Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

توحید، تصوف اور اہل تصوف (قسط: دوم)|علامہ محمد احمد مصباحی

توحید، تصوف اور اہل تصوف (قسط: دوم)
عنوان: توحید، تصوف اور اہل تصوف (قسط: دوم)
تحریر: علامہ محمد احمد مصباحی
پیش کش: ام حبیبہ واسطی
منجانب: الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

سیدنا شاہ ابو الحسن احمد نوری قدس سرہ (م 1324ھ) فرماتے ہیں:

وحدت کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وجودی دوسری شہودی۔ وجودی کے معنی یہ ہیں کہ سالک کے علم اور نظر دونوں سے اللہ کے سوا جو کچھ بھی ہے اس کا شعور ختم ہو جائے اور اس کی نظر و علم میں اللہ کے سوا سب کچھ فنا ہونے کے بعد ذاتِ باری تعالیٰ رہے۔ یہی سالک کے مقام کی انتہا ہے۔ اس مقام پر آنے کے بعد سالک ولی ہو جاتا ہے۔ سیر الی اللہ کے ختم ہونے کے یہی معنی ہیں اور اسی کو مقامِ لاہوت کہتے ہیں۔ سیر و سلوکِ قادریہ میں یہ چوتھا مقام ہے۔ اس کے بعد سیر فی اللہ ہے کہ اس سے مراد ذاتِ بحث باری تعالیٰ میں، جس کی کوئی حد نہیں، ترقی حاصل کرنا شروع ہوتا ہے اور حدیث شریف: “مَا عَرَفْنَا حَقَّ مَعْرِفَتِكَ” (ہم نے جیسا کہ تیرا حق تھا تجھے نہ پہچانا) اسی سیر کی خبر دیتی ہے۔ قادریہ، چشتیہ، سہروردیہ وغیرہم تمام اولیاء اللہ کا یہی مسلک ہے۔ ایک قلیل تعداد وحدتِ شہود کی طرف گئی ہے اور اس کو سالک کا ابتدائی مقام جانتے ہیں، وحدتِ شہودی کے بھی یہی معنی ہیں لیکن اس میں موجودات کا انکار صرف سالک کی نظر سے ہوتا ہے اس کے علم سے نہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا تمام موجودات اس کے علم میں تو باقی رہتے ہیں صرف نظر سے ختم ہو جاتے ہیں۔ نظر میں صرف ذاتِ باری باقی رہتی ہے۔ باقی سب نظر سے ہلاک اور فانی ہو جاتے ہیں مگر سالک کے علم میں باقی رہتے ہیں۔ جیسے سورج نکلنے پر ستارے۔ کہ سب ستارے نظر سے غائب ہو جاتے ہیں، نظر کے سامنے صرف سورج ہوتا ہے لیکن وہ جانتا ہے کہ ستاروں کا وجود ویسے ہی باقی ہے بس نظر سے چھپ گیا ہے۔ [سراج العوارف فی الوصایا والمعارف: شاہ ابو الحسن احمد نوری، ترجمہ ڈاکٹر سید محمد امین برکاتی، ص: 64، 65، اشاعت ممبئی 1986ء]

امام احمد رضا قادری بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں:

حقیقی وجود صرف اللہ کے لیے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے سچی بات جو عرب نے کہی وہ لبید شاعر کا یہ قول ہے: “أَلَا، كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ۔” ہمارے نزدیک ثابت ہو چکا ہے کہ کلمہِ لا الہ الا اللہ کا معنی عوام کے نزدیک یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور خواص کے نزدیک یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی مقصود نہیں اور اخص الخواص کے نزدیک یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی مشہود نہیں۔ اور جو مقامِ نہایت تک پہنچ گئے ان کے نزدیک یہ ہے کہ خدا کے سوا کوئی موجود نہیں۔ اور سب حق ہے۔ مدارِ ایمان اول پر ہے۔ مدارِ صلاح دوم پر، کمالِ سلوک سوم پر اور وصول الی اللہ کا مدار چہارم پر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان چاروں معانی سے حظِ کامل عطا فرمائے۔ اپنے احسان و کرم سے۔۔۔ الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ 1328ھ، اشاعت و طباعت بریلی، ص: 324۔ [امام احمد رضا اور تصوف: محمد احمد مصباحی، ص: 102، اشاعت اول المجمع الاسلامی، مبارک پور، 1408ھ]

