Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

محرم الحرام کا حقیقی پیغام اور خرافات کی تردید

محرم الحرام کا حقیقی پیغام اور خرافات کی تردید
عنوان: محرم الحرام کا حقیقی پیغام اور خرافات کی تردید
تحریر: بنت مفتی مظفر حسین مصباحی
پیش کش: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

محرم الحرام کا مہینہ آتے ہی کربلا کی تپتی ریت، شہدائے کربلا کی عظیم قربانیاں اور حق و باطل کی وہ معرکہ آرائی یاد آ جاتی ہے؛ جس نے قیامت تک کے لیے مسلمانوں کو عزت، غیرت اور استقامت کا راستہ دکھا دیا۔

کربلا والوں کا پیغام

شہدائے کربلا نے اپنے پاکیزہ اعمال سے امت کو یہ درس دیا کہ حق کی خاطر ہر قربانی دی جا سکتی ہے، مگر دین کو دنیا پر قربان نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ظلم و جبر کے سامنے استقامت، صبر، توکل اور حق پر ثابت قدمی کی ایسی خوبصورت مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک اہلِ ایمان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

یوں ہی امت کی عظیم بیٹی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا اعلیٰ کردار بھی تاریخِ کربلا کا ایک روشن باب ہے۔ مصائب و آلام کے پہاڑ ٹوٹ پڑے، اپنے عزیزوں کی جدائی دیکھی، بھوک و پیاس اور قید و اسیری کی سختیاں برداشت کیں، مگر صبر و شکر، حیا و پردہ، عبادت و بندگی اور رضائے الٰہی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ اور خواتینِ اسلام کو عفت و حیا، صبر و استقامت اور ہر حال میں دین پر قائم رہنے کا عملی پیغام فراہم کر دیا۔

غرض یہ کہ ان مقدس ہستیوں نے اپنے عمل سے امتِ مسلمہ کو یہ لازوال درس دے دیا کہ حق کی راہ میں دی جانے والی قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی، بلکہ صاحبِ حق کو حیاتِ جاوداں عطا کر دیتی ہے۔

زندہ ہو جاتے ہیں جو مرتے ہیں حق کے نام پر
اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کر دیا

محرم میں کیے جانے والے غیر شرعی رسومات

افسوس کہ اس عظمت و برکت والے مہینے میں شہدائے کربلا کی قربانیوں سے سبق حاصل کرنے، ان کے نقشِ قدم پر چلنے، ایصالِ ثواب، صدقہ و خیرات اور اصلاحِ اعمال کی فکر کرنے کے بجائے بہت سے لوگوں نے بے اصل رسومات و خرافات کو دین کا حصہ سمجھ لیا ہے۔ ”مثال کے طور پر تعزیہ داری، اس کے لیے چندے جمع کرنا، چڑھاوے چڑھانا، مہندیِ قاسم کے نام پر مختلف رسوم ادا کرنا، ماتم اور نوحہ خوانی، ڈھول باجوں اور کھیل تماشوں کا اہتمام، مصنوعی کربلاؤں اور امام باڑوں کی تعظیم، اور اس نوعیت کی دیگر بہت سی رسمیں معاشرے میں رواج پا گئی ہیں“۔

حالانکہ ان امور کی کوئی شرعی حیثیت نہیں، یہ سب ناجائز و گناہ اور جہالت کی پیداوار ہے؛ اور یہ ایسی بدعات و خرافات ہیں جو محرم الحرام کے حقیقی پیغام سے دور لے جاتی ہیں۔ لہٰذا ان امور سے اجتناب کی اشد ضرورت ہے۔

یقیناً محرم الحرام شہدائے کربلا کے نام سے جانا جاتا ہے؛ اور بالخصوص اس کی دس تاریخ کو ”حسینی دن“ مانا جاتا ہے۔ اور بے شک ایسا ہونا بھی چاہیے؛ تاہم یہ بات ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ مذہبِ اسلام ایک سیدھا، سچا، معتدل اور شرافت والا مذہب ہے، اس کی حدیں مقرر ہیں، لہٰذا اس میں جو بھی ہو وہ شریعت کے دائرے میں رہ کر ہو تبھی وہ کام درست اور قابلِ قبول ہو سکتا ہے۔ مگر جب ہمارا کوئی بھی طریقۂ کار مذہب کی لگائی ہوئی چہار دیواری سے تجاوز کر جاتا ہے؛ تو وہ غیر اسلامی اور ہماری بزرگ شخصیتوں کے لیے باعثِ بدنامی ہوتا ہے؛ ہم جیسا کریں گے ہمیں دیکھ کر دوسرے مذہب کے لوگ یہی تصور کریں گے کہ ان کے بزرگ بھی ایسا کرتے ہوں گے؛ کیونکہ جس طرح صالح اور شریف بچے کو دیکھ کر ان کے والدین کو نیک اور شریف گمان کیا جاتا ہے، اسی طرح قوم اپنے بزرگوں اور پیشواؤں کا تعارف ہوتی ہے۔ تو ہم اگر اسلام اور اسلامی بزرگوں کے نام پر غیر شرعی حرکتیں کریں گے تو یقیناً جنہوں نے اسلام کا مطالعہ نہیں کیا ہے ان کی نظر میں ہمارے مذہب کا غلط تعارف ہوگا۔ اور پھر بھلا کوئی کیوں اسلام کی طرف رغبت رکھے گا؟

محرم کے مہینے یعنی حسینی دن کے ساتھ بھی کچھ لوگوں نے یہی سب کیا؛ امام حسین رضی اللہ عنہ کے کردار و عمل کو بھول گئے اور ان دنوں کو غیر شرعی رسومات، کھیل تماشوں، ناچ گانوں, میلوں، ٹھیلوں اور تفریحوں کا دن بنا ڈالا۔

تو آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ان سب واہیات کو ختم کیا جائے، ان سب سے خود بھی رکا جائے اور دوسروں کو بھی روکا جائے، اور اسلامی طریقے سے اسے منایا جائے، رب کو راضی کرنے والے امور اور ان شہداء کی پاکیزہ روح کو ایصالِ ثواب کرنے والے کام کیے جائیں۔

اللہ رب العزت کی پاک بارگاہ میں دعا ہے کہ خالقِ کائنات تمام مسلمانوں کو برائی سے بچاتے ہوئے صراطِ مستقیم پر چلائے اور تمام کو ہدایت کا نور عطا فرمائے، اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے عمل و کردار اور ان کی مجاہدانہ زندگی سے نصیحت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین بجاہِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!