاشق کو مار ڈالا، تو کہیں بھائی نے بھائی کا خون بہا دیا۔ بعض مقامات پر میاں بیوی دونوں ہی قتل کر دیے جاتے ہیں۔
معمولی وجوہات اور سنگین نتائج
غیر معمولی اور معمولی وجوہات کی بنا پر دن دہاڑے سڑکوں پر چاقو مارے جا رہے ہیں، کہیں گھروں میں گھس کر وارداتیں کی جا رہی ہیں اور کہیں ملاقات کے بہانے بلا کر جانیں لی جا رہی ہیں۔ زندگی اتنی سستی ہو چکی ہے کہ چند گز زمین، جائیداد کے جھگڑے یا ذاتی دشمنی کی بنا پر کسی ماں کو اپنے جوان بیٹے کا کفن باندھنا پڑ رہا ہے، تو کہیں ایک باپ اپنے لختِ جگر کے جنازے کو کندھا دیتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر وارداتوں کے پیچھے چند ٹکڑے زمین، تھوڑے سے مال و دولت کی لالچ یا معمولی تنازعات کارفرما ہوتے ہیں۔ اور زیادہ تر وہی لوگ اس جرم میں ملوث پائے جاتے ہیں جو اپنی مذہبی اور سماجی تعلیمات سے دور ہو چکے ہیں۔ یہی دوری انہیں اس حد تک لے جاتی ہے کہ وہ اپنے ہی بھائی کا خون بہانے سے نہیں ہچکچاتے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف خون نہیں بہتا، بلکہ انسانیت اور ایمان بھی زخمی ہوتا ہے، جو دنیا اور آخرت دونوں کی تباہی کا سبب بنتا ہے۔ مرنے والا تو دنیا سے چلا جاتا ہے اور قاتل بھی ایک دن قانون کی گرفت میں آ جاتا ہے، لیکن ذرا سوچئے! مرنے والے کے معصوم بچوں کا کیا ہوگا؟ اس کے بوڑھے والدین کا کیا بنے گا جن کا سہارا ہمیشہ کے لیے چھن گیا؟ اس بیوی کا کیا ہوگا جس کی پوری دنیا صرف اس کا شوہر تھا؟
وقت کا تقاضا اور ہماری ذمہ داری
لہٰذا آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے گھروں، اپنے شہر اور اپنے ملک کے امن و امان کی حفاظت کریں۔ اگر کسی موقع پر کوئی شخص آپ سے جھگڑا کرے یا بحث و تکرار پر اتر آئے تو اپنی بہادری ثابت کرنے کے بجائے معاملے کو حکمت اور صبر سے حل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ کی غلطی نہ بھی ہو تو معافی مانگ لینے میں کوئی نقصان نہیں، کیونکہ ایک لمحے کا غصہ پوری زندگی کی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔
ورنہ اپنے والدین کے نازک کندھوں پر اپنے جوان بیٹے کے جنازے کا بوجھ، اپنی بیوی کے سہاگ کا اجڑ جانا اور اپنے معصوم بچوں کا یتیم ہو جانا، ان سب کا سبب کہیں ہم خود نہ بن جائیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کی جان، مال، عزت اور آبرو کی حفاظت فرمائے، ہمارے ملک میں امن و امان، محبت اور بھائی چارے کی فضا قائم فرمائے، اور ہمیں اپنے پیارے حبیب ﷺ کی تعلیمات کو عام کرنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