یہاں بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ صوفیہ واجب اور ممکن میں اتحاد کے قائل ہیں، واجب کو عینِ ممکن اور عینِ ممکن کو عینِ واجب جانتے ہیں اور “ہمہ اوست” کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن صوفیہ کا دامن اس الزام سے بری ہے۔ وہ ممکن کو ظل، عکس، پرتو، مظہر کہتے ہیں اور بہر حال اصل سے جدا اور اصل کا غیر ہوتا ہے۔ ظلیت کی صراحت کے باوجود ان کے کلام سے عینیت ثابت کرنا غلط ہے، اگر کسی سے کوئی ایسی عبارت منقول ہے تو اس کی تاویل ضروری ہے کیوں کہ حلول و اتحاد کی نفی میں صوفیائے کرام کی صریح عبارات موجود ہیں۔ شیخ عبد الوہاب شعرانی فرماتے ہیں کہ یہ بات ملحدین نے شیخِ اکبر کے خلاف پھیلائی ہے۔ امام شعرانی نے شیخِ اکبر کی کتابوں سے ان کا مذہب اور حلول و اتحاد کی نفی نقل کرکے واضح کیا ہے کہ شیخ اس خیالِ باطل سے بلا شبہ بری ہیں۔ چند عبارتیں یہاں بھی پیش کی جاتی ہیں۔

شیخ اکبر فرماتے ہیں

جو حلول کا قائل ہے وہ بیمار ہے کیوں کہ حلول کا قول ایک لاعلاج مرض ہے اور اتحاد کے قائل اہلِ الحاد ہیں جیسے حلول کے قائل اہلِ جہل و فضول ہیں۔ [فتوحات، باب الاسرار]

حادث حوادث سے خالی نہیں ہو سکتا اگر قدیم کا حلول حادث میں ہو تو مجسمہ کی بات درست ہو جائے۔ قدیم نہ حلول کرنے والا ہے، نہ اس میں کوئی شے حلول کرنے والی ہے۔۔۔ عاشق جب کہتا ہے “أَنَا مَنْ أَهْوَى، وَمَنْ أَهْوَى أَنَا” تو یہ زبانِ عشق و محبت کا کلام ہے۔ زبانِ علم و تحقیق کا کلام نہیں۔ اس لیے ایسا قائل جب سُکر سے صحو میں آتا ہے تو اپنے قول سے رجوع کرتا ہے۔ [فتوحات، باب الاسرار]

اگر یہ صحیح ہے کہ انسان، انسانیت سے اور ملک، ملکیت سے ترقی کرکے خالق جل وعلا سے متحد ہو جائے اور خلق، حق ہو جائے تو کسی کو کسی علم پر اعتماد نہ رہے اور محال واجب ہو جائے جب کہ قلبِ حقائق کی کوئی راہ نہیں۔ [فتوحات، باب 314]

خلقت کبھی مرتبہِ حق عزوجل میں نہیں ہو سکتی، جیسے معلول کبھی مرتبہِ علت میں نہیں۔ [فتوحات، باب 48]

کمالِ عرفان یہ ہے کہ عبد اور رب دونوں کا مشاہدہ ہو، جو عارف کسی بھی وقت مشاہدہِ عبد کی نفی کرے وہ عارف نہیں۔ اس وقت وہ صاحبِ حال ہے اور صاحبِ حال سکر والا ہے جسے تحقیق نہیں ہوتی۔ [لواقح الانوار]

