| عنوان: | محدثین کرام اور شوقِ حدیث |
|---|---|
| تحریر: | محمد فرمان حسنی ازہری جامعہ ازہر شریف، مصر |
| پیش کش: | فاطمہ خاتون |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
محدثین کرام اور شوقِ حدیث
حدیثِ پاک اللہ رب العزت کی جانب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کردہ وحی ہے۔ یہ دین کے بنیادی اصولوں میں سے ایک اور دینِ متین کی عمارت کا ایک اہم ستون ہے۔ اس پر عمل کرنا واجب ہے اور اس کی مخالفت کرنا حرام ہے، اس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے۔ اس بارے میں قرآنِ مجید میں ایسی واضح آیات موجود ہیں جن میں شک کی کوئی گنجائش نہیں؛ جو اس کا انکار کرے تو قطعاً اس کی مخالفت کے سبب عذاب کا مستحق ہے۔ چنانچہ اللہ رب العزت قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا [سورۃ الحشر: 7]
اور رسول جو کچھ تمہیں عطا کریں وہ لے لو اور جس سے تمہیں منع فرمائیں تم باز رہو۔
اور فرمایا:
مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ [سورۃ النساء: 80]
جس نے رسول کا حکم مانا یقیناً اس نے اللہ کا حکم مانا۔
اور ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے:
قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ [سورۃ آل عمران: 31]
اے حبیب! تم فرما دو کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
یہ اور ان کے علاوہ کئی آیاتِ کریمہ حدیثِ پاک کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں اور یہ ثابت کرتی ہیں کہ حدیثِ پاک دین کے اصولوں میں سے ایک اصل ہے۔
حضراتِ گرامی! اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم کو لوگوں کے لیے ہدایت بنا کر نازل فرمایا تاکہ وہ اپنے دینی اور دنیوی معاملات میں رہنمائی حاصل کریں، لیکن زیادہ تر یہ ہدایت اجمالی انداز میں ہے۔ جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی مراد کو مکمل وضاحت کے ساتھ سمجھنا (بغیر شرح کے) ممکن نہیں؛ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ قرآنِ کریم کو لوگوں تک پہنچائیں اور اپنے قول، فعل اور تقریر کے ذریعے ان امور کی وضاحت کریں جنہیں بیان کی ضرورت ہے۔ اسی کو حدیثِ پاک کہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ [سورۃ النحل: 44]
اور اے حبیب! ہم نے تمہاری طرف یہ قرآن نازل فرمایا تاکہ تم لوگوں سے وہ بیان کرو جو ان کی طرف نازل کیا گیا ہے اور تاکہ وہ غور و فکر کریں۔
معزز قارئین! اسلامی علوم میں محدثینِ کرام کا ایک بلند مقام ہے۔ یہ وہ جلیل القدر ہستیاں ہیں جنہوں نے حدیثِ رسول ﷺ کو جمع کرنے، اس کی حفاظت کرنے اور امت تک پہنچانے کا عظیم فریضہ انجام دیا۔ محدثینِ کرام نے اپنی زندگیاں حدیثِ نبوی ﷺ کی تحقیق، ترویج اور اشاعت کے لیے وقف کر دیں، اور ان کی کاوشوں کے نتیجے میں آج ہمارے پاس مستند احادیث کی ایک وسیع اور مضبوط علمی میراث موجود ہے۔ الحمد للہ۔
احادیث کی حفاظت اور ان کی تحقیق کا کام محدثین نے نہایت جانفشانی اور اخلاص کے ساتھ انجام دیا۔ یہ محدثین وہ عظیم شخصیات ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں رسول اللہ ﷺ کے اقوال، افعال اور احوال کی جمع و تدوین کے لیے وقف کر دیں۔ ان کی علمی خدمات اور حدیثِ نبوی سے بے پناہ شوق کی بدولت آج ہمیں صحیح اور مستند احادیث دستیاب ہیں۔
حدیثِ نبوی کی حفاظت میں محدثین کا کردار
محدثین نے حدیث کے الفاظ، معانی، اور اس کی سند کی تحقیق کے لیے بے مثال کوششیں کیں۔ ان کی خدمات درج ذیل نکات میں بیان کی جا سکتی ہیں:
1. حدیث کی زبانی روایت:
ابتدائی دور میں صحابہ کرام نے حدیث کو زبانی یاد رکھا اور تابعین کو منتقل کیا۔ محدثین نے حدیث کو سینہ بہ سینہ محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی سند اور متن کی حفاظت کا خاص اہتمام کیا۔
2. تحریری جمع و تدوین:
پہلی صدی ہجری میں احادیث کی کتابت کا باقاعدہ آغاز ہوا، اور دوسری و تیسری صدی میں محدثین نے احادیث کو کتابی شکل دی۔ امام مالک نے موطا، امام بخاری نے صحیح بخاری اور امام مسلم نے صحیح مسلم مرتب کیں۔
محدثین نے احادیث کی تحقیق کے لیے اصولِ حدیث اور علمِ جرح و تعدیل وضع کیے، تاکہ ضعیف اور موضوع احادیث کو مستند احادیث سے الگ کیا جا سکے۔ راویوں کے حالات، ان کی دیانت و تقویٰ، اور یادداشت کی مضبوطی کو جانچنے کے سخت اصول مقرر کیے گئے تاکہ کسی بھی طرح سے کوئی غلط روایت حضور ﷺ کی طرف منسوب نہ ہو سکے۔
محدثین کا حدیث سے شغف اور محبت بے مثال تھی۔ انہوں نے اپنی زندگیاں اس کام کے لیے وقف کر دیں، بعض نے تو اپنی ضروریاتِ زندگی کو بھی پسِ پشت ڈال دیا؛ وہ شب و روز حدیثِ نبوی کی خدمت میں لگے رہتے، اس کے لیے طویل سفر کرتے اور مشقتیں اٹھاتے تاکہ ہم تک اصل احادیثِ مبارکہ پہنچ سکیں۔ انہوں نے ہر حدیث کو پرکھنے کے لیے سند اور متن کی سخت جانچ پڑتال کی اور راویوں کے اخلاق، دیانت اور علم کو پرکھا تاکہ صرف صحیح اور مستند احادیث ہی امت تک پہنچیں۔
[سہ ماہی مجلہ القلم، رمضان المبارک تا ذوالقعدہ 1446ھ، ص: 15 تا 20]
