| عنوان: | تصوف __ روح اسلام (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | علامہ محمد احمد مصباحی |
| پیش کش: | ام حبیبہ واسطی |
| منجانب: | الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
صوفیہ اہلِ اسلام کی اس پاکیزہ جماعت کا نام ہے جس نے رب کی معرفت، رسول کی پیروی، خلق کی ہدایت اور بندگانِ خدا کی خدمت میں وہ مقام حاصل کیا جو دوسروں کو حاصل نہ ہوا۔ اکنافِ عالم میں اسلام کی اشاعت ان ہی کی بلند کوششوں کا ثمرہ ہے۔ ان کی صاف دلی، سلامت روی اور بلند اخلاقی سے اپنے تو اپنے غیر بھی متاثر نظر آتے ہیں۔ خود بر صغیر ہند و پاک میں آج اسلام و سنت کی جو روشنی نظر آرہی ہے، اس میں سلاطین کی تگ و دو سے زیادہ صوفیائے کرام کی مساعیِ جمیلہ کا حصہ ہے۔
صوفیائے کرام کی عظمت سے متعلق چند اہم شہادتیں
(1) حجۃ الاسلام امام محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ (450 - 505ھ) وہ جلیل القدر بزرگ ہیں جنھوں نے رسمی علوم اور فنون کبھی حاصل کیے۔ اور “تہافت الفلاسفہ” لکھ کر اسلام کی وہ عظیم خدمت انجام دی کہ فلسفیوں کا تعمیر کردہ صدیوں کا محل منہدم ہو گیا۔ کوئی باطل فرقہ نہ ہوگا جس کی بیخ کنی میں انھوں نے اپنی کوشش و ہمت صرف نہ کی ہو۔ اکابر علما ان کی تعظیم کرتے، اہم منصب اور عزت و شوکت انھیں حاصل تھی۔ مگر یہ اچھے سے اچھے مقام اور حقیقی و غیر متزلزل یقین کے طالب تھے مدتوں نظر و خوض کے بعد انھیں اپنی حالت سے بے رغبتی بڑھتی گئی اور اعلیٰ کی طلب میں نکلے، بڑی جانچ پڑتال کے بعد ان پر یہی منکشف ہوا کہ صوفیہ کا طریقہ ہی سب سے افضل و اعلیٰ ہے اس لیے اس کو اختیار کیا اور اسی پر وفات پائی۔
المنقذ من الضلال میں خود فرماتے ہیں:
مجھے اس بات کا علم قطعی و یقینی حاصل ہو گیا کہ صرف صوفیہ ہی وہ ہیں جو راہِ خدا پر گامزن ہیں، ان کا راستہ سب سے زیادہ صحیح اور ان کے اخلاق سب سے زیادہ پاکیزہ ہیں۔ اگر تمام عقلا کی عقل، حکما کی حکمت اور اسرارِ شریعت سے آگاہ علما کا علم جمع ہوکر بھی ان کے اخلاق و کردار اور سیرت و روش کو بدلنے اور اس سے بہتر بنانے کی سعی کرے تو نہ ہو سکے، اس لیے کہ ان کی ظاہری و باطنی ہر روش اور ہر حرکت و سکون مشکاۃِ نبوت کے نور سے حاصل شدہ ہے اور روئے زمین پر نورِ نبوت کے سوا کوئی ایسا نور نہیں جس سے روشنی حاصل کی جائے۔ کہنے والا اس طریقے کے بارے میں کیا کہہ سکتا ہے جس کی پہلی شرط یہ ہے کہ قلب کو پورے طور پر ماسوی اللہ سے پاک کیا جائے اور نماز کی کلید تکبیرِ تحریمہ کی طرح اس مشرب کی کلید یہ ہے کہ دل یادِ الہی میں مستغرق ہوا اور آخری درجہ یہ ہے کہ خدا کی ذات میں بالکلیہ فنا ہو جائے۔ یہ مقام تمام اختیاری درجات کی بہ نسبت سب سے اعلیٰ و اقویٰ ہے۔
(2) امام یافعی عبد اللہ بن اسعد یمنی فرماتے ہیں: “اہلِ طریقت پر ان نادانوں کا اعتراض ایسا ہی ہے جیسے کوئی مچھر کسی پہاڑ پر بار بار پھونک مارے اور یہ چاہے کہ اس کے اس پھونکنے سے پہاڑ اپنی جگہ سے مل جائے گا۔” [الیواقیت والجواہر فی عقائد الاکابر، ص: 9]