فتوحات باب 367 میں لکھتے ہیں

بعض مکاشفات میں میری روح کی ملاقات حضرت ہارون علیہ السلام سے ہوئی۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! آپ نے یہ کیسے کہا: “فَلَا تُشْمِتْ بِيَ الْأَعْدَاءَ” (مجھ پر دشمنوں کو نہ ہنسا)، وہ اعدا کون ہیں جن کا آپ مشاہدہ کر رہے ہیں۔ جب کہ ہم لوگوں میں سے سالک ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کسی کا مشاہدہ نہیں کرتا۔ حضرت ہارون علیہ السلام نے جواب دیا: تم نے جو کہا تمھارے مشاہدے کے لحاظ سے صحیح ہے۔ لیکن یہ بتاؤ کہ جب تم خدا کے سوا کسی چیز کا مشاہدہ نہیں کرتے تو کیا اس وقت نفس الامر سے عالم زائل ہو گیا جیسا کہ تمھارے مشاہدے میں زائل ہے یا نفس الامر میں عالم باقی اور غیر زائل ہے۔ صرف تم اس کے مشاہدے سے محجوب ہو اس لیے کہ ایک ایسی عظیم تجلی تمھارے قلوب پر واقع ہوئی جس نے عالم کو تمھارے شہود سے روپوش کر دیا؟ میں نے عرض کیا: نفس الامر میں عالم باقی اور غیر زائل ہے۔ صرف ہم اس کے مشاہدے سے محجوب ہو گئے۔ فرمایا: اس شہود میں خدا سے متعلق تمھارے عرفان میں کمی ہے جس قدر کہ مشاہدہِ عالم میں کمی ہے۔ اس لیے کہ سارا عالم اللہ کی نشانی ہے۔ اس جواب سے حضرت ہارون علیہ السلام نے مجھے ایسی معرفت کا افادہ فرمایا جو مجھے پہلے حاصل نہ تھی۔ انتہیٰ۔ سیدی علی بن وفا رحمہ اللہ فرماتے کہ اگر کلامِ قوم میں کہیں اتحاد کا ذکر آیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بندے کی مراد، حق کی مراد میں فنا ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ فلاں فلاں میں اتحاد ہے جب ہر ایک دوسرے کے منشا کے مطابق کام کرتا ہے۔ [الیواقیت والجواہر فی عقائد الاکابر، ج: 1، ص: 55-63، بتلخیص و ترجمہ]

ان اقتباسات سے واضح ہے کہ حلول و اتحاد کے قول سے صوفیائے کرام کس قدر دور ہیں اور ان کی جانب اس خیالِ باطل کا انتساب کتنا غلط اور گمراہ کن ہے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ صوفیہ کا یہ مذہب شریعت کے موافق ہے یا مخالف؟ اس بارے میں علامہ فضل حق خیر آبادی (1212ھ - 1278ھ) نے الروض المجود (في حقيقة الوجود) میں تفصیلی گفتگو کی ہے۔ وحدتِ وجود کو پہلے دلیلِ عقلی سے ثابت کیا ہے پھر اس پر کئی آیات و احادیث پیش کرکے واضح کیا ہے کہ وحدتِ وجود کو مانے بغیر ان نصوص کا صحیح مفہوم متعین نہیں ہو سکتا۔ ملاحظہ ہو، ص: 34 تا ص: 36، طبع مطبع مفید الاسلام حیدرآباد، 1313ھ۔

میں یہاں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کا کلام پیش کرتا ہوں جس سے توحید، وحدت اور اتحاد کی وضاحت بھی ہوتی ہے اور وحدت پر دلیلِ سمعی بھی فراہم ہوتی ہے۔ وہ رقم طراز ہیں:

