تصوف __ روح اسلام (قسط: دوم)|علامہ محمد احمد مصباحی

تصوف __ روح اسلام (قسط: دوم)
عنوان: تصوف __ روح اسلام (قسط: دوم)
تحریر: علامہ محمد احمد مصباحی
پیش کش: ام حبیبہ واسطی
منجانب: الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

ہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں

امام جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں: ہر دور میں یہ ہوتا آیا ہے کہ جب کوئی شخصیت بلند مرتبہ ہوئی تو کوئی کمینہ دشمن ان کی مخالفت پر اتر آیا مثلاً: حضرت آدم علیہ السلام کا دشمن ابلیس، حضرت نوح علیہ السلام کا دشمن حام وغیرہ، حضرت داؤد علیہ السلام کا جالوت، حضرت سلیمان علیہ السلام کا صخر، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بخت نصر اور دجال، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نمرود، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا فرعون، اور حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن ابو جہل ہوا۔ اسی طرح صحابہ کرام و ائمہ مجتہدین میں سے حضرت ابن عمر، حضرت عبد اللہ بن زبیر، حضرت ابن عباس اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم پر بھی ان کے مخالفین نے طرح طرح کے بہتان لگائے اور اذیتیں پہنچائیں۔

ان کے بعد ائمہ مجتہدین کا حال بھی یہی رہا: امام اعظم ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور امام بخاری رحمہم اللہ سب کو اپنے اپنے دور میں سختیاں جھیلنی پڑیں۔ حضرت بایزید بسطامی کو سات بار شہر بدر کیا گیا، حضرت ذوالنون مصری کو زنجیروں میں جکڑ کر لے جایا گیا اور حضرت سہل بن عبد اللہ تستری کو کافر تک کہا گیا۔ امام سیوطی نے حضرت ابن عربی کے دفاع میں "تنبيه الغبي في تبرئة ابن عربی" اور حضرت ابن الفارض کے دفاع میں "قمع العارض في نصرة ابن الفارض" جیسی کتابیں لکھ کر ان کے مخالفین کا علمی رد کیا۔

ان بیانات سے واضح ہے کہ اربابِ فضل و کمال کی تحقیر و تنقیص کوئی نئی چیز نہیں، لیکن مخالفین خود گوشہِ گمنامی میں چلے گئے اور ان اولیاء اللہ کی شانِ جلالت آج بھی قائم و دائم ہے۔

تصوف اور صوفیائے کرام

کچھ لوگوں نے غلط فہمی میں تصوف کو شریعت سے جدا راہ سمجھ رکھا ہے، یہ محض زندقہ ہے۔ صوفیہ کرام نے کبھی تصوف کو کتاب و سنت سے الگ شمار نہیں کیا، بلکہ ان کے نزدیک جس کشف یا طریق کو شریعت رد کر دے وہ الحاد ہے۔

تصوف کی چند تعریفات ملاحظہ ہوں:

  • عارف باللہ امام عبد الوہاب شعرانی فرماتے ہیں: "تصوف احکامِ شریعت پر بندے کے عمل کا خلاصہ ہے۔" [طبقات الشافعیة الکبریٰ، ص: 4]

  • امام محمد بن خفیف ضبی فرماتے ہیں: "تصوف دل کی صفائی اور شریعت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل پیروی کا نام ہے۔" [الطبقات الکبریٰ، ص: 18]

  • امام غزالی فرماتے ہیں: "تصوف دل کا اللہ کے لیے خالی ہونا اور ماسوی اللہ کو خاطر میں نہ لانا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ قلب اور اعضا سے متعلق اعمال درست ہوں، جب عمل فاسد ہوگا تو اصل ہی فوت ہو جائے گی۔" [احیاء علوم الدین، ج: 2، ص: 249]

  • سیدنا غوثِ اعظم شیخ عبد القادر جیلانی فرماتے ہیں: "اللہ کی طرف سب سے قریب راستہ قانونِ بندگی کو لازم پکڑنا اور شریعت کی گرہ کو تھامے رہنا ہے۔" [بہجۃ الاسرار، ص: 50]

شریعت پر استقامت تبھی ممکن ہے جب ظاہر و باطن دونوں پاک ہوں۔ صوفیہ کرام باطن کو اخلاقِ ذمیمہ (جیسے ریا، عجب، حسد، کینہ، تکبر، حبِ جاہ وغیرہ) سے پاک کرنے کے لیے مسلسل محاسبہ کرتے ہیں۔ اس کے برعکس وہ طالب کو اخلاقِ حمیدہ (جیسے رافت، محبت، صبر، رضا، توکل، اخلاص، تواضع وغیرہ) سے آراستہ کرنے کی تاکید کرتے ہیں۔

مقامات و احوال کی ایک جھلک

صوفیہ کے نزدیک مقامات (جیسے توبہ، انابت، ورع، محاسبہ، زہد، فقر، صدق، صبر، رضا، توکل) اور احوال (جیسے مراقبہ، قرب، محبت، خوف، حیا، شوق، انس، یقین، مشاہدہ) کی مشق و تربیت کے ذریعے بندہ مریدِ حقیقی بنتا ہے۔ یہ تمام امور کتاب و سنت کے عین مطابق ہیں، لیکن تعصب کی عینک لگائے ہوئے لوگ صوفیہ کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان حضرات کی استقامت اور ان کے افکار و اخلاق کی بلندی اہلِ ظاہر کے تصور سے بھی باہر ہے۔

جاری....................... [مقالات مصباحی، ص: 79 تا 85]

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!