(3) مجد الدین فیروز آبادی صاحبِ قاموس فرماتے ہیں: “کسی کو یہ حق نہیں کہ اپنی نظرِ قاصر کی رو سے صوفیائے کرام پر نکیر و اعتراض روا رکھے اس لیے کہ وہ فہم و کشف میں بلند درجہ رکھتے ہیں۔ اہلِ تصوف میں کسی سے متعلق ہمیں یہ خبر نہ ملی کہ انھوں نے کسی ایسی بات کا حکم دیا ہو جو دین سے متصادم ہو، نہ ہی یہ کہ انھوں نے کسی کو وضو سے یا نماز سے روکا ہو یا ان کے علاوہ فرائضِ اسلام یا مستحبات سے منع کیا ہو۔” [یواقیت، ص: 12]
(4) شیخ الاسلام مخزومی فرماتے ہیں: کسی عالم کے لیے صوفیہ پر اعتراض روا نہیں جب تک کہ ان کی راہ پر نہ چلے یا ان کے افعال و اقوال کو کتاب و سنت کے خلاف نہ پائے۔ اس کے بعد وہ بتاتے ہیں کہ صوفیہ پر اعتراض کی ہمت کرنے سے پہلے ستر باتوں سے آگاہ ہونا شرط ہے پھر کہیں معترض کے لیے اعتراض کی اجازت ہوگی۔ ان باتوں کے تحت لکھتے ہیں:
-
(الف) رسولوں کے اختلافِ درجات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کے معجزات اور اولیا کے درجات کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی کرامات کی معرفت میں غواصی کرے اور ان پر ایمان لائے اور یہ اعتقاد رکھے کہ اولیا تمام معجزات میں انبیا کے وارث ہیں مگر وہ جو مستثنیٰ ہیں۔
-
(ب) تفسیر و تاویل کی کتابوں اور ان کے شرائط سے آگاہ ہو، زبانِ عرب کی معرفت میں تبحر رکھتا ہو، مجازات و استعارات سے آشنائی میں درجہِ انتہا کو پہنچ چکا ہو۔
-
(ج) صفاتِ باری سے متعلق آیات و اخبار میں سلف و خلف کے مقامات سے خوب آشنا ہو اور یہ جانتا ہو کہ کس نے ظاہر کو لیا، کس نے تاویل کی، کس کی دلیل زیادہ راجح ہے۔
-
(د) اہلِ اصول کے علم میں تبحر اور ائمہِ کلام کے منشائے کلام کا عارف ہو۔
-
(ہ) سب سے اہم شرط یہ ہے کہ صوفیہ کی اصطلاحات سے آگاہ ہو، تجلیِ ذاتی، تجلیِ صوری، ذات، ذات الذات، حضراتِ اسما و صفات، حضرات و درجات کے فرق، احدیثِ وحدانیت، واحدیت کے فرق سے آشنا ہو، ظہور و بطون، ازل و ابد، عالمِ غیب و کون و شہادت، شئون، علمِ ماہیت و ہویت، شکر و محبت وغیرہ اصطلاحات کے معانی جانتا ہو اور یہ بھی معرفت رکھتا ہو کہ کون شکر میں سچا اور قابلِ درگزر ہے، کون جھوٹا اور قابلِ گرفت ہے۔ یہ اور اس طرح کی بہت سی باتیں ہیں جو شخص ان حضرات کی مراد ہی سے بے خبر ہو وہ ان کا کلام کس طرح حل کر سکے گا۔ ہوگا یہ کہ ایسا معنی لے کر ان پر اعتراض کر بیٹھے گا جو ان کی مراد نہیں۔ انتہیٰ۔ [یواقیت]
آج کے غیر مقلدین اصطلاحاتِ صوفیہ کو کیا جانیں، انھیں تو ظاہری اور مروج علوم کی اصطلاحات اور ان کے معانی و اسرار کا بھی پتہ نہیں۔ علامہ ابن حجر عسقلانی (م: 852ھ) جیسے عظیم محدث و فقیہ اور ماہرِ کامل کا قصہ سنیے انھوں نے حضرت ابن الفارض کے قصیدہِ تائیہ کے کچھ اشعار کی شرح لکھی اور شیخ مدین رحمۃ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اجازت لکھنے کے لیے پیش کیا انھوں نے اوپر یہ لکھا کہ کسی شاعر نے کیا خوب کہا:
سَارَتْ مُشَرِّقَةً وَسِرْتُ مُغَرِّبًا
شَتَّانَ بَيْنَ مُشَرِّقٍ وَمُغَرِّبٍ
وہ مشرق کی سمت گئی اور میں مغرب کو چلا۔ مشرق و مغرب میں کتنا بڑا فاصلہ ہے۔
یہ لکھ کر انھوں نے علامہ ابن حجر کے پاس بھیج دیا۔ جسے دیکھنے کے بعد انھیں اس بات پر انتباہ ہوا جو پہلے ان کی نظر سے اوجھل رہ گئی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انھوں نے صوفیہ کی محبت اور حضرت سیدی مدین کی رفاقت اختیار کرلی اور اسی طریق پر دمِ واپسیں آیا۔ [یواقیت، ص: 12]
(5) امامِ جلیل محی الدین ابو زکریا نووی (م: 676ھ) فرماتے ہیں: کسی عاقل کے لیے اولیاء اللہ کے متعلق سوءِ ظن روا نہیں بلکہ اس پر لازم ہے کہ ان کے اقوال و افعال کی تاویل کرے جب تک کہ ان کے درجہ کو نہ پہنچ جائے۔ اس سے عاجز وہی ہو گا جو کم توفیق ہو۔ شرح مہذب میں فرماتے ہیں: تاویل ہو تو ستر وجہوں تک ان کے کلام کی تاویل کی جائے۔ لیکن اس کے بعد اگر ہم ایک تاویل بھی قبول نہ کریں تو یہ محض بے جا تشدد ہوگا۔ [یواقیت، ص: 9]
(6) شیخ الاسلام عز الدین بن عبد السلام (م: 660ھ) جن کی جلالتِ شان محتاجِ بیان نہیں اپنے وقت میں مصر کے سلطان العلما تھے۔ وہ اپنی تصنیف “کتاب الرعایۃ” میں فرماتے ہیں: سارے لوگ تو شریعت کے رسوم و نشانات پر ٹھہرے ہوئے ہیں مگر صوفیائے کرام شریعت کی ان بنیادوں پر قرار پذیر ہیں جو غیر متزلزل ہیں، اس کی تائید ان کرامات و خوارق سے بھی ہوتی ہے جو صوفیہ کے ہاتھوں پر رونما ہوتے ہیں اور کبھی کسی عالم کے ہاتھ پر ظاہر نہیں ہوتے اگر چہ علم کی بڑی سے بڑی منزل پر پہنچ چکا ہو مگر یہ کہ وہ بھی ان کی راہ پر گامزن ہو۔
شیخ عز الدین پہلے یہ کہتے تھے کہ “ہمارے ہاتھوں میں جو شریعت کے منقولات موجود ہیں کیا ان کے علاوہ بھی شریعت کا کوئی راستہ ہے؟ جو یہ دعویٰ کرے کہ شریعت کا کوئی علمِ باطن بھی ہے وہ باطنی قریب یہ زندیق ہے” مگر جب مصر میں شیخ ابو الحسن شاذلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان کی ملاقات ہوئی اور ان سے تحصیلِ علم کی تو صوفیہ کے مداح ہو گئے اور فرمانے لگے “ان کا مسلک وہ ہے جو تمام اخلاقِ مرسلین کا جامع ہے۔” [یواقیت، ج: 2، ص: 92]
(7) ابن ایمن نے اپنے رسالے میں امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ (م: 241) سے متعلق نقل کیا ہے کہ “وہ شروع شروع میں اپنے فرزند کو صوفیہ کے پاس بیٹھنے سے منع کرتے تھے ایک بار ان کے پاس رات کے وقت فضا سے ایک جماعت اتری ان لوگوں نے امام احمد سے شرعی مسائل پوچھنا شروع کیا۔ جن کے جواب میں امام عاجز رہے پھر وہ ہوا میں پرواز کر گئے اس وقت سے اپنے فرزند کو تاکید فرمانے لگے کہ صوفیہ کی ہم نشینی اختیار کرو اس لیے کہ انھیں خدا کی خشیت اور شریعت کے وہ اسرار حاصل ہیں جو ہمیں حاصل نہیں، جب کسی مسئلہ کے حل سے قاصر ہو جاتے تو شیخ ابو حمزہ بغدادی سے فرماتے: اے صوفی! اس مسئلے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ وہ جو بتاتے امام احمد اسے اختیار کر لیتے۔” [یواقیت، ص: 94]