یہاں تین چیزیں ہیں توحید، وحدت، اتحاد۔ توحید مدارِ ایمان ہے اور اس میں شک کفر اور وحدتِ وجود حق ہے، قرآن عظیم و احادیث و ارشاداتِ اکابرِ دین سے ثابت اور اس کے قائلوں کو کافر کہنا خود شنیع خبیث کلمہِ کفر ہے۔ رہا اتحاد، وہ بے شک زندقہ و الحاد، اور اس کا قائل ضرور کافر۔ اتحاد یہ کہ یہ بھی خدا، وہ بھی، سب خدا۔ (ع) گر فرق مراتب نہ کنی زندیقی۔ حاشا للہ! الہ، الہ ہے اور عبد عبد۔ ہرگز نہ عبد الہ ہو سکتا ہے نہ الہ عبد۔ اور وحدتِ وجود یہ کہ وہ صرف موجودِ واحد، باقی سب ظلال و عکوس ہیں۔ قرآن کریم میں ہے: “كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ۔”

صحیح بخاری، و صحیح مسلم، و سنن ابن ماجہ میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: “أَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا الشَّاعِرُ كَلِمَةُ لَبِيدٍ: أَلَا، كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ”، سب میں زیادہ سچی بات جو کسی شاعر نے کہی، لبید کی بات ہے کہ سن لو! اللہ عزوجل کے سوا ہر چیز اپنی ذات میں بے حقیقت ہے۔ کتبِ کثیرہ مفصلہ اصابہ، نیز مسند میں ہے: سواد بن قارب رضی اللہ عنہ نے حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی:

فَأَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ لَا شَيْءَ غَيْرُهُ
وَأَنَّكَ مَأْمُونٌ عَلَى كُلِّ غَائِبِ

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کچھ موجود نہیں اور حضور جمیع غیوب پر امین ہیں۔ حضورِ اقدس نے انکار نہ فرمایا۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 6، ص: 132، 133، سنی دار الاشاعت مبارک پور]

اب مسئلے کی قدرے تفصیل اور مثال سے تفہیم بھی ملاحظہ ہو۔ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں: یہاں فرقے تین ہیں: ایک خشک اہلِ ظاہر، کہ حق و حقیقت سے بے نصیبِ محض ہیں۔ یہ وجود کو اللہ و مخلوق میں مشترک سمجھتے ہیں۔ دوم اہلِ حق و حقیقت کہ بمعنی مذکور قائلِ وحدتِ وجود ہیں۔ سوم اہلِ زندقہ و ضلالت، الہ و مخلوق میں فرق کے منکر، اور ہر شخص و شے کی الوہیت کے مقر ہیں۔ ان کے خیال و اقوال اس تقریبی مثال سے روشن ہوں گے۔

ایک بادشاہِ اعلیٰ جاہ آئینہ خانہ میں جلوہ فرما ہے، جس میں تمام مختلف اقسام و اوصاف کے آئینے نصب ہیں۔ آئینوں کا تجربہ کرنے والا جانتا ہے کہ اس میں ایک ہی شے کا عکس کس قدر مختلف طوروں پر متجلی ہوتا ہے۔ بعض میں صورت خلاف نظر آتی ہے۔ بعض میں دھندلی، کسی میں سیدھی، کسی میں الٹی، ایک میں بڑی، ایک میں چھوٹی، بعض میں پتلی، بعض میں چوڑی، کسی میں خوش نما، کسی میں بھونڈی، یہ اختلاف ان کی قابلیت کا ہوتا ہے، ورنہ وہ صورت جس کا اس میں عکس ہے خود واحد ہے، ان میں جو حالتیں پیدا ہوئیں متجلی ان سے منزہ ہے۔ ان کے الٹے، بھونڈے، دھندلے ہونے سے اس میں کوئی قصور نہیں ہوتا۔ وَلِلَّهِ الْمَثَلُ الْأَعْلَى۔ اب اس آئینہ خانہ کو دیکھنے والے تین قسم کے ہوئے۔

