| عنوان: | ذات و صفاتِ باری تعالیٰ کے متعلق عقائد (قسط: چہارم) |
|---|---|
| تحریر: | اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ |
| پیش کش: | مہرتاج |
| منجانب: | اقراء القرآن اکیڈمی |
ذات و صفاتِ باری تعالیٰ کے متعلق عقائد (قسط: چہارم)
اللہ تعالیٰ کے متعلق عقائد کی وضاحت میں چوتھی قسط کا موضوع "خلفِ وعید" اور اس سے متعلق وہابیہ کے گمراہ کن استدلال کا علمی محاسبہ ہے۔ اس سلسلے میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ نے اپنے رسالہ ”سبحان السبوح“ میں جو تحقیقی موشگافیاں فرمائی ہیں، وہ علمِ کلام کا انمول سرمایہ ہیں۔
خلفِ وعید: حقیقت اور غلط فہمی کا ازالہ
اللہ تعالیٰ نے کفر و شرک نہ بخشنے کا وعدہ فرمایا ہے، مگر معصیت کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذلِک۔ یعنی شرک کے علاوہ جس گناہ کو چاہے بخش دے۔ معتزلہ نے اس آیت کو صرف صغائر کے ساتھ خاص کیا، جبکہ اہل سنت کا موقف ہے کہ یہ کبائر کو بھی شامل ہے۔ معتزلہ کا مؤقف تھا کہ کبائر میں توبہ ضروری ہے، جبکہ اہل سنت کے نزدیک نص مطلق ہے تو حکم بھی مطلق ہے۔
معتزلہ کے جواب میں کسی نے کہہ دیا کہ ”خلفِ وعید کرم ہے“، یعنی وعید سنا کر اسے پورا نہ کرنا اللہ کا کرم ہے۔ اس پر شرحِ عقائد میں بحث ہوئی کہ کیا اللہ تعالیٰ پر خلفِ وعید جائز ہے؟ محققینِ اہل سنت نے اس لفظ کو رد کیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ (میرے ہاں بات نہیں بدلی جاتی)۔ جب وہابیہ کا یہ باطل عقیدہ سامنے آیا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے کذب ممکن ہے، تو انھوں نے اسی ”جوازِ خلفِ وعید“ کا سہارا لیا۔ اعلیٰ حضرت نے ”سبحان السبوح“ میں ثابت کیا کہ ان دونوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔
خلفِ وعید اور امکانِ کذب میں فرق
اسماعیل دہلوی نے کلامِ علما میں ”جوازِ خلف“ کے جو معنی سمجھے، وہ یہ تھے کہ معاذ اللہ اللہ تعالیٰ بات کہہ کر پلٹ جائے، یہ تو کذب کی قسم ہے۔ حالانکہ علما کے نزدیک جوازِ خلف کا مطلب یہ نہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وعید کا وقوع ضروری نہیں، عفو و کرم ممکن ہے۔ یہ جوازِ شرعی اور امکانِ وقوعی ہے، نہ کہ امکانِ عقلی۔
-
جوازِ شرعی: علما کا نزاع اس بات پر ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ معاف کر سکتا ہے یا نہیں؟ اہل سنت اسے جائز مانتے ہیں، معتزلہ نہیں۔ یہ بحث عذاب کے وجوبِ شرعی کو دفع کرنے کے لیے ہے، نہ کہ کذب کے امکان کو ثابت کرنے کے لیے۔
-
آیتِ کریمہ کا مفہوم: علما نے فرمایا کہ خلفِ وعید، عفو و مغفرت کا نام ہے، اور عفو، تبدیلِ قول یا تکذیبِ خبر نہیں ہے۔
امکانِ کذب، خلفِ وعید کی فرع نہیں: دس علمی حجتیں
اعلیٰ حضرت نے اس پر دس قاہر حجتیں قائم کیں، جن میں سے چند اہم نکات یہ ہیں:
- اجماعِ امت: تمام کتبِ کلامیہ میں کذبِ باری کے محال ہونے پر اجماع نقل کیا گیا ہے۔ جو علما خلفِ وعید کو جائز مانتے ہیں، وہی کتاب کے دوسرے حصوں میں کذبِ الٰہی کو محالِ عقلی اور اجماعی قرار دیتے ہیں۔
- مجوزین کی اصل بنیاد: علمائے مجوزین (جو جوازِ خلف مانتے ہیں) کی بنیاد یہ ہے کہ وعید سے مقصود صرف "تخویف" (ڈرانا) ہے، نہ کہ "اخبار" (اطلاع دینا)، لہذا کذب کا محل ہی پیدا نہیں ہوتا۔
- مستدل کا جواب: اگر کوئی بادشاہ کہے کہ "جو جرم کرے گا سزا پائے گا"، اور ساتھ ہی یہ بھی کہے کہ "جسے چاہیں گے معاف کر دیں گے"، تو جرم کے بعد معاف کر دینے کو کوئی جھوٹ نہیں کہتا۔ یہی معاملہ وعیدِ الٰہی کا ہے۔
وہابیہ کے باطل دلائل کا رد
اسماعیل دہلوی نے کہا کہ "اگر اللہ جھوٹ بولنے پر قادر نہیں تو انسان کی قدرت اللہ سے بڑھ گئی"۔ اعلیٰ حضرت نے اس کا تازیانہ وار رد کیا:
حقیقتِ قدرت: انسان کے تمام افعال اللہ ہی کی قدرت سے واقع ہوتے ہیں۔ انسان کو جو قدرت حاصل ہے وہ عطائی ہے، جبکہ اللہ کی قدرت ذاتی اور موثر ہے۔ اگر انسان جھوٹ بولنے پر قادر ہے تو وہ اس کے کسب پر ہے، نہ کہ اللہ کے کذب پر۔ جس طرح اللہ کا بچہ نہ ہونا یا بیماری سے پاک ہونا کمال ہے، اسی طرح کذب سے پاک ہونا اللہ کا کمالِ ذات ہے۔ محالِ عقلی پر قدرت نہ ہونا عجز نہیں، کیونکہ محال، قدرت کے تعلق کے لائق ہی نہیں ہوتا۔
خلاصہِ کلام
علمائے محققین جس معنی پر خلفِ وعید کو جائز مانتے ہیں، وہ صرف جائز نہیں بلکہ واقع ہے، کیونکہ عفو و کرم واقع ہے۔ رہی بات ”تبدیلِ قول“ کی، تو اس کے جواز پر امکانِ کذب کا کوئی تعلق نہیں۔ جو لوگ اس کے ذریعے امکانِ کذب ثابت کرتے ہیں، وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس پر بہتان باندھ رہے ہیں۔ امام احمد رضا قدس سرہ نے ثابت کیا کہ اللہ تعالیٰ کی صفاتِ کمالیہ اس کی ذات کے لیے لازم ہیں، وہ اختیاری نہیں کہ جب چاہے عیب اختیار کر لے یا کمال چھوڑ دے۔ وہ ہر قسم کے نقص اور کذب سے ازلاً ابداً منزہ اور پاک ہے۔