شیخ محی الدین ابن عربی (م: 738ھ)
منکرین سب سے زیادہ سید المکاشفین حضرت محی الدین ابن عربی قدس سرہ کو اپنے تیرِ ستم کا نشانہ بناتے ہیں اور ان کے بارے میں نہ معلوم کیا کچھ کہہ جاتے ہیں لیکن اسلام کی مستند شخصیات اور امت کے اکابر علما نے ان کے بارے میں کیا فرمایا؟ امام عبد الوہاب شعرانی کی کتاب “الیواقیت والجواہر فی عقائد الاکابر” سے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں:
(1) شام کے شیخ الاسلام حضرت سراج الدین مخزومی فرماتے ہیں: شیخ محی الدین کے کسی کلام پر انکار سے بچو اس لیے کہ اولیا کے گوشت زہر آلود ہوتے ہیں۔ (ان کی شان میں غیبت و بدگوئی مہلک ہے) ان سے بغض رکھنے والے کے دین کی بربادی یقینی ہے، جو ان کا دشمن ہوا اسلام سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا، نصرانی ہوگیا اور اس پر مر گیا، جس نے بدگوئی سے ان کے بارے میں زبان درازی کی خدا نے اس کو مردہ دلی کی بلا میں ڈال دیا۔ حضرت عبد اللہ قرشی فرماتے تھے: جو خدا کے کسی ولی کی تحقیر کرتا ہے اس کے دل میں ایک زہر آلود تیر مارا جاتا ہے اور مرنے سے پہلے اس کا عقیدہ فاسد ہو جاتا ہے اور اس کا خاتمہ خراب ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ ابو تراب نخشبی فرماتے تھے: جب دل میں خدا سے روگردانی کی طرف میلان پیدا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ اولیا کی شان میں بدگوئی لگ جاتی ہے۔
(2-3) شیخ کمال الدین زملکانی شام کے اجلہِ علما سے تھے یہ حضرت ابن عربی کے مداح ہیں۔ شیخ قطب الدین حموی جب شام سے اپنے ملک واپس آئے تو ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے شیخ محی الدین کو کیسا پایا؟ انھوں نے فرمایا: “میں نے علم و زہد اور معارف میں انھیں ایسا تلاطم خیز سمندر پایا جس کا ساحل نہیں۔”
(4) حافظ ابو عبد اللہ ذہبی ابن تیمیہ کے شاگرد جو صوفیہ سے مخالفت رکھتے تھے ان سے پوچھا گیا کہ محی الدین ابن عربی نے اپنی کتاب فصوص الحکم کے بارے میں کہا ہے کہ انھوں نے اسے بارگاہِ نبوت سے اذن پاکر ہی تصنیف کیا اس دعوے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ حافظ ذہبی نے فرمایا: “میں یہ گمان بھی نہیں کر سکتا کہ محی الدین ابن عربی جیسا بزرگ بھی جھوٹ بولے گا۔”
(5) شیخ صلاح الدین صفدی نے تاریخِ علمائے مصر میں ان کی مدح کی اور فرمایا ہے: “جو علومِ لدنیہ والوں کا کلام دیکھنا چاہے اسے شیخ محی الدین ابن عربی کی کتابیں دیکھنا چاہیے۔”