اول: ناسمجھ بچے

انھوں نے گمان کیا کہ جس طرح بادشاہ موجود ہے یہ سب عکس بھی موجود ہیں کہ یہ بھی تو ہمیں ایسے ہی نظر آ رہے ہیں جیسے وہ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ یہ اس کے تابع ہیں۔ جب وہ اٹھتا ہے یہ سب کھڑے ہو جاتے ہیں، وہ چلتا ہے یہ سب چلنے لگتے ہیں۔ وہ بیٹھتا ہے یہ سب بیٹھ جاتے ہیں۔ تو عین یہ بھی اور وہ بھی۔ مگر وہ حاکم ہے یہ محکوم۔ اور اپنی نادانی سے نہ سمجھا کہ وہاں تو بادشاہ ہی بادشاہ ہے۔ یہ سب اسی کے عکس ہیں، اگر اس سے حجاب ہو جائے تو سب صفحہِ ہستی سے معدومِ محض ہو جائیں گے، ہو کیا جائیں گے اب بھی تو حقیقی وجود سے کوئی حصہ ان میں نہیں۔ حقیقتاً بادشاہ ہی موجود ہے، باقی سب پرتو کی نمود ہے۔

دوم: اہلِ نظر و عقلِ کامل

وہ اس حقیقت کو پہنچے اور اعتقاد بنائے کہ بے شک وجود ایک بادشاہ کے لیے ہے، موجود ایک وہی ہے۔ یہ سب ظل و عکس ہیں کہ اپنی حدِ ذات میں اصلاً وجود نہیں رکھتے۔ اس تجلی سے قطع نظر کرکے دیکھو کہ پھر ان میں کچھ رہتا ہے۔ حاشا، عدمِ محض کے سوا کچھ نہیں اور جب یہ اپنی ذات میں معدوم و فانی ہیں اور بادشاہ موجود، یہ اس نمودِ وجود میں اس کے محتاج ہیں اور وہ سب سے غنی، یہ ناقص ہیں وہ تام، یہ ایک ذرہ کے بھی مالک نہیں اور وہ سلطنت کا مالک، یہ کوئی کمال نہیں رکھتے، حیات، علم، سمع، بصر، قدرت، ارادہ، کلام سب سے خالی ہیں اور وہ سب کا جامع، تو یہ اس کا عین کیوں کر ہو سکتے ہیں؟ لا جرم یہ نہیں کہ یہ وہی ہیں بلکہ وہی وہ ہے اور یہ صرف اس تجلی کی نمود۔ یہی حق و حقیقت ہے اور یہی وحدت الوجود۔

سوم: عقل کے اندھے

سمجھ کے اوندھے، ان ناسمجھ بچوں سے بھی گئے گزرے۔ انھوں نے دیکھا کہ جو صورت بادشاہ کی ہے وہی ان کی، جو حرکت وہ کرتا ہے یہ سب بھی، تاج جیسا اس کے سر پر ہے بعینہ ان کے سروں پر بھی۔ انھوں نے عقل و دانش کو پیٹھ دے کر بکنا شروع کیا کہ یہ سب بادشاہ ہیں اور اپنی سفاہت سے وہ تمام عیوب و نقائص جو نقصانِ قوابل کے باعث ان میں تھے خود بادشاہ کو ان کا مورد کر دیا کہ جب یہ وہی ہیں تو ناقص عاجز محتاج الٹے بھونڈے بدنما دھندلے کا جو عین ہے قطعا انھیں ذمائم سے متصف ہے۔ “تَعَالَى اللَّهُ عَمَّا يَقُولُ الظَّالِمُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا۔”

