| عنوان: | ذات و صفاتِ باری تعالیٰ کے متعلق عقائد (قسط: پنجم) |
|---|---|
| تحریر: | اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ |
| پیش کش: | مہرتاج |
| منجانب: | اقراء القرآن اکیڈمی |
صفاتِ باری تعالیٰ: کلامِ الٰہی کی حقیقت (قسط: پنجم)
اللہ تعالیٰ کی صفتِ کلام علمِ اصول اور علمِ کلام کا ایک اہم اور دقیق موضوع ہے۔ اس پانچویں قسط میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ کی تحقیق کی روشنی میں ”کلامِ نفسی“ اور ”کلامِ لفظی“ کی تقسیم اور قرآنِ مجید کے غیر مخلوق ہونے کے عقیدے پر بحث کی گئی ہے۔
کلامِ نفسی اور کلامِ لفظی: متاخرین کی تقسیم کا رد
عام طور پر متکلمین نے کلام کی دو قسمیں کی ہیں: کلامِ نفسی (جو دل میں ہو اور بغیر حرف و صوت ہو) اور کلامِ لفظی (جو زبان سے ادا ہو اور حروف و اصوات پر مشتمل ہو)۔ متاخرین متکلمین نے معتزلہ کا رد کرنے اور عوام کو سمجھانے کے لیے یہ تقسیم ایجاد کی۔ مگر اعلیٰ حضرت قدس سرہ اس تقسیم سے اتفاق نہیں کرتے، بلکہ اسے علمی اور اصولی طور پر مسترد فرماتے ہیں۔
اعلیٰ حضرت کا مؤقف یہ ہے کہ یہ تقسیم سلفِ صالحین کے مسلک کے خلاف ہے۔ سلف کا عقیدہ یہ تھا کہ:
- کلامِ الٰہی ایک ہے، اس میں کوئی تعدد یا تغیر نہیں۔
- وہ اللہ تعالیٰ کی صفتِ قدیمہ ہے، نہ وہ ذات سے الگ ہے نہ غیرِ ذات۔
- جو قرآن ہم پڑھتے ہیں، لکھتے ہیں، سنتے ہیں اور ہمارے سینوں میں محفوظ ہے، وہی کلامِ قدیم ہے۔
- ہمارا پڑھنا، لکھنا اور سننا حادث (مخلوق) ہے، لیکن جو کلام پڑھا اور لکھا جا رہا ہے وہ قدیم (غیر مخلوق) ہے۔
امام احمد رضا کا تجدیدی کارنامہ: رسالہ ”انوار المنان“
اعلیٰ حضرت نے اس نازک مسئلے پر مستقل رسالہ ”انوار المنان فی توحید القرآن“ تصنیف فرمایا۔ اس میں آپ نے نہایت مدلل انداز میں ثابت کیا کہ کلامِ الٰہی میں تعدد ماننا، دراصل شرک فی الصفات کی طرف لے جانے والا راستہ ہے۔ آپ نے اس بحث کو سمجھانے کے لیے ایک بہترین مثال پیش کی:
”جس طرح حضرت جبریل امین علیہ السلام کبھی اونٹ کی شکل میں، کبھی اعرابی کی صورت میں اور کبھی دحیہ کلبی کی شکل میں ظاہر ہوتے تھے، مگر ان مختلف صورتوں میں آنے سے ’جبریل‘ متعدد نہیں ہو جاتے۔ اسی طرح قرآنِ مجید ایک ہی صفتِ قدیمہ ہے، جو کبھی سینوں میں محفوظ ہے، کبھی کاغذوں پر مکتوب، اور کبھی زبانوں پر مقرو ہے۔ ان تجلیات کے بدلنے سے کلامِ الٰہی کی حقیقت نہیں بدلتی۔“
متاخرین کے موقف پر تنقید
اعلیٰ حضرت نے کلام کی اس تقسیم کو تین بڑی وجوہات کی بنا پر رد کیا ہے:
- تکفیرِ سلف: اگر کلامِ لفظی کو مخلوق مان کر ہی خلقِ قرآن کے مسئلے کا حل نکل آتا، تو اسلاف نے خلقِ قرآن کے قائلین کی تکفیر کیوں کی؟ ائمہ سلف نے اس مسئلے پر جانیں قربان کر دیں، کیونکہ وہ جان بوجھ کر کلامِ الٰہی کے کسی جزو کو مخلوق ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔
- فتنۂ خلقِ قرآن: امام احمد بن حنبل اور دیگر ائمہ کا موقف تھا کہ قرآن کا جو بھی حصہ، چاہے وہ لفظ ہو یا معنی، کلامِ الٰہی ہے اور وہ غیر مخلوق ہے۔ اس تقسیم کے ماننے والے اسلاف کی سخت مخالفت اور قربانیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
- عقلی تضاد: جو لوگ کلامِ لفظی کو حادث اور کلامِ نفسی کو قدیم مانتے ہیں، وہ خود بھی اس پر قائم رہنے میں پریشان رہتے ہیں اور کتبِ کلامیہ میں اس کے مشکلات کا اعتراف کرتے ہیں۔
خلاصۂ کلام
اعلیٰ حضرت نے ثابت کیا کہ متاخرین کا سلف کے مذہب سے عدول کرنا امت کے لیے فتنہ ثابت ہوا۔ ہمیں ایمانِ بالغیب کے ساتھ اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ جو قرآن ہمارے ہاتھوں میں ہے، وہی اللہ کا کلامِ قدیم ہے۔ یہ کلام کسی مخلوق میں حلول نہیں کرتا بلکہ اس کی تجلیات ہیں جو ہمارے کانوں، زبانوں اور کتابوں میں ظاہر ہوتی ہیں۔ یہی مسلکِ سلف ہے اور یہی عقلِ سلیم کا تقاضا ہے۔