(6) شیخ قطب الدین شیرازی فرماتے ہیں: “شیخ محی الدین شریعت و طریقت کے علوم میں رتبہِ کمال پر فائز تھے ان پر وہی اعتراض کرے گا جو ان کا کلام سمجھنے سے قاصر ہو اور اس پر اعتقاد نہ رکھتا ہو اس سے ان کی شان میں کوئی خلل نہیں آتا جیسے کفار نے انبیائے کرام کی جانب جنون و سحر کی نسبت کی تو اس سے انبیا کے کمال میں کوئی خلل نہ آیا۔”
(7) امام فخر الدین رازی فرماتے ہیں: “شیخ محی الدین عظیم ولی تھے۔”
(8) مجد الدین فیروز آبادی قاموس میں فرماتے ہیں: شیخ محی الدین ایک بحرِ ناپیدا کنار ہیں۔ جب وہ مکہ مکرمہ میں مقیم تھے اس وقت شہرِ مبارک میں علما و محدثین جمع تھے اور ان کے درمیان جس علم میں بھی گفتگو ہوتی شیخ ہی سب کا مرجع ہوتے، تمام علما ان کی مجلس کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے آتے ان کے سامنے حاضری باعثِ برکت جانتے ان کی تصانیف کا ان سے درس لیتے۔ مکہ کے کتب خانوں میں آج بھی ان کی تصانیف کا موجود ہونا میری بات کا سب سے زیادہ سچا گواہ ہے۔ وہ مکہ میں زیادہ تر حدیث پاک کے سننے، سنانے میں مشغول رہتے۔ وہیں انھوں نے اپنے شاگرد بدر الدین حبشی کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کتابوں کی مراجعت کے بغیر فتوحاتِ مکیہ تصنیف فرمائی، بعدِ تصنیف اسے ایک سال تک کعبہِ معظمہ کی چھت پر رکھا پھر اتار کر دیکھا تو جیسی رکھا تھا ویسی ہی پایا، نہ اس کا کوئی ورق بھیگا، نہ ہواؤں سے چاک ہوا۔ جب کہ مکہ میں بارش بہت ہوئی اور آندھیاں کثرت سے چلیں۔ اس مقبولیت کا تجربہ کر لینے کے بعد ہی انھوں نے فتوحاتِ مکیہ کی کتابت و قراءت کی اجازت دی۔
(9) تقی الدین سبکی فرماتے ہیں: “شیخ محی الدین ابن عربی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھے۔ فضل و کمال نے ان کے زمانے میں اپنی ساری کنجیاں ان کے سپرد کر دی تھیں اور کہہ دیا تھا آپ کے سوا کسی سے آشنا نہیں۔”
(10) شیخ سراج الدین بلقینی سے حضرت ابن عربی کے بارے میں سوال ہوا تو فرمایا: “شیخ محی الدین کی کسی بات پر اعتراض و انکار سے بچو۔ اس لیے کہ جب وہ معرفت اور تحقیقِ حقائق کے سمندروں میں غوطہ زن ہوئے تو آخر میں فصوص الحکم، فتوحاتِ مکیہ، تنزلاتِ موصلی وغیرہ اپنی تصانیف میں وہ عبارات تحریر فرمائیں جو ان کے ہم رتبہ اہلِ اشارات پر مخفی نہیں۔ ان کے بعد کچھ ایسے لوگ آئے جو ان کے مسلک سے اندھے اور بے خبر تھے۔ انھوں نے اسے غلط ٹھہرایا بلکہ ان عبارات کی وجہ سے شیخ کو کافر کہا۔ یہ لوگ نہ تو شیخ کی اصلاح سے خود آشنا تھے نہ اس راہ کے سالکین سے دریافت کیا۔”
واقعہ یہ ہے کہ شیخ کے کلام میں کچھ ایسے رموز و اشارات، روابط و ضوابط اور حذفِ مضافات ہیں جو ان کے اور ان کے ہم رتبہ حضرات کے علم میں معلوم ہیں اور جاہلوں کے نزدیک مجہول ہیں۔ اگر یہ لوگ ان کے کلمات کو ان کے دلائل و تطبیقات کے ساتھ دیکھتے اور ان کے نتائج اور مقدمات سے آگاہ ہوتے تو وہ ثمرات پاتے جو مقصود ہیں اور ان کا اعتقاد بھی شیخ کے اعتقاد کے برخلاف نہ ہوتا۔
جاری.................... [مقالات مصباحی، ص: 74 تا 79]