انسان عکس ڈالنے میں آئینے کا محتاج ہے اور وجودِ حقیقی احتیاج سے پاک، وہاں جسے آئینہ کہیے وہ خود بھی ایک ظل ہے، پھر آئینے میں انسان کی صرف سطحِ مقابل کا عکس پڑتا ہے جس میں انسان کے صفات مثلِ کلام و سمع و بصر و علم و ارادہ و حیات و قدرت سے اصلاً نام کو بھی کچھ نہیں آتا لیکن وجودِ حقیقی عزجلالہ کی تجلی نے اپنے بہت ظلال پر نفسِ ہستی کے سوا، ان صفات کا بھی پرتو، ڈالا۔ یہ وجوہ اور بھی ان بچوں کی نافہمی اور ان اندھوں کی گمراہی کی باعث ہوئیں اور جن کو ہدایتِ حق ہوئی وہ سمجھ لیے کہ

یک چراغے ست دریں خانہ کہ از پرتو آں
ہر کجا می نگری انجمنے ساختہ اند

انھوں نے ان صفات اور خود وجود کی دو قسمیں کیں: حقیقی ذاتی کہ متجلی کے لیے خاص ہے اور ظلی عطائی کہ ظلال کے لیے ہے اور حاشا یہ تقسیم اشتراکِ معنی نہیں بلکہ محض موافقت فی اللفظ۔ یہ ہے حق و حقیقت و عینِ معرفت وللہ الحمد۔ [فتاویٰ رضویہ: امام احمد رضا قادری بریلوی، ج: 6، ص: 133، 134، سنی دار الاشاعت، مبارک پور]

ایک حدیث طبرانی نے ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت کی، حضورِ والا صلوات اللہ تعالیٰ و سلامہ علیہ نے فرمایا:

إِنَّ اللَّهَ يَجْمَعُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ: يَا أَهْلَ التَّوْحِيدِ! إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ عَفَا عَنْكُمْ. فَيَقُومُ النَّاسُ فَيَتَعَلَّقُ بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ فِي ظُلَامَاتٍ، فَيُنَادِي مُنَادٍ: يَا أَهْلَ التَّوْحِيدِ! لِيَعْفُ بَعْضُكُمْ عَنْ بَعْضٍ، وَعَلَيَّ الثَّوَابُ. [فتاویٰ رضویہ: امام احمد رضا قادری بریلوی، ج: 9، ص: 50، اشاعت رضا اکیڈمی، ممبئی 1415ھ]

یعنی بے شک اللہ عزوجل روزِ قیامت سب اگلوں کو پچھلوں کو ایک زمین میں جمع فرمائے گا پھر زیرِ عرش سے منادی ندا کرے گا اے توحید والو! مولا تعالیٰ نے تمھیں اپنے حقوق معاف فرمائے۔ لوگ کھڑے ہوکر آپس کے مظلموں میں ایک دوسرے سے لپٹیں گے۔ منادی پکارے گا: اے توحید والو! ایک دوسرے کو معاف کر دو اور ثواب دینا میرے ذمہ ہے۔

یہ اہلِ توحید کون ہیں جن سے حقوق اللہ بھی معاف ہوں گے اور باہمی حقوق العباد کی بھی معافی کراکے ثواب کا پروانہ مل جائے گا؟ امام احمد رضا قدس سرہ فرماتے ہیں:

فقیر کے گمان میں حدیث مذکور میں اہلِ توحید سے یہی محبوبانِ خدا مراد ہیں کہ توحیدِ خالص نامِ کامل، ہر گونہ شرکِ خفی و اخفی سے پاک و منزہ انھیں کا حصہ ہے۔ بخلاف اہلِ دنیا جنھیں عبد الدینار، عبد الدرہم، عبد طمع، عبد ہویٰ، عبد رغب فرمایا گیا۔ وَقَالَ تَعَالَى: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ اور بے شک بے حصولِ معرفتِ الہی اطاعتِ ہوائے نفس سے باہر آنا سخت دشوار۔ یہ بندگانِ خدا نہ صرف عبادت بلکہ طلب و ارادات بلکہ خود اصل ہستیِ وجود میں اپنے رب جل مجدہ کی توحید کرتے ہیں۔ لا الہ الا اللہ کے معنی عوام کے نزدیک لا معبود الا اللہ۔ خواص کے نزدیک لا مقصود الا اللہ۔ اہلِ ہدایت کے نزدیک لا مشہود الا اللہ۔ تو اہلِ توحید کا سچا نام انھیں کو زیبا۔ ولہذا ان کے علم کو علم توحید کہتے ہیں۔ اعجب الامداد فی مکفرات حقوق العباد (1310ھ) مشمولہ فتاویٰ رضویہ۔ [فتاویٰ رضویہ امام احمد رضا قادری بریلوی، ج: 9، ص: 52، 53، اشاعت رضا اکیڈمی 1415ھ]

اب تک جو بیانات و اقتباسات درج ہوئے ان سے صوفیہ کے مسلکِ توحید پر بخوبی روشنی پڑتی ہے اور چند باتیں کھل کر سامنے آتی ہیں:

  1. توحید کے بارے میں جو عام امت کا عقیدہ ہے کہ لا معبود الا اللہ، صوفیہ بھی اسے پورے یقین و اذعان کے ساتھ مانتے ہیں۔

  2. اہلِ سلوک اپنی ترقیِ معرفت کے نتیجے میں اس سے بھی آگے بڑھتے ہیں اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ لا معبود الا اللہ ماننے کے ساتھ لا موجود الا اللہ کا مشاہدہ کرتے ہیں اور اس کے قائل ہوتے ہیں۔

  3. صوفیہ عالم کے وجود و ایجاد کے منکر نہیں لیکن حقیقی و ذاتی وجود صرف وجودِ واجب کو مانتے ہیں۔ اور ظلی و عطائی وجود عالم کے لیے تسلیم کرتے ہیں۔

    شیخ مجدد فرماتے ہیں

    ممکن کے پاس جو کچھ بھی ہے حضرتِ وجوب سے مستفاد ہے، وہ اپنے باپ کے گھر سے کچھ نہیں لایا ہے۔ ظلیت کا لحاظ کیے بغیر اسے موجودِ خارجی کہنا امرِ دشوار ہے اور واجب تعالیٰ کے ساتھ اس کے سب سے اخص وصف میں ممکن کو شریک ٹھہرانا بھی ہے۔ تَعَالَى اللَّهُ عَنْ ذَلِكَ عُلُوًّا كَبِيرًا۔ [مکتوبات امام ربانی شیخ احمد سرہندی (م 1034ھ) دفتر دوم، مکتوب 98، ص: 255، مطبع ایجوکیشنل کراچی]

  4. ان کے اس کشف و شہود کو شریعت رد نہیں کرتی۔ بلکہ کتاب و سنت سے اس کی تائید ہوتی ہے۔

  5. صوفیائے کرام میں سے کوئی بھی واجب و ممکن کے اتحاد کا قائل نہیں بلکہ یہ اہلِ الحاد کا قول ہے کہ من و تو، این و آں سب ایک ہے۔ صوفیہ کا دامن اس الحاد سے پاک ہے۔

  6. اہلِ تصوف اس کو بھی باطل مانتے ہیں کہ رب کا حلول کسی شے میں ہو، یا کوئی شے رب میں حلول کرے۔ رب نہ حوادث کا محل ہے، نہ حوادث رب کا محل ہیں۔ حوادث کو رب کا مکان و محل ماننا گمراہ مجسمہ کا مذہب ہے (جس میں ابن تیمیہ اور اس کے اتباع داخل ہیں) صوفیائے کرام اور تمام سلف ایسے باطل عقیدے سے بری ہیں۔

  7. صوفیہ کی توحید ایسے اعلیٰ درجہ پر ہے کہ خفی و اخفی ہر قسم کے شرک سے پاک و صاف ہے۔ [مقالات مصباحی، ص: 66 تا 73]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!